مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
75. ما قالوا: في البكاء من خشية الله
اللہ کے خوف سے رونے کا بیان
ترقیم عوامۃ: 36877 ترقیم الشثری: -- 38470
٣٨٤٧٠ - حدثنا عفان قال: حدثنا حماد بن سلمة عن علي بن زيد عن الحسن (١) ان ثلاثة علماء اجتمعوا فقالوا لاحدهم: ما املك؟ قال: (ما) (٢) ياتي ⦗١١٦⦘ علي شهر إلا ظننت اني (اموت) (٣) (فيه) (٤) ، قالوا: إن هذا (الامل) (٥) ، فقالوا للآخر: ما املك؟ قال: ما تاتي علي جمعة إلا ظننت اني اموت فيها، قالوا للثالث: وما املك؟ قال: وما امل من نفسه بيد غيره.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط في [ع]: من هنا إلى حديث رقم [٣٩٥٢٩] في غزوة أحد.
(٢) في [ط، هـ]: (لما).
(٣) سقط من: [أ، ب].
(٤) في [س]: (فيها).
(٥) في [س]: (لأمل).
حضرت حسن رضی اللہ عنہ کا ارشاد ہے کہ تین علماء اکٹھے ہوئے تو انہوں نے ایک دوسرے سے کہا کہ تیری امید کتنی ہے؟ تو ایک نے جواب دیا کہ میرا خیال ہے کہ میں ایک مہینہ زندہ رہ سکوں پھر مر جاؤں گا۔ تو انہوں نے کہا کہ یہ تو بڑی امید ہے۔ پھر دوسرے سے پوچھا کہ تجھے کتنی امید ہے؟ اس نے جواب دیا کہ میرا خیال ہے کہ میں ایک جمعہ تک رہ سکوں گا پھر مر جاؤں گا۔ انہوں نے تیسرے سے سوال کیا کہ تیری کیا امید ہے؟ تو اس نے جواب دیا کہ اس شخص کو کیا امید ہوسکتی ہے کہ جس کی جان ہی کسی دوسرے کے پاس ہو؟“ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 38470]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38470، ترقيم محمد عوامة 36877)
ترقیم عوامۃ: 36878 ترقیم الشثری: -- 38471
٣٨٤٧١ - حدثنا عفان قال: حدثنا بشر بن مفضل عن يونس عن الحسن قال: كان يضرب مثل ابن آدم مثل رجل حضرته الوفاة، (فحضر) (١) اهله وعمله فقال لاهله: امنعوني، قالوا: إنما (٢) (نمنعك) (٣) من امر الدنيا، فاما هذا فلا [نستطيع ان نمنعك منه، فقال لماله: انت تمنعني، قال: (إني) (٤) كنت (زينا) (٥) زينت في الدنيا، اما هذا فلا] (٦) استطيع ان امنعك منه، قال: (فوثب) (٧) عمله فقال: انا صاحبك الذي ادخل معك قبرك، وازول معك حيثما زلت، قال: اما والله لو شعرت لكنت آثر الثلاثة عندي، قال: (قال) (٨) الحسن: (فالآن) (٩) (فآثروه) (١٠) على ما سواه.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [س]: (فحضره).
(٢) في [جـ]: زيادة (كنا).
(٣) في [أ، ب]: (منعك).
(٤) في [أ، ب، جـ]: (نا).
(٥) في [أ، ب]: (دنيا)، وفي [ط]: (زينك)، وفي [جـ]: (زينتك).
(٦) سقط ما بين المعكوفين في: [س].
(٧) في [جـ]: (فوتب).
(٨) في [جـ]: (فقال).
(٩) في [أ، س]: (قالان).
(١٠) في [جـ]: (فأوثروه).
حضرت حسن رضی اللہ عنہ کا ارشاد ہے کہ ابن آدم کی مثال اس شخص کی سی ہے کہ جس کی موت کا وقت قریب آگیا تو اس کے اہل و عیال اور اس کا مال اور عمل اس کے پاس آئے تو اس نے اپنے اہل و عیال سے کہا کہ اس موت کو مجھ سے دور کرو تو انہوں نے جواب دیا کہ ہم تو دنیا کے امور میں سے منع کرسکتے ہیں لیکن اس موت کو نہیں روک سکتے۔ پھر اس نے اپنے مال سے کہا کہ مجھ سے اس کو دور کرو تو اس نے جواب دیا کہ میں تو تیری صرف دنیا ہی کی زینت تھا لیکن اس امر کو میں تجھ سے دور نہیں کرسکتا۔ پھر اس کے عمل نے اس کو بھروسہ دلایا کہ میں ہی تیرا وہ ساتھی ہوں کہ تیرے ساتھ قبر میں داخل ہوجاؤں گا اور جس جگہ بھی تو جائے گا میں تیرے ساتھ ہوں گا تو اس آدمی نے کہا کہ کاش میں پہلے یہ بات مان لیتا کہ تو میرے نزدیک ان سب سے زیادہ مؤثر ہے۔ راوی فرماتے ہیں کہ حسن رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ابھی ہی سے اس کو دوسروں پر ترجیح دو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 38471]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38471، ترقيم محمد عوامة 36878)
ترقیم عوامۃ: 36879 ترقیم الشثری: -- 38472
٣٨٤٧٢ - حدثنا حفص عن (اشعث) (١) عن كردوس الثعلبي قال: مكتوب في التوراة: اتق توقه، إنما التوقي (بالتقوى) (٢) ارحموا ترحموا، توبوا (يتب) (٣) عليكم.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [س]: (شعبة).
(٢) في [جـ]: (في التقوى).
(٣) في [جـ]: (تياب)، وفي [هـ]: (تيب).
حضرت کردوس ثعلبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ تورات میں یہ بات لکھی ہے کہ اللہ سے ڈرو بچ جاؤ گے۔ کیونکہ بچاؤ صرف تقویٰ میں ہی ہے۔ رحم کرو تم پر بھی رحم کیا جائے گا۔ توبہ کرو تمہاری توبہ قبول کی جائے گی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 38472]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38472، ترقيم محمد عوامة 36879)
ترقیم عوامۃ: 36880 ترقیم الشثری: -- 38473
٣٨٤٧٣ - حدثنا يزيد بن هارون قال: اخبرنا الجريري عن ابي نضرة ان رجلا (دخل) (١) الجنة فراى مملوكه فوقه مثل الكوكب، فقال: والله يا رب إن هذا (لمملوكي) (٢) في الدنيا، فما انزله هذه المنزلة؟ قال: كان هذا احسن عملا منك.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ب]: (ذخل).
(٢) في [س، هـ]: (المملوكي)، وفي [ط]: (مملوكي).
حضرت ابی نضرہ رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی پر میں داخل ہوا تو اس نے اپنے غلام کو اپنے سے اوپر ستارے کی طرح دیکھا تو اس نے سوال کیا کہ اے اللہ یہ تو میرا دنیا میں غلام تھا اس کو اس مرتبہ پر کس نے پہنچا دیا تو اللہ نے جواب دیا کہ اس کے عمل تجھ سے اچھے تھے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 38473]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38473، ترقيم محمد عوامة 36880)
ترقیم عوامۃ: 36881 ترقیم الشثری: -- 38474
٣٨٤٧٤ - حدثنا سفيان ابن عيينة عن مالك بن مغول عن ابي حصين قال: لو رايت (الذي) (١) رايت لاحترقت كبدك عليهم.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (الذين).
حضرت ابو حصین رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر تم وہ دیکھو جو میں نے دیکھا ہے تو تمہارا جگر جل کر راکھ ہوجائے۔ حضرت ابراہیم رحمہ اللہ نے فرمایا: اگر رات مجھ پر طویل ہوجائے حتیٰ کہ میں صبح کرلوں تو میں اس چیز کو دیکھوں گا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 38474]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38474، ترقيم محمد عوامة 36881)
ترقیم عوامۃ: Not Found ترقیم الشثری: -- 38475
٣٨٤٧٥ - وقال إبراهيم: إن كان الليل ليطول علي حتى اصبح (واراه) (١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ، س]: (فأراه).
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38475، ترقيم محمد عوامة ---)
ترقیم عوامۃ: 36882 ترقیم الشثری: -- 38476
٣٨٤٧٦ - حدثنا يزيد بن هارون قال: اخبرنا ابو موسى (التميمي) (١) قال: توفيت النوار امراة الفرزدق فخرج في جنازتها وجوه اهل البصرة، وخرج فيها الحسن، فقال الحسن للفرزدق: ما اعددت لهذا اليوم يا (ابا) (٢) فراس ⦗١١٨⦘ (قال) (٣) : شهادة ان لا إله إلا الله منذ ثمانين سنة، قال: فلما دفنت قام على قبرها فقال: اخاف وراء القبر إن لم (يعافني) (٤) … اشد من القبر التهابا واضيقا إذا جاءني يوم القيامة قائد … عنيف وسواق يسوق الفرزدقا لقد خاب من اولاد (آدم) (٥) من مشى … إلى النار مغلول القلادة ازرقا [ (تم) (٦) كتاب الزهد والحمد لله (٧) رب العالمين] (٨)
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [س]: (التيمي).
(٢) في [أ]: (با).
(٣) في [جـ]: (فقال).
(٤) في [أ، ب، س]: (تعافني).
(٥) كذا في النسخ (آدم)، وهو هكذا في تاريخ الإسلام ٧/ ٢١٥، والأغاني ١٠/ ٣٩٤، و ٢١/ ٣٩٤، وإحياء علوم الدين ٤/ ٤٨٧، والعاقبة في ذكر الموت ص ٢٣، والتخويف من النار ص ١٢١، والحماسة المغربية ٢/ ١٤١٢، والمجالسة ١/ ٢٩٢ و ٣٢٠، وورد في بعض المصادر: (دارم)، انظر: البداية والنهاية ٩/ ٢٦٦.
(٦) في [أ، ب، جـ]: (آخر).
(٧) في [أ، ب، جـ]: زيادة (وحده وصلاته على سيدنا محمد وآله وصحبه وسلم تسليمًا كثيرً)، وفي [أ، ب]: زيادة (إلى يوم الدين).
(٨) سقط من: [س].
حضرت ابوموسیٰ تیمی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”نوار“ فرزدق کی بیوی کا انتقال ہوگیا تو اس کے جنازہ میں بصرہ کے بہت سے لوگ چلے۔ اور ان میں حسن رحمہ اللہ بھی تھے۔ حسن رحمہ اللہ نے فرزدق سے پوچھا کہ اے ابو فراس تو نے اس دن کے لیے کیا تیار کر رکھا ہے؟ اس نے جواب دیا کہ اسی ”٨٠“ سال سے اس بات کی گواہی کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے۔ راوی فرماتے ہیں کہ جب اس کی بیوی کو قبر میں دفن کردیا گیا تو فرزدق اس کی قبر پر کھڑا ہوگیا اور یہ شعر پڑھے: ١۔ اگر مجھ سے عافیت والا معاملہ نہ ہوا تو قبر کے بعد قبر سے بھی زیادہ آگ اور تنگی سے میں ڈرتا ہوں۔ ٢۔ کہ جب بروز قیامت ایک سخت ہانکنے والا اور ایک قائد فرزدق کو ہانک رہے ہوں گے۔ ٣۔ اولادِ دارم میں سے وہ شخص برباد ہوگیا کہ جس کو اندھا کرکے، طوق پہنا کر جہنم کی طرف لے جایا گیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 38476]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38476، ترقيم محمد عوامة 36882)