مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
6. ما ذكر عن نبينا ﷺ في الزهد
زھد سے متعلق ہمارے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمودات
ترقیم عوامۃ: 35541 ترقیم الشثری: -- 37119
٣٧١١٩ - حدثنا عفان قال: حدثنا (حماد) (١) بن سلمة قال: اخبرنا ثابت عن ⦗٢٨٥⦘ انس ان رسول الله ﷺ قال:"يؤتى باشد الناس (كان) (٢) بلاء في (الدنيا) (٣) من اهل الجنة، فيقول (الله) (٤) : اصبغوه صبغة في الجنة، فيصبغ فيها صبغة فيقول الله: يا ابن آدم هل رايت بؤسا قط، او شيئا تكرهه؟ فيقول: لا، وعزتك، ما رايت شيئا اكرهه قط، ثم يؤتى بانعم الناس في (الدنيا) (٥) من اهل النار فيقول: اصبغوه صبغة (في النار) (٦) ، فيصبغ فيها (فيقول) (٧) : يا ابن آدم هل رايت (قط) (٨) قرة عين؟ فيقول: لا، وعزتك ما رايت خيرا قط" (٩) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ع]: (عفان).
(٢) سقط من: [جـ].
(٣) في [أ]: (الدنى).
(٤) سقط من: [جـ].
(٥) في [أ]: (الدنى).
(٦) سقط من: [جـ].
(٧) في [ع]: (فقال).
(٨) سقط من: [ع].
(٩) صحيح؛ مسلم (٢٨٠٧)، وأحمد (١٣٦٦٠).
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اہل جنت میں سے ایک ایسے آدمی کو لایا جائے گا جو دنیا میں بہت زیادہ مصیبتوں کا شکار ہوگا۔ تو ارشاد خداوندی ہوگا۔ اس آدمی کو جنت میں ایک غوطہ دو۔ چناچہ اس آدمی کو جنت میں غوطہ دیا جائے گا۔ پھر اللہ تعالیٰ فرمائیں گے اے آدم کے بیٹے؟ کیا تو نے کبھی کوئی تکلیف یا ناپسندیدہ چیز دیکھی ہے؟ وہ جواب دے گا۔ نہیں، آپ کی عزت کی قسم! میں نے کبھی کوئی ناپسندیدہ چیز نہیں دیکھی۔ پھر اس کے بعد اہل جہنم میں سے اس آدمی کو لایا جائے گا جو دنیا میں سب سے زیادہ نعمتوں میں رہا ہوگا۔ ارشاد خداوندی ہوگا۔ اس کو جہنم میں ایک غوطہ دو۔ چناچہ اس کو جہنم میں غوطہ دیا جائے گا۔ پھر اللہ تعالیٰ پوچھیں گے: اے آدم کے بیٹے! تم نے کبھی آنکھوں کی ٹھنڈک دیکھی ہے؟ وہ جواب دے گا۔ آپ کی عزت کی قسم! نہیں، میں نے تو کبھی کوئی خیر نہیں دیکھی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37119]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37119، ترقيم محمد عوامة 35541)
ترقیم عوامۃ: 35542 ترقیم الشثری: -- 37120
٣٧١٢٠ - حدثنا إسحاق بن منصور قال: حدثنا جعفر بن زياد عن موسى الجهني عن رجل من ثقيف عن انس قال: كنت اخدم النبي ﷺ فقال لي يوما:"هل عندك شيء تطعمنا"، قلت: نعم يا رسول الله، فضل من الطعام الذي كان امس قال:"الم انهك ان تدع طعام يوم لغد" (١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) مجهول؛ لإبهام الراوي عن أنس، وقد ورد بإسناد فيه ضعف، أخرجه أحمد ٣/ ١٩٨ (١٣٠٤٣)، وأبو يعلى (٤٢٢٣)، والدولابي في الكنى ٢/ ١٢٤، وابن حبان في المجروحين ٣/ ٨٦، وأبو نعيم في الحلية ١٠/ ٢٤٣، وابن عدي في الكامل ٧/ ٢٥٨١، والبيهقي في الشعب (١٣٤٨)، والخطيب في تاريخ بغداد ١٤/ ٣١٤، وورد بلفظ: كان لا يدخر لغد، أخرجه الترمذي (٢٣٦٢)، وابن حبان (٦٣٥٦).
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت کیا کرتا تھا۔ ایک دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کہا: ”کیا تمہارے پاس کوئی چیز ہے جو تم ہمیں کھلاؤ؟“ میں نے عرض کیا جی ہاں۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! گزشتہ کل کے کھانے میں سے بچا ہوا موجود ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا میں نے تمہیں اس بات سے منع نہیں کیا کہ آنے والے کل کے لیے آج کا کھانا بچا کر رکھو؟“ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37120]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37120، ترقيم محمد عوامة 35542)
ترقیم عوامۃ: 35543 ترقیم الشثری: -- 37121
٣٧١٢١ - حدثنا ابو معاوية عن الاعمش عن إبراهيم عن الاسود عن عائشة قالت: ما شبع رسول الله ﷺ ثلاثة ايام تباعا من خبز بر حتى مضى (لسبيله) (١) (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [س]: (لسبله).
(٢) صحيح؛ أخرجه البخاري (٦٤٥٥)، ومسلم (٢٩٧١).
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ کہتی ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی وفات تک کبھی تین دن مسلسل پیٹ بھر کر گندم کے آٹے کی روٹی نہیں کھائی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37121]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37121، ترقيم محمد عوامة 35543)
ترقیم عوامۃ: 35544 ترقیم الشثری: -- 37122
٣٧١٢٢ - حدثنا ابو خالد الاحمر عن ابن عجلان عن القعقاع عن القاسم قال: قالت عائشة: (إن) (١) كنا لنمكث الشهر او نصف الشهر ما يدخل بيتنا نار لمصباح ولا لغيره، فقلت: (باي شيء) (٢) كنتم تعيشون؟ قالت: بالاسودين: الماء والتمر، وكان لنا جيران من الانصار -جزاهم الله خيرا- لهم منائح فربما بعثوا إلينا من البانها (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، ع]: (أنا).
(٢) في [س]: (أي شيء).
(٣) حسن؛ أبو خالد وابن عجلان صدوقان، وأخرجه البخاري (٢٥٦٧)، ومسلم (٢٩٧٢).
حضرت قاسم سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ارشاد فرمایا: ہم لوگ پورا پورا مہینہ یا آدھا مہینہ اس حال میں ٹھہرے رہتے کہ ہمارے گھر میں کوئی آگ … چراغ کی ہو یا غیر چراغ کی … داخل نہ ہوتی۔ میں نے (قاسم سے) کہا۔ پھر تم لوگ کس چیز کے ذریعہ زندگی گزارتے تھے؟ انہوں نے فرمایا دو چیزوں کے ذریعہ۔ یعنی پانی اور کھجور۔ اور کچھ انصار ہمارے پڑوس میں تھے۔ اللہ تعالیٰ ان کو جزائے خیر دے۔ ان کے پاس اونٹنیاں تھیں تو بسا اوقات وہ ان اونٹنیوں کا دودھ ہماری طرف بھیج دیتے تھے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37122]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37122، ترقيم محمد عوامة 35544)
ترقیم عوامۃ: 35545 ترقیم الشثری: -- 37123
٣٧١٢٣ - حدثنا معاوية بن هشام قال: حدثنا سفيان عن بعض المدنيين عن عطاء بن يسار قال: تعرضت (الدنيا) (١) للنبي ﷺ فقال:"إني لست اريدك"، (قالت) (٢) : إن لم تردني (فسيردني) (٣) غيرك (٤) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ]: (الدنى).
(٢) في [أ، ب]: (فقالت).
(٣) في [س]: (فيردني)، وفي [أ]: (فسردني).
(٤) مرسل مجهول؛ عطاء تابعي، وبعض المدنيين مبهم.
حضرت عطاء بن یسار سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے دنیا پیش ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میں تجھے نہیں چاہتا۔ دنیا نے کہا اگر آپ مجھے نہیں چاہتے تو عنقریب مجھے آپ کے علاوہ لوگ چاہیں گے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37123]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37123، ترقيم محمد عوامة 35545)
ترقیم عوامۃ: 35546 ترقیم الشثری: -- 37124
٣٧١٢٤ - حدثنا وكيع عن سفيان عن عمرو بن قيس قال: قال رسول الله ﷺ:"فضل (العلم) (١) خير من فضل العبادة، وملاك دينكم الورع" (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ب]: (العالم).
(٢) معضل؛ عمرو بن قيس من أتباع التابعين.
حضرت عمرو بن قیس سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: علم کی فضیلت، عبادت کی فضیلت سے بہتر ہے اور تمہارے دین کا خلاصہ پرہیزگاری ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37124]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37124، ترقيم محمد عوامة 35546)
ترقیم عوامۃ: 35547 ترقیم الشثری: -- 37125
٣٧١٢٥ - حدثنا ابو خالد الاحمر عن ابي الفضل عن الشعبي عن عائشة قالت: قلت: يا رسول الله اتذكرون اهاليكم يوم القيامة؟ فقال:"اما عند ثلاث فلا: عند الكتاب، وعند الميزان، وعند الصراط" (١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) منقطع؛ الشعبي لا يروي عن عائشة، أخرجه أحمد (٢٤٦٩٦)، وأبو داود (٤٧٥٥)، وأسحاق (١٣٤٩)، الحاكم ٤/ ٥٧٨.
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ کہتی ہیں کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا آپ قیامت کے دن اپنے گھر والوں کو یاد کریں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین مقامات پر تو نہیں یاد کروں گا۔ نامہ اعمال کے وقت، میزان کے وقت اور پل صراط پر۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37125]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37125، ترقيم محمد عوامة 35547)
ترقیم عوامۃ: 35548 ترقیم الشثری: -- 37126
٣٧١٢٦ - حدثنا ابو خالد الاحمر عن بهز (بن) (١) حكيم عن ابيه عن جده قال: قلت: يا رسول الله، اين تامرني؟ قال:"هاهنا -وقال بيده نحو الشام- إنكم (تحشرون) (٢) رجالا وركبانا وتحشرون على وجوهكم" (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [س].
(٢) في [ط، هـ]: (محشورون)، وفي [أ]: (محشرون).
(٣) حسن؛ أبو خالد وحكيم صدوقان، أخرجه أحمد (٢٠٠٣١)، والترمذي (٢١٩٢)، والحاكم ٤/ ٦٤، والنسائي في الكبرى (١٤٣١)، والطبراني ١٩/ (٩٧٤)، ويعقوب في المعرفة ٢/ ٢٨٨.
حضرت بہز بن حکیم اپنے والد سے اور اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ مجھے کہاں کا حکم دیتے ہیں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دست مبارک سے شام کی طرف اشارہ فرمایا: ”یقینا تم لوگ سوار اور پاپیادہ جمع کیے جاؤ گے اور تم اپنے منہ کے بل جمع کیے جاؤ گے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37126]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37126، ترقيم محمد عوامة 35548)
ترقیم عوامۃ: 35549 ترقیم الشثری: -- 37127
٣٧١٢٧ - حدثنا محمد بن فضيل عن هارون بن ابي وكيع عن ابيه قال: لما نزلت هذه الآية: ﴿اليوم اكملت لكم دينكم﴾ [المائدة: ٣] ، قال: يوم الحج الاكبر، قال: فبكى عمر، فقال له رسول الله ﷺ:"ما يبكيك؟" قال: يا رسول الله، ابكاني انا كنا في زيادة من ديننا، (فاما إذ كمل) (١) فإنه لم يكمل (قط شيء) (٢) إلا نقص، قال:"صدقت" (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [ع]، وفي [هـ]: (إذا).
(٢) في [جـ]: (شيء قط).
(٣) مرسل؛ أبو وكيع عنترة بن عبد الرحمن الشيباني تابعي.
حضرت ہارون بن ابی وکیع، اپنے والد سے روایت کرتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ جب یہ آیت { الْیَوْمَ أَکْمَلْتُ لَکُمْ دِینَکُمْ } نازل ہوئی راوی کہتے ہیں یہ حج اکبر کا دن تھا۔ کہتے ہیں حضرت عمر رضی اللہ عنہ رو پڑے۔ تو جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے پوچھا: ”تمہیں کس بات پر رونا آرہا ہے؟“ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھے اس بات نے رلا دیا ہے کہ ہم پہلے اپنے دین میں زیادتی میں (امیدوار) ہوتے تھے۔ پس جب یہ دین کامل ہوگیا تو بات یہ ہے کہ جب بھی کوئی چیز کامل ہوتی ہے تو پھر اس میں نقص آنے لگتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم سچ کہہ رہے ہو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37127]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37127، ترقيم محمد عوامة 35549)
ترقیم عوامۃ: 35550 ترقیم الشثری: -- 37128
٣٧١٢٨ - حدثنا ابن فضيل عن العلاء بن المسيب عن الحسن قال: قال رسول الله ﷺ:"ما من قطرتين احب إلي الله من قطرة (دم) (١) في سبيله، او من قطرة دموع ⦗٢٨٨⦘ قطرت من عين رجل قائم (في جوف) (٢) الليل من خشية الله، وما من جرعتين احب إلى الله من جرعة محزنة موجعة ردها صاحبها بحسن صبر وعزاء، او جرعة غيظ كظم عليها" (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [هـ].
(٢) في [س]: (من جوف).
(٣) مرسل، الحسن تابعي، أخرجه عبد الرزاق (٢٠٢٨٩)، وابن المبارك في الزهد (٦٧٢)، والقضاعي في مسند الشهاب (١٣٠٨).
حضرت حسن سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ان دو قطروں سے بڑھ کر کوئی قطرہ اللہ تعالیٰ کو محبوب نہیں ہے۔ ایک خون کا وہ قطرہ جو راہ خدا میں گرے اور ایک وہ قطرہ جو اس آدمی کی آنکھ سے خوف خدا کی وجہ سے ٹپک پڑے جو درمیان شب میں خدا کے حضور کھڑا ہو اور ان دو گھونٹوں سے بڑھ کر کوئی گھونٹ اللہ کو محبوب نہیں ہے۔ ایک تکلیف دہ اور غمناک گھونٹ جس کو آدمی اچھے صبر اور برداشت کے ذریعہ قبول کرے اور دوسرا غصہ کا گھونٹ جس کو آدمی ضبط کرلے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37128]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37128، ترقيم محمد عوامة 35550)