مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
25. غزوة بدر الكبرى (وما) كانت، وأمرها
بڑا غزوۂ بدر، اور جو کچھ ہوا،اور غزوہ بدر کے واقعات
ترقیم عوامۃ: 37848 ترقیم الشثری: -- 39455
٣٩٤٥٥ - حدثنا يحيى بن آدم (قال: حدثنا) (١) حماد بن سلمة عن هشام بن عروة عن ابيه ان رجلا اسر امية بن خلف، فرآه بلال فقتله (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ]: تكرر.
(٢) مرسل؛ عروة تابعي.
حضرت ہشام بن عروہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے امیہ بن خلف کو قید کرلیا۔ پھر اس کو حضرت بلال نے دیکھا تو قتل کردیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39455]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39455، ترقيم محمد عوامة 37848)
ترقیم عوامۃ: 37849 ترقیم الشثری: -- 39456
٣٩٤٥٦ - حدثنا احمد بن عبد الله قال: حدثنا زهير قال: حدثنا سليمان التيمي ان انسا حدثهم قال: قال رسول الله ﷺ:"من ينظر ما صنع ابو جهل؟" [قال: فانطلق ابن مسعود فوجده قد ضربه ابنا عفراء حتى (برد) (١) ، قال: انت ابو جهل؟] (٢) ، فاخذ بلحيته، قال: وهل فوق رجل قتلتموه، او رجل قتله قومه (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [ق].
(٢) سقط من: [جـ].
(٣) صحيح؛ أخرجه البخاري (٣٩٦٢)، ومسلم (١٨٠٠).
حضرت سلیمان تیمی بیان کرتے ہیں کہ حضرت انس نے انہیں بیان کیا۔ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ابو جہل کے ساتھ جو کچھ ہوا ہے اس کو کون دیکھے گا؟ راوی کہتے ہیں: حضرت ابن مسعود چل دیئے تو انہوں نے اس کو اس حالت میں پایا کہ اس کو عفراء کے دو بیٹوں نے ایسا مارا تھا کہ وہ ٹھنڈا ہوگیا تھا۔ ابن مسعود نے کہا۔ تو ابو جہل ہے۔ اور آپ نے اس کی داڑھی کو پکڑا۔ میں ان لوگوں میں سب سے بلند ہوں جنھیں تم نے قتل کیا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39456]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39456، ترقيم محمد عوامة 37849)
ترقیم عوامۃ: 37850 ترقیم الشثری: -- 39457
٣٩٤٥٧ - حدثنا وكيع عن جرير بن حازم عن ابن سيرين قال: اقعص (١) ابا جهل ابنا عفراء (وذفف) (٢) عليه ابن مسعود (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) أي: ضربه الضربة الميتة.
(٢) أي: أجهز عليه، وفي [أ، ب]: (دفق)، وفي [جـ]: (دقف).
(٣) مرسل؛ ابن سيرين تابعي، وأخرجه مسدد كما في المطالب العالية (٤٢٥٨)، وابن سعد في الطبقات ٣/ ٤٩٢، والشاشي (٢٤٩)، والخطابي في غريب الحديث ٢/ ٢٦٩.
حضرت ابن سیرین کہتے ہیں کہ ابو جہل پر موت اتارنے والی ضرب تو عفراء کے دو بیٹوں نے لگائی اور اس کو (آخری طور پر) ابن مسعود نے موت کے گھاٹ اتارا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39457]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39457، ترقيم محمد عوامة 37850)
ترقیم عوامۃ: 37851 ترقیم الشثری: -- 39458
٣٩٤٥٨ - حدثنا ابو اسامة عن سليمان بن المغيرة عن ثابت قال: قال: اصحاب ابي جهل (لابي جهل) (١) وهو (يسير) (٢) إلى رسول الله ﷺ يوم بدر: ارايت مسيرك إلى محمد (٣) ؟ اتعلم انه نبي؟ قال: نعم، ولكن متى كنا تبعا لعبد مناف (٤) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [أ، ب، س، ط، هـ].
(٢) في [أ]: (يشير).
(٣) في [جـ، ي]: زيادة ﷺ.
(٤) مرسل؛ ثابت تابعي.
حضرت ثابت سے منقول ہے کہ ابو جہل کے ساتھیوں نے ابو جہل سے کہا۔ جبکہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف بدر کے دن چل رہا تھا۔ محمد کی طرف اپنے جانے کا ہمیں بھی بتاؤ۔ کیا تم جانتے ہو کہ وہ نبی ہیں؟ ابو جہل نے کہا: ہاں! لیکن ہم عبد مناف کے پیرو کب سے ہیں؟ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39458]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39458، ترقيم محمد عوامة 37851)
ترقیم عوامۃ: 37852 ترقیم الشثری: -- 39459
٣٩٤٥٩ - حدثنا وكيع قال: حدثنا (ابي) (١) (و) (٢) إسرائيل عن ابي إسحاق ⦗٤٤٨⦘ عن ابي عبيدة قال: قال عبد الله: انتهيت إلى ابي جهل يوم بدر وقد ضربت رجله وهو صريع، وهو يذب الناس عنه بسيفه، فقلت: الحمد لله الذي اخزاك يا عدو الله، قال: هل هو إلا رجل قتله قومه، قال: فجعلت اتناوله بسيف لي غير طائل فاصبت يده فندر سيفه فاخذته فضربته به حتى برد ثم خرجت حتى اتيت النبي ﷺ كانما اقل من الارض -يعني (من السرعة) (٣) ، (فاخبرته) (٤) فقال:"الله الذي لا إله إلا هو"، (فرددها) (٥) علي ثلاثا، فخرج يمشي معي حتى قام عليه فقال:"الحمد لله الذي اخزاك -يا عدو الله- هذا كان فرعون هذه الامة" (٦) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ق]: (أبو).
(٢) في [أ]: زيادة (ابن).
(٣) سقط من: [س].
(٤) في [ب]: (أخذته).
(٥) في [س]: (فردوه)، وفي [أ]: (فوقها).
(٦) منقطع؛ أبو عبيدة لم يسمع من أبيه ابن مسعود، أخرجه أحمد (٤٢٤٦)، وأبو داود (٣٧٢٢)، وأبو يعلى (٥٢٣١)، والشاشي (٩٣٢)، والطبراني (٨٤٦٨)، والبيهقي ٩/ ٦٢، والطيالسي (٣٢٨)، والبزار (١٧٧٥/ كشف).
حضرت عبد اللہ سے روایت ہے، فرماتے ہیں: میں بدر والے دن ابو جہل کے پاس پہنچا جبکہ اس کے پاؤں پر ضرب لگی ہوئی تھی اور وہ نیم مردہ حالت میں تھا اور وہ خود سے لوگوں کو اپنی تلوار کے ذریعہ سے ہٹا رہا تھا۔ میں نے کہا۔ اے دشمن خدا! تمام تعریفیں اس اللہ کے لئے ہیں جس نے تجھے رسوا کیا ہے۔ کہا: کہ وہ ایسا شخص ہے جس کو اس کی قوم نے قتل کیا ہے۔ عبد اللہ کہتے ہیں۔ پس میں نے اس کو اپنی چھوٹی سی تلوار سے لینا شروع کیا اور میں اس کے ہاتھ تک پہنچ گیا تو اس کی تلوار گرگئی۔ میں نے وہ تلوار پکڑ لی اور ابو جہل کو اسی تلوار کے ذریعہ سے مارا یہاں تک کہ وہ ٹھنڈا ہوگیا۔ پھر میں (وہاں سے) نکلا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں (اس طرح) حاضر ہو اگویا کہ مجھے زمین سے اٹھایا گیا ہے (یعنی تیزی سے گیا) اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خبردی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا واقعی ہی؟ الذی لا الہ الا ھو؟ یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ پر تین مرتبہ دہرائی پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے ہمراہ چلتے ہوئے باہر تشریف لائے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس پر کھڑے ہوئے اور فرمایا؛ اے دشمن خدا! تمام تعریفیں اس اللہ کے لئے ہیں جس نے تجھے رسوا کیا۔ یہ شخص اس امت کا فرعون تھا۔ حضرت وکیع کہتے ہیں۔ میرے والد نے بواسطہ ابو اسحاق از ابو عبیدہ یہ اضافہ کیا ہے کہ عبد اللہ کہتے ہیں۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے اس کی تلوار عطا فرمائی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39459]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39459، ترقيم محمد عوامة 37852)
ترقیم عوامۃ: Not Found ترقیم الشثری: -- 39460
٣٩٤٦٠ - قال وكيع: زاد فيه ابي عن ابي إسحاق عن ابي عبيدة قال: قال عبد الله: فنفلني رسول الله ﷺ سيفه (١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) منقطع؛ أبو عبيدة لم يسمع من أبيه، أخرجه أحمد (٤٢٤٦)، والطبراني (٨٤٦٩)، وأبو نعيم في الحلية ٤/ ٢٠٨، وابن عبد البر في التمهيد ٢٣/ ٢٥٤.
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39460، ترقيم محمد عوامة ---)
ترقیم عوامۃ: 37853 ترقیم الشثری: -- 39461
٣٩٤٦١ - حدثنا عبيد الله قال: اخبرنا إسرائيل عن ابي إسحاق عن ابي عبيدة عن ابيه قال: لقد قللوا في اعيننا يوم بدر، حتى قلت لصاحب لي إلى جنبي: كم تراهم تراهم سبعين؟ قال: اراهم مائة، حتى اخذنا منهم رجلا فسالناه فقال: كنا الفا (١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) منقطع؛ أبو عبيدة لم يسمع من أبيه، وأخرجه ابن أبي حاتم في التفسير (٩١٢٧)، وابن جرير ٣/ ١٩٨ و ١٠/ ١٣، والطبراني (١٠٢٦٩)، والبيهقي في دلائل النبوة ٣/ ٦٧.
حضرت ابو عبیدہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ البتہ تحقیق ہماری آنکھوں میں بدر کے دن (کفار کو) کم مقدار میں ظاہر کیا گیا یہاں تک کہ میں نے اپنے پہلو میں موجود ایک صاحب سے پوچھا: تمہارے خیال میں یہ کتنے ہیں؟ تمہارے خیال میں یہ ستر ہوں گے۔ اس نے جواب دیا۔ میرے خیال میں یہ ایک سو کی تعداد میں ہیں یہاں تک کہ ہم نے ان میں سے ایک آدمی کو پکڑا اور ہم نے اس سے پوچھا۔ تو اس نے بتایا۔ کہ ہم ایک ہزار کی تعداد میں ہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39461]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39461، ترقيم محمد عوامة 37853)
ترقیم عوامۃ: 37854 ترقیم الشثری: -- 39462
٣٩٤٦٢ - حدثنا شاذان قال: حدثنا حماد بن سلمة عن علي بن زيد عن سعيد ابن المسيب قال: قتل يوم بدر خمسة (رجال) (١) من المهاجرين من قريش: مهجع (مولى عمر، يحمل يقول: انا مهجع) (٢) ، وإلى ربي (اجزع) (٣) ، وقتل ذو الشمالين وابن بيضاء، وعبيدة بن الحارث، وعامر بن ابي وقاص (٤) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [جـ].
(٢) سقط من: [أ، ب].
(٣) في [ق، هـ]: (أرجع)، آخذًا من كنز العمال ١٠/ ١٨٦.
(٤) مرسل ضعيف؛ علي بن زيد ضعيف، وسعيد بن المسيب تابعي.
حضرت سعید بن مسیب کہتے ہیں، بدر کے دن قریش میں سے پانچ مہاجرین قتل ہوئے حضرت عمر کے آزاد کردہ غلام مہجع۔ یہ صاحب یہ کہتے ہوئے حملہ آور ہوئے۔ میں مہجع ہوں اور اپنے رب کی طرف ہی ڈرتے ہوئے لپکتا ہوں۔ اور ذوالشمالین، ابن بیضائ، عبیدہ بن حارث اور عامر بن ابی وقاص قتل ہوئے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39462]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39462، ترقيم محمد عوامة 37854)
ترقیم عوامۃ: 37855 ترقیم الشثری: -- 39463
٣٩٤٦٣ - حدثنا ابو اسامة قال: حدثني سليمان بن المغيرة قال: حدثنا ثابت قال: إن مع عمر بن الخطاب الحربة يوم بدر، ولا يؤتى باسير إلا اوجرها إياه، (قال) (١) : فلما اخذ العباس قال لآخذه: اتدري من انا؟ قال: لا، قال: انا عم رسول الله ﷺ (٢) [فلا تذهب بي إلى عمر، قال: فامسكه، واخذ عقيل وقال لآخذه: تدري من انا؟ قال: لا، قال: انا ابن عم رسول الله ﷺ (٣) ] (٤) (قال) : فامسك الناس (٥) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [أ].
(٢) سقط من: [س].
(٣) سقط من: [أ، س].
(٤) سقط ما بين المعكوفين في: [جـ].
(٥) مرسل؛ ثابت تابعي.
حضرت ثابت کہتے ہیں کہ بدر کے دن حضرت عمر کے پاس ایک نیزہ تھا۔ جب بھی کوئی قیدی لایا جاتا تو حضرت عمر یہ نیزہ اس کے منہ میں مارتے۔ راوی کہتے ہیں: جب عباس کو پکڑا گیا تو انہوں نے اپنے پکڑنے والے سے کہا۔ تم مجھے جانتے ہو؟ اس آدمی نے جواب دیا۔ نہیں! عباس نے کہا۔ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا چچا ہوں۔ پس تم مجھے عمر کے پاس نہ لے کر جاؤ۔ راوی کہتے ہیں: وہ آدمی رک گیا۔ پھر عقیل کو پکڑا گیا تو انہوں نے اپنے پکڑنے والے سے کہا۔ تم مجھے جانتے ہو؟ اس نے جواب دیا: نہیں! عقیل نے کہا۔ میں رسول اللہ کا چچا زاد ہوں۔ راوی کہتے ہیں: پھر لوگ رک گئے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39463]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39463، ترقيم محمد عوامة 37855)
ترقیم عوامۃ: 37856 ترقیم الشثری: -- 39464
٣٩٤٦٤ - حدثنا عيسى بن يونس (عن ابيه) (١) عن ابيه -يعني جده- عن ذي الجوشن الضبابي قال: اتيت رسول الله ﷺ بعد ان فرغ من اهل بدر بابن فرس (لي) (٢) ⦗٤٥٠⦘ يقال لها القرحاء، فقلت: يا محمد، إني قد اتيتك بابن القرحاء لتتخذه، قال:"لا حاجة لي فيه، وإن اردت ان اقيضك به المختارة من دروع بدر فعلت"، قلت: ما كنت اقيضك اليوم ( (بغرة) (٣) لا حاجة في فيه) (٤) ، ثم قال:"يا ذا الجوشن الا تسلم فتكون من اول هذا الامر"، قلت: لا، قال:"ولم؟" قلت: إني رايت قومك ولعوا بك، قال:"فكيف ما بلغك عن مصارعهم؟" قلت: قد بلغني، قال:"فانى يهدى بك"، قلت: إن تغلب على الكعبة وتقطنها، قال:"لعلك إن (عشت) (٥) ان ترى ذلك"، ثم قال:"يا بلال خذ حقيبة الرجل فزوده من العجوة"، فلما ادبرت قال:"اما إنه خير فرسان بني عامر". قال: فوالله إني باهلي بالعوذاء (إذ) (٦) اقبل راكب (فقلت) (٧) : من اين انت؟ قال: من مكة، قال: (قلت) (٨) : ما فعل الناس؟ قال: قد (والله غلب) (٩) عليها محمد (١٠) وقطنها، (فقلت) (١١) : هبلتني امي، لو اسلم يومئذ ثم اساله (الحيرة) (١٢) لاقطعنيها قال: والله لا اشرب الدهر (في) (١٣) كوز ولا (يضرط) (١٤) ⦗٤٥١⦘ الدهر تحتي برذون (١٥) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [أ، ب].
(٢) في [هـ]: (له).
(٣) في [س]: (بعزه).
(٤) في [ق]: (فرسًا بدرع).
(٥) في [هـ]: (عشيت).
(٦) في [أ، ب، س]: (إذا).
(٧) في [ب]: (قلت).
(٨) سقط من: [أ].
(٩) في [جـ]: (غلب واللَّه)
(١٠) في [جـ، ق، ي]: زيادة ﷺ.
(١١) في [أ، ب]: (قلت).
(١٢) في [أ، ب]: (الجيرة).
(١٣) في [ق]: (من)، وفي [هـ]: (مي).
(١٤) في [ب]: (يضر)، وفي [جـ]: (تفرط)، وفي [ي]: (تضرط)، وفي [ق]: (يغرط)، وفي [هـ]: (يضره).
(١٥) منقطع؛ أبو إسحاق لم يثبت سماعه من ذي الجوشن، أخرجه أحمد (١٥٩٦٥)، وأبو داود (٢٧٨٦)، والطبراني (٧٢١٦)، والبيهقي ٩/ ١٠٨، وابن أبي عاصم في الآحاد (١٥٠٦)، وابن سعد ٦/ ٤٧، وعبد اللَّه بن أحمد في زوائد المسند (١٦٦٣٥)، والمزي ٨/ ٥٢٧، وانظر: الخبر في مسند ابن أبي شيبة (٥٥٩).
حضرت ذی الجوشن سے روایت ہے کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اہل بدر سے فارغ ہوگئے تھے۔ اپنے ایک گھوڑے کے بچے کو لے کر حاضر ہوا۔ جس گھوڑے کا نام۔ القرحائ۔ تھا اور میں نے عرض کیا۔ اے محمد! میں آپ کے پاس اس قرحاء کا بچہ لے کر آیا ہوں تاکہ یہ آپ لے لیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے اس کی ضرورت نہیں ہے اگر تم اس کے بدلہ میں مجھ سے بدر کی زرہ میں سے منتخب ذرہ بدلہ میں لینا چاہتے ہو تو پھر میں یہ لے سکتا ہوں۔ میں نے عرض کیا۔ میں آج آپ سے اس گھوڑے کے عوض کچھ نہیں لوں گا۔ مجھے اس کی ضرورت نہیں ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے ذو الجوشن! کیا تم اسلام نہیں لے آئے تاکہ تم اس معاملہ (دین) کے پہلوں میں سے ہو جاؤ؟ میں نے جواب دیا: نہیں! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیوں؟ میں نے کہا: میں آپ کی قوم کو دیکھتا ہوں کہ وہ آپ کے درپے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہیں ان کے پچھاڑے ہوئے (مُردوں) کے بارے میں کیسی خبر پہنچی ہے؟ میں نے کہا: وہ تو مجھے پہنچی ہی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پھر کب تیرے ذریعہ سے ہدایت دی جائے گی؟ میں نے کہا۔ اگر آپ کو مکہ پر غلبہ اور وہاں پر آباد ہونا میسر آگیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہوسکتا ہے کہ تو اس بات کو دیکھنے تک زندہ رہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے بلال! اس آدمی کا توشہ دان پکڑو اور اس کو توشہ میں عجوہ دے دو۔ پھر جب رُخ پھیر کر مڑا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔ خبردار! یہ بنو عامر کا بہترین گھڑ سوار ہے۔ راوی کہتے ہیں: بخدا! میں عوذاء مقام پر اپنے گھر والوں کے ساتھ تھا کہ ایک سوار سامنے آیا۔ میں نے پوچھا۔ تم کہاں سے آئے ہو؟ اس نے جواب دیا۔ مکہ سے میں نے پوچھا۔ (وہاں) لوگوں کا کیا ہوا؟ اس آدمی نے کہا بخدا! مکہ پر محمد کا غلبہ ہوگیا ہے اور وہ وہاں پر آباد ہوگئے ہیں۔ میں نے کہا۔ میری ماں مجھے گم پائے۔ کاش میں اس دن اسلام لے آتا۔ پھر میں ان سے حیرہ کی سلطنت بھی مانگتا تو مجھے مل جاتی۔ خدا کی قسم! میں کبھی صراحی سے نہیں پیوں گا اور میرے نیچے کبھی گھوڑا نہیں آئے گا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39464]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39464، ترقيم محمد عوامة 37856)