🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

18. فضائل علي بن أبي طالب ﵁
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے فضائل کا بیان
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 32737 ترقیم الشثری: -- 34245
٣٤٢٤٥ - حدثنا غندر عن شعبة عن الحكم عن مصعب بن سعد عن سعد بن ابي وقاص قال: خلف رسول الله ﷺ علي بن ابي طالب في غزوة تبوك، فقال: يا ⦗٥٨⦘ رسول الله تخلفني في النساء والصبيان، فقال:"اما توضى ان تكون مني بمنزلة هارون من موسى غير (انه) (١) لا نبي بعدي" (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [م]: (أني).
(٢) صحيح؛ أخرجه البخاري (٤٤١٦)، ومسلم (٢٤٠٤).

حضرت سعد بن ابی وقاص رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ تبوک کے موقع پر حضرت علی رضی اللہ عنہ کو جانشین بنایا تو آپ رضی اللہ عنہ کہنے لگے: اے اللہ کے رسول 5! آپ مجھے عورتوں اور بچوں میں چھوڑ کر جا رہے ہیں؟ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کیا تم اس بات سے خوش نہیں ہو کہ تم میرے نزدیک ایسے ہی ہو جیسے حضرت ہارون علیہ السلام حضرت موسیٰ علیہ السلام کے نزدیک تھے؟ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 34245]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34245، ترقيم محمد عوامة 32737)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 32738 ترقیم الشثری: -- 34246
٣٤٢٤٦ - حدثنا غندر عن شعبة عن سعد بن إبراهيم قال: سمعت إبراهيم بن سعد يحدث عن سعد عن النبي ﷺ انه قال لعلي:"اما توضى ان تكون مني بمنزلة هارون من موسى" (١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) صحيح؛ أخرجه البخاري (٣٧٠٦)، ومسلم (٢٤٠٤).
حضرت سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے ارشاد فرمایا: کیا تم اس بات پر خوش نہیں ہو کہ تم میرے نزدیک ایسے ہی ہو جیسے حضرت ہارون علیہ السلام حضرت موسیٰ علیہ السلام کے نزدیک تھے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 34246]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34246، ترقيم محمد عوامة 32738)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 32739 ترقیم الشثری: -- 34247
٣٤٢٤٧ - حدثنا عبد الله بن نمير عن موسى الجهني قال: حدثتني فاطمة ابنة علي قالت: حدثتني اسماء ابمة عميس قالت: سمعت رسول الله ﷺ يقول لعلي:"انت مني بمنزلة هارون من موسى، إلا انه ليس نبي بعدي" (١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) صحيح؛ أخرجه أحمد (٢٧٤٦٧)، وابن أبي عاصم في السنة (١٣٤٦)، والنسائي في الكبرى (٨١٤٣)، وعبد اللَّه بن أحمد في زيادات الفضائل (١٠٩١)، والخطيب ١٢/ ٣٣٣، والطبراني ٢٤/ (٣٨٤).
حضرت اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو یوں ارشاد فرمایا: تم میرے نزدیک ایسے ہی ہو جیسے حضرت ہارون حضرت موسیٰ علیہ السلام کے نزدیک تھے۔ مگر یہ کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 34247]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34247، ترقيم محمد عوامة 32739)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 32740 ترقیم الشثری: -- 34248
٣٤٢٤٨ - حدثنا وكيع عن فضيل بن مرزوق (عن عطية) (١) عن زيد بن ارقم ان النبي ﷺ قال لعلي:"انت مني بمنزلة هارون من موسى، إلا انه لا نبي بعدي" (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) الخبر رواه ابن أبي عاصم من طريق المؤلف بهذه الزيادة، والإسناد يقتضيها.
(٢) ضعيف؛ لضعف عطية، أخرجه ابن أبي عاصم في السنة (١٣٤٧)، وقد ورد من طريق زيد والبراء، أخرجه الطبراني (٥٠٩٤)، وابن عساكر ٤٢/ ١٧٨، وابن سعد ٣/ ٢٤.

حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے ارشاد فرمایا: تم میرے نزدیک ایسے ہی ہو جیسے حضرت ہارون حضرت موسیٰ علیہ السلام کے نزدیک تھے۔ مگر یہ کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 34248]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34248، ترقيم محمد عوامة 32740)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 32741 ترقیم الشثری: -- 34249
٣٤٢٤٩ - حدثنا ابو معاوية عن موسى بن مسلم عن عبد الرحمن بن سابط عن سعد قال: قدم معاوية في بعض حجاته فاتاه سعد فذكروا عليا فنال منه معاوية، ⦗٥٩⦘ فغضب سعد فقال: (تقول) (١) هذا لرجل، سمعت رسول الله ﷺ يقول له: ثلاث خصال لان تكون لي خصلة منها احب إلي من الدنيا وما فيها، سمعت رسول الله ﷺ يقول:"من كنت مولاه فعلي مولاه"، وسمعت النبي ﷺ يقول:"انت مني بمنزلة هارون من موسى، إلا انه لا نبي بعدي"، وسمعت رسول الله ﷺ يقول:"لاعطين الراية رجلا يحب الله ورسوله" (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (يقول).
(٢) منقطع؛ عبد الرحمن بن سابط لم يسمع من سعد، أخرجه ابن ماجه (١٢١)، والنسائي في الخصائص (١٠)، وابن أبي عاصم في السنة (١٣٨٧)، وأصله عند مسلم (٢٤٠٤)، وأحمد (١٦٠٨).

حضرت عبدالرحمن بن سابط رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت سعد رحمہ اللہ نے ارشاد فرمایا: کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہایک حج کے موقع پر تشریف لائے تو حضرت سعد رضی اللہ عنہان کے پاس آئے تو لوگوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کا ذکر کیا اس پر حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے کچھ الفاظ کہے پس حضرت سعد رضی اللہ عنہ کو غصہ آگیا آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم یہ بات ایسے آدمی کے بارے میں کر رہے ہو کہ میں نے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کے بارے میں یہ تین خصوصیات ارشاد فرماتے ہوئے سنا۔ اور مجھے ان خصوصیات میں سے کسی ایک کا مل جانا میرے نزدیک دنیا اور جو کچھ اس میں موجود ہے۔ اس سے بھی پسند ہے۔ میں نے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں جس کا دوست ہوں۔ علی رضی اللہ عنہ بھی اس کا دوست ہے۔ میں نے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم میرے نزدیک ایسے ہی ہو جیسا کہ حضرت ہارون علیہ السلام حضرت موسیٰ علیہ السلام کے نزدیک تھے۔ مگر یہ کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ اور میں نے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کہ میں ضرور بالضرور ایسے آدمی کو جھنڈا دوں گا جس سے اللہ اور اس کا رسول محبت کرتے ہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 34249]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34249، ترقيم محمد عوامة 32741)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 32742 ترقیم الشثری: -- 34250
٣٤٢٥٠ - حدثنا عبد الله بن نمير عن الحارث بن حصيرة قال: حدثني ابو سليمان الجهني -يعني زيد بن وهب قال: سمعت عليا على المنبر وهو يقول: انا عبد الله واخو رسوله ﷺ، لم يقلها احد قبلي ولا يقولها احد بعدي إلا كذاب مفتر (١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) ضعيف؛ الحارث ضعيف شيعي، ولا تقبل رواية الحارث فيما يؤيد بدعته.
حضرت ابو سلیمان الجھنی رحمہ اللہ یعنی زید بن وھب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو منبر پر یوں فرماتے ہوئے سنا کہ میں اللہ کا بندہ ہوں اور اس کے رسول 5 کا بھائی ہوں۔ کسی ایک نے بھی مجھ سے پہلے یہ نہیں کہا اور نہ ہی کوئی میرے بعد یہ کہے گا مگر جھوٹا شخص۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 34250]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34250، ترقيم محمد عوامة 32742)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 32743 ترقیم الشثری: -- 34251
٣٤٢٥١ - حدثنا علي بن هاشم عن ابن ابي ليلى عن الحكم والمنهال وعيسى عن عبد الرحمن بن ابي ليلى قال: كان علي يخرج في الشتاء في إزار ورداء ثوبين خفيفين، وفي الصيف في القباء المحشو والثوب الثقيل، فقال الناس لعبد الرحمن: لو قلت لابيك فإنه (يسهر) (١) معه، فسالت ابي فقلت: إن الناس قد راوا من امير المؤمنين شيئا استنكروه، (قال) (٢) : وما ذاك؛ (قالوا) (٣) : يخرج في الحر الشديد في القباء، المحشو والثوب الثقيل ولا يبالي ذلك، ويخرج في البرد الشديد في الثوبين ⦗٦٠⦘ الخفيفين والملاءتين لا يبالي ذلك، ولا يتقي بردا، فهل سمعت في ذلك شيئا، فقد امروني ان اسالك ان تساله إذا سمرت عنده، فسمر عنده، فقال: يا امير المؤمنين إن الناس قد تفقدوا منك شيئا، قال: وما هو؟ قال: تخرج في الحر الشديد في القباء المحشو والثوب الثقيل، وتخرج في البرد الشديد في الثوبين الخفيفين وفي الملاءتين لا تبالي ذلك ولا تتقي بردا، قال: وما كنت معنا يا ابا ليلى بخيبر؟ قال: قلت: بلى والله قد كنت معكم، قال: فإن رسول الله ﷺ بعث ابا بكر فسار بالناس فانهزم حتى رجع إليه، وبعث عمر فانهزم بالناس حتى انتهى إليه، فقال رسول الله ﷺ:"لاعطين الراية رجلا يحب الله ورسوله، ويحبه الله ورسوله، يفتح الله له ليس بفرار"، فارسل إلي فدعاني فاتيته وانا ارمد لا ابصر شيئا، فتفل في عيني وقال:"اللهم اكفه الحر والبرد"، قال: فما آذاني بعد حر ولا برد (٤) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في مصادر التخريج: (يسمر).
(٢) في [أ، ب]: (قالوا).
(٣) في [ط، هـ]: (قال).
(٤) ضعيف؛ لسوء حفظ ابن أبي ليلى، أخرجه أحمد (٧٧٨)، وابن ماجه (١١٧)، والحاكم ٣/ ٣٧، والبزار (٤٩٦)، والنسائي في الخصائص (١٤)، وسيأتي ١٤/ ٤٦٤.

حضرت حکم رحمہ اللہ اور حضرت منھال رحمہ اللہ اور حضرت عیسیٰ رحمہ اللہ، یہ سب حضرات فرماتے ہیں کہ حضرت عبد الرحمن بن ابی لیلیٰ رحمہ اللہ نے فرمایا: کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سردیوں میں تہہ بند اور چادر دو باریک کپڑوں میں نکلتے تھے۔ اور گرمیوں میں گرم چوغہ اور بھاری کپڑوں میں نکلتے! تو لوگ حضرت عبدالرحمن سے کہنے لگے: اگر آپ رحمہ اللہ اپنے والد سے پوچھ لیں تو وہ آپ کو بتلا دیں گے اس لیے کہ وہ رات کو ان سے بات چیت کرتے ہیں۔ پس میں نے اپنے والد سے پوچھا: کہ لوگ امیر المؤمنین میں ایسی چیز دیکھتے ہیں جس کو وہ عجیب سمجھتے ہیں؟ انہوں نے پوچھا: وہ کیا چیز ہے؟ میں نے کہا: آپ رضی اللہ عنہ سخت گرمی میں گرم چوغہ اور بھاری کپڑوں میں نکلتے ہیں اور آپ رضی اللہ عنہ کو اس کی پروا بھی نہیں ہوتی۔ اور سخت سردی میں آپ رضی اللہ عنہ دو باریک کپڑوں اور چھوٹی چادروں میں نکلتے ہیں اور آپ رضی اللہ عنہ کو اس چیز کی بالکل پروا بھی نہیں ہوتی اور نہ ہی آپ رضی اللہ عنہ سردی سے بچتے ہیں۔ کیا آپ رحمہ اللہ نے ان سے اس بارے میں کچھ سنا ہے؟ اس لیے کہ لوگوں نے مجھے کہا ہے کہ میں آپ سے کہوں کے آپ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے جب رات کو بات کریں تو اس بارے میں دریافت کریں۔ پس جب رات کو انہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے بات چیت کی تو ان سے کہا: اے امیر المؤمنین: لوگوں نے آپ رضی اللہ عنہ کی ایک چیز کا جائز ہ لیا ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے پوچھا: وہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا: آپ رضی اللہ عنہ سخت گرمی میں گرم چوغہ یا بھاری کپڑوں میں نکلتے ہیں۔ اور شدید سردی کی حالت میں آپ رضی اللہ عنہ دو باریک کپڑوں اور چادروں میں نکلتے ہیں۔ اور آپ رضی اللہ عنہ کو اس بات کی پروا بھی نہیں ہوتی۔ اور نہ ہی آپ رضی اللہ عنہ سردی سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں! آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے ابو لیلیٰ کیا تم غزوہ خیبر کے موقع پر ہمارے ساتھ نہیں تھے؟ میں نے کہا: کیوں نہیں! اللہ کی قسم میں تمہارے ساتھ تھا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو بھیجا وہ لوگوں کو لے کر گئے پس وہ شکست کھا کر واپس لوٹ آئے۔ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو بھیجا مگر وہ بھی شکست کھا کر واپس آئے، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میں ضرور بالضرور ایسے شخص کو جھنڈا دوں گا جو اللہ اور اس کے رسول 5 سے محبت کرتا ہے اور اللہ اور اس کا رسول 5 اس شخص سے محبت کرتے ہیں۔ اللہ اس کو فتح عطا فرمائیں گے۔ وہ شخص پیٹھ پھیر کر بھاگنے والا نہیں ہے۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قاصد بھیجا مجھے بلانے کے لیے۔ میں حاضر خدمت ہوگیا، اور میں آشوب چشم میں مبتلا تھا میں کچھ بھی نہیں دیکھ سکتا تھا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری آنکھ میں لعاب ڈالا، پھر دعا فرمائی۔ اے اللہ! تو سردی اور گرمی سے اس کی کفایت فرما۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اس کے بعد سے مجھے کبھی سردی اور گرمی نے تکلیف نہیں پہنچائی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 34251]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34251، ترقيم محمد عوامة 32743)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 32744 ترقیم الشثری: -- 34252
٣٤٢٥٢ - حدثنا اسود بن عامر عن شريك عن منصور عن ربعي عن علي عن النبي ﷺ (١) قال:"يا معشر قريش ليبعثن الله عليكم رجلا منكم قد امتحن الله قلبه للإيمان فيضربكم او يضرب رقابكم"، فقال ابو بكر: انا هو يا رسول الله؟ قال:"لا"، (فقال) (٢) عمر: انا هو يا رسول الله؟ قال:"لا، ولكنه خاصف النعل"، وكان اعطى عليا نعله يخصفها (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ، م] زيادة: (أنه).
(٢) في [أ، ب]: (قال).
(٣) حسن؛ شريك صدوق، أخرجه النسائي (٨٤١٦)، والترمذي (٣٧١٥)، والحاكم ٢/ ١٣٧، والطبراني في الأوسط (٣٨٦٢)، والبزار (٩٠٥)، والخطيب ١/ ١٣٣، وابن عساكر ٤٢/ ٣٤٢، وابن الأثير ٤/ ١١٤، والطحاوي في شرح المشكل (٤٠٥٣)، والقطيعي في زوائد فضائل الصحابة (١١٠٥).

حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے گروہ قریش! اللہ تعالیٰ ضرور بالضرور ایک آدمی بھیجیں گے جو تم ہی میں سے ہوگا۔ تحقیق اللہ نے اس کے دل کو ایمان کے لیے چن لیا ہے۔ پس وہ تمہیں قتل کرے گا یا یوں فرمایا: کہ وہ تمہاری گردنیں مارے گا۔ تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول 5! کیا وہ شخص میں ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا۔ اے اللہ کے رسول 5! کیا وہ شخص میں ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں بلکہ وہ جوتوں میں پیوند لگانے والا ہے۔ اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جوتا مرحمت فرمایا تھا جس میں انہوں نے پیوند لگایا تھا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 34252]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34252، ترقيم محمد عوامة 32744)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 32745 ترقیم الشثری: -- 34253
٣٤٢٥٣ - حدثنا بن ابي (غنية) (١) عن ابيه عن إسماعيل بن رجاء عن ابيه عن ابي سعيد الخدري قال: كنا جلوسا في المسجد فخرج رسول الله ﷺ فجلس إلينا ولكان على رؤوسنا الطير لا يتكلم احد منا، فقال:"إن منكم رجلا يقاتل الناس على تاويل القرآن كما قوتلتم على تنزيله"، فقام ابو بكر فقال: انا هو يا رسول الله؟ قال:"لا"، فقام عمر فقال: انا هو يا رسول الله؟ قال:"لا ولكنه خاصف النعل في الحجرة"، قال: فخرج علينا علي ومعه نعل رسول الله ﷺ يصلح منها (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: (عتيبة).
(٢) صحيح؛ أخرجه البخاري (١١٧٧٣)، والنسائي في الكبرى (٧٥٤١)، وابن حبان (٦٩٣٧)، والحاكم ٣/ ١٢٢، وابن عدي ٧/ ٢٦٦٦، وأبو نعيم في الحلية ١/ ٦٧، وأبو يعلى (١٠٦٨)، والبغوي (٢٥٥٧)، والقطيعي في زوائد الفضائل (١٠٨٣)، والبيهقي في الدلائل ٦/ ٤٣٦، وابن الجوزي في العلل (٣٨٦).

حضرت رجائ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا: کہ ہم لوگ مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور ہمارے پاس بیٹھ گئے: ہم میں سے کوئی بھی بات نہیں کر رہا تھا گویا کہ ہمارے سروں پر پرندے بیٹھے ہوں۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم میں سے ایک آدمی ہوگا جو لوگوں سے قتال کرے گا قرآنی تاویل پر جیسا کہ اس کے اترنے پر تم سے قتال کیا گیا تھا۔ پس حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول 5! کیا وہ شخص میں ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں۔ پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول 5! کیا وہ شخص میں ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں بلکہ وہ شخص حجرے میں جوتے کو پیوند لگا رہا ہے۔ راوی کہتے ہیں۔ پس حضرت علی رضی اللہ عنہ ہمارے پاس آئے اس حال میں کہ ان کے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا جوتا تھا جس کو انہوں نے ٹھیک کیا تھا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 34253]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34253، ترقيم محمد عوامة 32745)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 32746 ترقیم الشثری: -- 34254
٣٤٢٥٤ - حدثنا عفان قال: ثنا حماد بن سلمة قال: ثنا محمد بن إسحاق عن محمد بن إبراهيم عن سلمة بن ابي الطفيل عن علي بن ابي طالب ان النبي ﷺ (١) قال له:"يا علي إن لك كنزا في الجنة، وإنك ذو قرنيها فلا تتبع النظرة نظرة، فإنما لك الاولى وليست لك (الآخرة) (٢) (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [م]: ﵇.
(٢) في [أ، ب]: (الأخرى).
(٣) منقطع حكمًا؛ محمد بن إسحق مدلس، أخرجه أحمد (١٣٧٣)، وابن حبان (٥٥٧٠)، والدارمي (٢٧٠٩)، والطحاوي ٣/ ١٤، والضياء (٤٨٢)، والطبراني في الأوسط (٦٧٤)، والبزار (٩٠٧)، وابن عساكر ٤٢/ ٣٢٤، وابن الجوزي في ذم الهوى ص ٨٦، وورد من حديث بريدة، أخرجه أبو داود (٢١٤٩)، والترمذي (٢٧٧٧).

حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ تمہارے لیے جنت میں ایک خزانہ ہے اور تم اس کے مالک ہو۔ جب کسی پر ایک نظر پڑجائے تو دوسری نظر مت ڈالو۔ کیونکہ ایک نظر تو معاف ہے لیکن دوسری معاف نہیں ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 34254]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34254، ترقيم محمد عوامة 32746)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں