🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

8. كلام عمر بن الخطاب ﵁
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا کلام
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 35633 ترقیم الشثری: -- 37211
٣٧٢١١ - حدثنا ابو (الاحوص) (١) عن سماك عن النعمان بن بشير قال: سئل عمر عن قول الله: ﴿وإذا النفوس زوجت﴾ [التكوير: ٧] ، قال: يقرن بين الرجل الصالح مع الرجل الصالح في الجنة، ويقرن بين الرجل السوء مع الرجل السوء في النار (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ع]: (الأخواص).
(٢) حسن؛ سماك صدوق، أخرجه عبد الرزاق في التفسير ٣/ ٣٥٠، والثعلبي ١٠/ ١٣٨، وابن حجر في تغليق التعليق ٤/ ٣٦٢، والحاكم ٢/ ٤٦٠.

حضرت نعمان بن بشیر سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے اللہ تعالیٰ کے قول { وَإِذَا النُّفُوسُ زُوِّجَتْ } کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جنت میں نیک آدمی کو نیک آدمی کے ساتھ ملایا جائے گا اور جہنم میں برے آدمی کے ساتھ برے آدمی کو ملایا جائے گا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37211]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37211، ترقيم محمد عوامة 35633)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 35634 ترقیم الشثری: -- 37212
٣٧٢١٢ - حدثنا حسين بن علي قال: حدثني طعمة بن غيلان الجعفي عن رجل يقال: له ميكائيل شيخ من اهل خراسان قال: كان (عمر) (١) إذا قام من الليل قال: قد ترى مقامي وتعلم حاجتي، فارجعني من عندك -يا الله- بحاجتي مفلحا منجحا مستجيبا مستجابا لي، قد غفرت لي ورحمتني، فإذا قضى صلاته قال: اللهم لا ارى شيئا من (الدنيا) (٢) يدوم، ولا ارى حالا فيها يستقيم، (اللهم) (٣) اجعلني انطق فيها بعلم واصمت فيها بحكم، اللهم لا تكثر لي من (الدنيا) (٤) فاطغى، ولا تقل لي منها فانسى، فإن ما قل وكفى خير مما كثر والهى (٥) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [س].
(٢) في [أ]: (الدني).
(٣) سقط من: [هـ].
(٤) في [أ]: (الدني).
(٥) مجهول؛ لجهالة ميكائيل والخبر أخرجه ابن أبي الدنيا في التهجد (٤١).

میکائیل نامی ایک آدمی سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ جب رات کو قیام کرتے تو فرماتے۔ تحقیق تو میری جگہ کو دیکھ رہا ہے اور میری ضرورت کو جانتا ہے۔ پس اے اللہ! تو مجھے اپنے پاس سے کامیاب، اور دعا قبول کیا ہوا واپس فرما۔ تحقیق تو نے میری مغفرت فرما دی اور مجھ پر رحمت کی اور جب حضرت عمر رضی اللہ عنہاپنی نماز سے فارغ ہوتے تو کہتے۔ اے اللہ! میں دنیا کی کسی چیز میں دوام نہیں دیکھتا۔ اور میں دنیا کی کسی حالت کی استقامت نہیں دیکھ رہا۔ اے اللہ! تو دنیا میں مجھے علم کے ساتھ بولنے والا بنا دے اور دنیا میں مجھے اپنے حکم کے ساتھ خاموش رہنے والا بنا دے۔ اے اللہ! تو میرے لیے دنیا کو زیادہ نہ کرنا کہ پھر میں سرکش ہوجاؤں اور میرے لیے دنیا اتنی کم بھی نہ کرنا کہ میں بھول جاؤں۔ بیشک اتنی کم دنیا جو کافی ہو اس زیادہ سے بہتر ہے جو غافل کرے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37212]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37212، ترقيم محمد عوامة 35634)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 35635 ترقیم الشثری: -- 37213
٣٧٢١٣ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا ابو خالد الاحمر عن داود عن عامر عن ابن عباس قال: دخلت على عمر حين طعن فقلت: ابشر بالجنة يا امير المؤمنين اسلمت حين كفر الناس وجاهدت مع رسول الله حين خذله الناس، وقبض رسول ⦗٣٢٠⦘ الله (١) وهو عنك راض، ولم يختلف في خلافتك اثنان، وقتلت شهيدا، فقال: اعد علي، فاعدت عليه فقال: والذي لا إله غيره، لو ان لي ما على الارض من صفراء وبيضاء (لافتديت) (٢) به من هول المطلع (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ب، جـ]: زيادة ﷺ.
(٢) في [س]: (لأقتدين).
(٣) حسن؛ أبو خالد سليمان بن حيان صدوق، وداود هو ابن أبي هند، وعامر هو الشعبي، أخرجه ابن حبان (٦٨٩١)، والحاكم ٣/ ٩٧، وابن عساكر ٤٤/ ٤٢٨.

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ پر حملہ ہوا میں ان کے پاس گیا اور میں نے کہا: اے امیر المومنین! آپ کو جنت کی بشارت ہو۔ جب دیگر لوگوں نے کفر کیا تب آپ رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کیا۔ جب دیگر لوگ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو رسوا کررہے تھے تب آپ رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جہاد کیا۔ اور جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی موت اس حال میں آئی کہ آپ تم سے راضی تھے۔ اور آپ کی خلافت میں کوئی دو آدمی اختلاف کرنے والے نہیں ہیں اور آپ شہید ہو کر مر رہے ہیں۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: مجھے یہ بات دوبارہ کہو۔ چناچہ میں نے یہ بات آپ کو دوبارہ کہی تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: قسم اس ذات کی جس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔ اگر میرے پاس زمین پر موجود چیزوں کے برابر سونا چاندی ہوتا تو میں اس کے ذریعہ قیامت کی ہولناکی سے جان چھڑا لیتا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37213]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37213، ترقيم محمد عوامة 35635)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں