مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
75. ما قالوا: في البكاء من خشية الله
اللہ کے خوف سے رونے کا بیان
ترقیم عوامۃ: 36857 ترقیم الشثری: -- 38450
٣٨٤٥٠ - حدثنا عبد الله بن نمير عن مالك بن مغول قال: قال عبد الله: الدنيا دار من لا دار له، ومال من لا مال له، ولها يعمل من لا عقل له (١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) منقطع؛ مالك لا يروي عن ابن مسعود، وأخرجه البيهقي في الشعب (١٠٦٣٨).
حضرت عبداللہ فرماتے ہیں کہ دنیا اس کا گھر ہے کہ جس کا کوئی گھر نہیں اور اس کا مال ہے کہ جس کا کوئی مال نہیں اور اس دنیا کے لیے وہی شخص عمل کرتا ہے جس میں عقل نہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 38450]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38450، ترقيم محمد عوامة 36857)
ترقیم عوامۃ: 36858 ترقیم الشثری: -- 38451
٣٨٤٥١ - حدثنا عبد الله بن نمير عن عبيد الله بن سعيد الجعفي قال: قال عيسى ابن مريم (١) : بيتي (المسجد) (٢) وطيبي الماء، (وإدامي) (٣) الجوع، وشعاري الخوف، ودابتي (رجلي) (٤) ، ومصطلاي في الشتاء: مشارق الصيف، وسراجي ⦗١٠٩⦘ بالليل القمر، وجلسائي الزمنى والمساكين، وامسي وليس لي شيء، (واصبح) (٥) وليس لي شيء، وانا بخير، فمن اغنى مني؟
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ]: زيادة ﵉.
(٢) في [س]: (مسجدا).
(٣) في [أ، ب]: (وأدمي).
(٤) في [هـ]: (رجلاي).
(٥) في [س]: (أو صبح).
حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کا ارشاد ہے کہ میرا گھر مسجد ہے اور میری خوشبو پانی ہے اور میرا سالن بھوک ہے اور میرا شعار خوفِ خدا ہے اور میری سواری میرے پاؤں ہیں۔ اور گرمیوں میں جس جگہ سورج نکلتا ہے وہی میری سردیوں میں تاپنے کی جگہ ہے۔ اور میرا چراغ چاند ہے اور میرے اہل مجلس کمزور اور مسکین ہیں اور میں شام اس حالت میں کرتا ہوں کہ میرے پاس کوئی چیز نہیں ہوتی اور میں صبح اس حالت میں کرتا ہوں میرے پاس کوئی چیز نہیں ہوتی اور بالکل ٹھیک ہوں تو پھر مجھ سے زیادہ غنی کون ہوسکتا ہے؟“ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 38451]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38451، ترقيم محمد عوامة 36858)
ترقیم عوامۃ: 36859 ترقیم الشثری: -- 38452
٣٨٤٥٢ - حدثنا (هشيم) (١) عن إسماعيل عن حبيب بن ابي ثابت ان ناسا من اصحاب النبي ﷺ قالوا: (يا رسول) (٢) الله إنا نعمل اعمالا في السر فنسمع الناس يتحدثون بها فيعجبنا ان نذكر بخير؟ فقال:"لكم اجران: اجر السر واجر العلانية" (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ع]: (هشام).
(٢) في [جـ، س]: (برسول اللَّه).
(٣) مرسل؛ حبيب تابعي، أخرجه وكيع في الزهد (٢٤٥)، وأبو عبيد في الغريب ٢/ ٣، وهناد في الزهد (٨٨٠)، وورد متصلًا من حديث أبي هريرة، أخرجه الترمذي (٢٣٨٤)، وابن ماجه (٤٢٢٦)، وابن حبان (٣٧٥)، والبغوي (٤١٤١)، والطيالسي (٢٤٣٣)، والذهبي في تذكرة الحفاظ ٢/ ٧٥٧.
حضرت حبیب بن ابی ثابت رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام نے سوال کیا کہ اے اللہ کے رسول 5 ہم کوئی کام چھپ کر کرتے ہیں پھر ہم لوگوں کو اس کے بارے میں باتیں کرتے ہوئے سنتے ہیں تو ہم کو ہمارا بھلائی میں ذکر کیا جانا اچھا محسوس ہوتا ہے؟ تو آپ e نے جواب دیا کہ تمہارے لیے دو اجر ہیں ایک پوشیدہ کا اجر اور ایک علانیہ کا اجر۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 38452]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38452، ترقيم محمد عوامة 36859)
ترقیم عوامۃ: 36860 ترقیم الشثری: -- 38453
٣٨٤٥٣ - حدثنا (هشيم) (١) قال: اخبرنا يونس بن عبيد قال: حدثنا (الحسن) (٢) ان رجلين من اصحاب رسول الله ﷺ مات احدهما قبل صاحبه بجمعة ففضلوا الذي مات وكان في انفسهم افضل من الآخر، فذكر ذلك لرسول الله ﷺ فقال:"اليس بقي الآخر بعد الاول جمعة، صلى كذا وكذا صلاة"، قال: فكانه فضل (الباقي) (٣) (٤) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ع]: (هشام).
(٢) في [ع]: (الحسين).
(٣) في [أ، ب، جـ]: (الثاني).
(٤) مرسل؛ الحسن تابعي.
حضرت حسن رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دو صحابیوں میں سے ایک دوسرے سے ایک جمعہ پہلے فوت ہوگیا تو لوگوں نے مرنے والے کو فضیلت دی۔ ان کے ذہنوں میں تھا کہ یہ دوسرے سے بہتر ہے۔ پھر یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بیان کی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کہ کیا دوسرا اول سے ایک جمعہ زیادہ نہیں زندہ رہا اور اس نے اتنی اتنی نمازیں زیادہ پڑھیں۔ گویا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم دوسرے کو اس اوّل پر ترجیح دے رہے تھے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 38453]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38453، ترقيم محمد عوامة 36860)
ترقیم عوامۃ: 36861 ترقیم الشثری: -- 38454
٣٨٤٥٤ - حدثنا محمد بن عبد الله بن الزبير قال: حدثنا محمد بن خالد الضبي ⦗١١٠⦘ عن شيخ عن ابي الدرداء (انه) (١) قال: (تعوذوا) (٢) بالله من خشوع النفاق، قال: قيل: يا ابا الدرداء (و) (٣) ما خشوع النفاق؟ قال: ان ترى الجسد (خاشعا) (٤) والقلب ليس بخاشع (٥) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [س].
(٢) في [س]: (نعوذ).
(٣) سقط من: [س].
(٤) سقط من: [جـ].
(٥) مجهول؛ لإبهام الراوي عن أبي الدرداء.
حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ سے منافقت والے خشوع سے پناہ مانگو۔ سوال کیا گیا کہ اے ابودرداء خشوع میں منافقت کیا چیز ہے؟ تو جواب دیا کہ تو دیکھے کہ جسم میں تو خشوع ہے لیکن دل میں خشوع نہیں ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 38454]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38454، ترقيم محمد عوامة 36861)
ترقیم عوامۃ: 36862 ترقیم الشثری: -- 38455
٣٨٤٥٥ - حدثنا محمد بن عبد الله الاسدي قال: حدثنا حسن عن ابيه عن زيد العمي قال: لما قيل لداود (١) : قد غفر لك، قال: فكيف (لي) (٢) بالرجل؟ قال: قيل له: (نستوهبك) (٣) منه فيهبك لنا، فإنها (لترجى) (٤) في الدين.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ]: زيادة ﵇.
(٢) سقط من: [س].
(٣) في [أ، ب]: (سنوهنك)، وفي [س]: (نستوهب لك)، وفي [جـ]: (نستوهب).
(٤) في [أ، ب، جـ]: النرجى).
حضرت زید عمی فرماتے ہیں کہ جب حضرت داؤد علیہ السلام سے کہا گیا کہ آپ کی مغفرت کردی گئی تو انہوں نے کہا کہ اس آدمی کا کیا ہوگا۔ ان سے کہا گیا کہ ہم نے آپ کو اس سے طلب کیا تو اس نے آپ کو ہمیں دے دیا۔ یہ دنیا میں زیادہ قابل امید ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 38455]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38455، ترقيم محمد عوامة 36862)
ترقیم عوامۃ: 36863 ترقیم الشثری: -- 38456
٣٨٤٥٦ - حدثنا عفان قال: حدثنا ابان بن يزيد العطار قال: حدثنا قتادة قال: (حدثنا) (١) ابو العالية الرياحي عن (حديث سهل بن) (٢) حنظلة (العبشمي) (٣) انه قال: ما اجتمع قوم يذكرون الله إلا نادى مناد من السماء: قوموا مغفورا لكم، قد بدلت سيئاتكم حسنات (٤) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [س، هـ]: (حدثه).
(٢) في [س]: (محمد سهل بن حديث حنظلة).
(٣) في [أ، ب، جـ، س، ع]: (العبس).
(٤) صحيح؛ أخرجه أحمد في الزهد ص ٢٠٥، والطبراني (٦٠٣٩)، والبيهقي في الشعب (٦٩٤).
حضرت سہل بن حنظلہ عبسی فرماتے ہیں کہ جب بھی کوئی قوم اللہ کے ذکر کے لیے اکٹھی ہوتی ہے تو آسمان سے ایک منادی آواز دیتا ہے کہ اٹھو تمہاری مغفرت کردی گئی اور تمہاری غلطیوں کو اچھائیوں سے تبدیل کردیا گیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 38456]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38456، ترقيم محمد عوامة 36863)
ترقیم عوامۃ: 36864 ترقیم الشثری: -- 38457
٣٨٤٥٧ - حدثنا محمد بن عبد الله بن الزبير قال: حدثنا عبد العزيز بن ابي رواد عن عبد الله بن عبيد بن عمير قال: كان يقال: العلم ضالة المؤمن، يغدو في طلبه، فإذا اصاب منه شيئا (حواه) (١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [س].
حضرت عبداللہ بن عبید بن عمیر کا ارشاد ہے کہ کہا جاتا تھا کہ علم مومن کا گمشدہ سامان ہے۔ یہ اس کی طلب میں صبح نکلتا ہے اور جب کچھ نہ کچھ مل جاتا ہے تو جمع کرلیتا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 38457]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38457، ترقيم محمد عوامة 36864)
ترقیم عوامۃ: 36865 ترقیم الشثری: -- 38458
٣٨٤٥٨ - حدثنا محمد بن عبد الله الاسدي قال: حدثنا عبد العزيز بن ابي رواد ان اصحاب النبي ﷺ ظهر فيهم المزاح والضحك فانزل الله تعالى: ﴿الم يان للذين آمنوا ان تخشع قلوبهم لذكر الله﴾ [الحديد: ١٦] ، إلى آخر الآية (١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) منقطع؛ ابن أبي رواد لا يروي عن أحد من الصحابة.
حضرت عبدالعزیز ابی رواد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اصحابِ پیغمبر 5 کی عادات میں کچھ مزاح اور ہنسی ظاہر ہونے لگی تو اللہ تبارک وتعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: { أَلَمْ یَأْنِ لِلَّذِینَ آمَنُوا أَنْ تَخْشَعَ قُلُوبُہُمْ لِذِکْرِ اللہِ } آخر آیت تک۔ ”کیا ایمان والوں کے لیے وہ وقت نہیں آگیا کہ ان کے دل اللہ کے ذکر سے ڈر جائیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 38458]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38458، ترقيم محمد عوامة 36865)
ترقیم عوامۃ: 36866 ترقیم الشثری: -- 38459
٣٨٤٥٩ - حدثنا محمد بن عبد الله قال: حدثنا ابن ابي راود ان قوما صحبوا عمر ابن عبد العزيز فقال: عليكم بتقوى الله وحده لا شريك له، وإياي والمزاح، فإنه (يجر) (١) القبيح ويورث الضغينة، وتجالسوا بالقرآن وتحدثوا (به) (٢) ، فإن ثقل عليكم (فحديث) (٣) من حديث الرجال، (سيروا) (٤) باسم الله.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [س]: (يجير).
(٢) سقط من: [هـ].
(٣) في [أ، ب]: (حديث).
(٤) في [أ، ب، ط، هـ]: (فسيروا).
حضرت ابن ابی رواد فرماتے ہیں کہ ایک قوم عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کی مصاحب ہوئی تو انہوں نے فرمایا کہ صرف ایک اللہ سے ڈرو جس کا کوئی شریک نہیں ہے اور اپنے کو مزاح سے بچاؤ، اس لیے کہ یہ مزاح قبیح باتیں پیدا کرتا ہے اور کینہ پیدا کرتا ہے۔ اور قرآن کی مجالس لگایا کرو اور اس ہی سے متعلقہ باتیں کیا کرو۔ پھر اگر تم کو بوجھل محسوس ہو تو لوگوں کی باتوں میں کوئی بات کرلیا کرو۔ اللہ کے نام کے ساتھ زمین پر چلو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 38459]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38459، ترقيم محمد عوامة 36866)