مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
6. ما ذكر عن نبينا ﷺ في الزهد
زھد سے متعلق ہمارے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمودات
ترقیم عوامۃ: 35531 ترقیم الشثری: -- 37109
٣٧١٠٩ - حدثنا غندر عن شعبة عن الحكم قال: سمعت ابن ابي ليلى يحدث عن عبد الله بن ربيعة قال: كان رسول الله ﷺ في سفر فإذا هو (بشاة) (١) منبوذة فقال:"اترون هذه هينة على اهلها"، قالوا: نعم، قال:" (الدنيا) (٢) اهون على الله من هذه (على) (٣) اهلها" (٤) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ب]: (شياه).
(٢) في [أ]: (الدنى).
(٣) في [س]: (صلى).
(٤) مرسل، عبد اللَّه بن ربيعة ليس من الصحابة، أخرجه أحمد (١٨٩٦٤)، والنسائي ٢/ ١٩، ويعقوب في المعرفة ١/ ٢٥٨، وابن قانع ٢/ ١٣٣.
حضرت عبداللہ بن ربیعہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک سفر میں تھے کہ اچانک آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک پھینکی ہوئی بکری کے پاس سے گزرے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم اس بکری کو اس کے گھر والوں پر ہلکا دیکھ رہے ہو؟“ لوگوں نے عرض کیا۔ جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ بکری اپنے گھر والوں کے ہاں جتنی ہلکی ہے، اس سے بھی زیادہ دنیا اللہ تعالیٰ کے ہاں بےوقعت (اور ہلکی) ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37109]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37109، ترقيم محمد عوامة 35531)
ترقیم عوامۃ: 35532 ترقیم الشثری: -- 37110
٣٧١١٠ - حدثنا (١) ابو خالد الاحمر عن حجاج عن ابي جعفر عن جابر قال: مر رسول الله ﷺ على شاة ميتة فقال:"لم (ترون) (٢) القى هذه اهلها؟" (فقالوا) (٣) : يا رسول الله وهل ينتفعون بها وقد ماتت؟ فقال:"لزوال الدنيا اهون على الله من هذه على اهلها" (٤) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: زيادة (عند بن شعبة).
(٢) في [جـ]: (تر).
(٣) في [جـ]: (فقيل).
(٤) منقطع حكمًا؛ حجاج مدلس، وأخرجه أحمد (١٤٩٣٠)، ومسلم (٢٩٥٧).
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ایک مردار بکری پر سے ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”اس بکری کو اس کے گھر والوں نے کیوں پھینک دیا ہے؟“ صحابہ رضی اللہ عنہ م نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا وہ لوگ اس سے منتفع ہوتے جبکہ یہ مرچکی ہے؟ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جس قدر یہ بکری، اپنے گھر والوں پر ہلکی (بےقیمت) ہے، دنیا اس سے بھی زیادہ اللہ تعالیٰ کے ہاں ہلکی (اور بےقیمت) ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37110]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37110، ترقيم محمد عوامة 35532)
ترقیم عوامۃ: 35533 ترقیم الشثری: -- 37111
٣٧١١١ - حدثنا محمد بن (بشر) (١) قال: حدثنا محمد بن عمرو عن ابي سلمة عن ابي هريرة قال: قال رسول الله ﷺ:"يدخل فقراء المؤمنين الجنة قبل الاغنياء بنصف يوم: خمسمائة عام" (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (بشير).
(٢) حسن؛ محمد بن عمرو صدوق، أخرجه أحمد (٧٩٤٦)، والترمذي (٢٣٥٣)، وابن ماجه (٤١٢٢)، والنسائي في الكبرى (١١٣٤٨)، وابن حبان (٦٧٦)، وأبو نعيم في الحلية ٧/ ٩١.
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اہل ایمان فقرائ، اغنیاء سے نصف یوم … یعنی پانچ سو سال … قبل جنت میں داخل ہوں گے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37111]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37111، ترقيم محمد عوامة 35533)
ترقیم عوامۃ: 35534 ترقیم الشثری: -- 37112
٣٧١١٢ - حدثنا عفان قال: حدثنا شعبة قال: حدثني موسى بن انس قال: (سمعا) (١) انسا يقول: إن رسول الله ﷺ قال:"لو تعلمون ما اعلم لضحكتم قليلا ولبكيتم كثيرا" (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [س].
(٢) صحيح؛ أخرجه البخاري (٦٤٢١)، ومسلم (٢٣٥٩).
حضرت موسیٰ بن انس بیان کرتے ہیں کہتے ہیں کہ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اگر تم وہ کچھ جان لو جو کچھ میں جانتا ہوں تو تم کم ہنسو اور زیادہ روؤ۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37112]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37112، ترقيم محمد عوامة 35534)
ترقیم عوامۃ: 35535 ترقیم الشثری: -- 37113
٣٧١١٣ - حدثنا ابو خالد الاحمر عن حاتم بن ابي صغيرة عن ابن ابي مليكة عن القاسم قال: قالت عائشة: قلت: يا رسول الله، كيف يحشر الناس يوم القيامة؟ قال: (عراة حفاة) (١) ، قلت: والنساء؟ قال: (والنساء) ، قلت: يا رسول الله، فما ⦗٢٨٣⦘ (نستحي؟) (٢) قال:"الامر اشد من ان ينظر بعضهم إلى (بعض) (٣) " (٤) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ع]: (حفاة عراة).
(٢) في [هـ]: (يستحي).
(٣) في [س]: (بعضهم).
(٤) حسن؛ أبو خالد صدوق، أخرجه البخاري (٦٥٢٧)، ومسلم (٢٨٥٩).
حضرت قاسم سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ارشاد فرمایا میں نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! قیامت کے روز لوگوں کو کس طرح اکٹھا کیا جائے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ننگے جسم اور ننگے پاؤں۔ میں نے عرض کیا: اور عورتیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عورتیں بھی۔ (حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں) میں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہمیں (ایک دوسرے سے) حیا نہیں آئے گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”وہ معاملہ اس سے سخت ہوگا کہ بعض، بعض کی طرف دیکھے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37113]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37113، ترقيم محمد عوامة 35535)
ترقیم عوامۃ: 35536 ترقیم الشثری: -- 37114
٣٧١١٤ - حدثنا سفيان ابن عيينة عن عمرو عن سعيد بن جبير عن ابن عباس سمع النبي ﷺ يخطب وهو يقول:"إنكم ملاقو الله (مشاة) (١) حفاة عراة غرلا" (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [ع].
(٢) صحيح؛ أخرجه البخاري (٦٥٢٤)، ومسلم (٢٨٦٠).
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خطبہ دیتے ہوئے سنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: ”یقینا تم لوگ، اپنے پروردگار سے اس حالت میں ملو گے کہ ننگے جسم، ننگے پاؤں اور غیر مختون ہوگے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37114]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37114، ترقيم محمد عوامة 35536)
ترقیم عوامۃ: 35537 ترقیم الشثری: -- 37115
٣٧١١٥ - حدثنا يزيد بن هارون قال: اخبرنا الوليد بن جميع عن ابي الطفيل عن حذيفة بن اسيد قال: قال ابو ذر: ايها الناس، قولوا (ولا تختلفوا) (١) فإن الصادق المصدوق حدثني:"ان الناس يحشرون يوم القيامة على ثلاثة افواج: فوج (طاعمون كاسون راكبون) (٢) ، وفوج (يمشون ويسعون) (٣) ، وفوج (تسحبهم) (٤) الملائكة على وجوههم"، قال: قلنا: اما هذان فقد عرفناهما، فما الذي يمشون ويسعون؟ (قال) (٥) :"يلقي الله الآفة على الظهر، حتى لا يبقى ظهر، حتى ان الرجل ليعطي (الحديقة) (٦) -المعجبة بالشارف ذات القتب فما يجدها" (٧) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، جـ، س، ع]: (ولا تحلفوا).
(٢) في [جـ]: (طاعمين، كاسين، راكبين).
(٣) في [أ، ع]: (يسعون ويمشون).
(٤) في [س]: (تستحيهم).
(٥) في [س]: (وقال).
(٦) في [س]: (الحذيفة).
(٧) حسن؛ الوليد صدوق، ومن فوقه ثلاثة صحابة، والخبر أخرجه أحمد (٢١٤٥٧)، والنسائي (٢٢١٣)، والحاكم ٤/ ٥٦٤، والبزار ٤/ ٥٦٤، والطبراني في الأوسط (٨٤٣٧)، وأبو نعيم في تاريخ أصبهان ٢/ ٨٥، وقد أعله ابن أبي حاتم ٢/ ٢١٦ (٢١٣٧) اعتمادًا على رواية أضعف.
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ بن اسید سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے لوگو! بات کہو اور پھر اس کے خلاف نہ کرو۔ کیونکہ مجھے الصادق المصدوق نے بیان کیا ہے کہ ”یقینا لوگوں کو قیامت کے دن تین گروہوں میں میدانِ محشر میں لایا جائے گا۔ ایک گروہ آسودہ حال کپڑوں میں ملبوس، سواری پر سوار ہوگا اور ایک گرو ہ پیدل چلتا اور دوڑتا ہوگا اور ایک گروہ کو فرشتے ان کے منہ کے بل گھسیٹ کر لائیں گے۔ راوی کہتے ہیں ہم نے کہا: ان دو گروہوں کو تو ہم پہچانتے ہیں لیکن چلنے اور دوڑنے والے کون لوگ ہوں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ سواریوں پر موت کی آفت کو نازل کر دے گا۔ یہاں تک کہ ایک گھنے باغ والا شخص اگر اس کو عبور کرنے کے لیے کسی زین والی اونٹنی پر سوار ہوگا تو وہ اونٹنی اسے پار نہ کرسکے گی۔ (محدثین کے بیان کے مطابق اس جملے کا تعلق آخرت کے احوال سے نہیں ہے) [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37115]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37115، ترقيم محمد عوامة 35537)
ترقیم عوامۃ: 35538 ترقیم الشثری: -- 37116
٣٧١١٦ - حدثنا وكيع عن شعبة عن المغيرة بن النعمان عن سعيد بن جبير عن ابن عباس قال: قام فينا رسول الله ﷺ بموعظة فقال:" (إنكم) (١) محشورون إلى الله حفاة غرلا ﴿كما بدانا اول خلق نعيده وعدا علينا إنا كنا فاعلين﴾ [الانبياء: ١٠٤] ، فاول الخلائق يلقى بثوب إبراهيم خليل الرحمن"، قال:"ثم يؤخذ قوم منكم ذات الشمال فاقول: يا رب اصحابي، فيقال: إنك لا تدري ما احدثوا بعدك، إنهم لم يزالوا مرتدين على اعقابهم، فاقول كما قال العبد الصالح: ﴿وكنت عليهم شهيدا﴾ إلى قوله: ﴿العزيز الحكيم﴾ [المائدة: ١١٧، ١١٨] (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [س]: (أيكم).
(٢) صحيح؛ أخرجه البخاري (٦٥٢٦)، ومسلم (٢٨٦٠).
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان وعظ کہنے کھڑے ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”یقینا تم لوگ اللہ کی طرف ننگے سر، ننگے پاؤں اور غیر مختون حالت میں جمع کیے جاؤ گے۔ { کَمَا بَدَأْنَا أَوَّلَ خَلْقٍ نُعِیدُہُ وَعْدًا عَلَیْنَا إنَّا کُنَّا فَاعِلِینَ } مخلوق میں سے سب سے پہلے جس کو کپڑے پہنائے جائیں گے۔ وہ ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام ہوں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر تم میں سے بائیں ہاتھ والے لوگوں کو پکڑا جائے گا تو میں کہوں گا۔ اے پروردگار! یہ میرے ساتھی ہیں۔ کہا جائے گا آپ نہیں جانتے کہ انہوں نے آپ کے بعد کیا ایجاد کیا۔ یہ لوگ مسلسل اپنی ایڑیوں پر واپس پلٹتے رہے۔ اس پر میں وہی بات کہوں گا جو عبد صالح … حضرت عیسیٰ علیہ السلام … نے کہی تھی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37116]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37116، ترقيم محمد عوامة 35538)
ترقیم عوامۃ: 35539 ترقیم الشثری: -- 37117
٣٧١١٧ - حدثنا احمد بن إسحاق عن وهيب قال: حدثنا عبد الله بن طاوس عن ابيه عن ابي هريرة قال: قال رسول الله ﷺ:"يحشر الناس على ثلاث طرائق راغبين راهبين، واثنان على بعير، وثلاثة على بعير" (١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) صحيح؛ أخرجه البخاري (٦٥٢٢)، ومسلم (٢٨٦١).
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: لوگوں کو تین طریقوں سے جمع کیا جائے گا۔ رغبت کرنے والے، خوف کرنے والے اور ایک اونٹ پر دو، اور ایک اونٹ پر تین۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37117]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37117، ترقيم محمد عوامة 35539)
ترقیم عوامۃ: 35540 ترقیم الشثری: -- 37118
٣٧١١٨ - حدثنا ابن علية عن ايوب عن ابن ابي مليكة عن عائشة قالت: قال رسول الله ﷺ:"من حوسب يوم القيامة عذب"، قلت: اليس قال الله: ﴿فسوف يحاسب حسابا يسيرا﴾ [الانشقاق: ٨] ، قال:"ليس (ذاك) (١) بالحساب، إنما ذاك العرض من نوقش الحساب يوم القيامة عذب" (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ، ط، ك]: (ذلك).
(٢) صحيح؛ أخرجه البخاري (٤٩٣٩)، ومسلم (٢٨٧٦).
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ کہتی ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس آدمی سے حساب لیا گیا قیامت کے دن، اس کو عذاب دیا جائے گا۔ میں نے پوچھا کیا یہ ارشاد خداوندی نہیں ہے: { فَسَوْفَ یُحَاسَبُ حِسَابًا یَسِیرًا } آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ حساب نہیں ہے یہ تو صرف پیشی ہے جس آدمی سے حساب میں مناقشہ ہوا قیامت کے دن تو اس کو عذاب ہوگا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37118]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37118، ترقيم محمد عوامة 35540)