🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

8. كلام عمر بن الخطاب ﵁
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا کلام
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 35623 ترقیم الشثری: -- 37201
٣٧٢٠١ - حدثنا يحيى بن آدم قال: حدثنا حماد بن سلمة عن ابي نعامة عن حجير بن (ربيع) (١) قال: قال عمر: إن الفجور هكذا -وغطى راسه إلى ⦗٣١٦⦘ حاجبيه، (الا) (٢) إن البر هكذا وكشف راسه (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [س، ط، ب]: (ربيعة).
(٢) سقط من: [ع].
(٣) حسن؛ حجير صدوق.

حضرت حجیر بن ربیعہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: بیشک گناہ ایسا ہے اور آپ رضی اللہ عنہ نے اپنے سر کو اپنی ابروؤں کی طرف جھکا لیا۔ خبردار! بیشک نیکی اس طرح ہے اور آپ نے اپنے سر کو چھپالیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37201]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37201، ترقيم محمد عوامة 35623)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 35624 ترقیم الشثری: -- 37202
٣٧٢٠٢ - حدثنا عفان قال: حدثنا سليمان بن المغيرة قال: قال ثابت: قال انس: غلا (السعر) (١) غلا (الطعام) (٢) بالمدينة (على عهد عمر) (٣) ، فجعل ياكل الشعير فاستنكره بطنه، فاهوى بيده إلى بطنه فقال: والله ما هو إلا ما ترى، حتى يوسع الله على المسلمين (٤) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ط، هـ]: (الشعير).
(٢) سقط من: [جـ].
(٣) سقط من: [ع].
(٤) صحيح؛ أخرجه ابن شبه (١٢٤٧).

حضرت انس کہتے ہیں کہ قیمتیں بڑھ گئیں، مدینہ منورہ میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں کھانا مہنگا ہوگیا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے جو کھانا شروع کیا تو وہ ان کے پیٹ کو موافق نہ آیا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے ہاتھ سے اپنے پیٹ کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا: خدا کی قسم! جب تک اللہ تعالیٰ مسلمانوں پر وسعت نہ کردیں تب تک یہی کھاؤ گے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37202]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37202، ترقيم محمد عوامة 35624)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 35625 ترقیم الشثری: -- 37203
٣٧٢٠٣ - حدثنا معاوية بن هشام عن هشام بن سعد عن زيد بن اسلم عن ابيه قال: كنت امشي مع عمر بن الخطاب فراى تمرة مطروحة فقال، خذها، قلت: وما اصنع بتمرة قالت: مرة وتمرة حتى تجتمع، (فاخذتها) (١) فمر بمربد تمر فقال: القها فيه (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (فأخذ).
(٢) ضعيف؛ هشام بن سعد له أوهام.

حضرت زید بن اسلم، اپنے والد سے روایت کرتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ میں حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے ساتھ چل رہا تھا۔ انہوں نے ایک گری ہوئی کھجور دیکھی تو فرمایا اس کو پکڑ لو۔ میں نے عرض کیا۔ میں اس کھجور کو کیا کروں؟ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ایک ایک کھجور ہی جمع ہوتی ہے۔ پس میں نے وہ پکڑ لی پھر آپ رضی اللہ عنہ کھجوروں کے ڈھیر کے پاس سے گزرے تو فرمایا: اس کھجور کو یہاں پھینک دو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37203]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37203، ترقيم محمد عوامة 35625)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 35626 ترقیم الشثری: -- 37204
٣٧٢٠٤ - حدثنا عبدة بن سليمان عن يحيى بن سعيد عن (عبد الله) (١) ابن عامر (٢) قال: خرجت مع عمر فما رايته مضطربا ⦗٣١٧⦘ فسطاطا (٣) حتى رجع، قال: قلت: باي شيء كان يستظل؟ قال: يطرح النطع على الشجرة يستظل به (٤) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ع]: (عبيد اللَّه).
(٢) كذا في النسخ، وفي كتاب الحج فيما سبق باب المحرم يستظل، وهي كذلك في طبقات ابن سعد ٣/ ٢٧٩، وتاريخ ابن عساكر ٤٤/ ٣٠٥، وأسد الغابة ٤/ ١٨٣، وشرح العمدة ٣/ ٦٠، والمجالسة ١/ ٤١٢، وفي مسند الشافعي (ص ٣٦٥): (عبد اللَّه بن عياش بن أبي ربيعة)، وكذلك سنن البيهقي ٥/ ٧٠، ومعرفة السنن ٤/ ٤٣، وشرح النووي على مسلم ٩/ ٤٦، وتعجيل المنفعة (ص ٢٣١).
(٣) أي: لم ينصب خيمة.
(٤) صحيح؛ أخرجه الشافعي في المسند (ص ٣٦٥)، والبيهقي ٥/ ٧٠، وابن سعد ٣/ ٧٩، وابن عساكر ٤٤/ ٣٠٥، والدينوري في المجالسة (٢٤١٥).

حضرت عبداللہ بن عامر سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ باہر نکلا تو میں نے ان کو واپس آنے تک خیمہ لگاتے نہیں دیکھا۔ راوی کہتے ہیں۔ میں نے پوچھا: پھر وہ کس چیز سے سایہ حاصل کرتے تھے؟ استاد نے جواب دیا: چمڑے کو درخت پر ڈال دیتے تھے اور اس سے سایہ حاصل کرتے تھے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37204]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37204، ترقيم محمد عوامة 35626)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 35627 ترقیم الشثری: -- 37205
٣٧٢٠٥ - حدثنا وكيع عن اسامة عن الزهري عن حميد بن عبد الرحمن قال: قال عمر: لو هلك (حمل من ولد) (١) الضان ضياعا بشاطئ الفرات خشيت ان يسالني الله عنه (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: تقديم وتأخير.
(٢) حسن؛ أسامة صدوق، أخرجه ابن جرير في التاريخ ٢/ ٥٦٦.

حضرت حمید بن عبدالرحمن سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا کہ اگر دریائے فرات کے کنارہ پر کوئی بھیڑ کا بچہ ہلاک ہوجائے تو مجھے اس بات کا خوف ہوتا ہے کہ کہیں اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ مجھ سے سوال نہ کرے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37205]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37205، ترقيم محمد عوامة 35627)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 35628 ترقیم الشثری: -- 37206
٣٧٢٠٦ - حدثنا علي بن مسهر عن الشيباني عن (يسير) (١) بن عمرو قال: لما اتى عمر بن الخطاب الشام اتي ببرذون فركب عليه، فلما هزه نزل عنه وضرب (وجهه) (٢) وقال: قبحك الله وقبح من علمك هذا (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، ط، هـ]: (بشير).
(٢) في [س]: (عنه).
(٣) صحيح؛ أخرجه أحمد في الزهد (ص ١٢٠)، وابن المبارك (٥٨١)، وابن شبه (١٤٠٢)، وابن جرير في التاريخ ٢/ ٤٥٠.

حضرت یسیر بن عمرو سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جب حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شام تشریف لائے تو ایک عجمی گھوڑا لایا گیا چناچہ آپ رضی اللہ عنہ اس پر سوار ہوئے۔ پھر جب اس نے حرکت کرنا شروع کیا تو آپ اس سے نیچے اتر آئے اور اس کے چہرے کو مارا اور فرمایا اللہ تعالیٰ تیرا برا کرے اور جس نے تجھے یہ سکھایا ہے اس کا بھی برا ہو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37206]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37206، ترقيم محمد عوامة 35628)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 35629 ترقیم الشثری: -- 37207
٣٧٢٠٧ - حدثنا يحيى بن عيسى عن الاعمش عن إبراهيم عن همام عن حذيفة قال: دخلت على عمر وهو قاعد على جذع في داره، وهو يحدث نفسه فدنوت منه فقلت: ما الذي اهمك يا امير المؤمنين؟ فقال: هكذا بيده واشار بها، قال: قلت: الذي يهمك، والله لو راينا منك امرا ننكره لقومناك، قال: آلله الذي لا إله إلا هو، لو رايتم مني امرا تنكرونه لقومتموه، فقلت: آلله الذي لا إله إلا هو، لو راينا منك امرا ننكره لقومناك، قال: ففرح بذلك فرحا شديدا، ⦗٣١٨⦘ وقال: الحمد لله الذي جعل فيكم اصحاب محمد (١) من الذي [إذا راى مني امرا ينكره قومني (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ]: زيادة ﷺ.
(٢) صحيح.

حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں حضرت عمر کے پاس گیا جبکہ وہ اپنے گھر کی چوکھٹ پر تھے اور اپنے آپ سے باتیں کررہے تھے۔ میں آپ کے قریب ہوا اور میں نے پوچھا: اے امیر المومنین! کس چیز نے آپ کو فکر مند کر رکھا ہے؟ آپ رضی اللہ عنہ نے اپنے ہاتھوں سے اشارہ فرما کر کچھ کہا۔ راوی کہتے ہیں میں نے کہا: آپ کو کس چیز نے وہم میں ڈالا ہے؟ خدا کی قسم! اگر ہم آپ سے کسی امر منکر کو دیکھیں گے تو ہم آپ کو سیدھا کردیں گے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: بخدا! اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔ اگر تم نے مجھ سے کوئی امر منکر دیکھا تو تم مجھے سیدھا کردو گے؟ میں نے کہا: اس خدا کی قسم! جس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔ ہم نے اگر آپ سے کوئی امر منکر دیکھا تو البتہ ہم آپ کو سیدھا کردیں گے۔ راوی کہتے ہیں۔ اس پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ بہت زیادہ خوش ہوگئے اور فرمایا: تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے تمہارے اندر محمد 5 کے صحابہ رضی اللہ عنہ م پیدا فرمائے جو مجھ سے بھی کوئی امر منکر دیکھیں گے تو مجھے سیدھا کریں گے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37207]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37207، ترقيم محمد عوامة 35629)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 35630 ترقیم الشثری: -- 37208
٣٧٢٠٨ - حدثنا يزيد بن هارون عن همام بن يحيى عن إسحاق بن عبد الله] (١) بن ابي طلحة عن انس قال: رايت عمر بن الخطاب (ياكل) (٢) الصاع من التمر بحشفه (٣) (٤) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط ما بين المعكوفين في: [س].
(٢) سقط من: [س].
(٣) الحشف: التمر اليابس.
(٤) صحيح؛ أخرجه ابن سعد ٣/ ٣١٨.

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر بن خطاب کو کھجور کے صاع میں سے گھٹیا کھجوریں کھاتے دیکھا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37208]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37208، ترقيم محمد عوامة 35630)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 35631 ترقیم الشثری: -- 37209
٣٧٢٠٩ - حدثنا يزيد بن هارون عن محمد بن مطرف عن زيد بن اسلم عن ابيه قال: كنت آتي عمر بالصاع من التمر فيقول يا اسلم حت عني قشره فاحشفه فياكله (١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) صحيح؛ أخرجه أبو عبيد في غريب الحديث ٣/ ٣٨٩.
حضرت زید بن اسلم، اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس کھجور کے صاع لاتا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے: اے اسلم! اس کے چھلکے مجھ سے ہٹا دو۔ پھر آپ رضی اللہ عنہ گھٹیا کھجور کھالیتے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37209]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37209، ترقيم محمد عوامة 35631)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 35632 ترقیم الشثری: -- 37210
٣٧٢١٠ - حدثنا ابو (الاحوص) (١) عن سماك عن النعمان بن بشير قال: سئل عمر (عن) (٢) التوبة النصوح، فقال: التوبة النصوح ان يتوب العبد من العمل السيء ثم لا يعود إليه ابدا (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ع]: (الأخواص).
(٢) سقط من: [س].
(٣) حسن؛ سماك صدوق، أخرجه عبد الرزاق في التفسير ٣/ ٣٠٣، وابن جرير ٢٨/ ١٦٧، والحاكم ٢/ ٤٥٩، والطحاوي ٤/ ٢٩٠، والبيهقي في الشعب (٧٠٣٤)، واللالكائي (١٩٤٩)، وهناد (٩٠١)، وأحمد بن منيع كما في المطالب (٣٧٦١).

حضرت نعمان بن بشیر سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے توبۃ نصوح کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: توبۃ نصوح: یہ ہے کہ آدمی برے کام سے توبہ کرے اور پھر کبھی بھی اس کی طرف نہ لوٹے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37210]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37210، ترقيم محمد عوامة 35632)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں