🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

8. كلام عمر بن الخطاب ﵁
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا کلام
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 35603 ترقیم الشثری: -- 37181
٣٧١٨١ - حدثنا ابو خالد الاحمر عن يحيى بن سعيد عن سعيد بن المسيب قال: لما نفر عمر كوم كومة من تراب ثم بسط عليها ثوبه (واستلقى) (١) عليها (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (واستسقى).
(٢) حسن؛ أبو خالد صدوق، وأخرجه الحاكم ٣/ ٩٨، ومالك ٢/ ٨٢٤ (١٥٠٦)، ومسدد كما في المطالب (٣٨٩٧)، وابن عساكر ٦٤/ ٣٩٤، والفاكهي في أخبار مكة (١٨٣١)، وابن الأثير في أسد الغابة ٤/ ١٨٤.

حضرت سعید بن مسیب سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ جب سفر کرتے تو مٹی کا ایک ڈھیر اکٹھا کرلیتے پھر اس پر اپنا کپڑا بچھا لیتے اور اس پر لیٹ جاتے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37181]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37181، ترقيم محمد عوامة 35603)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 35604 ترقیم الشثری: -- 37182
٣٧١٨٢ - حدثنا ابو خالد الاحمر عن يحيى بن سعيد عن مصعب بن محمد عن رجل من غفار عن ابيه قال: اقبلت بطعام احمله من (الجار) (١) على إبل من إبل الصدقة فتصفحها عمر فاعجبه بكر فيها، قلت: خذه يا امير المؤمنين فضرب بيده على كتفي وقال: والله، ما انا باحق به من رجل من بني غفار (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، ع]: (الحار)، والجار مكان بالحجاز.
(٢) مجهول؛ لإبهام الرجل الغفاري.

قبیلہ غفار کا ایک آدمی، اپنے والد سے روایت کرتا ہے اس کے والد کہتے ہیں کہ میں مقام جار سے صدقہ کے اونٹوں پر کھانا لاد کر لا رہا تھا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان اونٹوں کو غور سے دیکھا تو ان اونٹوں میں ایک جوان اونٹ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو پسند آیا۔ میں نے عرض کیا: اے امیر المومنین! اس کو لے لیں۔ تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنا ہاتھ میرے کندھے پر مارا اور فرمایا: میں بنو غفار کے آدمی سے زیادہ اس کا حقدار نہیں ہوں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37182]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37182، ترقيم محمد عوامة 35604)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 35605 ترقیم الشثری: -- 37183
٣٧١٨٣ - حدثنا ابو (خالد) (١) الاحمر عن يحيى بن سعيد عن محمد بن يحيى بن (حبان) (٢) قال: كان بين يدي عمر صحفة فيها خبز مفتوت فيه فجاء رجل كالبدوي، قال: فقال: كل، قال: فجعل يتبع باللقمة الدسم في جانب الصحفة، فقال عمر: كانك مقفر، فقال: والله ما ذقت (سمنا) (٣) ولا (رايت) (٤) (له) (٥) آكلا، فقال عمر: والله لا اذوق سمنا حتى يحيى الناس من اول ما يحيون (٦) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [س].
(٢) في [س]: (حيان).
(٣) سقط من: [ب].
(٤) في [س]: تكررت.
(٥) في [جـ]: (به).
(٦) منقطع؛ محمد بن يحيى بن حبان لا يروي عن عمر، أخرجه مالك في الموطأ (١٦٦٧)، وابن شبة (١٢٤١)، والبيهقي في الشعب (٥٦٨٢).

حضرت محمد بن یحییٰ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے سامنے ایک پلیٹ تھی جس میں روٹی، گھی میں چورا کی ہوئی تھی کہ ایک دیہاتی قسم کا آدمی آگیا۔ راوی کہتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کھاؤ، راوی کہتے ہیں: پس اس نے پلیٹ کے کنارے میں موجود چکناہٹ کے ساتھ لقمہ لگانا شروع کیا اس پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا لگتا ہے تم بھوکے ہو؟ اس نے کہا: خدا کی قسم! میں نے گھی کو چکھا ہے اور نہ ہی میں نے اس کو کھانے والا دیکھا ہے۔ اس پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: خدا کی قسم! اس وقت تک میں گھی نہیں چکھوں گا جب تک یَحْیَا النَّاسُ مِنْ أَوَّلِ مَا یَحْیَوْنَ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37183]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37183، ترقيم محمد عوامة 35605)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 35606 ترقیم الشثری: -- 37184
٣٧١٨٤ - حدثنا محمد بن بشر قال: حدثنا مسعر عن عون بن عبد الله بن عتبة قال: قال عمر: جالسوا التوابين فإنهم ارق شيء (افئدة) (١) (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [س، ع]: (أفيدة).
(٢) منقطع؛ عون لم يدرك عمر، أخرجه أحمد في الزهد (ص ١٢٠)، وهناد (٨٩٤)، وأبو نعيم في الحلية ١/ ٥١، وابن حبان في روضة العقلاء (ص ٣١).

حضرت عبداللہ بن عتبہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا: تم لوگ، توبہ کرنے والے کی مجلس میں بیٹھا کرو کیونکہ یہ دل کو سب سے زیادہ نرم کرنے والی چیز ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37184]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37184، ترقيم محمد عوامة 35606)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 35607 ترقیم الشثری: -- 37185
٣٧١٨٥ - حدثنا عبدة بن سليمان عن مسعر عن حبيب عن يحيى بن جعدة قال: قال عمر: لولا ان اسير في سبيل الله، (او لاضع) (١) (جنبي) (٢) لله في التراب، او اجالس قوما (يلتقطون) (٣) طيب الكلام كما (يلتقط) (٤) التمر، ⦗٣١١⦘ لاحببت ان اكون قد لحقت بالله (٥) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: (لا لوضع).
(٢) في [هـ]: (جبيني).
(٣) في [أ، ب]: (يلتفضون).
(٤) في [أ، ب]: (يلتفظ).
(٥) منقطع؛ يحيى لا يروي عن عمر، أخرجه ابن المبارك في الجهاد (٢٢٢)، وأحمد في الزهد (ص ١١٧)، وأبو نعيم في الحلية ١/ ٥١، وابن سعد ٣/ ٢٩٠.

حضرت یحییٰ بن جعدہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا: اگر یہ بات نہ ہوتی کہ میں راہ خدا میں چلتا ہوں یا اپنی پیشانی کو اللہ کے لیے مٹی میں رکھتا ہوں یا میں ایسے لوگوں میں بیٹھتا ہوں جو عمدہ کلام کو اس طرح چن لیتے ہیں جیسے کھجور کو چنا جاتا ہے تو پھر مجھے خدا سے ملنا زیادہ محبوب ہوتا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37185]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37185، ترقيم محمد عوامة 35607)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 35608 ترقیم الشثری: -- 37186
٣٧١٨٦ - حدثنا وكيع قال: حدثنا الاعمش عن شيخ قال: قال عمر: من اراد الحق فلينزل بالبراز-يعني (يظهر) (١) امره (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ع]: (يطهر).
(٢) مجهول؛ لإبهام شيخ الأعمش.

ایک بوڑھے سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا: جو آدمی حق کا ارادہ کرتا ہے تو اس کو چاہیے کہ اپنے معاملہ کو ظاہر رکھے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37186]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37186، ترقيم محمد عوامة 35608)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 35609 ترقیم الشثری: -- 37187
٣٧١٨٧ - حدثنا حسين بن علي عن زائدة عن التيمي عن ابي عثمان قال: قال عمر: الشتاء (غنيمة) (١) العابد (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [س]: (الغنيم).
(٢) صحيح؛ أخرجه أبو نعيم في الحلية ١/ ٥١، و ٣/ ٣١ و ٩/ ٢٠، وابن أبي الدنيا في التهجد وقيام الليل (٤٢٢).

حضرت ابوعثمان سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا: سردیاں، عبادت گزار کے لیے غنیمت ہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37187]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37187، ترقيم محمد عوامة 35609)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 35610 ترقیم الشثری: -- 37188
٣٧١٨٨ - حدثنا يزيد بن هارون قال: حدثنا اشرس ابو شيبان قال: حدثنا عطاء الخرساني قال: قال: احتبس عمر بن الخطاب على جلسائه فخرج إليهم من العشي فقالوا: ما حبسك؟ فقال: غسلت ثيابي فلما جفت خرجت إليكم (١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) منقطع؛ عطاء لا يروي عن عمر، وأشرس هو ابن الربيع الهذلي صدوق، روى عنه جمع من الأئمة وذكره ابن حبان في الثقات.
حضرت عطاء خراسانی بیان کرتے ہیں کہتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ بن خطاب نے اپنے ہم مجلسوں کو روکے رکھا پھر آپ رضی اللہ عنہ شام کو ان کے پاس آئے۔ لوگوں نے پوچھا: آپ کو کس چیز نے روکا تھا؟ انہوں نے فرمایا: میں نے اپنے کپڑوں کو دھویا تھا جب وہ خشک ہوئے تو میں تمہارے پاس آیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37188]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37188، ترقيم محمد عوامة 35610)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 35611 ترقیم الشثری: -- 37189
٣٧١٨٩ - حدثنا وكيع عن سفيان قال: كتب عمر إلى ابي موسى: إنك لن تنال الآخرة بشيء افضل من الزهد في (الدنيا) (١) (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ]: (الدنى).
(٢) معضل، بين سفيان وعمر طبقات.

حضرت سفیان سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کو خط لکھا: بیشک تم آخرت کو اس سے بہتر کسی چیز سے حاصل نہیں کرسکتے کہ دنیا میں بےرغبتی اختیار کرو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37189]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37189، ترقيم محمد عوامة 35611)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 35612 ترقیم الشثری: -- 37190
٣٧١٩٠ - حدثنا سفيان ابن عيينة عن ابي فروة عن عبد الرحمن بن ابي ليلى ⦗٣١٢⦘ قال: قدم على عمر ناس من (١) العراق، فراى كانهم ياكلون تعذيرا (٢) ، فقال: ما هذا يا اهل العراق؟ لو شئت ان يدهمق (٣) (لي) (٤) كما يدهمق لكم لفعلت، ولكننا نستبقي من دنيانا (ما) (٥) نجده في آخرتنا، اما سمعتم الله قال: ﴿اذهبتم طيباتكم في حياتكم الدنيا واستمتعتم بها﴾ (٦) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ط، هـ]: زيادة (أهل).
(٢) أي: من أجل أن يعذرهم عمر مع عدم رغبتهم في الأكل.
(٣) أي: يلين الطعام.
(٤) سقط من: [ب].
(٥) في [أ، ب، هـ]: (كما)، وفي [جـ]: (كيما).
(٦) صحيح؛ أخرجه أبو نعيم في الحلية ١/ ٤٩، وأبو عبيد في غريب الحديث ٣/ ٢٦٥.

حضرت عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس، عراق کے کچھ لوگ آئے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں دیکھا کہ گویا وہ کھانا تھوڑا کھا رہے ہیں۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے اہل عراق! یہ کیا ہے؟ اگر میں چاہتا کہ جس طرح تمہارے لیے کھانا عمدہ بنایا گیا، میرے لیے بھی بنایا جائے تو میں بنوا سکتا ہوں۔ لیکن ہم اپنی دنیا میں سے بچاتے ہیں جس کو ہم آخرت میں پائیں گے۔ کیا تم نے حق تعالیٰ کا فرمان نہیں سنا: { أَذْہَبْتُمْ طَیِّبَاتِکُمْ فِی حَیَاتِکُمُ الدُّنْیَا وَاسْتَمْتَعْتُمْ بِہَا }۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37190]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37190، ترقيم محمد عوامة 35612)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں