مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
75. ما قالوا: في البكاء من خشية الله
اللہ کے خوف سے رونے کا بیان
ترقیم عوامۃ: 36701 ترقیم الشثری: -- 38290
٣٨٢٩٠ - حدثنا سعيد بن عبد الله عن (نسير) (١) عن بكر قال: كان الربيع يقول: يا بكر بن ماعز (يا بكر) (٢) اخزن عليك لسانك إلا مما لك ولا عليك، (فإني) (٣) اتهمت الناس في ديني، اطع الله فيما علمت، وما استؤثر به عليك فكله إلى عالمه، لانا عليكم في العمد اخوف مني عليكم في الخطا، ما خيركم اليوم (بخيره) (٤) ، ولكنه خير من آخر شر منه، ما كل ما انزل الله على محمد ﷺ ادركتم، ولا كل ما تقرؤون تدرون ما (هو) (٥) ، السرائر التي (يخفين) (٦) من الناس وهن لله بواد، (التمسوا) (٧) دواءها، ثم يقول لنفسه: وما دواؤها؟ ان (تتوب) (٨) إلى الله ثم لا (تعود) (٩) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ع]: (بشير)، وسقط من: [أ].
(٢) سقط من: [جـ].
(٣) في [أ، جـ، س، ع]: (إني).
(٤) في [أ، س، ع]: (بخير)، وفي [جـ]: زيادة (بخير بخيره).
(٥) في [أ، س]: (هي).
(٦) في [ط، هـ]: (يخفن).
(٧) في [أ]: (التمسوها).
(٨) في [س]: (نتوب).
(٩) في [ع]: (يعود).
حضرت ربیع فرماتے تھے کہ اے بکر بن ماعز! اپنی زبان کو مفید کاموں میں استعمال کرو۔ نقصان دہ باتوں سے بچو۔ میں لوگوں کو اپنی دین داری کے بارے میں لاعلم سمجھتا ہوں۔ ان چیزوں میں اللہ کی اطاعت کرو جنھیں تم جانتے ہو۔ جو بات تم تک پہنچے اسے اس کے جاننے والے پر موقوف کرو۔ اس لیے کہ جان بوجھ کر غلطی کرنا خطا سے زیادہ خطرناک ہے۔ تمہاری ہر چیز خیر نہیں بلکہ شر سے بہتر ہے۔ حضور 5 کو دی جانے والی تمام باتیں تم تک نہیں پہنچیں اور وہ سب کچھ جو تم پڑھتے ہو سمجھتے نہیں ہو۔ جو چیزیں لوگوں کے لیے پوشیدہ ہیں لوگوں کے لیے ظاہر ہیں۔ ان کا علاج ڈھونڈو پھر اپنے آپ سے خطاب کر کے فرماتے کہ اس کی دوا یہ ہے کہ اللہ کے دربار میں توبہ کرو اور پھر گناہ نہ کرو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 38290]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38290، ترقيم محمد عوامة 36701)
ترقیم عوامۃ: 36702 ترقیم الشثری: -- 38291
٣٨٢٩١ - حدثنا سعيد بن عبد الله عن نسير بن (ذعلوق) (١) عن بكر قال: لما ⦗٦٣⦘ انتهى الربيع بن (خثيم) (٢) إلى مسجد قومه قالوا له: يا ربيع لو قعدت (فحدثتنا) (٣) اليوم، قال: فقعد فجاء حجر فشجه فقال: ﴿ (فمن) (٤) جاءه موعظة من ربه فانتهى فله (ما) (٥) سلف﴾ [البقرة: ٢٧٥] .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ]: (دغلو من)، وفي [س]: (ذعلوف)، وسقط من: [جـ].
(٢) في [أ، س]: (خيثم).
(٣) في [جـ]: (لتحدثنا)، وفي [هـ]: (فحدثنا).
(٤) سقط من: [هـ].
(٥) سقط من: [س].
حضرت بکر فرماتے ہیں کہ جب ربیع بن خثیم اپنی قوم کی مسجد میں گئے تو ان کو لوگوں نے کہا کہ اے ربیع آج ہمارے پاس بیٹھ کر بات چیت کرو۔ بکر فرماتے ہیں کہ ربیع ان کے پاس بیٹھے تو کسی جگہ سے پتھر آیا اور اس نے ان کا سر زخمی کردیا تو انہوں نے فرمایا کہ { فَمَنْ جَائَہُ مَوْعِظَۃٌ مِنْ رَبِّہِ فَانْتَہَی فَلَہُ مَا سَلَفَ } کہ جس شخص کے پاس اپنے رب کی طرف سے نصیحت آگئی پھر وہ رک گیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 38291]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38291، ترقيم محمد عوامة 36702)
ترقیم عوامۃ: 36703 ترقیم الشثری: -- 38292
٣٨٢٩٢ - حدثنا سعيد بن عبد الله عن (نسير) (١) عن بكر قال: كان الربيع ابن (خثيم) (٢) يقول: لا خير في الكلام إلا في تسع: تهليل الله، وتسبيح (الله) (٣) ، وتكبير الله، وتحميد الله، وسؤالك الخير، وتعوذك من الشر، وامرك بالمعروف، ونهيك عن المنكر، وقراءتك القرآن.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ع]: (بشر).
(٢) في [أ، س]: (خيثم).
(٣) سقط من: [س].
حضرت ربیع بن خثیم فرماتے تھے کہ کسی کلام میں خیر نہیں سوائے نو چیزوں کے: اللہ کی تہلیل، اللہ کی تسبیح، اللہ کی تکبیر، اللہ کی حمد، اور تیرا کوئی اچھا سوال کرنا، اور تیرا شر سے پناہ مانگنا اور تیرا بھلائی کا حکم کرنا، اور تیرا برائی سے روکنا، اور تیرا قرآن پاک کی تلاوت کرنا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 38292]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38292، ترقيم محمد عوامة 36703)
ترقیم عوامۃ: 36704 ترقیم الشثری: -- 38293
٣٨٢٩٣ - حدثنا سعيد بن عبد الله عن (نسير) (١) عن بكر قال: كان الربيع إذا قيل له: كيف اصبحت يا (ابا) (٢) يزيد؟ يقول: اصبحنا ضعفاء مذنبين ناكل ارزاقنا، وننتظر آجالنا.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ع]: (بشر).
(٢) في [جـ، ع]: (با).
حضرت بکر فرماتے ہیں کہ جب ربیع سے پوچھا جاتا کہ آپ نے کیسی صبح کی اے ابویزید تو وہ جواب دیتے کہ ہم نے کمزوروں اور گناہ گاروں کی سی صبح کی۔ ہم اپنا رزق کھاتے ہیں اور اپنی موت کا انتظار کرتے ہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 38293]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38293، ترقيم محمد عوامة 36704)
ترقیم عوامۃ: 36705 ترقیم الشثری: -- 38294
٣٨٢٩٤ - [حدثنا سعيد بن عبد الله عن (نسير) (١) عن بكر قال: قال ابن الكواء (للربيع) (٢) بن (خثيم) (٣) : ما نراك تذم احدا ولا تعيبه؟ قال: ويلك يا ابن ⦗٦٤⦘ الكواء، ما انا (عن) (٤) نفسي براض، فاتفرغ من ذمي إلى ذم الناس، إن الناس (خافوا) (٥) الله على ذنوب العباد (وامنوا) (٦) على ذنوبهم] (٧) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ع]: (بشر).
(٢) في [أ، ط، هـ]: (لربيع).
(٣) في [س]: (خيثم).
(٤) في [س]: (على).
(٥) في [ط، هـ]: (حافوا).
(٦) في [جـ، س، ع]: (ءامنوه).
(٧) سقط الخبر في: [أ].
حضرت بکر فرماتے ہیں کہ ابن الکواء رحمہ اللہ نے ربیع بن خثیم سے کہا کہ ہم آپ کو دیکھتے ہیں کہ نہ تو آپ کسی کی برائی بیان کرتے ہیں اور نہ ہی کسی پر کوئی عیب لگاتے ہیں۔ تو انہوں نے جواب دیا کہ تیرے لیے ہلاکت ہو اے ابن الکواء میں تو اپنے نفس سے بھی راضی نہیں کہ میں اپنی برائی سے فراغت پا کر لوگوں کی برائی کروں۔ لوگ بندوں کے گناہوں کی وجہ سے اللہ سے ڈرتے ہیں اور اپنے گناہوں سے بےخوف رہتے ہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 38294]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38294، ترقيم محمد عوامة 36705)
ترقیم عوامۃ: 36706 ترقیم الشثری: -- 38295
٣٨٢٩٥ - [حدثنا سعيد بن عبد الله عن نسير عن بكر قال: كان الربيع يقول: الناس رجلان: مؤمن وجاهل، فاما المؤمن فلا تؤذه، واما الجاهل فلا تجاهله] (١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط الخبر في: [أ، ب، س، ط، هـ].
حضرت ربیع فرماتے ہیں کہ لوگ دو طرح کے ہیں مومن اور جاہل۔ مومن کو تکلیف نہ دو اور جاہل سے جہالت نہ کرو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 38295]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38295، ترقيم محمد عوامة 36706)
ترقیم عوامۃ: 36707 ترقیم الشثری: -- 38296
٣٨٢٩٦ - [حدثنا سعيد بن عبد الله عن (نسير) (١) عن بكر قال: كان الربيع إذا قيل له: الا تداوى؟ قال: (قد اردت (ذلك) ) (٢) (٣) ، ثم (ذكرت) (٤) عادا وثمودا واصحاب الرس وقرونا بين ذلك كثيرا، فعرفت (انه) (٥) قد كانت فيهم اوجاع، ولهم اطباء، فمات المداوي والمداوى] (٦) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ع]: (بشر).
(٢) في [أ، س، ع]: (ذاك).
(٣) في [س]: (قد أدت ذاك).
(٤) في [أ]: (ذكروا).
(٥) في [أ]: (أنهم).
(٦) سقط الخبر في: [جـ].
حضرت بکر رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ جب ربیع سے سوال کیا گیا کہ آپ دوا استعمال کیوں نہیں کرتے تو انہوں نے جواب دیا کہ اول میں نے اس کا ارادہ کیا تھا پھر میں قوم عاد اور قوم ثمود اور اصحابِ رس اور اس کے درمیان بہت سی اقوام کو یاد کیا تو مجھ کو یہ بات معلوم ہوگئی کہ ان لوگوں میں بھی تکالیف تھیں اور معالج بھی تھے۔ پس علاج کرنے والا اور کروانے والا دونوں ہی چل بسے ہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 38296]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38296، ترقيم محمد عوامة 36707)
ترقیم عوامۃ: 36708 ترقیم الشثری: -- 38297
٣٨٢٩٧ - حدثنا سعيد بن عبد الله عن (نسير) (١) عن بكر قال: كان الربيع يقول إذا اصبح: اعملوا خيرا، وقولوا خيرا، ودوموا على صالح، وإذا اساتم ⦗٦٥⦘ فتوبوا، وإذا احسنتم فزيدوا، (ما) (٢) علمتم فاقيموا، وما (شككتم) (٣) فكلوه إلى الله، (المؤمن) (٤) فلا تؤذوه، والجاهل فلا تجاهلوه، ولا (يطل) (٥) عليكم الامد فتقسوا قلوبكم ﴿ولا تكونوا كالذين قالوا سمعنا وهم لا يسمعون﴾ [الانفال: ٢١] .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ع]: (بشر).
(٢) في [ع]: (وما).
(٣) في [س]: (ملكتم).
(٤) في [س]: (والمؤمن).
(٥) في [جـ]: (يطول).
حضرت بکر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ربیع بن خثیم صبح کو کہا کرتے تھے کہ اچھے اعمال کرو اور اچھی بات کہو۔ اور نیک آدمی کی صحبت پر مداومت کرو اور جب تم کوئی گناہ کرلو تو توبہ کرو اور جب تم کوئی نیکی کرلو تو مزید آگے بڑھو جو عمل کرو اس پر قائم رہو، اور جس چیز میں تم شک کرو اس کو اللہ کے سپرد کردو۔ مومن کو تکلیف نہ دو اور جاہل سے جہالت مت کرو۔ اور تمہاری امیدیں لمبی نہ ہونے پائیں ورنہ دل سخت ہوجائیں گے۔ { ولا تکونوا … الخ } اور ان لوگوں کی طرح نہ ہوجاؤ جنہوں نے کہا کہ ہم نے سن لیا اور وہ نہیں سنتے تھے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 38297]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38297، ترقيم محمد عوامة 36708)
ترقیم عوامۃ: 36709 ترقیم الشثری: -- 38298
٣٨٢٩٨ - حدثنا سعيد بن عبد الله عن (نسير) (١) عن بكر قال: كان الربيع يقول: اكثروا (٢) ذكر هذا الموت الذي (لم) (٣) (تذوقوا) (٤) قبله مثله.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ع]: (بشر).
(٢) في [ع]: زيادة (من).
(٣) سقط من: [جـ].
(٤) في [س]: (تذقوا).
حضرت بکر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ربیع رحمہ اللہ فرماتے تھے کہ موت کو کثرت سے یاد کیا کرو جس سے قبل تم اس طرح کی تکلیف نہیں چکھو گے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 38298]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38298، ترقيم محمد عوامة 36709)
ترقیم عوامۃ: 36710 ترقیم الشثری: -- 38299
٣٨٢٩٩ - حدثنا ابو اسامة عن ابن (عون) (١) عن (عمير) (٢) بن إسحاق قال: ادركت من اصحاب رسول الله ﷺ اكثر (ممن) (٣) سبقني منهم، فلم ار قوما اهون سيرة، ولا اقل تشديدا منهم (٤) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [س]: (عدن).
(٢) في [س]: (عمر).
(٣) في [جـ]: (من).
(٤) مجهول؛ لجهالة عمير بن إسحاق.
حضرت عمیر بن اسحاق کا ارشاد ہے کہ جو لوگ مجھ سے پہلے گزر چکے ہیں میں نے ان سے زیادہ صحابہ کرام کو دیکھا ہے پس میں نے کوئی قوم بھی ان سے زیادہ بردبار اور نرمی کرنے والی نہیں دیکھی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 38299]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38299، ترقيم محمد عوامة 36710)