🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

8. كلام عمر بن الخطاب ﵁
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا کلام
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 35613 ترقیم الشثری: -- 37191
٣٧١٩١ - حدثنا ابو اسامة قال: اخبرنا هشام بن عروة عن ابيه قال: لما قدم عمر الشام كان قميصه قد تجوب عن مقعده قميص سنبلاني (١) غليظ، فارسل به إلى صاحب اذرعات او (ايلة) (٢) ، قال: فغسله ورقعه وخيط له قميص (قبطري) (٣) ، فجاء بهما جميعا فالقى إليه القبطري، فاخذه عمر فمسه فقال: هذا (الين) (٤) ، (فرمى) (٥) به إليه وقال: الق إلي قميصي، فإنه انشفهما للعرق (٦) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) أي: سابغ.
(٢) في [ط، هـ]: (أبلة).
(٣) ثياب كتان بيض، وفي [س]: (نظري)، وفي [جـ]: (قطري).
(٤) في [ع]: (لين).
(٥) في [ع]: (فرمي).
(٦) منقطع؛ عروة لم يدرك عمر، أخرجه أحمد في الزهد ص ١١٨.

حضرت ہشام بن عروہ، اپنے والد سے روایت کرتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ شام تشریف لائے تو آپ رضی اللہ عنہ کی قمیص، بیٹھنے کی جگہ سے پھٹی ہوئی تھی۔ وہ ایک موٹی اور سنبلانی قمیص تھی۔ چناچہ آپ رضی اللہ عنہ نے وہ قمیص صاحب اذرعات یا ایلہ کی طرف بھیجی۔ راوی کہتے ہیں پس اس نے اس قمیص کو دھویا اور اس میں پیوند لگا دیا اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے لیے قبطری قمیص سی گئی۔ پھر ان دونوں قمیصوں کو لے کر آدمی آپ رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور آپ رضی اللہ عنہ کو قبطری قمیص دی۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس قمیص کو پکڑا اور اس کو چھوا پھر فرمایا: یہ نرم ہے۔ پھر آپ نے وہ قمیص اسی آدمی کی طرف پھینک دی اور فرمایا: مجھے میری قمیص دے دو کیونکہ وہ ان دونوں قمیصوں میں سے پسینہ کو زیادہ چوسنے والی ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37191]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37191، ترقيم محمد عوامة 35613)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 35614 ترقیم الشثری: -- 37192
٣٧١٩٢ - حدثنا عبد الله بن إدريس عن محمد بن إسحاق عن عاصم بن عمر قال: كان عمر يقول: يحفظ الله المؤمن، كان عاصم بن ثابت بن الافلح نذر ان لا يمس مشركا ولا يمسه مشرك، فمنعه الله بعد وفاته كما امتنع منهم في حياته (١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) منقطع؛ عاصم بن عمر هو ابن قتادة لم يدرك عمر.
حضرت عاصم بن عمر سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ ایمان والے کی حفاظت کرتا ہے۔ حضرت عاصم بن ثابت بن افلح نے اس بات کی نذر مانی تھی کہ وہ کسی مشرک کو نہیں چھوئیں گے اور کوئی مشرک ان کو نہ چھوئے۔ چناچہ جس طرح یہ اپنی زندگی میں اس سے بچتے رہے اسی طرح اللہ تعالیٰ نے ان کو ان کی وفات کے بعد بھی بچایا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37192]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37192، ترقيم محمد عوامة 35614)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 35615 ترقیم الشثری: -- 37193
٣٧١٩٣ - حدثنا وكيع عن سفيان عن الربيع بن (قزيع) (١) قال: سمعت ابن عمر قال: كان عمر بن الخطاب يؤتى بخبزه ولحمه ولبنه وزيته وبقله وخله، فياكل ثم يمص اصابعه ويقول هكذا، فيمسح يديه بيديه، ويقول: هذه مناديل آل عمر (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ]: (فريع)، وفي [س]: (يربع)، وانظر: الكنى من الأسماء ١/ ١٩٣، واللباب ٣/ ٣٥، وتوضيح المشتبه ٧/ ٢١١ و ٤/ ١٣٨، وفتح الباب ١/ ٢٠٤، والثقات ٤/ ٢٢٥، والأنساب ٤/ ٤٩٥، والتاريخ الكبير ٣/ ٢٧٠، والجرح والتعديل ٣/ ٤٦٧.
(٢) صحيح.

حضرت ربیع بن قزیع سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما کو کہتے سنا کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس، روٹی، گوشت، دودھ، زیتون، سبزی اور سرکہ لایا جاتا تھا۔ وہ کھانا تناول کرتے پھر اپنی انگلیوں کو چاٹ لیتے۔ پھر یوں اشارہ کرتے۔ پھر اپنے ایک ہاتھ کو دوسرے ہاتھ سے مل لیتے اور فرماتے۔ آلِ عمر رضی اللہ عنہ کے رومال یہی ہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37193]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37193، ترقيم محمد عوامة 35615)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 35616 ترقیم الشثری: -- 37194
٣٧١٩٤ - حدثنا معاوية بن هشام عن سفيان عن عبد الملك بن عمير عن (ابي مليح) (١) قال: قال عمر: ما (الدنيا) (٢) في الآخرة إلا (كنفجة) (٣) ارنب (٤) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ب]: (ابن مليح).
(٢) في [أ، ب]: (الدني).
(٣) نفجة الأرنب أي وثبته، وهذا مثل يضرب على تقليل المدة. انظر: تهذيب اللغة ١١/ ٨٠، وفي [أ، س]: (كنفخة).
(٤) منقطع؛ أبو مليح هو الهذلي لا يروي عن عمر، أخرجه ابن أبي الدنيا في سفر الأمل (١٢٨)، وهناد (٥٧٢)، وأخرجه ابن الأعرابي في الزهد (١١٩) عن عبد الملك بن عمير عن أبي صالح قال: سمعت عمر.

حضرت ابوملیح سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ آخرت کے مقابلہ میں دنیا کی حیثیت خرگوش کی ایک چھلانگ کی سی ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37194]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37194، ترقيم محمد عوامة 35616)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 35617 ترقیم الشثری: -- 37195
٣٧١٩٥ - حدثنا ابو اسامة قال: حدثنا (مسعر قال: حدثنا) (١) وديعة الانصاري قال: قال عمر: (لا تعترض) (٢) لما لا يعنيك واعتزل (عدوك) (٣) (واحذر) (٤) صديقك إلا الامين من الاقوام، ولما امين إلا من خشي الله، ولا ⦗٣١٤⦘ تصحب الفاجر فتعلم من فجوره، ولا تطلعه على سرك، واستشر في امرك الذين يخشون الله (٥) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [هـ].
(٢) في [ب]: (لاعترض).
(٣) في [أ، ب]: (وحدك).
(٤) في [س]: (وأخذ).
(٥) مجهول؛ لجهالة وديعة الأنصاري، أخرجه ابن شبه في تاريخ المدينة (١٣١٢)، والخرائطي كما في المنتقى (٥٠٩)، وأبو نعيم في الحلية ٧/ ٢٦٨، وابن أبي الدنيا في الصمت (١٢٠)، وأبو الشيخ في الكرم (ص ٤٠)، وبنحوه ورد من طريق سعيد بن المسيب عن عمر، أخرجه ابن البخاري في مشيخته ١/ ٦٣٢، والقزويني في التدوين ١/ ٢١٧، وابن عساكر ٤٤/ ٣٦٠، وابن النجار في ذيل تاريخ بغداد ١٧/ ٢٣١، والبيهقي في شعب الإيمان ٦/ ٣٢٣، والخطابي في العزلة (ص ٤٨)، وابن حبان في روضة العقلاء ١/ ٩٠، وتقدم نحوه ١٣/ ٢٦٥ [٣٧١٦٩].

حضرت ودیعہ انصاری بیان کرتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا: جو بات تمہارے مقصد کی نہ ہو اس سے تعرض نہ کرو۔ اور اپنے دشمن سے علیحدگی رکھو۔ لوگوں میں اپنے دوستوں میں سے امین کے ماسوا سے ڈرو اور امین شخص وہ ہوتا ہے جو خوفِ خدا رکھتا ہو۔ فاجر آدمی سے صحبت نہ رکھو پھر اس کے فجور کو سیکھ جاؤ گے۔ اور اس کو اپنے راز پر مطلع نہ کرو اور اپنے معاملہ میں ان لوگوں سے مشورہ کرو جو اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہوں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37195]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37195، ترقيم محمد عوامة 35617)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 35618 ترقیم الشثری: -- 37196
٣٧١٩٦ - حدثنا وكيع عن سفيان عن إسماعيل بن امية قال: قال عمر: في (العزلة) (١) راحة من خلطاء السوء (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ]: (الخلاطاء).
(٢) منقطع؛ إسماعيل بن أمية لم يدرك عمر، أخرجه ابن عبد البر في التمهيد ١٧/ ٤٤٢، وابن أبي عاصم في الزهد (٨٥).

حضرت اسماعیل بن امیہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں خلوت میں برے دوستوں سے راحت ہوتی ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37196]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37196، ترقيم محمد عوامة 35618)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 35619 ترقیم الشثری: -- 37197
٣٧١٩٧ - حدثنا ابو معاوية عن الاعمش عن حبيب قال: قدم (اناس) (١) من العراق (على عمر) (٢) وفيهم جرير بن عبد الله قال: فاتاهم يحفنة قد صنعت بخبز وزيت، قال: فقال لهم: (خذوا، فاخذوا اخذا ضعيفا قال: فقال لهم) (٣) : قد (ارى) (٤) ما (تقرمون) (٥) إليه فاي شيء تريدون حلوا وحامضا وحارا وباردا، وقذفا في البطون (٦) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ، ع]: (ناس).
(٢) سقط من: [أ، ب].
(٣) سقط من: [أ، ب، هـ].
(٤) في [ط، هـ]: (رأى).
(٥) أي: ترغبون اللحم، وفي [أ، ب، جـ، س]: (تقدمون).
(٦) منقطع؛ حبيب بن أبي ثابث لم يدرك عمر، أخرجه أبو نعيم في الحلية ١/ ٤٩.

حضرت حبیب سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس عراق سے کچھ لوگ آئے۔ ان میں حضرت جریر بن عبداللہ بھی تھے۔ راوی کہتے ہیں پھر کوئی ان کے پاس ایک بڑا برتن لے کر آیا جس میں روٹی اور زیتون بنایا گیا تھا۔ راوی کہتے ہیں حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان لوگوں سے کہا۔ لے لو راوی کہتے ہیں انہوں نے آرام سے ہلکے سے لیا۔ راوی کہتے ہیں اس پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا۔ تحقیق میں تمہاری گوشت کے لیے شدت خواہش کو دیکھ رہا ہو۔ تم کیا چاہتے ہو؟ کھٹا میٹھا، ٹھنڈا گرم، پیٹوں میں ڈالنا؟ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37197]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37197، ترقيم محمد عوامة 35619)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 35620 ترقیم الشثری: -- 37198
٣٧١٩٨ - حدثنا ابو معاوية عن الاعمش عن حبيب عن بعض اصحابه عن عمر انه دعي إلى طعام فكانوا إذا جاؤا (بلون) (١) خلطه (بصاحبه) (٢) (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (وايلون).
(٢) سقط من: [أ، ب].
(٣) مجهول؛ لإبهام أشياخ حبيب، أخرجه هناد (٦٨٥).

حضرت عمر کے بارے میں روایت ہے کہ انہیں ایک دعوت میں مدعو کیا گیا پس وہ لوگ جب کوئی مختلف شے لاتے تو اس کو اپنے ساتھی کے ساتھ ملا لیتے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37198]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37198، ترقيم محمد عوامة 35620)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 35621 ترقیم الشثری: -- 37199
٣٧١٩٩ - حدثنا شبابة بن سوار قال: حدثنا شعبة عن عاصم (بن) (١) عبيد الله عن عبد الله بن عامر قال: رايت عمر بن الخطاب اخذ تبنة من الارض فقال: ليتني هذه التبنة، ليتني لم اك شيئا، ليت امي لم تلدني، ليتني كنت نسيا منسيا (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، س]: (عن).
(٢) ضعيف؛ لضعف عاصم، أخرجه ابن شبه في تاريخ المدينة (١٥٧٩)، وابن سعد في الطبقات ٣/ ٣٦٠، والبيهقي في شعب الإيمان (٧٨٩)، وابن المبارك في الزهد (٢٣٤)، وابن أبي الدنيا في المتمنين (١٢).

حضرت عبداللہ بن عامر سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر بن خطاب کو دیکھا کہ انہوں نے زمین سے ایک تنکا اٹھایا (اور فرمایا: ہائے کاش! میں یہ تنکا ہوتا۔ کاش! میں کچھ نہ ہوتا۔ کاش میری ماں نے مجھے جنا نہ ہوتا۔ کاش! میں بھولا بسرا ہوچکا ہوتا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37199]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37199، ترقيم محمد عوامة 35621)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 35622 ترقیم الشثری: -- 37200
٣٧٢٠٠ - حدثنا شبابة قال: حدثنا شعبة عن عاصم بن عبيد الله عن (عبد) (١) الله بن عامر (عن ابن عمر) (٢) قال: كان راس عمر على حجري فقال: ضعه (لا ام لك) (٣) ، ثم قال: ويلي ويل ام عمر إن لم يغفر لي ربي (٤) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ]: (عبيد).
(٢) سقط من: [أ، ب].
(٣) في [س]: (اللأمر لك).
(٤) ضعيف؛ لضعف عاصم وابن سعد، وأخرجه الطبراني في الأوسط (٥٧٩)، وبنحوه مسدد كما في المطالب العالية (٣٩٠٣)، وابن شبه في أخبار المدينة (١٥٧٨)، وابن سعد ٣/ ٣٦٠، وابن المبارك في الزهد (٢٣٦).

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا سر مبارک میری گود میں تھا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تیری ماں نہ رہے۔ اس کو (زمین پر) رکھ دو۔ پھر فرمایا: میری ہلاکت! اگر میرے رب نے مجھے معاف نہ کیا تو میری ماں کی ہلاکت۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37200]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37200، ترقيم محمد عوامة 35622)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں