🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

76. (باب أول ما فعل ومن فعله)
سب سے پہلے کون سا عمل کس نے کیا؟
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 36931 ترقیم الشثری: -- 38527
٣٨٥٢٧ - [حدثنا كثير بن هشام عن جعفر قلت للزهري: من اول من ورث العرب من الموالي؟ قال: عمر بن الخطاب] (١) (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط الخبر في: [أ، ب]، وفي [س]: آخره على ما بعده.
(٢) منقطع؛ الزهري لم يدرك عمر.

حضرت جعفر فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت زہری سے سوال کیا کہ عربوں میں سب سے پہلے کس نے موالی کو وارث قرار دیا۔ حضرت زہری نے فرمایا کہ حضرت عمر بن خطاب نے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأوائل/حدیث: 38527]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38527، ترقيم محمد عوامة 36931)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 36932 ترقیم الشثری: -- 38528
٣٨٥٢٨ - حدثنا يحيى بن آدم حدثنا إسرائيل عن ابي إسحاق عن رجل حدثه ان ابا بكر طاف بعبد الله بن الزبير في خرقة، وكان اول مولود ولد في الإسلام (١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) مجهول؛ فيه نكارة، ابن الزبير ولد بالمدينة، وأبو بكر لم يكن بمكة عند ولادته، أخرجه ابن أبي عاصم في الآحاد (٥٧٢)، والبغوي في الجعديات (١٩٨٠)، وأبو الشيخ في طبقات أصبهان ١/ ١٩٩.
حضرت ابو اسحاق ایک آدمی سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت ابوبکر نے حضرت عبد اللہ بن زبیر کی پیدائش کے بعد ان کو ایک کپڑے میں لے کر طواف کرایا۔ وہ (ہجرت کے بعد) اسلام میں پیدا ہونے والے پہلے بچے تھے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأوائل/حدیث: 38528]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38528، ترقيم محمد عوامة 36932)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 36933 ترقیم الشثری: -- 38529
٣٨٥٢٩ - حدثنا عبد الرحيم عن عبد الرحمن بن عتبة يعني المسعودي عن القاسم بن عبد الرحمن قال: كان اول من افشى القرآن (بمكة) (١) من في رسول الله ﷺ ابن مسعود، واول من بني مسجدا صلى فيه عمار بن ياسر، واول من اذن بلال، واول من رمى بسهم في سبيل الله سعد بن مالك، واول من قتل من المسلمين مهجع، واول من عدا به فرسه في سبيل الله المقداد، واول (حي) (٢) ادوا الصدقة من قبل انفسهم بنو (عذرة) (٣) ، واول (حي) (٤) الفوا مع رسول الله ﷺ جهينة (٥) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [ط، هـ].
(٢) في [س]: (من).
(٣) في [س]: (غذره).
(٤) في [س]: (من).
(٥) مرسل؛ القاسم تابعي، وأخرجه الطبراني (٨٩٦١)، وابن عساكر ٤٣/ ٣٧٩.

حضرت قاسم بن عبد الرحمن فرماتے ہیں کہ مکہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے منہ مبارک سے سب سے پہلے قرآن کی تعلیم حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے حاصل کی۔ سب سے پہلے مسجد حضرت عمار بن یاسر نے بنائی۔ سب سے پہلے اذان حضرت بلال نے دی۔ اللہ کے راستے میں سب سے پہلے تیر چلانے والے حضرت سعد بن مالک۔ (مردوں میں) سب سے پہلے شہید حضرت مہجع ہیں۔ اللہ کے راستے میں سب سے پہلے گھوڑا دوڑانے والے حضرت مقداد ہیں۔ سب سے پہلے زکوٰۃ ادا کرنے والا قبیلہ بنو عذرہ ہے۔ سب سے پہلے ایک مضبوط جمعیت کے ساتھ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ آملنے والا قبیلہ جہینہ ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأوائل/حدیث: 38529]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38529، ترقيم محمد عوامة 36933)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 36934 ترقیم الشثری: -- 38530
٣٨٥٣٠ - حدثنا ابو اسامة عن إسماعيل اخبرنا عامر قال: اول من بايع تحت (الشجرة) (١) ابو سنان بن وهب الاسدي فقال له رسول الله ﷺ:"علام تبايع؟" قال: على ما في نفسك، فبايعه ثم تتابع الناس فبايعوه (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ط، هـ]: (الشجر).
(٢) مرسل؛ عامر الشعبي تابعي، أخرجه ابن سعد ٢/ ١٠، وأحمد في الفضائل (١٦٨٩)، والعلل ٢/ ٣٣٦، والخلال في السنة (٣٦)، وأبو عروبة في الأوائل (٦٥)، والدولابي في الكنى ١/ ١١١، والفاكهي في أخبار مكة (٢٨٧)، والبيهقي في الدلائل ٤/ ١٣٧، وأبو أحمد الحاكم في علوم الحديث ص ١٨٣، وابن جرير ٢٦/ ٨٦، وأبو نعيم في الحلية ٤/ ٣١٥، وابن عساكر ١٠/ ٤٢.

حضرت عامر فرماتے ہیں کہ بیعت رضوان کے موقع پر سب سے پہلے درخت کے نیچے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دست مبارک پر بیعت کرنے والے حضرت ابو سنان وہب الاسدی ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا تھا کہ تم کس چیز پر بیعت کر رہے ہو؟ انہوں نے عرض کیا کہ اس چیز پر جو آپ کے دل میں ہے۔ لہٰذا انہوں نے بیعت کی اور پھر بعد میں دوسرے لوگ بھی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دست اقدس پر بیعت ہوگئے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأوائل/حدیث: 38530]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38530، ترقيم محمد عوامة 36934)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 36935 ترقیم الشثری: -- 38531
٣٨٥٣١ - حدثنا ابو اسامة اخبرنا إسرائيل عن عامر قال: اول من اشار بصنعة النعش ان يرفع اسماء ابنة عميس حين جاءت من ارض الحبشة راتهم يفعلون ذلك بارضهم (١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) مرسل؛ الشعبي تابعي، وورد نحوه بأسانيد أخرى عند الحاكم ٣/ ١٧٧، والبيهقي ٤/ ٣٤، وعبد الرزاق (٦٢٣٦)، وابن شبه (٣٣٤)، وابن سعد ٨/ ٢٨، وابن شاهين في ناسخ الحديث (٦٤٧).
حضرت عامر فرماتے ہیں کہ سب سے پہلے حضرت اسماء بنت عمیس نے حکم دیا کہ عورتوں کی نعش کو چارپائی پر رکھا جائے۔ یہ حکم انہوں نے اس وقت دیا جب وہ ارض حبشہ سے واپس تشریف لائیں وہاں لوگ یونہی کیا کرتے تھے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأوائل/حدیث: 38531]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38531، ترقيم محمد عوامة 36935)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 36936 ترقیم الشثری: -- 38532
٣٨٥٣٢ - حدثنا ابن عيينة عن ابي الجويرية الجرمي قال: سالت ابن عباس عن الباذق، فقال: سبق محمد الباذق، انا اول العرب سال ابن عباس عن ذلك (١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) صحيح؛ أخرجه البخاري (٥٥٨٩)، والنسائي (٥١٩٧).
حضرت ابو جویریہ جرمی کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے باذق (انگور کا ایسا شیرہ جسے ہلکا سا پکایا جائے اور وہ سخت ہوجائے) کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ محمد باذق کے بارے میں آگے نکل گئے۔ مں ہ وہ پہلا شخص ہوں جس نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اس کے بارے میں سوال کیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأوائل/حدیث: 38532]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38532، ترقيم محمد عوامة 36936)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 36937 ترقیم الشثری: -- 38533
٣٨٥٣٣ - حدثنا عبد الاعلى عن داود عن شهر بن حوشب عن عبد الرحمن ابن غنم قال: اول جد ورث في الإسلام (عمر بن الخطاب) (١) فاراد ان (يحتاز) (٢) المال كله، فقلت: (يا) (٣) امير المؤمنين! إنهم شجرة دونك -يعني بني بنيه (٤) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [أ، ب].
(٢) في [س]: (يمتاز).
(٣) سقط من: [هـ].
(٤) منقطع؛ رواية شهر عن عبد الرحمن بن غنم منقطعة.

حضرت عبد الرحمن بن غنم فرماتے ہیں کہ اسلام میں سب سے پہلے دادا کی حیثیت سے وارث بننے والے حضرت عمر بن خطاب ہیں۔ وہ سارا مال حاصل کرنا چاہتے تھے میں نے ان سے عرض کیا کہ وہ یعنی ان کے پوتے آپ ہی کی اولاد جیسے ہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأوائل/حدیث: 38533]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38533، ترقيم محمد عوامة 36937)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 36938 ترقیم الشثری: -- 38534
٣٨٥٣٤ - حدثنا (غسان) (١) بن مضر عن سعيد بن (يزيد) (٢) عن ابي نضرة عن جابر قال: لما ولي عمر بن الخطاب الخلافة فرض الفرائض، ودون الدواوين، وعرف (العرفاء) (٣) (٤) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [س]: (عثمان).
(٢) في [أ، ب، جـ، س]: (زيد).
(٣) في [س]: (الوقاء).
(٤) صحيح؛ أخرجه أحمد في العلل ٢/ ١٩٣، والبيهقي ٦/ ٣٦٠.

حضرت جابر فرماتے ہیں کہ جب حضرت عمر بن خطاب خلیفہ بنائے گے تو انہوں نے میراث میں لوگوں کو حصے دلوانے کا اہتمام کرایا۔ دواوین مقرر کئے اور لوگوں کے نام لکھوائے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأوائل/حدیث: 38534]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38534، ترقيم محمد عوامة 36938)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 36939 ترقیم الشثری: -- 38535
٣٨٥٣٥ - حدثنا مالك بن إسماعيل حدثنا هريم عن ابي إسحاق الشيباني عن محمد بن (عبيد الله) (١) الثقفي قال: اتى عمر رجل من ثقيف يقال: له نافع بن الحارث، وكان اول من (افتلى الفلاء) (٢) بالبصرة (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، جـ، س]: (عبد اللَّه).
(٢) في [أ، ب]: (اقتلا القتلى)، وفي [جـ]: (افتلا العلا)، وفي [س]: (افتلى العلا).
(٣) منقطع؛ الثقفي لم يدرك عمر، وأخرجه يحيى بن آدم في الخراج (٢٤٩)، وأبو عبيد في الأموال (٦٨٧)، والطحاوي ٣/ ٢٧٠، والبيهقي ٦/ ١٤٤، والبلاذري في فتون البلدان ص ٣٤٥.

حضرت محمد بن عبید اللہ ثقفی فرماتے ہیں کہ ثقیف کے ایک آدمی حضرت عمر کے پاس آئے جن کا نام نافع بن حارث تھا۔ وہ پہلے آدمی ہیں جنہوں نے بصرہ میں بےآباد زمین کو آباد کیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأوائل/حدیث: 38535]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38535، ترقيم محمد عوامة 36939)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 36940 ترقیم الشثری: -- 38536
٣٨٥٣٦ - حدثنا عفان (١) حدثنا شعبة عن ابي إسحاق سمعت البراء يقول: اول من قدم علينا من اصحاب (رسول) (٢) الله ﷺ مصعب بن عمير وابن ام مكتوم فجعلا (يقرئان) (٣) القرآن، قال: ثم جاء عمار وبلال وسعد، ثم جاء عمر بن الخطاب في عشرين، ثم جاء رسول الله ﷺ، فما رايت اهل المدينة فرحوا بشيء فرحهم به (٤) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: زيادة (قال).
(٢) في [أ، ب]: (النبي).
(٣) في [ط، هـ]: (يقرأن).
(٤) صحيح؛ أخرجه البخاري (٤٩٤١)، وأحمد (١٨٥١٢).

حضرت براء فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ میں سے جو سب سے پہلے ہمارے پاس (مدینہ منورہ) آئے وہ حضرت مصعب بن عمیر اور حضرت ابن ام مکتوم ہیں۔ ان دونوں نے لوگوں کو قرآن پڑھانا شروع کیا۔ پھر حضرت عمار، حضرت بلال، حضرت سعدآئے۔ پھر حضرت عمر بن خطاب بیس سواروں کے ساتھ آئے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آئے۔ میں نے مدینہ والوں کو کسی بات پر اتنا خوش نہیں دیکھا جتنا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آمد پر دیکھا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأوائل/حدیث: 38536]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38536، ترقيم محمد عوامة 36940)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں