🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

25. غزوة بدر الكبرى (وما) كانت، وأمرها
بڑا غزوۂ بدر، اور جو کچھ ہوا،اور غزوہ بدر کے واقعات
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 37857 ترقیم الشثری: -- 39465
٣٩٤٦٥ - حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن إسرائيل عن سماك عن عكرمة عن ابن عباس قال: قيل لرسول الله ﷺ حين فرغ من بدر: عليك بالعير ليس دونها شيء، فناداه العباس وهو اسير في وثاقه: (لا يصلح) (١) ، (فقال) (٢) رسول الله ﷺ: (لمه؟) (٣) قال: إن الله وعدك إحدى الطائفتين وقد اعطاك ما وعدك (٤) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: (لا يصح).
(٢) في [أ، ب]: (قال).
(٣) في [أ، ب]: (لمدة).
(٤) مضطرب؛ لاضطراب رواية سماك عن عكرمة، أخرجه أحمد (٢٠٢٢)، والترمذي (٣٠٨٠)، والحاكم ٢/ ٣٢٧، وأبو يعلى (٢٣٧٣)، والطبراني (١١٧٣٣) وابن سعد ٢/ ٢٢.

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بدر سے فارغ ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا گیا۔ آپ پر قافلہ لازم ہے اس کے سوا کوئی چیز نہیں۔ (یعنی قافلہ کو بھی قابو کریں) پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو عباس نے… وہ بیڑی میں جکڑے ہوئے تھے… آواز دی۔ یہ درست نہیں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا۔ کیوں؟ عباس نے کہا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ سے دو جماعتوں میں سے ایک کا وعدہ کیا تھا۔ سو اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنا (کیا ہوا) وعدہ عطا کردیا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39465]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39465، ترقيم محمد عوامة 37857)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 37858 ترقیم الشثری: -- 39466
٣٩٤٦٦ - حدثنا وكيع عن هشام عن عروة عن رجل من ولد الزبير قال: كان على الزبير يوم بدر عمامة صفراء معتجرا بها، فنزلت الملائكة عليهم عمائم صفر (١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) مرسل؛ ورد تسمية الرجل يحيى بن عباد كما تقدم ١٢/ ٢٦١ [٣٤٩١٦]، وأخرجه ابن أبي حاتم في التفسير (٤١١٣)، والحاكم ٣/ ٤٠٧، وابن سعد ٣/ ١٠٣، ومرة قال: (هشام عن أبيه)، أخرجه أحمد في فضائل الصحابة (١٢٦٩)، وابن سعد ٣/ ١٠٣، ومرة قال: (عن عباد بن حمزة) كما سيأتي، ومرة رواه معضلًا.
حضرت زبیر کی اولاد میں سے ایک آدمی روایت کرتے ہیں کہ یوم بدر میں حضرت زبیر ایک زرد رنگ عمامہ پہنے ہوئے تھے اور اس کا پلہ منہ پر لیا ہوا تھا۔ پس فرشتے بھی اس حالت میں اترے کہ ان پر زرد رنگ کے عمامہ تھے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39466]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39466، ترقيم محمد عوامة 37858)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 37859 ترقیم الشثری: -- 39467
٣٩٤٦٧ - حدثنا عبدة عن هشام (عن) (١) (عباد) (٢) بن حمزة عن الزبير ⦗٤٥٢⦘ بنحو منه (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ق، هـ]: (ابن).
(٢) في [أ، ق، هـ]: (عبادة).
(٣) منقطع؛ عباد لا يروي عن الزبير، وقد ورد من حديث عباد مرسلًا؛ أخرجه أحمد في الفضائل (١٢٦٨)، وابن سعد ٢/ ٢٦، وسعيد بن منصور ق/ ١ (٢٥٣٠)، وابن جرير في التفسير ٤/ ٨٣، والحاكم ٣/ ٤٠٧، وابن عساكر ١٨/ ٣٥٤.

حضرت زبیر سے بھی ایسی روایت ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39467]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39467، ترقيم محمد عوامة 37859)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 37860 ترقیم الشثری: -- 39468
٣٩٤٦٨ - حدثنا عبدة عن هشام عن ابيه عن ابن عمر ان النبي ﵊ (١) وقف على قليب بدر فقال:"هل وجدتم ما وعد ربكم" -ثم قال-:"إنهم الآن (ليسمعون) (٢) ما اقول" (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، جـ، ي]: ﷺ.
(٢) في [أ]: (يستمعون)، وفي [ب]: (يسمون)، وفي [هـ]: (ليستمعون).
(٣) صحيح؛ أخرجه البخاري (٣٩٨٠)، ومسلم (٩٣٢).

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بدر کے کنویں پر کھڑے ہوئے اور فرمایا: کیا تم نے اس بات کو حق پا لیا جو تمہارے رب نے تم سے وعدہ کیا تھا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ (مُردے) اس وقت جو بات کہہ رہا ہوں اس کو سُن رہے ہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39468]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39468، ترقيم محمد عوامة 37860)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 37861 ترقیم الشثری: -- 39469
٣٩٤٦٩ - حدثنا ابو اسامة عن هشام قال: لم يكن مع النبي ﵊ يوم بدر إلا فرسان كان على (احدهما) (١) الزبير (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ]: (أحدهم).
(٢) مرسل؛ هشام تابعي، وأخرجه ابن عساكر ١٨/ ٣٥٢، وابن سعد ٣/ ١٠٣.

حضرت ہشام سے روایت ہے کہ یوم بدر کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ دو گھوڑے تھے۔ ان میں سے ایک پر حضرت زبیر تھے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39469]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39469، ترقيم محمد عوامة 37861)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 37862 ترقیم الشثری: -- 39470
٣٩٤٧٠ - حدثنا عبد الله بن إدريس (عن مطرف عن ابي إسحاق عن البراء قال: عرضت انا وابن عمر على رسول الله ﷺ يوم بدر) (١) (فاستصغرنا) (٢) وشهدنا احدا (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [أ، ب].
(٢) في [أ، ب]: (واستصغرنا).
(٣) صحيح؛ أخرجه البخاري (٣٩٥٦)، وأحمد (١٨٦٣٣).

حضرت براء سے روایت ہے کہ یوم بدر کو مجھے اور ابن عمر رضی اللہ عنہما کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے پیش کیا گیا تو ہمیں چھوٹا سمجھا گیا اور ہم احد میں شریک ہوئے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39470]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39470، ترقيم محمد عوامة 37862)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 37863 ترقیم الشثری: -- 39471
٣٩٤٧١ - حدثنا عفان قال: حدثنا حماد بن سلمة عن ثابت (عن) (١) انس ان رسول الله ﷺ شاور حيث بلغه إقبال ابي سفيان، قال: فتكلم ابو بكر، فاعرض ⦗٤٥٣⦘ عنه ثم تكلم عمر: فاعرض عنه، فقال سعد بن عبادة: إيانا تريد يا رسول الله والذي نفسي بيده لو امرتنا ان نخيضها البحر لاخضناها، ولو امرتنا ان (نضرب) (٢) اكبادها إلى برك الغماد لفعلنا، قال: فندب رسول الله ﷺ الناس. قال: فانطلقوا حتى نزلوا بدرا (٣) وردت عليهم (روايا) (٤) قريش، وفيهم غلام اسود لبني الحجاج، فاخذوه فكان اصحاب رسول الله ﷺ يسالونه عن ابي سفيان واصحابه فيقول: ما لي علم بابي سفيان، ولكن هذا ابو جهل وعتبة وشيبة وامية ابن خلف، فإذا قال ذلك ضربوه، (فإذا ضربوه) (٥) قال: نعم انا اخبركم، هذا ابو سفيان، فإذا تركوه (٦) قال: مالي بابي سفيان علم، ولكن هذا ابو جهل وعتبة وشيبة وامية بن خلف في الناس، فإذا (قال) (٧) هذا ايضا ضربوه، ورسول الله ﷺ قائم يصلي. فلما راى ذلك انصرف، قال:"والذي نفسي بيده إنكم لتضربونه إذا (صدقكم) (٨) ، (وتتركونه) (٩) إذا كذبكم". قال: وقال رسول الله ﷺ:"هذا مصرع فلان"، يضع يده على الارض هاهنا، وههنا فما ماط احدهم عن موضع يد رسول الله ﷺ (١٠) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ب]: (ابن).
(٢) في [س]: (تضرب).
(٣) في [ق، هـ]: زيادة (و).
(٤) في [أ، ب]: (زوايا).
(٥) سقط من: [ب، س، هـ].
(٦) في [أ، ب، ط]: زيادة: (سألوه).
(٧) في [أ، ب]: (قالوا).
(٨) في [أ، ب]: (صدق).
(٩) في [ب]: (ويضربونه).
(١٠) صحيح؛ أخرجه مسلم (١٧٧٩)، وأحمد (١٣٢٩٧).

حضرت انس سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جب ابو سفیان کے آنے کی خبر پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مشورہ فرمایا۔ راوی کہتے ہیں۔ حضرت ابوبکر نے گفتگو کی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے اعراض کیا پھر حضرت عمر نے کلام شروع کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے (بھی) اعراض کیا۔ پھر حضرت سعد بن عبادہ نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! آپ کی مراد ہم ہیں؟ قسم اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے اگر آپ ہمیں گھوڑے سمندر میں ڈالنے کا حکم دیں گے تو البتہ ہم گھوڑوں کو سمندر میں ڈال دیں گے۔ اور اگر آپ ہمیں برک غماد تک گھوڑے دوڑانے کا حکم دیں گے تو ہم یہ بھی کریں گے۔ راوی کہتے ہیں۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں کو آمادہ فرمایا۔ ٢۔ راوی کہتے ہیں۔ پس صحابہ چل پڑے یہاں تک کہ وہ بدر میں جا کر اترے تو ان کے پاس قریش کے پانی بھرنے والے اونٹ آپہنچے اور ان میں بنو حجاج کا ایک کالا غلام بھی تھا۔ پس صحابہ نے ان کو پکڑ لیا۔ اصحابِ رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سے ابو سفیان اور اس کے ساتھیوں کے بارے میں سوال کیا۔ اس نے جواب دیا۔ مجھے ابو سفیان کا کوئی علم نہیں ہے لیکن یہ ابو جہل، عتبہ، شیبہ اور امیہ بن خلف (آ رہے) ہیں۔ پس یہ غلام جب یہ بات کہتا تو صحابہ کرام اس کو مارتے۔ اور جب صحابہ کرام اس کو مارتے تو وہ کہتا۔ ہاں! میں بتاتا ہوں۔ یہ ابو سفیان (آ رہا) ہے۔ پھر جب صحابہ کرام ا س کو چھوڑ دیتے تو وہ پھر کہتا۔ مجھے ابو سفیان کا کوئی علم نہیں ہے لیکن یہ ابو جہل، عتبہ، شیبہ، اور امیہ بن خلف لوگوں کے ساتھ (آ رہے) ہیں۔ پھر جب وہ یہ بات کہتا تو صحابہ کرام پھر اس کو مارتے۔ ٣۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے نماز ادا فرما رہے تھے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ معاملہ دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مڑے اور فرمایا: اور جب یہ تمہارے ساتھ جھوٹ بولتا ہے تو تم اس کو چھوڑ دیتے ہو۔ راوی کہتے ہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ فلاں کی جائے قتل ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا ہاتھ زمین پر رکھ کر فرمایا: یہاں، یہاں۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعیین کردہ جگہ سے کوئی کافر ادھر ادھر (قتل) نہیں ہوا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39471]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39471، ترقيم محمد عوامة 37863)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 37864 ترقیم الشثری: -- 39472
٣٩٤٧٢ - حدثنا شبابة بن سوار قال: حدثنا سليمان بن المغيرة عن ثابت قال: حدثنا انس قال: كنا مع عمر بين مكة والمدينة نترآى الهلال فرايته وكنت حديد البصر فجعلت اقول لعمر: (ما) (١) تراه؟ وجعل عمر ينظر ولا يراه، (فقال عمر: ساراه) (٢) وانا مستلق على فراشي. ثم انشا يحدثنا عن اهل بدر، قال: إن رسول الله ﷺ ليرى مصارع اهل بدر بالامس، يقول:"هذا مصرع فلان غدا إن شاء الله، وهذا مصرع فلان غدا إن شاء الله"، قال: فوالذي بعثه بالحق ما اخطاوا (تلك) (٣) الحدود يصرعون عليها. (ثم) (٤) (جعلوا) (٥) في بئر بعضهم على بعض فانطلق النبي ﷺ حتى انتهى (إليهم) (٦) فقال:"يا فلان بن فلان ويا فلان بن فلان: هل وجدتم ما (وعدكم) (٧) الله ورسوله حقا؟" فقال (٨) عمر: ( (يا رسول) (٩) الله، كيف) (١٠) تكلم اجسادا لا (ارواح) (١١) فيها؟ قال:"ما انتم باسمع لما اقول منهم (غير) (١٢) انهم لا يستطيعون يردون علي شيئا" (١٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ق، هـ]: (أما).
(٢) في [أ، ب]: (فقال: سأراها)، وفي [ق]: (قال عمر: ما أراه)، وسقط من: [هـ].
(٣) في [هـ]: (تيك).
(٤) سقط من: [أ، ب].
(٥) في [أ، ب]: (اجعلوا).
(٦) في [أ]: (إليها).
(٧) في [أ، ب]: (وعد).
(٨) في [س]: زيادة (يا).
(٩) في [جـ، ي]: (رسول اللَّه).
(١٠) في [س]: (كيف يا رسول اللَّه).
(١١) في [أ، ب]: (روح).
(١٢) في [س]: (خير).
(١٣) صحيح؛ أخرجه مسلم (٢٨٧٣)، وأحمد (١٨٢).

حضرت انس سے روایت ہے کہ ہم حضرت عمر کے ساتھ مکہ، مدینہ کے درمیان چاند دیکھ رہے تھے۔ میری نظر تیز تھی۔ سو میں نے چاند دیکھ لیا۔ میں نے حضرت عمر سے کہنا شروع کیا۔ آپ نے چاند نہیں دیکھا؟ حضرت عمر دیکھتے رہے لیکن انہیں نظر نہیں آیا۔ تو انہوں نے فرمایا: مجھے بھی عنقریب نظر آجائے گا۔ میں اپنے بستر پر چت لیٹا ہوا تھا۔ پھر حضرت عمر نے ہمیں اہل بدر کے بارے میں بیان کرنا شروع کیا اور فرمایا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اہل بدر کے قتل گاہ پچھلی رات دکھا دئیے گئے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: انشاء اللہ یہ جگہ کل فلاں شخص کی مقتل ہوگی اور یہ جگہ انشاء اللہ فلاں شخص کی مقتل ہوگی۔ حضرت عمر کہتے ہیں۔ قسم اس ذات کی جس نے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا۔ وہ کفار انہی حدود پر قتل کئے گئے۔ ان سے خطاء نہیں ہوئے۔ پھر مقتولین کفار کو کنویں میں ایک دوسرے پر ڈال کر پھینک دیا گیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چلے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے پاس پہنچے۔ اور فرمایا: اے فلاں بن فلاں! اے فلاں بن فلاں! اللہ، اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جو تمہارے ساتھ وعدہ کیا ہے تم نے اس کو برحق پایا؟ حضرت عمر نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! آپ ان جسموں سے کیسے کلام فرما رہے ہیں جن میں روحیں نہیں ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو بات میں کہہ رہا ہوں تم اس کو ان سے زیادہ نہیں سُن رہے۔ لیکن یہ بات ہے کہ وہ مجھے کوئی جواب نہیں دے سکتے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39472]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39472، ترقيم محمد عوامة 37864)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 37865 ترقیم الشثری: -- 39473
٣٩٤٧٣ - حدثنا يزيد بن هارون قال: (اخبرنا) (١) سليمان التيمي عن ابي مجلز عن قيس بن عباد قال: تبارز علي وحمزة وعبيدة بن الحارث، وعتبة بن ربيعة وشيبة بن ربيعة والوليد بن (عتبة) (٢) فنزلت فيهم: ﴿هذان خصمان اختصموا في ربهم﴾ [الحج: ١٩] (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ب، ي]: (أنبأنا).
(٢) في [جـ]: (عقبة).
(٣) مرسل؛ قيس تابعي، أخرجه الطحاوي في شرح المشكل ٤/ ٣٦١، والبيهقي في الدلائل ٣/ ٧٣، وبنحوه أخرجه البخاري (٣٩٦٥)، وقد ورد متصلًا من حديث قيس عن علي، أخرجه البخاري (٣٩٦٧) كما ورد من حديث قيس عن أبي ذر، أخرجه البخاري (٣٩٦٦)، ومسلم (٣٠٣٣).

حضرت قیس بن عباد سے روایت ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ، حضرت حمزہ اور حضرت عبیدہ بن الحارث نے عتبہ بن ربیعہ، شیبہ بن ربیعہ اور ولید بن عتبہ کے ساتھ مبارزت کی تو ان کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی۔ { ہَذَانِ خَصْمَانِ اخْتَصَمُوا فِی رَبِّہِمْ }۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39473]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39473، ترقيم محمد عوامة 37865)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 37866 ترقیم الشثری: -- 39474
٣٩٤٧٤ - حدثنا الفضل بن دكين قال: (اخبرنا) (١) (يونس) (٢) عن ابي السفر قال: نادى منادي رسول الله ﷺ (٣) يوم بدر: من اسر ام حكيم (بنت) (٤) (حزام) (٥) فليخل سبيلها، فإن رسول الله ﷺ قد امنها، فاسرها رجل من الانصار و (كتفها) (٦) بذؤابتها، فلما سمع منادي رسول الله ﷺ خلى سبيلها (٧) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ب، ي]: (أنبأنا).
(٢) في [ب]: (يوسف).
(٣) سقط من: [أ].
(٤) في [ق]: (بن)، وانظر: أسد الغابة ٧/ ٣٤٨، والوافي ١٣/ ٨٢.
(٥) في [ط، هـ]: (حرام).
(٦) في [هـ]: (كنفها).
(٧) مرسل؛ أبو السفر تابعي، وأخرجه أبو داود في المراسيل (٣٤٥).

حضرت ابو السفر سے روایت ہے کہ بدر کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے منادی نے آواز دی کہ جس کسی نے ام حکیم بنت حزام کو قید کیا ہوا ہے وہ اس کو آزاد کر دے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو امان دے دی ہے۔ ایک انصاری آدمی نے ان کو قید کیا تھا اور ان کے ہاتھوں کو پچھلی طرف ان کے بالوں کے ساتھ باندھا ہوا تھا۔ پس جب انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے منادی کو سُنا تو انہوں نے اس کو آزاد کردیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39474]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39474، ترقيم محمد عوامة 37866)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں