🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

25. غزوة بدر الكبرى (وما) كانت، وأمرها
بڑا غزوۂ بدر، اور جو کچھ ہوا،اور غزوہ بدر کے واقعات
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 37867 ترقیم الشثری: -- 39475
٣٩٤٧٥ - حدثنا عبد الاعلى عن داود عن ابي نضرة: ﴿ومن يولهم يومئذ دبره إلا متحرفا لقتال او متحيزا إلى فئة﴾ [الانفال: ١٦] ، (قال: نزلت) (١) ⦗٤٥٦⦘ يوم بدر، ولم يكن لهم ان ينحازوا، ولو انحازوا لم ينحازوا إلا إلى المشركين (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: (فأنزلت).
(٢) مرسل؛ أبو نضرة تابعي، أخرجه ابن جرير ٩/ ٢٠١، وورد عن أبي نضرة عن أبي سعيد، أخرجه أبو داود (٢٦٤٨)، والنسائي (٨٦٥٤)، والحاكم ٢/ ٣٢٧، وابن أبي حاتم في التفسير (٨٨٩١)، والطحاوي في شرح المشكل ٢/ ٣٥٩.

حضرت ابو نضرہ سے روایت ہے۔ { وَمَنْ یُوَلِّہِمْ یَوْمَئِذٍ دُبُرَہُ إِلاَّ مُتَحَرِّفًا لِقِتَالٍ، أَوْ مُتَحَیِّزًا إِلَی فِئَۃٍ } یہ آیت یوم بدر کو نازل ہوئی اور اہل ایمان کے لئے بھاگنے کی کوئی راہ نہیں تھی۔ اور اگر وہ بھاگتے تو مشرکین ہی کی طرف بھاگنا ہوتا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39475]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39475، ترقيم محمد عوامة 37867)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 37868 ترقیم الشثری: -- 39476
٣٩٤٧٦ - حدثنا شبابة بن سوار عن سليمان بن المغيرة عن ثابت عن انس قال: كان ابن عمتي حارثة انطلق مع النبي ﷺ يوم بدر، فانطلق غلاما نظارا، ما انطلق لقتال، فاصابه سهم فقتله، فجاءت عمتي امه إلى رسول الله ﷺ فقالت: يا رسول الله، ابني حارثة إن يك في الجنة صبرت واحتسبت، وإلا فسترى ما اصنع؟ فقال:"يا ام حارثة، إنها جنان كثيرة، وإن حارثة في الفردوس الاعلى" (١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) صحيح؛ أخرجه البخاري (٦٥٦٧)، وأحمد (١٣٢٥٠).
حضرت انس سے روایت ہے کہ بدر کے دن میری پھوپھی کا بیٹا حارثہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ چلا۔ اور یہ لڑکا محض دیکھنے کے لئے چلا تھا۔ یہ لڑائی کے لئے نہیں چلا تھا۔ اس کو ایک تیر لگ گیا اور اس نے اس کو قتل کردیا۔ پس اس کی والدہ جو کہ میری پھوپھی تھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس حاضر ہوئی اور کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! میرا بیٹا حارثہ اگر تو جنت میں ہے تو میں صبر کرتی ہوں اور ثواب کی امید کرتی ہوں۔ وگرنہ آپ دیکھ لیں گے کہ میں کیا کرتی ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے ام حارثہ! سُنو! جنتیں تو بہت سی ہیں۔ لیکن حارثہ فردوس اعلی رضی اللہ عنہ میں ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39476]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39476، ترقيم محمد عوامة 37868)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 37869 ترقیم الشثری: -- 39477
٣٩٤٧٧ - حدثنا ابو اسامة عن الوليد بن جميع قال: حدثنا ابو (الطفيل) (١) قال: حدثنا حذيفة بن اليمان قال: ما منعني ان اشهد بدرا إلا اني خرجت انا وابي حسيل، قال: فاخذنا كفار قريش فقالوا: إنكم تريدون محمدا (٢) ؟ فقلنا: (ما نريده) (٣) ، ما يزيد إلا المدينة، فاخذوا منا عهد الله وميثاقه لننصرفن إلى المدينة ولا نقاتل معه، فاتينا رسول الله ﷺ فاخبرناه الخبر فقال:"انصرفا، نفي لهم ونستعين الله عليهم" (٤) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ب]: (الفضل).
(٢) في [جـ، ي]: زيادة ﷺ.
(٣) سقط من: [ب].
(٤) حسن؛ الوليد بن جميع صدوق، أخرجه مسلم (١٧٨٧)، وأحمد (٢٣٣٥٤).

حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ بن یمان سے روایت ہے کہ میری بدر میں حاضری سے یہ بات مانع ہوئی کہ میں اور ابو حسیل نکلے۔ فرماتے ہیں: تو ہمیں کفارِ قریش نے پکڑ لیا۔ اور انہوں نے کہا: تم لوگ محمد کا ارادہ رکھتے ہو؟ ہم نے کہا: ہمارا ارادہ محمد کی طرف (جانے کا) نہیں ہے۔ ہمارا ارادہ تو صرف مدینہ (میں جانے کا) ہے۔ اس پر کفار نے ہم سے خدا کا عہد و پیمان لیا کہ ہم ضرور بالضرور مدینہ کی طرف جائیں گے اور ہم محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہمراہ قتال نہیں کریں گے۔ پھر ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ بات بتلائی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم دونوں چلے جاؤ۔ ہم ان کے لئے بہت ہیں۔ ہم ان کے خلاف اللہ تعالیٰ سے مدد کے طالب ہں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39477]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39477، ترقيم محمد عوامة 37869)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 37870 ترقیم الشثری: -- 39478
٣٩٤٧٨ - حدثنا الفضل بن دكين قال: حدثنا ابن الغسيل عن حمزة بن ابي اسيد عن ابيه قال: قال رسول الله ﷺ يوم بدر حين (صفنا) (١) لقريش وصفوا لنا:"إذا اكثبوكم فارموهم بالنبل" (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: (صففنا).
(٢) صحيح؛ أخرجه البخاري (٣٩٨٤)، وأحمد (١٦٠٦٠).

حضرت حمزہ بن ابی اسید اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ سول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بدر کے دن، جبکہ ہم نے قریش کے خلاف صف بندی کرلی اور قریش نے ہمارے خلاف صف بندی کرلی: فرمایا: جب وہ تمہارے قریب آئیں گے تب تم ان پر نیزہ بازی کرنا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39478]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39478، ترقيم محمد عوامة 37870)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 37871 ترقیم الشثری: -- 39479
٣٩٤٧٩ - حدثنا عبد الله بن نمير عن حجاج عن نافع عن ابن عمر قال: كان طلحة صاحب راية المشركين يوم بدر فقتله علي بن ابي طالب مبارزة (١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) منقطع حكمًا؛ حجاج مدلس، وانظر: تاريخ دمشق ١٢/ ١١٠ و ٤٢/ ٧٥، ومعجم البلدان ٢/ ١٢٥، والتفسير الكبير ٩/ ١٧، وتفسير الثعلبي ٣/ ١٧٥، والكامل لابن عدي ٥/ ٢٦٠، وطبقات ابن سعد ٢/ ١٥ و ٤٠، والموضوعات ١/ ٢٨٦، والدلائل للبيهقي ٣/ ٢٢٦، وتاريخ الإسلام ٢/ ١٩٨.
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ بدر کے دن طلحہ مشرکین کی طرف سے جھنڈا بردار تھا پس اس کو حضرت علی رضی اللہ عنہ بن ابی طالب نے مبارزۃً قتل فرمایا تھا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39479]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39479، ترقيم محمد عوامة 37871)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 37872 ترقیم الشثری: -- 39480
٣٩٤٨٠ - حدثنا الثقفي عن خالد عن عكرمة ان النبي ﷺ قال يوم بدر:"من لقي منكم احدا من بني هاشم فلا يقتله، فإنهم اخرجوا كرها" (١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) مرسل؛ عكرمة تابعي، وأخرجه ابن جرير ١٤/ ٥٥، وابن بشكوال في غوامض الأسماء ١/ ٤٨٢، والفاكهي (٢٣٨٢).
حضرت عکرمہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بدر کے دن ارشاد فرمایا تھا۔ تم میں سے جو کوئی بنو ہاشم کو ملے تو وہ ان کو قتل نہ کرے کیونکہ انہیں زبردستی (جنگ میں) نکالا گیا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39480]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39480، ترقيم محمد عوامة 37872)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 37873 ترقیم الشثری: -- 39481
٣٩٤٨١ - حدثنا وكيع عن إسرائيل عن ابي الهيثم (عن) (١) إبراهيم التيمي ان النبي ﷺ قتل رجلا من المشركين من قريش يوم بدر، وصلبه إلى (شجرة) (٢) (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: (قال).
(٢) في [أ، ط، هـ]: (الشجرة).
(٣) مرسل؛ إبراهيم تابعي، أخرجه عبد الرزاق (٩٣٩٠)، وأبو داود في المراسيل (٢٩٧).

حضرت ابراہیم تیمی سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بدر کے دن قریش کے ایک مشرک کو قتل کیا اور اس کو درخت پر لٹکا دیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39481]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39481، ترقيم محمد عوامة 37873)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 37874 ترقیم الشثری: -- 39482
٣٩٤٨٢ - حدثنا عائذ بن حبيب عن حجاج عن الحكم عن (المقسم) (١) عن ابن عباس ان اهل بدر كانوا ثلاثمائة وثلاثة عشر، المهاجرون منهم خمسة وسبعون، ⦗٤٥٨⦘ وكانت هزيمة بدر لسبع عشرة من رمضان ليلة جمعة (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ]: (مقسم).
(٢) منقطع حكمًا؛ حجاج مدلس، أخرجه أحمد (٢٢٣٢)، وابن سعد ٢/ ٢٠، والطبراني (١٢٠٨٣)، وابن عساكر ٢٠/ ٢٤٩، وابن الجوزي في المنتظم ٣/ ١٢٨.

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ اہل بدر تین سو تیرہ تھے۔ ان میں پچھتر مہاجرین تھے اور بدر (میں کفار) کی شکست شبِ جمعہ سترہ رمضان کو ہوئی تھی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39482]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39482، ترقيم محمد عوامة 37874)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 37875 ترقیم الشثری: -- 39483
٣٩٤٨٣ - حدثنا عائذ بن حبيب عن حجاج عن ابي إسحاق عن البراء قال: كان اهل بدر ثلاثمائة وبضعة عشر، المهاجرون منهم ستة وسبعون (١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) منقطع حكمًا؛ حجاج مدلس، وانظر: ما بعده.
حضرت براء سے روایت ہے کہ تین سو دس سے کچھ اوپر تھے اور ان میں مہاجرین کی تعداد چھہتر تھی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39483]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39483، ترقيم محمد عوامة 37875)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 37876 ترقیم الشثری: -- 39484
٣٩٤٨٤ - (حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن زكريا عن ابي إسحاق عن البراء ابن عازب قال: كان اصحاب رسول الله يوم بدر بضعة عشر وثلاثمائة) (١) ، [وكنا (نتحدث) (٢) انهم على عدة اصحابا طالوت الذين جاوزوا معه النهر، وما جاوز معه إلا مؤمن (٣) ] (٤) (٥) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [جـ].
(٢) في [أ، ب]: (يتحدث).
(٣) في [ب]: زيادة (به).
(٤) في [س]: تكرر ما بين المعكوفين، والحديث الذي قله.
(٥) صحيح؛ صرح أبو إسحاق بالسماع عند البخاري، أخرجه البخاري (٣٩٥٧)، وأحمد (١٨٥٥٥).

حضرت براء بن عازب سے روایت ہے کہ بدر کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ کی تعداد تین سو دس سے کچھ اوپر تھی اور ہم باہم یہ گفتگو کرتے تھے کہ ان کی تعداد حضرت طالوت کے ان ساتھیوں جتنی ہے جنہوں نے حضرت طالوت کے ساتھ نہر کو پار کیا تھا۔ اور حضرت طالوت کے ساتھ صرف مومنوں نے ہی نہر پار کی تھی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39484]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39484، ترقيم محمد عوامة 37876)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں