مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
75. ما قالوا: في البكاء من خشية الله
اللہ کے خوف سے رونے کا بیان
ترقیم عوامۃ: 36711 ترقیم الشثری: -- 38300
٣٨٣٠٠ - حدثنا عيسى بن يونس عن الاوزاعي عن بعض اصحابه عن علي قال: إذا مالت الافياء وراحت الارواح فاطلبوا الحوائج إلى الله، فإنها ساعة الاوابين وقرا: ﴿فإنه كان للاوابين غفورا﴾ [الإسراء: ٢٥] (١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) مجهول؛ لإبهام الرواة عن علي.
حضرت علی رضی اللہ عنہ کا ارشاد ہے کہ جب سائے ڈھل جائیں اور ہوائیں چلنے لگیں تو اپنی ضرورتوں کو اللہ سے مانگو کیونکہ یہ توبہ کرنے والوں کی گھڑی ہے اور قرآن کی یہ آیت تلاوت فرمائی: { فَإِنَّہُ کَانَ لِلأَوَّابِینَ غَفُورًا } بیشک اللہ تعالیٰ توبہ کرنے والوں کو معاف کرنے والا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 38300]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38300، ترقيم محمد عوامة 36711)
ترقیم عوامۃ: 36712 ترقیم الشثری: -- 38301
٣٨٣٠١ - حدثنا ابن نمير عن مالك بن مغول عن اكيل قال: كان بين رجل من الحي وبين عبد الرحمن بن يزيد شيء، فقال له علقمة: اكنت تسبنى لو (١) (سببتك؟) (٢) قال: لا، قال: هو خير مني، هو اكثر جهادا مني.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ع]: زيادة (أن).
(٢) في [س]: (سبتك).
حضرت اکیل فرماتے ہیں کہ قبیلہ حی اور عبدالرحمن بن یزید کے درمیان کچھ جھگڑا تھا تو ان کو علقمہ نے کہا کہ اگر میں آپ کو گالی دوں تو آپ مجھ کو گالی دیں گے؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ نہیں دوں گا۔ انہوں نے فرمایا کہ یہ آدمی مجھ سے اچھا ہے۔ اور مجھ سے زیادہ مجاہدہ والا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 38301]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38301، ترقيم محمد عوامة 36712)
ترقیم عوامۃ: 36713 ترقیم الشثری: -- 38302
٣٨٣٠٢ - حدثنا يونس بن محمد قال: حدثنا ابو عوانة عن عاصم بن (بهدلة) (١) قال: كان لابي وائل خص (٢) يكون فيه (٣) ودابته، فإذا اراد الغزو نقض (الخص) (٤) ، وإذا رجع بناه.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ]: (بهذلة).
(٢) الخص: هو البيت من القصب، انظر: تاج العروس ١٧/ ٥٥٣.
(٣) في [هـ]: زيادة (هو).
(٤) في [أ]: (الحض).
حضرت عاصم بن بہدلہ کہتے ہیں کہ ابی وائل رضی اللہ عنہ کی ایک لکڑی کی جھونپڑی تھی جس میں وہ خود اور ان کی سواری ہوتی تھی۔ جب غزوہ کا ارادہ کرتے تو اس جھونپڑی کو گرا دیتے اور جب واپس آتے تو اس کو بنا لیتے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 38302]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38302، ترقيم محمد عوامة 36713)
ترقیم عوامۃ: 36714 ترقیم الشثری: -- 38303
٣٨٣٠٣ - حدثنا يونس بن محمد عن حماد بن زيد عن عمرو بن مالك عن ابي (الجوزاء) (١) ﴿إن جهنم كانت مرصادا﴾ [النبا: ٢١] ، قال: (صارت) (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ]: (الحورى)، وفي [س]: (الحوراء).
(٢) في [س]: (صادب)، وفي [هـ]: (صادت).
حضرت ابوجوزاء رحمہ اللہ سے قرآن پاک کی آیت {إنَّ جَہَنَّمَ کَانَتْ مِرْصَادًا } کی تفسیر میں مذکور ہے کہ آیت میں کانت سے مراد صارت ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 38303]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38303، ترقيم محمد عوامة 36714)
ترقیم عوامۃ: 36715 ترقیم الشثری: -- 38304
٣٨٣٠٤ - حدثنا سعيد بن (خثيم) (١) عن ابي حيان عن ابيه قال: دخلنا على سويد -يعني بن (مثعبة) (٢) وهو يشتكي (فقلنا) (٣) (له: كيف تجدك؟) (٤) (فقال) (٥) : إني لفي عافية من ربي.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، س]: (خيثم).
(٢) في [أ]: (منعيه)، وفي [س]: (منبه).
(٣) في [س]: (فقلت).
(٤) في [س]: تكرر.
(٥) في [ع]: (قال).
حضرت ابی حیان کے والد کا ارشاد ہے کہ ہم سوید یعنی ابن مثعبہ کے پاس گئے جبکہ وہ تکلیف میں تھے۔ ہم نے ان سے پوچھا کہ آپ خود کو کیسا محسوس کرتے ہیں تو انہوں نے جواب دیا کہ میں اپنے رب کی طرف سے عافیت میں ہوں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 38304]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38304، ترقيم محمد عوامة 36715)
ترقیم عوامۃ: 36716 ترقیم الشثری: -- 38305
٣٨٣٠٥ - محاضر (قال) (١) : حدثنا الاعمش عن يزيد بن ابي زياد عن عبد الله بن الحارث قال: ما من شجرة صغيرة ولا كبيرة ولا (مغرز) (٢) إبرة رطبة ولا يابسة، إلا ملك (موكل) (٣) بها، ياتي الله بعملها كل يوم، برطوبتها إذا رطبت (ويبوستها) (٤) إذا يبست (٥) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [س].
(٢) في [هـ]: (مغر).
(٣) في [أ، س، ع]: (يتوكل).
(٤) في [س]: (بيبوستها).
(٥) ضعيف؛ لضعف يزيد.
حضرت عبداللہ بن حارث کا ارشاد ہے کہ کوئی چھوٹا یا بڑا درخت اور کوئی سوئی کے گاڑنے کے بقدر خشک یا تر وتازہ جگہ ایسی نہیں جس پر فرشتہ مقرر نہ ہو۔ وہ اللہ کے پاس اس کے روزانہ کے اعمال نہ لے کرجاتا ہو۔ اس کی تروتازگی کے وقت کے اعمال بھی اور اس کی خشکی کی حالت کے اعمال بھی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 38305]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38305، ترقيم محمد عوامة 36716)
ترقیم عوامۃ: 36717 ترقیم الشثری: -- 38306
٣٨٣٠٦ - حدثنا محمد بن (عبيد) (١) عن الاعمش عن إبراهيم التيمي قال: إن كان الرجل من الحي (ليجيء) (٢) فيسب الحارث بن سويد فيسكت، فإذا سكت قام (فنفض) (٣) رداءه (فقام) (٤) فدخل.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ع]: (عبد اللَّه).
(٢) في [جـ]: (فيجي).
(٣) في [س]: (فنقض).
(٤) سقط من: [هـ].
حضرت ابراہیم تیمی فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص حارث بن سوید کو برا بھلا کہتا تو خاموش رہتے۔ جب وہ خاموش ہوتا تو چادر جھاڑ کر چل دیتے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 38306]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38306، ترقيم محمد عوامة 36717)
ترقیم عوامۃ: 36718 ترقیم الشثری: -- 38307
٣٨٣٠٧ - حدثنا الاحوص بن جواب قال: حدثنا يونس بن ابي إسحاق عن عمار (الدهني) (١) عن وهب بن منبه قال: اوحى الله (٢) إلى بعض اوليائه: (إني) (٣) لم احل رضواني لاهل بيت قط، ولا لاهل دار قط، ولا لاهل قرية قط، فاحول عنهم (رضواني حتى يتحولوا من رضواني إلى سخطي، وإني لم احل ⦗٦٨⦘ سخطي لاهل بيت قط، ولا لاهل دار قط، ولا لاهل قرية قط، فاحول عنهم) (٤) سخطي حتى يتحولوا من سخطي إلى رضواني.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ع]: (الذهبي).
(٢) في [ع]: زيادة (تعالى).
(٣) في [س]: (إن).
(٤) سقط من: [جـ].
حضرت وہب بن منبہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے کسی ولی پر وحی کی کہ میں کسی بھی گھر والوں یا مکان والوں یا بستی والوں پر اپنی رضا نازل کرکے اس وقت تک نہیں پھرتا کہ جب تک وہ خود میری رضا سے میری ناراضگی کی طرف نہ آجائیں اور میں کسی بھی مکان والوں یا گھر والوں یا بستی والوں پر اپنی ناراضگی اتار کر اس وقت تک نہیں پھرتا کہ جب تک وہ خود میری ناراضگی سے رضا مندی کی طرف نہ آجائیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 38307]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38307، ترقيم محمد عوامة 36718)
ترقیم عوامۃ: 36719 ترقیم الشثری: -- 38308
٣٨٣٠٨ - حدثنا محمد بن ابي عبيدة (قال) (١) : حدثنا ابي عن الاعمش عن عمرو بن مرة عن عبد الرحمن بن ابي ليلى قال: ما على احدكم إذا خلى (ان يقول لجليسيه) (٢) : اسمعا رحمكما الله، ثم يملي عليهما خيرا.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [س].
(٢) في [ع]: (لجليسه أن يقول).
حضرت عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ فرماتے ہیں کہ تم کو اس میں کیا حرج ہے کہ جب وہ اکیلا ہو تو اپنے فرشتوں کو کہے کہ لکھو اللہ تم پر رحم کرے پھر ان کو اچھی چیز لکھوانا شروع کردے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 38308]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38308، ترقيم محمد عوامة 36719)
ترقیم عوامۃ: 36720 ترقیم الشثری: -- 38309
٣٨٣٠٩ - [حدثنا ابن فضيل عن ابيه عن إسماعيل عن الحسن قال: (كان) (١) إذا قرا: ﴿الهاكم التكاثر﴾، قال: في الاموال والاولاد، ﴿حتى (زرتم) (٢) المقابر (٢) كلا سوف تعلمون﴾، قال: وعيد بعد وعيد ﴿علم اليقين﴾] (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [أ، ب، هـ].
(٢) في [هـ]: (ذرتم).
(٣) سقط الخبر في: [أ].
حضرت حسن سے مروی ہے جب انہوں نے { أَلْہَاکُمُ التَّکَاثُرُ } پڑھا تو فرمایا کہ اموال اور اولاد میں مراد ہے پھر { حَتَّی زُرْتُمُ الْمَقَابِرَ کَلاَّ سَوْفَ تَعْلَمُونَ } پڑھا تو فرمایا کہ یہ تو وعید کے بعد دوسری وعید ہے۔ عِلْمَ الْیَقِینِ کی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 38309]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38309، ترقيم محمد عوامة 36720)