🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

10. (كلام ابن مسعود ﵁)
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا کلام
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 35707 ترقیم الشثری: -- 37285
٣٧٢٨٥ - حدثنا وكيع عن سفيان عن ابي (إسحاق) (١) عن ابي (الاحوص) (٢) عن عبد الله قال: كاد الجعل ان يعذب في (جحره) (٣) بذنب بن آدم، ثم قرا: ﴿ولو ⦗٣٤٢⦘ يؤاخذ الله الناس بما كسبوا (٤)[فاطر: ٤٥] (٥) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [جـ].
(٢) في [أ، ع]: (الأخوص).
(٣) في [ب، س]: (حجره).
(٤) في [أ، ب]: زيادة ﴿مَا تَرَكَ عَلَى ظَهْرِهَا مِنْ دَابَّةٍ﴾.
(٥) صحيح؛ أخرجه ابن أبي حاتم (١٨٠١٩)، وابن جرير ١٤/ ١٢٦، والحاكم ٢/ ٤٦٤، والبيهقي في شعب الإيمان ٦/ ٥٤.

حضرت عبداللہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں قریب ہے کہ بھنورے کو بھی اپنی بل میں ابن آدم کے گناہ کی وجہ سے عذاب دیا جائے پھر آپ رضی اللہ عنہ نے یہ آیت پڑھی: { وَلَوْ یُؤَاخِذُ اللَّہُ النَّاسَ بِمَا کَسَبُوا }۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37285]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37285، ترقيم محمد عوامة 35707)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 35708 ترقیم الشثری: -- 37286
٣٧٢٨٦ - حدثنا وكيع عن سفيان عن ابي إسحاق عن ابي (الاحوص) (١) قال: قال عبد الله: لا تغالبوا هذا الليل فإنكم (لا تطيقونه) (٢) ، فإذا (نعس) (٣) احدكم فلينم على فراشه فإنه اسلم (٤) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ع]: (الأخوص).
(٢) في [جـ]: (لا تطيقوه).
(٣) في [س]: (تعس).
(٤) صحيح؛ أخرجه عبد الرزاق (٤٢٢٣)، والطبراني (٨٥٥٤).

حضرت ابوالاحوص سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت عبداللہ نے فرمایا: تم لوگ اس رات پر غلبہ حاصل نہ کرو کیونکہ تم اس کی طاقت نہیں رکھتے۔ پس جب تم میں سے کسی کو اونگھ آئے تو اس کو چاہیے کہ وہ اپنے بستر پر سو جائے۔ کیونکہ یہ زیادہ بہتر بات ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37286]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37286، ترقيم محمد عوامة 35708)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 35709 ترقیم الشثری: -- 37287
٣٧٢٨٧ - حدثنا عباد بن العوام عن سفيان بن حسين عن ابي الحكم عن ابي وائل عن ابن مسعود قال: ما احد من الناس يوم القيامة إلا (١) (يتمنى) (٢) انه كان ياكل في الدنيا قوتا، وما يضر احدكم على اي حال امسى واصبح من الدنيا (ان لا) (٣) تكون في النفس (حزازة) (٤) ؛ ولان يعض احدكم على جمرة حتى تطفا خير من ان يقول لامر قضاه الله: (ليت) (٥) هذا لم يكن (٦) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ]: زيادة (إنه).
(٢) في [جـ]: (تمنا).
(٣) في [جـ]: (إلا أن).
(٤) في [هـ]: (مزازة)، وفي [س]: (خرازة).
(٥) في [ع]: (ليث).
(٦) صحيح؛ أخرجه أبو نعيم في الحلية ١/ ١٣٧، وأحمد في الزهد (ص ١٥٦)، وأخرجه مرفوعًا الخطيب في تاريخ بغداد ٤/ ٧.

حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں لوگوں میں سے ہر ایک قیامت کے دن اس بات کی خواہش کرے گا کہ وہ دنیا میں جو کچھ کھاتا تھا وہ قوت … زندگی بچانے کی مقدار کھانا … ہوتا اور تم میں سے کسی کو دنیا کی صبح وشام … جس حالت کی بھی ہو … نقصان نہیں دے گی اگر اس کے دل میں درد نہ ہو۔ اور تم میں سے کوئی انگارے کو پکڑے یہاں تک کہ وہ بجھ جائے یہ کام اس بات سے بہتر ہے کہ آدمی خدا کے کسی فیصلہ شدہ کام کے بارے میں یہ کہے: کاش کہ یہ نہ ہوتا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37287]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37287، ترقيم محمد عوامة 35709)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 35710 ترقیم الشثری: -- 37288
٣٧٢٨٨ - حدثنا ابو (الاحوص) (١) عن ابي إسحاق عن ابي عبيدة قال: قال عبد الله: إنه لمكتوب في التوراة: لقد اعد الله للذين تتجافى جنوبهم عن المضاجع ما لم تر عين ولم تسمع اذن ولم يخطر على قلب بشر وما (لا) (٢) يعلمه ملك ولا مرسل، قال: ونحن نقرؤها: ﴿فلا تعلم نفس ما اخفي لهم من قرة اعين﴾ [السجدة: ١٧] (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ع]: (الأخرص)، وفي [أ]: (الأخوص).
(٢) سقط من: [ب].
(٣) منقطع؛ أبو عبيدة لم يسمع من أبيه، أخرجه الحاكم ٢/ ٤٤٨، وابن جرير في التفسير ٢١/ ١٠٣، والطبراني (٩٠٣٩).

حضرت ابوعبیدہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت عبداللہ نے فرمایا: یقینا یہ بات تورات میں لکھی ہوئی ہے۔ تحقیق اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے لیے جن کے پہلو خوابگاہوں سے جدا رہتے ہیں ایسی نعمتیں تیار کی ہیں جن کو کسی آنکھ نے دیکھا نہیں اور کسی کان نے سنا نہیں اور کسی بندہ کے دل پر ان کا خیال نہیں گزرا اور جن کو کوئی فرشتہ، رسول نہیں جانتا۔ پھر فرمایا: ہم اس بات کو (یہاں) پڑھتے ہیں: { فَلاَ تَعْلَمُ نَفْسٌ مَا أُخْفِیَ لَہُمْ مِنْ قُرَّۃِ أَعْیُنٍ } [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37288]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37288، ترقيم محمد عوامة 35710)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 35711 ترقیم الشثری: -- 37289
٣٧٢٨٩ - حدثنا ابو معاوية عن الاعمش عن مسلم البطين عن (عدسة) (١) (الطائي) (٢) قال: اتي (عبد الله) (٣) (بطير) (٤) (صيد) (٥) (بشراف) (٦) فقال عبد الله: لوددت إني بحيث صيد هذا الطير، لا يكلمني بشر ولا اكلمه حتى القى الله (٧) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (عدلسة).
(٢) في [أ، ع]: (الطاي).
(٣) سقط من: [ع].
(٤) في [س]: (يطير).
(٥) في [جـ]: (أصيد).
(٦) في [أ، ب، س، ع]: (بسراف)، وفي [جـ]: (سراف)، وشراف بئر بنجد.
(٧) مجهول؛ عدسة مقبول، أخرجه هناد (١٢٤٢)، والطبراني (٨٧٥٨)، وابن عساكر ٣٣/ ١٧٣، والمروزي في زوائد زهد ابن المبارك (١٣)، وابن أبي الدنيا في المتمنين (٩٩)، والخطابي في العزلة (٦).

حضرت عدسہ طائی سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت عبداللہ کے پاس مقام شراف سے شکار کردہ ایک پرندہ لایا گیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: مجھے یہ بات محبوب ہے کہ میں اس مقام پر رہوں جہاں اس پرندہ کو شکار کیا گیا ہے۔ نہ مجھ سے کوئی بشر کلام کرے اور نہ میں کسی بشر سے کلام کروں یہاں تک کہ میں اللہ سے مل جاؤں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37289]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37289، ترقيم محمد عوامة 35711)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 35712 ترقیم الشثری: -- 37290
٣٧٢٩٠ - حدثنا جرير بن عبد الحميد عن عبد العزيز بن رفيع عن (خيثمة) (١) قال: قال عبد الله: انظروا الناس عند (مضاجعهم) (٢) ، فإذا رايتم العبد يموت على ⦗٣٤٤⦘ خير ما ترونه فارجوا له الخير، وإذا رايتموه يموت على شر ما ترونه فخافوا عليه، فإن العبد إذا كان شقيا وإن اعجب الناس بعض عمله قيض له شيطان (فارداه) (٣) واهلكه حتى يدركه الشقاء الذي كتب عليه، وإذا كان (٤) سعيدا وإن كان الناس يكرهون بعض عمله (٥) قيض له ملك فارشده وسدده حتى تدركه السعادة التي كتبت له (٦) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [س، ع]: (خثيمة).
(٢) في [هـ]: (مضاجهم).
(٣) في [جـ]: (فأراده).
(٤) في [أ، ب]: زيادة (الناس).
(٥) في [ب]: زيادة (قبض عمله).
(٦) منقطع؛ خيثمة لم يدرك ابن مسعود.

حضرت خیثمہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت عبداللہ نے فرمایا: لوگوں کو ان کی خواب گاہوں کے پاس دیکھو۔ پس جب تم کسی بندے کو بہترین حالت پر مرتے دیکھو تو اس کے لیے خیر کی امید رکھو اور جب تم کسی بندے کو بدترین حالت میں مرتے دیکھو تو پھر تم اس پر خوف کرو۔ کیونکہ جب بدبخت ہوتا ہے … تو اگرچہ اس کے بعض اعمال لوگوں کو متعجب کرتے ہیں … تو اس کے لیے ایک شیطان مقرر کردیا جاتا ہے وہ اس کو بہکاتا ہے اور ہلاکت میں ڈال دیتا ہے یہاں تک کہ وہ بدبختی اس کو پالیتی ہے جو اس کا مقدر ہوتی ہے اور جب بندہ خوش بخت ہوتا ہے … اگرچہ اس کے بعض اعمال لوگوں کو ناپسند ہوتے ہیں … اس کے لیے ایک فرشتہ مقرر کردیا جاتا ہے جو اس کی راہنمائی کرتا ہے اور راہ راست پر لگاتا ہے۔ یہاں تک کہ اس کو مقدر کی سعادت پالیتی ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37290]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37290، ترقيم محمد عوامة 35712)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 35713 ترقیم الشثری: -- 37291
٣٧٢٩١ - [حدثنا ابو معاوية عن الاعمش عن عمارة عن ابي (الاحوص) (١) قال: قال عبد الله: تعودوا الخير فإنما الخير في العادة] (٢) (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ع]: (الأخوص).
(٢) سقط الخبر في: [س].
(٣) صحيح؛ أخرجه عبد الرزاق (٤٧٤٢)، وابن أي عاصم في الزهد (٧٨)، والطبراني (٨٧٥٥)، والبيهقي ٣/ ٨٤.

حضرت ابوالاحوص سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت عبداللہ نے فرمایا: خیر کی عادت بناؤ۔ کیونکہ عادت میں بہتری ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37291]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37291، ترقيم محمد عوامة 35713)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 35714 ترقیم الشثری: -- 37292
٣٧٢٩٢ - حدثنا ابو معاوية عن الاعمش عن (خيثمة) (١) عن الاسود قال: قال عبد الله: ما من نفس برة ولا فاجرة إلا وإن الموت خير لها من الحياة، لئن كان برا لقد قال الله: ﴿وما عند الله خير للابرار﴾ [آل عمران: ١٩٨] ، (ولئن) (٢) كان فاجرا لقد قال الله: ﴿ولا يحسبن الذين كفروا انما نملي لهم (خير) (٣) لانفسهم إنما نملي لهم ليزدادوا إثما ولهم عذاب مهين﴾ [آل عمران: ١٧٨] (٤) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ع]: (خثيمة).
(٢) في [أ، ب]: (وإن).
(٣) في [أ، ب]: (خيرًا).
(٤) صحيح؛ أخرجه ابن أبي حاتم كما في تفسير ابن كثير ١/ ٤٤٣، وأخرجه ابن جرير ٤/ ١٨٧.

حضرت اسود سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت عبداللہ نے فرمایا: نفس اچھا ہو یا برا ہو۔ بہرحال موت اس کے لیے زندگی سے بہتر ہے۔ اگر نفس نیک ہو تو ارشاد خداوندی ہے: { وَمَا عِنْدَ اللہِ خَیْرٌ لِلأَبْرَارِ } اور اگر نفس برا ہو تو ارشاد خداوندی ہے: { وَلاَ یَحْسَبَنَّ الَّذِینَ کَفَرُوا أَنَمَّا نُمْلِی لَہُمْ خَیْرٌ لأَنْفُسِہِمْ إنَّمَا نُمْلِی لَہُمْ لِیَزْدَادُوا إِثْمًا وَلَہُمْ عَذَابٌ مُہِینٌ}۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37292]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37292، ترقيم محمد عوامة 35714)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 35715 ترقیم الشثری: -- 37293
٣٧٢٩٣ - حدثنا شبابة بن سوار قال: حدثنا شعبة عن الاعمش عن عبد الله بن مرة عن ابي (كنف) (١) ان رجلا راى رؤيا فجعل يقصها على ابن مسعود وهو سمين، فقال ابن مسعود: إني لاكره ان يكون القارئ سمينا (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، جـ]: (كعب)، وفي [س]: (ابن كعب).
(٢) مجهول؛ لحال أبي كنف، وأخرجه مسدد كما في المطالب (٣٥٠٤).

حضرت ابوکنف سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے خواب دیکھا۔ چناچہ اس نے وہ خواب حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کو بیان کرنا شروع کیا … وہ آدمی موٹا تھا … حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں اس بات کو ناپسند کرتاہوں کہ قاری موٹا ہو … راوی اعمش کہتے ہیں … میں نے یہ روایت حضرت ابراہیم سے ذکر کی تو انہوں نے فرمایا: موٹا آدمی قرآن کو بھلا دیتا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37293]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37293، ترقيم محمد عوامة 35715)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: Not Found ترقیم الشثری: -- 37294
٣٧٢٩٤ - قال الاعمش: فذكرت ذلك لإبراهيم فقال: سمين نسي للقرآن.
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37294، ترقيم محمد عوامة ---)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں