🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

6. ما ذكر عن نبينا ﷺ في الزهد
زھد سے متعلق ہمارے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمودات
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 35551 ترقیم الشثری: -- 37129
٣٧١٢٩ - حدثنا يحيى بن يمان عن هشام عن الحسن قال: كانت العبادة تاخذ النبي ﷺ (فيخرج) (١) على اصحابه (كانه) (٢) شن بال (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: (فخرج).
(٢) في [س]: (كان).
(٣) مرسل؛ الحسن تابعي.

حضرت حسن سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر عبادت کا اس قدر غلبہ ہوتا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ رضی اللہ عنہ م کے پاس تشریف لاتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم مثل پرانے مشکیزہ کے محسوس ہوتے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37129]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37129، ترقيم محمد عوامة 35551)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 35552 ترقیم الشثری: -- 37130
٣٧١٣٠ - حدثنا عبد الاعلى عن معمر عن الزهري عن سعيد عن ابي هريرة قال: قال رسول الله ﷺ:"مثل المؤمن مثل الزرع (لا تزال) (١) الريح تميله، ولا يزال المؤمن يصيبه بلاء، ومثل الكافر مثل شجرة الارز لا تهتز حتى (تستحصد) (٢) " (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ع]: (لا يزال).
(٢) في [ط، هـ]: (تتحصد).
(٣) صحيح؛ أخرجه البخاري (٥٦٤٣)، ومسلم (٢٨١١).

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مومن کی مثال، کھیتی کی طرح ہے۔ ہوا اس کو مسلسل ہلاتی رہتی ہے۔ مومن کو بھی مسلسل آزمائشیں پہنچتی رہتی ہیں۔ اور کافر کی مثال، صنوبر کے درخت کی طرح ہے کہ وہ حرکت ہی نہیں کرتا یہاں تک کہ بالکل کاٹ دیا جاتا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37130]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37130، ترقيم محمد عوامة 35552)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 35553 ترقیم الشثری: -- 37131
٣٧١٣١ - حدثنا عبد الله بن نمير ومحمد بن بشر قال: حدثنا زكريا بن ابي زائدة عن (سعد) (١) بن إبراهيم قال: حدثني (ابن) (٢) كعب (بن مالك) (٣) عن ابيه قال: ⦗٢٨٩⦘ قال رسول الله ﷺ:"مثل المؤمن (كمثل) (٤) الخامة من الزرع (تفيئها) (٥) الريح (تصرعها) (٦) مرة وتعدلها اخرى حتى (تهيج) (٧) ، ومثل الكافر كمثل الارزة (المجذية) (٨) على اصلها، لا (يفيئها) (٩) شيء حتى يكون انجعافها مرة واحدة" (١٠) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ع]: (سعيد).
(٢) زيادة من مسند ابن أبي شيبة (٤٩٧)، وقد رواه عن المصنف بها الإمام مسلم (٢٨١٠)، والطبراني ١٩/ (١٨٥).
(٣) سقط من: [أ، ب].
(٤) سقط من: [س].
(٥) في [أ، ب]: (لعبتها)، وفي [ع]: (رغبها).
(٦) في [ع]: (تصرعه).
(٧) في [ع]: (يهيج).
(٨) أي: الثابتة في الأرض، وفي [أ، ب]: (المجذئة)، وفي [س]: (المخدمة)، وفي [ع]: (المجدبة).
(٩) في [أ، س]: (يعلها)، وفي [ب، ع]: (يغلبها).
(١٠) صحيح؛ أخرجه البخاري (٥٦٤٣)، ومسلم (٢٨١٠).

حضرت کعب سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مومن کی مثال، کچی کھیتی کی سی ہے کہ ہوائیں اس کو حرکت دیتی ہیں، کبھی اس کو ٹیڑھا کرتی ہیں اور کبھی اس کو سیدھا کرتی ہیں یہاں تک کہ وہ زرد ہوجاتی ہے اور کافر کی مثال، اس صنوبر کی سی ہے جو زمین میں موجود اپنی جڑ پر سیدھا کھڑا ہوتا ہے۔ کوئی شے اس کو حرکت نہیں دے سکتی یہاں تک کہ وہ ایک ہی مرتبہ جڑ سے اکھڑ جاتا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37131]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37131، ترقيم محمد عوامة 35553)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 35554 ترقیم الشثری: -- 37132
٣٧١٣٢ - حدثنا عبد الله بن إدريس عن بريد بن عبد الله عن ابي بردة عن ابي موسى قال: قال رسول الله ﷺ:"المؤمن للمؤمن كالبنيان يشد بعضه بعضا" (١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) صحيح؛ أخرجه البخاري (٦٠٢٦)، ومسلم (٢٥٨٥).
حضرت ابوموسیٰ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مومن، مومن کے لیے عمارت کی طرح ہے کہ اس کا بعض، بعض کو مضبوط کرتا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37132]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37132، ترقيم محمد عوامة 35554)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 35555 ترقیم الشثری: -- 37133
٣٧١٣٣ - حدثنا غندر عن شعبة عن يعلى بن عطاء عن ابيه عن عبد الله بن عمرو قال: مثل المؤمن كمثل (النحلة) (١) تاكل طيبا وتضع طيبا (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، ع]: (النخلة).
(٢) مجهول؛ لجهالة عطاء.

حضرت عبداللہ بن عمرو سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ مومن کی مثال شہد کی مکھی کی سی ہے جو کھاتی بھی طیب ہے اور نکالتی بھی طیب ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37133]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37133، ترقيم محمد عوامة 35555)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 35556 ترقیم الشثری: -- 37134
٣٧١٣٤ - حدثنا ابو معاوية ووكيع عن الاعمش عن الشعبي عن النعمان بن بشير قال: قال رسول الله ﷺ:"المؤمنون كرجل واحد إن اشتكى راسه تداعى له سائر جسده بالحمى والسهر" (١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) صحيح؛ أخرجه البخاري (٦٠١١)، ومسلم (٢٥٨٦).
حضرت نعمان بن بشیر سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تمام اہل ایمان کی مثال ایک آدمی کی سی ہے۔ اگر آدمی کا سر شکایت کرتا ہے تو آدمی کا سارا بدن بخار اور شب بیداری میں اس کا ساتھ دیتا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37134]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37134، ترقيم محمد عوامة 35556)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 35557 ترقیم الشثری: -- 37135
٣٧١٣٥ - حدثنا علي بن إسحاق عن ابن مبارك عن مصعب بن ثابت قال: حدثني ابو حازم قال: سمعت سهل بن سعد يحدث عن النبي ﷺ قال:"المؤمن من ⦗٢٩٠⦘ اهل الإيمان بمنزلة الراس من الجسد، يالم المؤمن لاهل الإيمان كما يالم الجسد لما في الراس" (١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) ضعيف؛ مصعب بن ثابت ضعيف، أخرجه أحمد (٢٢٨٧٧)، وابن المبارك في الزهد (٦٩٣)، والقضاعي في مسند الشهاب (١٣٦)، والطبراني (٥٧٤٣)، وفي الأوسط (٤٦٩٣)، وأبو نعيم في الحلية ٨/ ١٩٠.
حضرت سہل بن سعد، جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مومن (دیگر) اہل ایمان کے لیے جسم میں بمنزلہ سر کے ہے۔ مومن، اہل ایمان کا دکھ اسی طرح محسوس کرتا ہے جس طرح سر کا دکھ درد بقیہ جسم محسوس کرتا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37135]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37135، ترقيم محمد عوامة 35557)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 35558 ترقیم الشثری: -- 37136
٣٧١٣٦ - حدثنا يزيد بن هارون قال: اخبرنا حماد بن سلمة عن سماك عن (النعمان) (١) بن بشير عن النبي ﷺ قال:" (مثل) (٢) المؤمن كمثل الجسد إذا الم بعضه تداعى لذلك كله" (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ]: (الضحاك).
(٢) سقط من: [س].
(٣) حسن؛ سماك صدوق، أخرجه البخاري (٦٠١١)، ومسلم (٢٥٨٦).

حضرت نعمان بن بشیر جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مومن کی مثال، جسم کی طرح ہے کہ جب اس کا بعض حصہ تکلیف میں ہوتا ہے تو بقیہ جسم بھی اس تکلیف میں اس کے ساتھ ہوتا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37136]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37136، ترقيم محمد عوامة 35558)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 35559 ترقیم الشثری: -- 37137
٣٧١٣٧ - حدثنا يزيد بن هارون (عن) (١) محمد بن طلحة عن محمد بن (جحادة) (٢) عن الحسن قال: قال رسول الله ﷺ:"لا يرفع عبد نفسه إلا وضعه الله ولا يضع عبد نفسه إلا رفعه الله" (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ع]: (بن).
(٢) في [أ]: (حمادة).
(٣) مرسل، الحسن تابعي، أخرجه ابن أبي الدنيا في التواضع والخمول (١٢٤).

حضرت حسن سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کوئی آدمی اپنے آپ کو اوپر نہیں اٹھاتا مگر یہ کہ اللہ تعالیٰ اس کو نیچا کردیتے ہیں اور کوئی آدمی اپنے آپ کو نیچا نہیں کرتا مگر یہ کہ اللہ تعالیٰ اس کو بلند کردیتا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37137]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37137، ترقيم محمد عوامة 35559)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 35560 ترقیم الشثری: -- 37138
٣٧١٣٨ - حدثنا حفص بن غياث عن الاعمش عن إبراهيم عن (عبيدة) (١) عن عبد الله قال: قال لي رسول الله ﷺ:"اقرا علي القرآن"، (قال) (٢) : قلت: يا رسول الله اقرا عليك وعليك انزل؟ قال:"إني اشتهي ان اسمعه من غيري"، قال: فقرات ⦗٢٩١⦘ النساء حتى إذا بلغت: ﴿فكيف إذا جئنا من كل امة بشهيد وجئنا بك على هؤلاء شهيدا﴾ [النساء: ٤١] ، رفعت راسي او غمزني رجل إلى جنبي، فرايت دموعه تسيل (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ]: (عبدة).
(٢) سقط من: [ع].
(٣) صحيح؛ أخرجه البخاري (٤٥٨٢)، ومسلم (٨٠٠).

حضرت عبداللہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے کہا: تم مجھے قرآن سناؤ۔ حضرت عبداللہ کہتے ہیں میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پڑھ کر سناؤں؟ حالانکہ آپ پر تو قرآن نازل ہوا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں چاہتا ہوں کہ میں اپنے علاوہ کسی سے قرآن سنوں۔ راوی کہتے ہیں پس میں نے سورة نساء پڑھنی شروع کی۔ یہاں تک کہ جب میں { فَکَیْفَ إذَا جِئْنَا مِنْ کُلِّ أُمَّۃٍ بِشَہِیدٍ وَجِئْنَا بِکَ عَلَی ہَؤُلاَئِ شَہِیدًا } پر پہنچا میں نے اپنا سر اٹھایا … یا مجھے پہلو میں بیٹھے آدمی نے متوجہ کیا … تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ کے آنسو بہہ رہے تھے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37138]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37138، ترقيم محمد عوامة 35560)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں