🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

75. ما قالوا: في البكاء من خشية الله
اللہ کے خوف سے رونے کا بیان
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 36691 ترقیم الشثری: -- 38280
٣٨٢٨٠ - حدثنا محاضر قال: حدثنا الاعمش عن إبراهيم التيمي قال: لقد ادركت ستين من اصحاب عبد الله في مسجدنا هذا اصغرهم الحارث بن سويد وسمعته يقرا: ﴿إذا زلزلت﴾ حتى بلغ: ﴿فمن يعمل مثقال ذرة خيرا يره﴾ [الزلزلة: ١، ٧] ، (فبكى) (١) ، ثم قال: إن هذا (الإحصاء) (٢) شديد.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ط، هـ]: (فيبكي).
(٢) في [ع]: (لإحصاء).

حضرت ابراہیم تیمی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ رضی اللہ عنہ کے ساٹھ ساتھیوں کو اس مسجد میں پایا جس میں سے سب سے چھوٹے حارث بن سوید تھے اور میں نے سنا کہ وہ {إذَا زُلْزِلَتْ… الخ } کی تلاوت کررہے تھے۔ یہاں تک کہ جب (فَمَنْ یَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ خَیْرًا یَرَہُ) پر پہنچے تو رو پڑے پھر فرمایا کہ یہ تو بہت سخت حساب ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 38280]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38280، ترقيم محمد عوامة 36691)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 36692 ترقیم الشثری: -- 38281
٣٨٢٨١ - حدثنا يزيد بن هارون قال: اخبرنا سلام بن مسكين (قال) (١) : حدثنا الحسن قال: مر رجل من اصحاب النبي ﷺ على رجل يقرا آية ويبكي ويرددها، (قال) (٢) : فقال: الم تسمعوا إلى قول الله تعالى: ﴿ورتل القرآن ترتيلا﴾ [المزمل: ٤] ، قال: (هذا الترتيل) (٣) (٤) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [س].
(٢) سقط من: [ع].
(٣) سقط من: [ع].
(٤) منقطع حكمًا؛ الحسن مدلس، وأخرجه ابن المبارك (١١٩٩).

حضرت حسن سے مروی ہے کہ آپ e کے صحابہ میں سے ایک شخص دوسرے کے پاس سے گزرا جو آیت کرسی پڑھ رہا تھا اور رو رہا تھا اور اسی کو بار بار پڑھ رہا تھا تو انہوں نے فرمایا کہ کیا تم لوگوں نے اللہ کا ارشاد { وَرَتِّلِ الْقُرْآنَ تَرْتِیلاً } نہیں سنا یہی ہے وہ ترتیل۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 38281]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38281، ترقيم محمد عوامة 36692)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 36693 ترقیم الشثری: -- 38282
٣٨٢٨٢ - حدثنا شاذان قال: حدثنا مهدي بن ميمون عن الجريري عن عبد الله ابن شقيق العقيلي قال: سمعت كعبا يقول: لان ابكي من خشية الله (تعالى) (١) حتى (يسيل دمعي) (٢) على وجنتي؛ احب إلي من ان اتصدق بوزني ذهبا، والذي نفس كعب بيده: ما من عبد مسلم يبكي من خشية الله (٣) حتى تقطر قطرة من دموعه ⦗٥٩⦘ (إلى) (٤) الارض فتمسه (النار) (٥) ابدا حتى يعود قطر السماء الذي وقع إلى الارض من حيث جاء ولن يعود ابدا.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [جـ، س، ع].
(٢) في [أ، س]: (دمًا)، وفي [جـ]: (تسيل دموعي).
(٣) في [أ]: زيادة (تعالى).
(٤) في [ب، هـ]: (على).
(٥) في [هـ]: (الناس).

حضرت عبداللہ بن شقیق العقیلی فرماتے ہیں کہ میں نے کعب رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا کہ میں اللہ کے خوف سے روؤں یہاں تک کہ آنسو میرے رخسار پر بہنے لگیں یہ مجھ کو اس سے زیادہ پسند ہے۔ میں اپنے وزن کے بقدر سونا صدقہ کروں۔ قسم ہے اس ذات کی کہ جس کے قبضہ میں کعب رضی اللہ عنہ کی جان ہے کہ جو بھی کوئی مسلمان اللہ کے خوف سے روتا ہے اور اس کے آنسو زمین پر گرتے ہیں اس کو جہنم کی آگ اس وقت تک نہیں چھو سکتی جب تک آسمان سے پانی کا زمین پر ٹپکا ہوا قطرہ دوبارہ اپنی جگہ پر نہ چلا جائے اور وہ ہرگز نہیں جاسکتا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 38282]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38282، ترقيم محمد عوامة 36693)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 36694 ترقیم الشثری: -- 38283
٣٨٢٨٣ - حدثنا اسود (بن) (١) عامر قال: حدثنا مهدي بن ميمون قال: سمعت محمدا يقول: كان الرجل من اصحاب محمد (٢) (تاتي) (٣) عليه الثلاثة الايام لا يجد شيئا ياكله (فيجد) (٤) الجلدة فيشويها فيجتزئ بها، وإذا لم يجد شيئا عمد إلى حجر فشد به بطنه (٥) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ]: (عن).
(٢) في [جـ]: زيادة ﷺ.
(٣) في [س]: (يأتي).
(٤) في [س]: (فيجده).
(٥) صحيح.

مہدی بن میمون رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے محمد کو فرماتے ہوئے سنا کہ آپ e کا صحابی تین تین دن تک کھانے کی کوئی چیز نہیں پاتا تھا تو چمڑا لے کر اس کو بھون لیتا اور ٹکڑے کرلیتا اور جب کوئی چیز بھی نہ ملتی تو پتھروں سے اپنے پیٹ کو باندھ لیتا تھا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 38283]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38283، ترقيم محمد عوامة 36694)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 36695 ترقیم الشثری: -- 38284
٣٨٢٨٤ - حدثنا هوذة بن خليفة (قال) (١) : حدثنا عوف عن ابي الورد بن ثمامة عن وهب بن منبه قال: كان في بني إسرائيل رجال احداث الاسنان (مغمورون) (٢) فيهم، قد قراوا الكتاب وعلموا علما، وإنهم طلبوا بقراءتهم الشرف والمال، وإنهم ابتدعوا بدعا اخذوا بها الشرف والمال في الدنيا فضلوا واضلوا كثيرا.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [س].
(٢) في [هـ]: (معمورون).

حضرت وہب بن منبہ فرماتے ہیں کہ بنی اسرائیل میں چند جاہل نوجوان تھے۔ انہوں نے کتاب کو پڑھا اور علم حاصل کیا اور انہوں نے اس کے پڑھنے پر مال اور شرافت مانگنا شروع کردی۔ اور انہوں نے ہی اس بدعت کو شروع کیا۔ وہ اس کے بدلہ میں عزت اور مال دنیا میں طلب کرتے پس وہ خود بھی گمراہ ہوئے اور انہوں نے دوسروں کو بھی گمراہ کیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 38284]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38284، ترقيم محمد عوامة 36695)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 36696 ترقیم الشثری: -- 38285
٣٨٢٨٥ - حدثنا ابو اسامة عن يحيى بن المهلب عن (خالد بن صالح) (١) عن ⦗٦٠⦘ معاوية بن قرة قال: قال ابو الدرداء: إن القلب (يربد) (٢) كما (يربد) (٣) الحديد، قيل: وما جلاؤه؟ قال: يذكر الله.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) كذا في النسخ، ولعله خالد بن دينار كما تقدم ١٣/ ٣٠٦ برقم [٣٧٣٠٦].
(٢) أي: يتغير، وفي [س]: (يريد)، وفي [جـ، ع]: (يرتد).
(٣) أي: يتغير، وفي [س]: (يريد)، وفي [جـ، ع]: (يرتد).

حضرت ابوداؤد کا ارشاد ہے کہ دل کو بھی لوہے کی طرح زنگ لگ جاتا ہے۔ ان سے سوال کیا گیا کہ پھر اس کے لیے کیا علاج ہے تو انہوں نے جواب دیا کہ آدمی اللہ کا ذکر کرے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 38285]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38285، ترقيم محمد عوامة 36696)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 36697 ترقیم الشثری: -- 38286
٣٨٢٨٦ - حدثنا ابو اسامة قال: (حدثنا جرير قال) (١) : حدثني عبد الله بن عبيد ابن عمير قال: كان لايوب النبي ﷺ اخوان (فجاءا) (٢) (جميعا) (٣) فلم يستطيعا (ان يدنوا منه) (٤) من ريحه، فقال احدهما للآخر: لو كان الله علم لايوب خيرا ما بلغ به هذا، فجزع ايوب من قولهما جزعا شديدا لم (يجزعه) (٥) من شيء قط، فقال ايوب: اللهم إن كنت تعلم اني لم (ابت) (٦) ليلة قط (شبعا) (٧) وانا اعلم مكان جائع فصدقني، فصدق وهما يسمعان، ثم قال: اللهم إن كنت تعلم اني لم البس قميصا قط وانا اعلم مكان عار فصدقنى، فصدق وهما يسمعان، ثم خر ساجدا، ثم قال: اللهم إني لا ارفع راسي حتى تكشف عني، قال: فما رفع راسه حتى كشف الله عنه.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [أ، جـ، س، ع]، وانظر: تفسير ابن جرير ١٣/ ٧١، وحلية الأولياء ٣/ ٣٥٥، وتاريخ دمشق لابن عساكر ١٠/ ٦٢.
(٢) سقط من: [أ، س].
(٣) سقط من: [هـ].
(٤) في [هـ]: (يدنوانه).
(٥) في [ط، هـ]: (يجزع).
(٦) في [س]: (أبيت).
(٧) في [أ، س، ع]: (شبعان)، وفي [جـ]: (شبعانًا).

حضرت عبداللہ بن عبید بن عمیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایوب کے دو بھائی تھے۔ وہ دونوں اکٹھے آئے تو ایوب سے آنے والی بو کی وجہ سے اس کے قریب نہ ہوسکے تو ان میں سے ایک نے کہا کہ اگر اللہ تعالیٰ ایوب علیہ السلام میں کوئی بھلائی دیکھتے تو اس کو یہاں تک نہ پہنچاتے۔ تو ایوب علیہ السلام ان کے اس قول کی وجہ سے اتنا شدت سے روئے کہ اتنا کبھی نہ روئے تھے۔ پھر ایوب علیہ السلام نے فرمایا کہ اے اللہ اگر تو جانتا ہے میں کسی بھی رات پیٹ بھر کر نہیں سویا جبکہ میں ایک بھوکے کے مقام کو بھی جانتا ہوں تو تو میری تصدیق کر چناچہ ان کی تصدیق کی گئی اور وہ دونوں سن رہے تھے۔ پھر انہوں نے دعا کی کہ اے اللہ! اگر تو جانتا ہے کہ میں نے کبھی قمیص نہیں پہنی اور میں ننگے کے مقام کو بھی جانتا ہوں تو میری تصدیق کر چناچہ اس کی تصدیق کی گئی اور وہ دونوں سن رہے تھے۔ پھر ایوب علیہ السلام سجدہ میں گرگئے پھر دعا کی کہ اے اللہ! میں اس وقت تک سر نہیں اٹھاؤں گا کہ جب تک تو میرے غم کو نہیں دور کردے گا۔ پھر انہوں نے اس وقت تک اپنا سر نہیں اٹھایا کہ جب تک اللہ نے ان کا غم دور نہیں کردیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 38286]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38286، ترقيم محمد عوامة 36697)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 36698 ترقیم الشثری: -- 38287
٣٨٢٨٧ - حدثنا ابو الاحوص عن منصور عن هلال بن يساف قال: حدثت ان عيسى بن مريم كان يقول: إذا تصدق احدكم فليعط بيمينه وليخف من شماله، ⦗٦١⦘ وإذا كان يوم صوم احدكم فليدهن وليمسح شفتيه من دهنه، حتى ينظر إليه الناظر فلا يرى انه (صائم) (١) ، وإذا صلى في بيته (فليتخذ) (٢) عليه (سترة) (٣) فإنه يقسم الثناء كما يقسم الرزق.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ]: (ضايم).
(٢) في [جـ، ع]: (فليخف)، وفي [هـ]: (فليخسف).
(٣) في [ع]: (سره).

حضرت ہلال بن یوسف فرماتے ہیں کہ عیسیٰ علیہ السلام سے یہ بات منقول ہے کہ جب تم میں سے کوئی آدمی صدقہ کرے تو دائیں ہاتھ سے کرے اور اپنے بائیں ہاتھ سے بھی اس کو پوشیدہ رکھے۔ اور جب تم میں سے کسی کا روزے کا دن ہو تو تیل لگایا کرے اور اپنے ہونٹوں کو تیل سے مسح کرلیا کرے تاکہ دیکھنے والے کو یہ گمان نہ ہو کہ یہ روزے دار ہے۔ اور جب تم میں کوئی آدمی اپنے گھر میں نماز پڑھے تو کوئی سترہ ضرور بنا لیا کرے کیونکہ رزق کی طرح ثنا بھی تقسیم کی جاتی ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 38287]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38287، ترقيم محمد عوامة 36698)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 36699 ترقیم الشثری: -- 38288
٣٨٢٨٨ - حدثنا سعيد بن عبد الله بن الربيع بن (خثيم) (١) عن (نسير) (٢) بن (ذعلوق) (٣) عن (بكر) (٤) بن ماعز قال: كان عبد الله بن مسعود إذا راى الربيع بن (خثيم) (٥) مقبلا قال: ﴿وبشر المخبتين﴾ [الحج: ٣٤] ، اما والله لو رآك رسول الله ﷺ لاحبك (٦) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، س]: (خيثم).
(٢) في [أ، ع]: (بشر).
(٣) في [س]: (ذعلون).
(٤) في [جـ، س]: (بكير).
(٥) في [أ، س]: (خيثم).
(٦) منقطع؛ بكر لم يدرك ابن مسعود، وتقدم ١٣/ ٥٨٤ برقم [٣٨٢٤٨].

حضرت بکر بن ماعز رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ جب ربیع بن خثیم کو آتے ہوئے دیکھتے تو کہتے کہ عاجزی کرنے والوں کو خوشخبری سنا دو اللہ کی قسم اگر آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دیکھتے تو آپ سے محبت کرتے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 38288]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38288، ترقيم محمد عوامة 36699)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 36700 ترقیم الشثری: -- 38289
٣٨٢٨٩ - حدثنا سعيد بن عبد الله بن الربيع بن (خثيم) (١) عن (نسير) (٢) عن (بكر) (٣) بن ماعز قال: جاءت بنت الربيع بن (خثيم) (٤) وعنده اصحاب له فقالت: يا ابتاه اذهب العب، قال: لا، فقال له اصحابه: يا (ابا) (٥) يزيد اتركها، ⦗٦٢⦘ قال: لا (يوجد) (٦) في صحيفتي (اني قلت لها: اذهبي) (٧) العبي (لكن) (٨) اذهبي، فقولي خيرا، وافعلي خيرا.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ]: (خيثم).
(٢) في [أ، ع]: (بشر).
(٣) في [أ، س]: (بكير).
(٤) في [أ، س]: (خيثم).
(٥) في [ع]: (با).
(٦) في [ع]: (توجد).
(٧) في [جـ]: تكرر.
(٨) سقط من: [س].

حضرت بکر بن ماعز رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ربیع بنت خثیم کی بیٹی آئی جس وقت ان کے پاس ساتھی بیٹھے ہوئے تھے تو اس نے پوچھا کہ اے ابا جان! میں کھیلنے چلی جاؤں تو انہوں نے فرمایا کہ نہیں۔ ان کے ساتھیوں نے ان سے عرض کیا کہ اے ابویزید اس کو جانے دیجیے تو انہوں نے جواب دیا کہ میں نے اپنے صحیفہ میں یہ نہیں دیکھا کہ اس سے کہا گیا ہو کہ جا اور کھیل بلکہ اس میں ہے کہ جا اور اچھی بات کہہ اور اچھا کام کر۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 38289]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38289، ترقيم محمد عوامة 36700)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں