مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
75. ما قالوا: في البكاء من خشية الله
اللہ کے خوف سے رونے کا بیان
ترقیم عوامۃ: 36867 ترقیم الشثری: -- 38460
٣٨٤٦٠ - حدثنا محمد بن عبد الله الاسدي عن سفيان عن هشام عن ابيه عن عائشة انها كتبت إلى معاوية: اوصيك بتقوى الله، فإنك (إن) (١) اتقيت الله كفاك الناس، (وإن) (٢) اتقيت الناس لم يغنوا عنك من الله شيئا، ⦗١١٢⦘ فعليك بتقوى الله، (اما بعد) (٣) (٤) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [س].
(٢) في [أ، ب، هـ]: (فإن).
(٣) سقط من: [أ، ب].
(٤) صحيح؛ أخرجه ابن المبارك في الزهد (١٩٢)، ويعقوب في المعرفة ١/ ٣٠٤، وابن عساكر ٤٠/ ٢٥٤، واللالكائي (٢٧٨٧)، والبيهقي في الزهد (٨٨٥).
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے معاویہ کی طرف خط بھیجا کہ میں تم کو اللہ سے ڈرنے کی وصیت کرتی ہوں۔ اس لیے اگر تو اللہ سے ڈرے گا تو وہ لوگوں سے تیری کفایت کرے گا اور اگر تو لوگوں سے ڈرے گا تو وہ تیری اللہ سے کفایت نہیں کرسکیں گے۔ پس تیرے اوپر اللہ کا ڈر لازم ہے۔ ”اما بعد“ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 38460]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38460، ترقيم محمد عوامة 36867)
ترقیم عوامۃ: 36868 ترقیم الشثری: -- 38461
٣٨٤٦١ - حدثنا عبد الاعلى عن يونس عن (الحسن) (١) عن عبد الله بن (عمر) (٢) قال: ما تجرع عبد جرعة افضل عند الله اجرا من جرعة كظمها لله ابتغاء وجه الله (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ]: (محسن).
(٢) في [أ، ب، جـ، س، ع]: (عمرو).
(٣) صحيح؛ أخرجه البخاري في الأدب المفرد (١٣١٨)، وورد مرفوعًا عند أحمد (٦١١٤)، وابن ماجه (٤١٨٩)، وابن مردويه كما عند ابن كثير ١/ ٤٠٧.
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ کسی آدمی نے بھی اجر کے اعتبار سے اللہ کے ہاں اس شخص سے زیادہ بہتر گھونٹ نہیں پیا کہ جس نے صرف اللہ کی رضا کے لیے اور اس کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے غصہ پی لیا ہو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 38461]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38461، ترقيم محمد عوامة 36868)
ترقیم عوامۃ: 36869 ترقیم الشثری: -- 38462
٣٨٤٦٢ - حدثنا عبد الاعلى عن برد عن سليمان بن موسى قال: لا تعلم (للدنيا) (١) ، ولا تفقه للرياء، ولا تكونن ضحاكا من غير عجب، ولا (مشاء) (٢) في غير (ارب) (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ]: (للدنيا)، وهو الموافق لما في الحجة للأصبهاني ٢٠/ ٥٢١، وفي بقية النسخ: (للرياء).
(٢) في [س]: (مشأ)، وفي [جـ، ع]: (مشيًا).
(٣) أي: حاجة، وفي [أ، ب، ط، هـ]: (أدب)، وانظر: العزلة ص ٤٤.
حضرت سلیمان بن موسیٰ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ دنیا کے لیے تعلیم مت سیکھ اور ریا کاری کے لیے فقہ مت حاصل کر۔ اور ہرگز بغیر کسی تعجب کے مت ہنس اور نہ ہی بغیر کسی ضرورت کے سفر کر۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 38462]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38462، ترقيم محمد عوامة 36869)
ترقیم عوامۃ: 36870 ترقیم الشثری: -- 38463
٣٨٤٦٣ - حدثنا الفضل بن دكين عن صالح بن (رستم) (١) عن ابن ابي مليكة قال: صحبت ابن عباس من مكة إلى المدينة ومن المدينة إلى مكة، فكان إذا نزل منزلا قام شطر الليل فاكثر في ذلك (النشيج) (٢) ، قلت: وما النشيج؟ قال: ⦗١١٣⦘ (النحيب) (٣) (البكاء) (٤) ، ويقرا: ﴿وجاءت سكرة الموت بالحق ذلك ما كنت منه تحيد﴾ [ق: ١٩] (٥) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [س]: (ستم).
(٢) في [أ]: (التنشيج).
(٣) في [س]: (النجيب).
(٤) في [ع]: (والبكاء).
(٥) حسن؛ صالح بن رستم صدوق، وأخرجه أحمد في فضائل الصحابة ٢/ ٩٥٠، وأبو نعيم في الحلية ١/ ٣٢٧، ويعقوب في المعرفة ١/ ٢٩٣، والبيهقي في شعب الإيمان ٢/ ٣٦٥.
حضرت ابن ابی ملیکہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کے ساتھ مکہ سے مدینہ اور مدینہ سے مکہ کا سفر کیا ہے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما جب بھی کسی جگہ پڑاؤ کرتے تو رات کو قیام فرماتے اور اس میں بہت روتے۔ میں نے سوال کیا کہ یہ آواز کیسی ہوتی تھی؟ جواب دیا کہ رونے، دھونے کی آواز ہوتی تھی اور قرآن پاک کی آیت { وَجَائَتْ سَکْرَۃُ الْمَوْتِ بِالْحَقِّ ذَلِکَ مَا کُنْت مِنْہُ تَحِیدُ } تلاوت فرمایا کرتے تھے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 38463]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38463، ترقيم محمد عوامة 36870)
ترقیم عوامۃ: 36871 ترقیم الشثری: -- 38464
٣٨٤٦٤ - حدثنا محمد بن عبد الله الاسدي قال: حدثنا إسرائيل عن (ابي) (١) حصين عن خيثمة قال: كان عيسى بن مريم (٢) ويحيى (ابني) (٣) خالة، وكان عيسى يلبس الصوف، وكان يحيى يلبس الوبر، ولم يكن لواحد منهما دينار ولا درهم، ولا عبد ولا امة، ولا ماوى ياويان إليه، اينما (جنهما) (٤) الليل اويا، فلما (ارادا) (٥) ان يفترقا قال له (يحيى) (٦) : اوصني، قال: لا تغضب، قال: لا استطيع إلا ان اغضب، قال: لا (تقتن) (٧) مالا، (قال) (٨) : اما هذا فعسى.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [س].
(٢) في [جـ]: زيادة ﵉.
(٣) في [أ، ب]: (بني).
(٤) في [س]: (جنهم).
(٥) في [س، ع]: (أراد).
(٦) سقط من: [ع].
(٧) في [أ]: (تقتني)، وفي [ع]: (تقن).
(٨) سقط من: [ب].
حضرت خثیمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عیسیٰ بن مریم i اور یحییٰ علیہ السلام دونوں خالہ زاد تھے اور عیسیٰ علیہ السلام اون کا کپڑا پہنتے تھے اور یحییٰ علیہ السلام اونٹ کی کھال کا کپڑا پہنتے تھے اور ان میں سے کسی کے پاس بھی نہ کوئی درہم ہوتا تھا اور نہ ہی دینار ہوتا تھا اور نہ ہی کوئی غلام ہوتا تھا اور نہ ہی کوئی باندی ہوتی تھی اور نہ ہی کوئی ایسا ٹھکانہ ہوتا تھا کہ جہاں وہ پناہ گزین ہوسکیں۔ جس جگہ بھی رات ہوجاتی وہیں ٹھہر جاتے۔ پھر جب جدا ہونے کا ارادہ کرتے تو عیسیٰ علیہ السلام کو یحییٰ عرض کرتے کہ مجھے کوئی وصیت کردیں تو وہ کہتے کہ غصہ مت کرنا تو یحییٰ علیہ السلام کہتے کہ میں غصہ کرنے پر قابو نہیں کرسکتا تو عیسیٰ علیہ السلام کہتے کہ مال کو جمع مت کرنا تو یحییٰ علیہ السلام جواب دیتے کہ البتہ یہ کام آسان ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 38464]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38464، ترقيم محمد عوامة 36871)
ترقیم عوامۃ: 36872 ترقیم الشثری: -- 38465
٣٨٤٦٥ - حدثنا الحسن بن موسى قال: حدثنا ابو هلال عن قتادة في قول الله (تعالى) (١) : ﴿بكاس من معين﴾ [الصافات: ٤٥] ، قال: كاس من خمر جارية.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [جـ، ع].
حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ سے قرآن پاک کی آیت { وَکَأْسٍ مِنْ مَعِینٍ } کی تفسیر میں منقول ہے کہ یہ گلاس بہتی ہوئی شراب سے پر ہوں گے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 38465]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38465، ترقيم محمد عوامة 36872)
ترقیم عوامۃ: 36873 ترقیم الشثری: -- 38466
٣٨٤٦٦ - حدثنا الحسن بن موسى قال: حدثنا سعيد بن زيد قال: حدثنا سعيد ابن إياس الجريري قال: حدثنا ابو العلاء ان رجلا من اصحاب النبي ﷺ ادركته الوفاة فجعل يقول: والهفاه! والهفاه! فقيل (له) (١) : (لم) (٢) تلهف؟ فقال: إني سالت رسول الله ﷺ، قلت: ما يكفيني من الدنيا؟ قال: خادم ومركب، فلا انا سكت فلم اساله ولا انا حين سالته انتهيت إلى قوله، واصبت من الدنيا وفي يدي ما في يدي وجاءني الموت (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ، ط، هـ]: (له).
(٢) سقط من: [هـ].
(٣) معلول؛ الجريري روى عنه سعيد بن زيد بعد اختلاطه، ورواه حماد بن سلمة عن الجريري عن أبي نضرة عن عبد اللَّه بن مولة عن بريدة، كما تقدم ١٣/ ٢٤٥ برقم [٣٧١٠٧].
حضرت ابوالعلاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے کسی کی وفات کا وقت قریب آیا تو کہنے لگا کہ ہائے افسوس، ہائے افسوس۔ ان سے پوچھا گیا آپ کس بات پر افسوس کررہے ہیں تو اس نے جواب دیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ مجھ کو دنیا میں کیا چیز کافی ہوگی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا کہ ایک غلام اور ایک سواری۔ پس نہ تو میں خاموش ہی رہا کہ سوال نہ کرتا اور نہ جس وقت میں نے سوال کیا اس پر عمل کیا اور میں نے دنیا حاصل کی اور میری ملک میں اتنا اتنا مال ہے اور مجھ کو موت نے آن گھیرا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 38466]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38466، ترقيم محمد عوامة 36873)
ترقیم عوامۃ: 36874 ترقیم الشثری: -- 38467
٣٨٤٦٧ - حدثنا الحسن بن موسى قال: حدثنا شيبان عن ليث عن مجاهد قال: (آية) (١) انزلت في هذه (الامة) (٢) : ﴿ (٣) قل اؤنبئكم بخير من (ذلكم) (٤) ﴾ [آل عمران: ١٥] ، قال عمر: الآن يا رب (٥) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ع]: (إنه).
(٢) في [س]: (إلا. . .) ثم بياض.
(٣) في [أ، ب، جـ، س، ع]: زيادة (هل).
(٤) في [أ، ب]: (ذلك).
(٥) مرسل ضعيف؛ ليث ضعيف ومجاهد لم يدرك عمر.
حضرت مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس امت کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی { قل أَؤُنَبِّئُکُمْ بِخَیْرٍ مِنْ ذَلِکُمْ } تو عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اے اللہ اس وقت۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 38467]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38467، ترقيم محمد عوامة 36874)
ترقیم عوامۃ: 36875 ترقیم الشثری: -- 38468
٣٨٤٦٨ - حدثنا الحسن بن موسى قال: حدثنا سعيد بن زيد اخو حماد بن زيد قال: حدثنا عثمان (الشحام) (١) قال: حدثنا محمد بن واسع قال: قدمت (من) (٢) مكة فإذا على الخندق قنطرة، فاخذت فانطلق بي إلى مروان (بن) (٣) المهلب وهو ⦗١١٥⦘ امير على البصرة، فرحب بي (وقال) (٤) : حاجتك (يا ابا) (٥) عبد الله، (قلت) (٦) : حاجتي إن استطعت ان (تكون) (٧) كما قال اخو بني عدي، قال: ومن اخو بني عدي؟ (قال) (٨) : العلاء بن زياد، قال: استعمل صديق له مرة على عمل، فكتب إليه: اما بعد فإن استطعت ان لا تبيت إلا وظهرك خفيف، وبطنك خميص، وكفك نقية من دماء المسلمين واموالهم، فإنك إن فعلت ذلك لم يكن عليك سبيل ﴿إنما السبيل على الذين يظلمون الناس ويبغون في الارض﴾ [الشورى: ٤٢] الآية، قال مروان: صدق (و) (٩) الله ونصح، ثم قال: حاجتك يا ابا عبد الله؟ قلت: حاجتي ان تلحقني باهلي، قال: فقال: نعم.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [س]: (الشخام).
(٢) سقط من: [أ، ب].
(٣) سقط من: [س].
(٤) في [جـ]: (فقال).
(٥) في [ع]: (يابا).
(٦) في [ب]: (قال).
(٧) في [أ، ب]: (تقول)، وفي [ع]: (أكون).
(٨) سقط من: [هـ].
(٩) سقط من: [أ، ب، جـ].
حضرت محمد بن واسع فرماتے ہیں کہ میں مکہ سے آیا تو راستہ میں خندق پر ایک پل تھا میں اس پل پر چل پڑا۔ وہ پل مجھے مروان بن مہلب کے پاس لے گیا جو بصرہ کے امیر تھے۔ انہوں نے مجھے مرحبا کہا اور فرمایا اے عبداللہ آپ کی کوئی حاجت ہو؟ میں نے کہا کہ میری حاجت یہ ہے کہ اسی طرح ہوجاؤں کہ جس طرح بنی عدی کے بھائی نے کہا تھا۔ انہوں نے سوال کیا کہ بنی عدی کے بھائی کون ہیں؟ تو میں نے جواب دیا کہ ”علاء بن یزید“ ہیں۔ علاء بن یزید نے کہا ہے کہ ان کے کسی دوست کو کسی کام پر عامل مقرر کرنے کو کہا گیا تو انہوں نے جواب دیا کہ ”اما بعد“ اگر تو طاقت رکھے کہ تو رات اس حالت میں گزارے کہ تیری کمر ہلکی ہو اور تیرا پیٹ خالی ہو اور تیری ہتھیلیاں مسلمانوں کے خون اور اموال سے پاک ہوں تو اگر تو نے یہ کام کرلیا تو تجھ پر کوئی راستہ نہیں۔ راستہ تو ان لوگوں پر ہے کہ جو لوگوں پر ظلم کرتے ہیں اور زمین میں زیادتی کرتے ہیں۔ مروان نے کہا کہ بالکل سچ فرمایا اور نصیحت کی۔ پھر مروان نے پوچھا کہ آپ کی کوئی ضرورت ہے ابوعبداللہ؟ تو میں نے کہا کہ میری ضرورت یہ ہے کہ تو مجھے میرے گھر والوں سے ملا دے۔ تو اس نے جواب دیا کہ کیوں نہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 38468]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38468، ترقيم محمد عوامة 36875)
ترقیم عوامۃ: 36876 ترقیم الشثری: -- 38469
٣٨٤٦٩ - حدثنا وكيع عن ابي اليسع عن علقمة بن مرثد عن ابن سابط قال: إن في الجنة لشجرة لم يخلق الله من صوت حسن إلا وهو في (جذمها) (١) تلذذهم وتنعمهم.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) أي: أصلها، وفي [جـ]: (جرمها).
حضرت ابن سابط رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جنت میں ایک ایسا درخت ہے کہ اللہ نے تمام اچھی آوازیں اس ہی کی جڑ سے پیدا کی ہیں جو جنتیوں کو محظوظ کرے گا اور آسودہ کرے گا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 38469]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38469، ترقيم محمد عوامة 36876)