🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

75. ما قالوا: في البكاء من خشية الله
اللہ کے خوف سے رونے کا بیان
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 36681 ترقیم الشثری: -- 38270
٣٨٢٧٠ - حدثنا ابو اسامة عن موسى بن عبيدة عن اخيه عبد الله بن عبيدة قال: (رات) (١) صفية زوج النبي ﷺ قوما قراوا سجدة فسجدوا، فنادتهم: هذا السجود والدعاء فاين البكاء (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (رأيت).
(٢) ضعيف منقطع؛ عبد اللَّه لم يدرك صفية، وموسى ضعيف، أخرجه أبو نعيم في الحلية ٢/ ٥٥.

حضرت عبداللہ بن عبیدہ فرماتے ہیں کہ صفیہ آپ e کی بیوی نے لوگوں کو دیکھا کہ انہوں نے آیت سجدہ تلاوت کی پھر سجدہ کیا تو انہوں نے آواز دی کہ یہ تو محض سجدہ اور دعا ہے لیکن رونا کہاں چلا گیا؟“ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 38270]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38270، ترقيم محمد عوامة 36681)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 36682 ترقیم الشثری: -- 38271
٣٨٢٧١ - حدثنا ابو اسامة عن داود الليثي قال: حدثنا البختري بن زيد بن خارجة ان رجلا من العباد مر على كور حداد مكشوف، فقام ينظر إليه فمكث ما شاء الله ان يمكث، ثم شهق شهقة فمات.
حصرت بختری بن زیاد بن خارجہ فرماتے ہیں کہ عباد قبیلہ کا ایک آدمی کسی لوہار کی کھلی ہوئی دو کان کے پاس سے گزرا تو کھڑا ہو کر دیکھنے لگا۔ پھر جتنا دیر اللہ نے چاہا وہ دیکھتا رہا بالآخر ایک چیخ ماری اور مرگیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 38271]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38271، ترقيم محمد عوامة 36682)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 36683 ترقیم الشثری: -- 38272
٣٨٢٧٢ - حدثنا علي بن هاشم عن ابن ابي ليلى عن ابن ابي مليكة قال: رايت عبد الله بن عمرو وهو يبكي فنظرت إليه فقال: (اتعجب) (١) (ابكوا) (٢) من خشية الله، فإن لم تبكوا (فتباكوا) (٣) حتى يقول احدكم: إيه إيه، إن هذا القمر ليبكي من خشية الله (تعالى) (٤) (٥) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (أتعجبوا).
(٢) في [أ، ب]: (بكوا)، وفي [هـ]: (أبكي).
(٣) سقط من: [هـ].
(٤) سقط من: [جـ، س، ع].
(٥) ضعيف؛ لحال ابن أبي ليلى، وأخرجه الحاكم ٤/ ٦٢٢، وابن المبارك (١٠٠٧)، وقد ورد مرفوعًا، أخرجه هناد (٤٦٩).

حضرت ابن ابی ملیکہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ آپ رضی اللہ عنہ رو رہے تھے۔ پس وہ مجھے دیکھ کر کہنے لگے۔ کیا تم تعجب کرتے ہو میرے اللہ کے خوف سے رونے پر۔ پس اگر تم رو نہیں سکتے تو کم از کم رونے کی صورت ہی بنا لو۔ یہاں تک کہ تم میں سے کوئی کہہ دے۔ اسے دیکھو اسے دیکھو۔ بیشک یہ چاند بھی اللہ کے خوف سے روتا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 38272]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38272، ترقيم محمد عوامة 36683)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 36684 ترقیم الشثری: -- 38273
٣٨٢٧٣ - حدثنا محمد بن بشر (قال) (١) : حدثنا مسعر قال: (حدثني) (٢) علقمة ابن مرثد عن ابن بريدة قال: لو عدل بكاء اهل الارض ببكاء داود ما عدله، ولو عدل بكاء داود وبكاء اهل الارض ببكاء آدم حين اهبط إلى الارض ما عدله.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [س].
(٢) في [أ، ب]: (حدثنا).

حضرت ابن بریدہ کا ارشاد ہے کہ اگر تمام روئے زمین والوں کے رونے کا داود علیہ السلام کے رونے سے تقابل کیا جائے تو پھر بھی اس کے برابر نہیں ہوسکتا اور اگر داود علیہ السلام کے رونے کا اور تمام زمین والوں کے رونے کا آدم علیہ السلام کے رونے سے تقابل کیا جائے جس وقت ان کو زمین کی طرف اتار دیا گیا تھا تو پھر آدم علیہ السلام کا رونا بڑھ جائے گا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 38273]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38273، ترقيم محمد عوامة 36684)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 36685 ترقیم الشثری: -- 38274
٣٨٢٧٤ - حدثنا حفص بن غياث عن الاعمش قال: كان ابو صالح يؤمنا فكان لا يجيز (القراءة) (١) من (الرقة) (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ب، ع]: (القره).
(٢) في [أ، ب، جـ، ع]: (الشدقه)، وسقط من: [س]، وتقدم الخبر ١٣/ ٥٤٣ برقم [٣٨٠٩٩].

حضرت اعمش رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابوصالح رحمہ اللہ ہم کو نماز پڑھایا کرتے تھے اور رقت قلبی کی وجہ سے ان سے قراءت نہ کی جاتی تھی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 38274]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38274، ترقيم محمد عوامة 36685)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 36686 ترقیم الشثری: -- 38275
٣٨٢٧٥ - حدثنا معاوية بن هشام عن سفيان عن علي بن (الاقمر) (١) قال: حدثني فلان قال: اتيت (على) (٢) ربيعة وهو يبكي على الصلاة.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [س]: (أقمر).
(٢) سقط من: [أ، ب، ط، هـ].

حضرت علی رضی اللہ عنہ بن احمر فرماتے ہیں کہ مجھ کو فلاں شخص نے بتایا ہے کہ میں ربیعہ کے پاس آیا تو وہ نماز میں رو رہے تھے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 38275]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38275، ترقيم محمد عوامة 36686)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 36687 ترقیم الشثری: -- 38276
٣٨٢٧٦ - حدثنا ابو معاوية عن عاصم عن عبد الله بن رباح عن صفوان بن محرز انه كان إذا قرا هذه الآية بكى حتى ارى ان قصص زوره (سيندق) (١) ﴿وسيعلم الذين ظلموا اي منقلب ينقلبون﴾ [الشعراء: ٢٢٧] .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [س]: (سيذ من).
حصرت صفوان بن محرز کہتے ہیں کہ ربیعہ نے جب قرآن پاک کی آیت { وَسَیَعْلَمُ الَّذِینَ ظَلَمُوا أَیَّ مُنْقَلَبٍ یَنْقَلِبُونَ } تلاوت کی تو روپڑے حتی کہ مجھے اس طرح محسوس ہورہا تھا کہ ان کا سینہ پس رہا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 38276]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38276، ترقيم محمد عوامة 36687)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 36688 ترقیم الشثری: -- 38277
٣٨٢٧٧ - حدثنا هاشم بن القاسم عن شعبة عن يعلى بن عطاء عن امه وكانت (تسحق) (١) الكحل لعبد الله بن عمرو (انه) (٢) كان (٣) يطفئ (السراج) (٤) ويبكي حتى (رسعت) (٥) عيناه (٦) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (تستحق).
(٢) في [أ، ب، س]: (وأنه).
(٣) في [ع]: زيادة (يبكي).
(٤) في [س]: (البداح).
(٥) أي: أصبحت تدمع بلا سبب أو تدمع من فساد في الأجفان، انظر: عمدة القاري ١٧/ ٢٠١، وقيل: تغيرت وفسدت والتصقت أجفانها، النهاية ٢/ ٢٢١، ولسان العرب ٨/ ١٢٣.
(٦) مجهول؛ لجهالة أم يعلى، أخرجه ابن عساكر ٣١/ ٢٦٨.

حضرت یعلی رضی اللہ عنہ بن عطاء رحمہ اللہ اپنی والدہ سے جو کہ عبداللہ بن عمرو کے لیے سرمہ پیسا کرتی تھیں نقل کرتے ہیں کہ عبداللہ بن عمرو چراغ کو بجھا دیا کرتے تھے اور رویا کرتے تھے حتی کہ ان کی آنکھیں خراب ہوگئیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 38277]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38277، ترقيم محمد عوامة 36688)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 36689 ترقیم الشثری: -- 38278
٣٨٢٧٨ - حدثنا حفص بن غياث عن الاعمش عن إبراهيم عن عبيدة عن عبد الله قال: قال لي رسول الله ﷺ:"اقرا علي القرآن"، قال: قلت: يا رسول الله اقرا عليك وعليك انزل؟ قال:"إني اشتهي ان اسمعه من غيري"، قال: فقرات النساء حتى إذا بلغت ﴿فكيف إذا جئنا من كل امة بشهيد وجئنا بك على هؤلاء شهيدا﴾ [النساء: ٤١] ، رفعت راسي (او) (١) غمزني رجل إلى جنبي فرايت دموعه تسيل (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ]: (و).
(٢) صحيح؛ أخرجه البخاري (٤٥٨٢)، ومسلم (٨٠٠).

حضرت عبداللہ فرماتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ e نے حکم دیا کہ مجھے تلاوت سناؤ تو انہوں نے عرض کیا کہ میں آپ کو سناؤں جبکہ آپ پر ہی تو اترا ہے تو آپ e نے فرمایا کہ میں چاہتا ہوں کہ کسی دوسرے سے سنوں عبداللہ فرماتے ہیں کہ میں نے سورة النساء شروع کی یہاں تک کہ جب میں { فَکَیْفَ إذَا جِئْنَا مِنْ کُلِّ أُمَّۃٍ بِشَہِیدٍ وَجِئْنَا بِکَ عَلَی ہَؤُلاَئِ شَہِیدًا } پر پہنچا تو میں نے اپنا سر اٹھایا یا کسی نے مجھ کو ایک جانب سے ٹٹولا تو میں نے دیکھا کہ آپ کے آنسو بہہ رہے تھے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 38278]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38278، ترقيم محمد عوامة 36689)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 36690 ترقیم الشثری: -- 38279
٣٨٢٧٩ - حدثنا عبد الله بن إدريس عن حصين عن هلال بن يساف عن ابي حيان عن عبد الله -رفعه بنحو منه (١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) مجهول؛ لجهالة أبي حيان، أخرجه أحمد (٣٥٥٠)، وأبو يعلى (٥١٥٠).
حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً اسی طرح مروی ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 38279]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38279، ترقيم محمد عوامة 36690)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں