مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
6. ما ذكر عن نبينا ﷺ في الزهد
زھد سے متعلق ہمارے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمودات
ترقیم عوامۃ: 35521 ترقیم الشثری: -- 37099
٣٧٠٩٩ - حدثنا عبد الله بن نمير قال: حدثنا زكريا بن ابي زائدة عن محمد بن عبد الرحمن بن (سعد) (١) بن زرارة ان ابن كعب بن مالك حدثه عن (ابيه عن) (٢) النبي ﷺ قال:"ما ذئبان جائعان ارسلا في غنم، بافسد لها من حرص المرء (على المال) (٣) والشرف لدينه" (٤) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ح]: (أسعد).
(٢) سقط من: [ط، هـ].
(٣) سقط من: [أ، ب].
(٤) صحيح؛ أخرجه أحمد (١٥٧٨٤)، والترمذي (٢٣٧٦)، وابن حبان (٣٢٢٨)، والطبراني في الكبير ١٩/ (١٨٩)، والدارمي ٢/ ٣٠٤، والبيهقي في الآداب (٩٧٤)، والبغوي (٤٠٥٤)، وابن المبارك في الزهد (١٨١).
حضرت کعب بن مالک کے بیٹے، اپنے والد کے واسطہ سے جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دو بھوکے بھیڑیے جن کو بکریوں میں چھوڑ اگیا وہ بکریوں میں اس قدر فساد نہیں کرتے جس قدر آدمی کا مال وجاہ پر حریص ہونا اس کے دین کو خراب کرتا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37099]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37099، ترقيم محمد عوامة 35521)
ترقیم عوامۃ: 35522 ترقیم الشثری: -- 37100
٣٧١٠٠ - حدثنا سفيان بن عيينة عن محمد بن عجلان عن عياض بن عبد الله عن ابي سعيد الخدري قال: قال رسول الله ﷺ وهو على المنبر:"إن اخوف ما اخاف عليكم ما يخرج الله من نبات الارض او زهرة الدنيا"، فقام رجل فقال: يا رسول الله (١) هل ياتي الخير بالشر؟ (فسكت) (٢) حتى ظننا انه ينزل عليه وغشيه ⦗٢٧٨⦘ (بهر) (٣) وعرق، ثم قال:"اين السائل؟" ولم يرد إلا خيرا (٤) . فقال:" (إن) (٥) الخير لا ياتي إلا بالخير، ولكن الدنيا خضرة حلوة، كل ما ينبت الربيع (يقتل) (٦) (حبطا) (٧) او يلم، إلا آكلة الخضر، تاكل حتى إذا امتلات خاصرتاها استقبلت الشمس فثلطت (٨) ، ثم بالت، ثم افاضت (فاجترت) (٩) ، من اخذ مالا بحقه بورك فيه، ومن اخذ مالا بغير حقه كان كالذي ياكل و (لا) (١٠) يشبع" (١١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [س]: زيادة ﷺ.
(٢) في [س]: (سكتنا).
(٣) في [جـ، ع]: (لهر)، وفي [ب]: (لهز)، والبهر: تتابع النفس.
(٤) في [هـ]: زيادة (فقال: ها أنا ولم أرد إلا خيرًا).
(٥) سقط من: [أ].
(٦) في [س]: (يقبل).
(٧) في [س]: (حيف)، وفي [أ، ب]: (حطًا)، والحبط: التخمة.
(٨) أي: خرج الغائط كثيرًا.
(٩) في [أ، ب]: (فأخبرت)، وفي [س]: (فاجتبرت).
(١٠) سقط من: [س].
(١١) حسن؛ ابن عجلان صدوق، أخرجه البخاري (٦٤٢٧)، ومسلم (١٠٥٢).
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا … جبکہ آپ منبر پر تھے … ”مجھے تم پر سب سے زیادہ جس چیز کا خوف ہے وہ یہ ہے جس کو اللہ تعالیٰ زمین کے نباتات میں یا زندگی کی رنگینی میں نکالیں گے۔ اس پر ایک آدمی کھڑا ہوا اور اس نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا خیر بھی شر لاتا ہے؟ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہوگئے۔ یہاں تک کہ ہمیں یہ گمان ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہو رہی ہے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر پسینہ اور کپکپی ظاہر ہوگئی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”سوال کرنے والا کہاں ہے؟ اس نے خیر کا ہی ارادہ کیا تھا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یقینا خیر تو خیر ہی لاتی ہے لیکن یہ دنیا سرسبز اور میٹھی ہے۔ وہ پودے جو بہار میں اگتے ہیں وہ پیٹ کو خوب بھر لینے والے جانوروں کو یا تو مار ڈالتے ہیں یا مارنے کے قریب کردیتے ہیں، سوائے سبزہ کھانے والے ان جانوروں کے جو پیٹ کے معمولی بھر جانے کے بعد دھوپ میں چلے جاتے ہیں، جگالی کرتے ہیں، غذا کو نرم و ہضم کرتے ہیں، پاخانہ کرتے ہیں اور پھر کھانے کے لیے دوبارہ آجاتے ہیں۔ جو شخص مال کو اس کے حق کے ساتھ لیتا ہے تو اس کے لیے اس مال میں برکت دی جاتی ہے اور جو شخص مال کو اس کے حق کے بغیر لیتا ہے تو اس کی مثال اس شخص کی طرح ہے جو کھاتا ہے لیکن سیر نہیں ہوتا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37100]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37100، ترقيم محمد عوامة 35522)
ترقیم عوامۃ: 35523 ترقیم الشثری: -- 37101
٣٧١٠١ - حدثنا سفيان ابن عيينة عن يحيى بن سعيد عن عمر بن كثير عن عبيد (سنوطا) (١) عن خولة عن النبي ﷺ قال:"إن الدنيا (خضرة حلوة) (٢) ، فمن اخذها بحقها بورك له فيها، ورب متخوض في مال الله ومال رسوله له النار يوم القيامة" (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: (بسنوطًا).
(٢) في [أ، ب]: (حلوة خضرة).
(٣) حسن؛ عبيد سنوطا صدوق، أخرجه أحمد (٢٧٠٥٥)، والترمذي (٢٣٧٤)، وابن حبان (٤٥١٢)، والبخاري في التاريخ ٥/ ٤٥٠، وعبد الرزاق (٦٩٦٢)، وعبد بن حميد (١٥٨٨)، والحميدي (٣٥٣)، وابن أبي عاصم في الآحاد (٣٢٦٠)، والطحاوي في شرح المشكل (٤٨٩٠)، والطبراني ٢٤/ (٥٨٢)، وأبو نعيم في الحلية ٧/ ٣١١، والبيهقي في الشعب (١٠٣٠٤)، والقضاعي في مسند الشهاب (١١٤٣)، وأصل الحديث عند البخاري في الصحيح برقم (٣١١٨).
حضرت خولہ، جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”بیشک دنیا سرسبز اور میٹھی ہے۔ پس جو شخص اس کو اس کے حق کے ساتھ لیتا ہے تو اس کے لیے اس میں برکت دی جاتی ہے، اور اللہ اور اس کے رسول کے مال میں بہت سے غور و خوض کرنے والوں کے لیے بروز قیامت جہنم کی آگ ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37101]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37101، ترقيم محمد عوامة 35523)
ترقیم عوامۃ: 35524 ترقیم الشثری: -- 37102
٣٧١٠٢ - حدثنا سفيان ابن عيينة عن الزهري عن عروة وسعيد عن حكيم بن (حزام) (١) قال: سالت النبي ﷺ فاعطاني ثم سالته فاعطاني ثم (سالته فاعطاني) (٢) ثم قال:"إن (هذا) (٣) المال (خضرة حلوة) (٤) ، فمن اخذه بطيب نفس بورك له فيه، ومن اخذه بإشراف نفس لم يبارك له فيه، وكان كالذي ياكل ولا يشبع، واليد العليا خير من اليد السفلى" (٥) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (حرام).
(٢) سقط من: [ع].
(٣) سقط من: [جـ].
(٤) في [أ، ب]: تقديم وتأخير.
(٥) صحيح؛ أخرجه البخاري (٦٤٤١)، ومسلم (١٠٣٥).
حضرت حکیم بن حزام سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا۔ آپ نے مجھے عطا کیا۔ میں نے پھر آپ سے سوال کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے پھر عطا کیا۔ میں نے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے پھر عطا کیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: یقینا یہ مال سرسبز اور میٹھا ہے۔ پس جو شخص اس کو طیب نفس کے ساتھ لیتا ہے اس کے لیے اس میں برکت دی جاتی ہے۔ اور جو شخص اس مال کو اشرافِ نفس کی وجہ سے لیتا ہے تو اس کے لیے اس میں برکت نہیں دی جاتی۔ اور اس شخص کی مثال اس آدمی کی طرح ہوتی ہے جو کھانا کھاتا ہے لیکن شکم سیر نہیں ہوتا۔ اور اوپر والا ہاتھ، نچلے ہاتھ سے بہتر ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37102]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37102، ترقيم محمد عوامة 35524)
ترقیم عوامۃ: 35525 ترقیم الشثری: -- 37103
٣٧١٠٣ - حدثنا غندر عن شعبة عن (١) سعد بن إبراهيم عن (معبد) (٢) الجهني عن معاوية قال: سمعت رسول الله ﷺ يقول:"إن هذا المال (حلو خضر) (٣) ، ممن اخذه بحقه يبارك له فيه" (٤) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ع]: زيادة (عن).
(٢) في [س]: (معيد).
(٣) في [س]: تقديم وتأخير.
(٤) حسن؛ معبد صدوق، أخرجه أحمد (١٦٩٠٣)، والطحاوي في شرح المشكل (١٦٨٧)، والقضاعي في مسند الشهاب (٩٥٣)، والطبراني ١٩/ (٨١٥)، والبيهقي في الشعب (٤٨٧٠)، وابن قانع ٣/ ٧٢.
حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہتے سنا: ”بیشک یہ مال میٹھا اور سرسبز ہے۔ پس جو شخص اس کو اس کے حق کے ساتھ لیتا ہے تو اس کے لیے اس میں برکت دی جاتی ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37103]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37103، ترقيم محمد عوامة 35525)
ترقیم عوامۃ: 35526 ترقیم الشثری: -- 37104
٣٧١٠٤ - حدثنا محمد بن فضيل (عن يزيد) (١) (عن زيد) (٢) بن وهب عن ابي ذر قال: قام رجل ورسول الله ﷺ يخطب فقال: يا رسول الله اكلتنا (الضبع) (٣) ، ⦗٢٨٠⦘ قال: فدفعه الناس حتى وقع، ثم قام ايضا فنادى بصوته، ثم التفت إليه رسول الله ﷺ فقال:"اخوف عليكم عندي من ذلك ان تصب عليكم الدنيا صبا، فليت امتي لا تلبس الذهب"، فقلت لزيد: ما (الضبع؟) (٤) قال: (السنة) (٥) (٦) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [هـ].
(٢) سقط من: [أ، ب، جـ، س، ط، ع].
(٣) في [س]: (الضيع).
(٤) في [ب، س]: (الضيع)، وفي [ع]: (الصبع).
(٥) في [س]: (الشينه).
(٦) ضعيف؛ لضعف يزيد بن أبي زياد، أخرجه أحمد (٢١٣٥٣)، والطيالسي (٤٤٧)، والبزار (٣٩٨٤)، والطبراني في الأوسط (٣٩٧٦)، والحارث (٥٨٦/ بغية).
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ ارشاد فرما رہے تھے کہ ایک شخص کھڑا ہوا اور اس نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! قحط سالی نے ہمیں کھالیا ہے۔ راوی کہتے ہیں پس لوگوں نے اس کو بٹھایا اور وہ بیٹھ گیا۔ وہ پھر دوبارہ کھڑا ہوا اور اس نے اپنی آواز سے ندا لگائی پھر اس کی طرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے التفات فرمایا اور ارشاد فرمایا: مجھے تم پر اس سے بھی زیادہ اس بات کا خوف ہے کہ تم پر دنیا خوب بہا دی جائے، کاش کہ میری امت سونا نہ پہنے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37104]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37104، ترقيم محمد عوامة 35526)
ترقیم عوامۃ: 35527 ترقیم الشثری: -- 37105
٣٧١٠٥ - حدثنا ابو معاوية وابن نمير ووكيع عن الاعمش عن المعرور بن سويد عن ابي ذر قال: انتهيت إلى النبي ﷺ وهو جالس في ظل الكعبة، فلما رآني قال:"هم الاخسرون ورب الكعبة"، فجئت فجلست فلم اتقار (١) ان قمت فقلت: يا رسول الله فداك ابي وامي من (هم؟) (٢) قال:"هم الاكثرون اموالا إلا من قال بالمال هكذا وهكذا (وهكذا) (٣) من بين يديه ومن خلفه وعن يمينه وعن شماله" (٤) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) أي: لم ألبث إلا قليلًا.
(٢) سقط من: [س].
(٣) سقط من: [ط، هـ].
(٤) صحيح؛ أخرجه البخاري (٢٣٨٨)، ومسلم (٩٩٠).
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیت اللہ کے سایہ میں تشریف فرما تھے۔ پس جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دیکھا تو ارشاد فرمایا: ”رب کعبہ کی قسم! یہ لوگ بہت گھاٹے والے ہیں۔ پس میں آیا اور میں بیٹھ گیا۔ پس ابھی میں جمنے بھی نہ پایا تھا کہ میں کھڑا ہوگیا۔ اور میں نے عرض کیا۔ میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ کون لوگ ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ لوگ مال کے اعتبار سے کثرت والے ہیں۔ ہاں مگر جو اپنے مال کو اس طرح اس طرح دے۔ اپنے آگے، اپنے پیچھے، اپنے دائیں اور اپنے بائیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37105]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37105، ترقيم محمد عوامة 35527)
ترقیم عوامۃ: 35528 ترقیم الشثری: -- 37106
٣٧١٠٦ - حدثنا (عبيد الله) (١) بن موسى عن موسى بن عبيدة عن عبد الله بن دينار عن ابن عمر قال: قال رسول الله ﷺ:"الا ابشركم يا معشر الفقراء ان فقراء المؤمنين يدخلون الجنة قبل اغنيائهم بنصف يوم خمسمائة عام" (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [م]: (غندر).
(٢) ضعيف؛ موسى بن عبيدة ضعيف، وأخرجه ابن ماجه (٤١٢٤)، وعبد بن حميد (٧٩٧)، والمروزي في زوائد زهد ابن المبارك (١٤٧٧)، وابن عبد البر في جامع بيان العلم ٢/ ١٨، والبزار كما في المطالب العالية (٣٢٧٨).
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اے فقیروں کی جماعت! کیا میں تمہیں خوشخبری نہ سناؤں؟“ بیشک مومن فقرائ، مالدار مومنین سے نصف یوم یعنی پانچ سو سال قبل جنت میں داخل ہوں گے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37106]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37106، ترقيم محمد عوامة 35528)
ترقیم عوامۃ: 35529 ترقیم الشثری: -- 37107
٣٧١٠٧ - حدثنا عفان قال: حدثنا حماد بن سلمة عن (الجريري) (١) عن ابي نضرة عن عبد الله بن مولة عن بريدة الاسلمي عن النبي ﷺ قال:"يكفي احدكم من (الدنيا) (٢) خادم ومركب" (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (الحريري).
(٢) في [أ]: (الدنى).
(٣) مجهول؛ لجهالة عبد اللَّه بن مولة، أخرجه أحمد (٢٣٠٤٣)، والنسائي في الكبرى (٩٨١٢)، والدارمي (٢٧١٨)، وابن جرير في مسند ابن عباس من تهذيب الآثار (٤٥٣)، وأبو نعيم في الحلية ٦/ ٢٠٦، وابن أبي عاصم في الآحاد (٢٣٦٠)، وابن عبد البر في جامع بيان العلم ٢/ ١٩، والمزي ١٦/ ١٨٧، والروياني (٥٣).
حضرت بریدہ اسلمی، جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم میں سے کسی ایک کو دنیا میں سے ایک خادم اور ایک سواری کافی ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37107]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37107، ترقيم محمد عوامة 35529)
ترقیم عوامۃ: 35530 ترقیم الشثری: -- 37108
٣٧١٠٨ - حدثنا محمد بن مصعب قال: حدثنا الاوزاعي عن الزهري عن عبيد الله (عن) (١) ابن عباس: ان النبي ﷺ مر بشاة ميتة قد القاها اهلها فقال:"لزوال (الدنيا) (٢) اهون على الله من هذه على اهلها" (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [م].
(٢) في [أ]: (الدنى).
(٣) حسن؛ محمد بن مصعب صدوق، والخبر أخرجه أحمد (٣٠٤٧)، وأبو يعلى (٢٥٩٣)، وأبو النعيم في الحلية ٢/ ١٨٩، وابن أبي عاصم في الزهد (٦٠)، وابن أبي الدنيا (٣)، والبزار (٢٦٩١/ كشف)، وابن حبان في المجروحين ٢/ ٢٩٤.
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک مردار بکری کے پاس سے گزرے جس کو اس کے گھر والوں نے پھینک دیا تھا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے ہاں دنیا کا زوال، اس سے بھی ہلکا ہے جس قدر کہ یہ بکری اپنے گھر والوں پر۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37108]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37108، ترقيم محمد عوامة 35530)