🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

75. ما قالوا: في البكاء من خشية الله
اللہ کے خوف سے رونے کا بیان
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 36838 ترقیم الشثری: -- 38430
٣٨٤٣٠ - حدثنا إسحاق بن منصور عن محمد بن مسلم عن عثمان بن عبد الله ابن اوس قال: كان نبي من الانبياء يقول: اللهم احفظني بما تحفظ به الصبي، قال: فابكاني.
عثمان بن عبداللہ بن اوس رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نبیوں میں ایک نبی یوں دعا کرتے تھے کہ اے اللہ! میری اس طرح حفاظت فرما کہ جس طرح بچے کی حفاظت کی جاتی ہے۔ فرماتے ہیں کہ مجھے اس بات سے رونا آگیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 38430]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38430، ترقيم محمد عوامة 36838)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 36839 ترقیم الشثری: -- 38431
٣٨٤٣١ - حدثنا سعيد بن شرحبيل قال: اخبرنا ليث بن سعد عن يحيى بن سعيد عن ابي ايوب قال: من اراد ان يعظم حلمه ويكثر علمه فليجلس في غير مجلس عشيرته (١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) منقطع؛ يحيى بن سعيد الأنصاري لم يدرك أبا أيوب الأنصاري، وأخرجه ابن عساكر ١٦/ ٥٢، وذكره المزي ٨/ ٦٩.
حضرت ابوایوب فرماتے ہیں کہ جو شخص یہ چاہتا ہے کہ اس کا حلم بڑھ جائے اور اس کا عمل زیادہ ہو تو اس کو چاہیے کہ اپنے قبیلہ کے علاوہ کسی کے پاس بیٹھا کرے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 38431]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38431، ترقيم محمد عوامة 36839)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 36840 ترقیم الشثری: -- 38432
٣٨٤٣٢ - حدثنا وكيع عن ابي صالح عن الاعمش قال: إن كنا لنحضر الجنازة فما ندري من نعزي من وجد القوم.
حضرت اعمش فرماتے ہیں کہ ہم لوگ جنازوں پر جایا کرتے تھے لیکن قوم کی حالت کی وجہ سے ہم کو یہ سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ تعزیت کس سے کریں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 38432]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38432، ترقيم محمد عوامة 36840)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 36841 ترقیم الشثری: -- 38433
٣٨٤٣٣ - حدثنا يزيد بن هارون قال: اخبرنا اشرس ابو شيبان قال: حدثنا ثابت البناني قال: لقد كنا نتبع الجنازة فما نرى حول السرير إلا متقنعا (باكيا) (١) او متفكرا، كانما على رؤوسهم الطير.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ]: (باكي).
حضرت ثابت بنانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہم جنازوں کے پیچھے جایا کرتے تھے۔ پس ہم تختہ کے اردگرد صرف سروں پر چادر اوڑھ کر رونے والوں کو ہی دیکھتے تھے یا کوئی بہت غمگین۔ گویا کہ ان کے سروں پر پرندے بیٹھے ہوں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 38433]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38433، ترقيم محمد عوامة 36841)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 36842 ترقیم الشثری: -- 38434
٣٨٤٣٤ - حدثنا ابو معاوية عن عاصم عن ابي قلابة قال: التقى رجلان في السوق فقال احدهما لصاحبه: يا اخي تعال ندعو الله ونستغفره في غفلة الناس لعله يغفر لنا، ففعلا فقضى لاحدهما انه مات قبل صاحبه، فاتاه في المنام فقال: يا اخي (اشعرت) (١) ان الله غفر لنا (عشية) (٢) التقينا في السوق.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ، س]: (شعرت).
(٢) في [ب]: (عشيته).

حضرت ابی قلابہ فرماتے ہیں کہ دو آدمی بازار میں ایک دوسرے سے ملے تو ایک نے کہا کہ اے میرے بھائی آؤ اللہ سے دعا و استغفار کرتے ہیں لوگوں کی غفلت میں ہوسکتا ہے ہماری بخشش ہوجائے تو انہوں نے اسی طرح کیا۔ پھر ان میں سے ایک کے متعلق فیصلہ کیا گیا اور وہ اپنے دوسرے ساتھی سے پہلے فوت ہوگیا۔ پھر وہ دوسرے کو خواب میں آیا اور کہا کہ اے میرے بھائی کیا آپ جانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ہماری اس رات بخشش کردی تھی جس رات ہم بازار میں ملے تھے؟“ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 38434]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38434، ترقيم محمد عوامة 36842)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 36843 ترقیم الشثری: -- 38435
٣٨٤٣٥ - حدثنا ابو معاوية عن عاصم عن ابي زينب قال: من (اتى) (١) السوق لا ياتيها إلا ليذكر الله فيها غفر له بعدد من فيها.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [س].
حضرت ابی زینب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جو شخص بازار میں صرف اللہ کا ذکر کرنے کے لیے آتا ہے اس کے لیے بازار میں موجود تمام افراد کے بقدر مغفرت کردی جاتی ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 38435]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38435، ترقيم محمد عوامة 36843)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 36844 ترقیم الشثری: -- 38436
٣٨٤٣٦ - حدثنا (حماد) (١) بن معقل عن مالك بن (دينار) (٢) قال: ابكاني الحجاج في مسجدكم هذا وهو يخطب، فسمعته يقول: امرؤ (زود) (٣) نفسه، امرؤ وعظ نفسه، امرؤ لم (ياتمن) (٤) نفسه على نفسه، (امرؤ) (٥) اخذ (من نفسه لنفسه) (٦) امرؤ كان للسانه وقلبه زاجر من الله، (قال) (٧) : فابكاني.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، جـ، ط، هـ]: (معاذ)، وانظر ترجمته: في الجرح والتعديل ٣/ ١٤٨، والثقات ٨/ ٢٠٤.
(٢) في [س]: (دنير).
(٣) في [أ، ب]: (دور).
(٤) في [أ، ب]: (يأت من).
(٥) سقط من: [أ، ب].
(٦) في [جـ]: (لنفسه من نفسه).
(٧) في [هـ]: (تعالى).

حضرت مالک بن دینار رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مجھ کو حجاج نے اس مسجد میں رلا دیا جب وہ خطبہ دے رہا تھا میں نے سنا کہ وہ کہہ رہا تھا کہ بعض لوگ اپنے کو زاد راہ بناتے ہیں اور بعض لوگ اپنے نفس کو نصیحت کرتے ہیں اور بعض لوگ اپنے نفس کو اپنے لیے امین نہ سمجھتے اور بعض لوگ اپنے لیے اپنے نفس میں حصہ بچا لیتے ہیں اور بعض لوگوں کا نفس ان کے دل اور زبان کو اللہ سے روکتا یعنی ڈراتا ہے۔ فرمایا کہ مجھے اس سے رونا آگیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 38436]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38436، ترقيم محمد عوامة 36844)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 36845 ترقیم الشثری: -- 38437
٣٨٤٣٧ - حدثنا وكيع عن ابيه عن رجل من اهل الشام يكنى ابا عبد الله قال: اتيت طاوسا فاستاذنت عليه فخرج إلي (شيخ) (١) كبير ظننت انه طاوس، قلت: انت طاوس، قال: انا ابنه، قلت: لئن كنت ابنه (لقد) (٢) خرف ابوك، قال: يقول هو: إن العالم لا يخرف، قال: قلت استاذن لي على ابيك قال: فاستاذن لي، فدخلت عليه فقال الشيخ: (سل) (٣) واوجز، فقلت: (إن اوجزت لي) (٤) اوجزت لك، فقال: لا (تسال) (٥) انا اعلمك في مجلسك هذا القرآن والتوراة والإنجيل، خف الله مخافة حتى لا يكون احد اخوف عندك منه، (وارجه) (٦) رجاء هو اشد من خوفك إياه، واحب للناس ما تحب لنفسك.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [س]: (شيخه).
(٢) في [هـ]: (فقد).
(٣) في [س]: (لعل).
(٤) سقط من: [س].
(٥) في [أ، ع]: (تسل).
(٦) في [س، هـ]: (وارجأ).

حضرت ابوعبداللہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں طاؤس رحمہ اللہ کے پاس آیا پھر میں ان کے پاس جانے کی اجازت طلب کی تو میرے پاس ایک بہت بوڑھا شخص آیا میں سمجھا کہ یہی طاؤس ہیں میں نے سوال کیا کہ آپ ہی طاؤس ہیں؟ اس نے جواب دیا کہ نہیں میں تو ان کا بیٹا ہوں۔ میں نے کہا کہ اگر تو ان کا بیٹا ہے تو پھر تو تیرے والد صاحب کا ذہن خراب ہوچکا ہوگا۔ اس نے جواب دیا کہ والد صاحب فرماتے ہیں کہ عالم کی عقل خراب نہیں ہوتی۔ فرماتے ہیں کہ میں نے اس سے کہا کہ اپنے والد صاحب سے میرے لیے اجازت طلب کرو۔ فرماتے ہیں کہ مجھ کو اجازت مل گئی۔ پس میں ان کے پاس گیا تو انہوں نے کہا کہ پوچھو اور جلدی اور مختصر کلام کرو۔ میں نے کہا کہ اگر آپ جلدی کلام کرتے چلیں گے تو میں بھی مختصر کلام کروں گا۔ انہوں نے کہا کہ تو سوال نہ کر میں تجھ کو اس مجلس میں قرآن، تورات، انجیل کی تعلیم دیے دیتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ سے اتنا ڈر کہ اس کے علاوہ کسی کا بھی خوف تجھے نہ رہے۔ اس کے خوف سے زیادہ تو اس سے امید رکھ اور لوگوں کے لیے وہی پسند کر جو اپنے لیے پسند کرتا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 38437]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38437، ترقيم محمد عوامة 36845)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 36846 ترقیم الشثری: -- 38438
٣٨٤٣٨ - حدثنا ابو داود الطيالسي عن ابي (حرة) (١) قال: كان الحسن يحب المداومة في العمل.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ع]: (حمزة).
حضرت ابی حرہ رحمہ اللہ کا ارشاد ہے کہ حسن رضی اللہ عنہ عمل میں مداومت کو پسند کرتے تھے۔ ابی حرہ کہتے ہیں کہ محمد نے پوچھا کہ آپ کا کیا خیال ہے کہ ایک آدمی ایک رات نشاط اور انبساط سے عبادت کرے اور دوسری رات سستی سے کرے؟ تو انہوں نے اس میں کوئی حرج محسوس نہیں کیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 38438]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38438، ترقيم محمد عوامة 36846)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: Not Found ترقیم الشثری: -- 38439
٣٨٤٣٩ - قال: وقال محمد: ارايت إن نشط ليلة وكسل ليلة فلم ير به باسا.
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38439، ترقيم محمد عوامة ---)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں