مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
27. غزوة الخندق
غزوہ خندق
ترقیم عوامۃ: 37955 ترقیم الشثری: -- 39570
٣٩٥٧٠ - حدثنا محمد بن فضيل عن عطاء بن السائب عن مجاهد عن ابن عمر قال: لقد اهتز العرش لحب لقاء الله سعدا، قال: (إنما يعني السرير) (١) ، ورفع ابويه على العرش قالت: تفسخت اعواده، قال: دخل رسول الله ﷺ قبره (فاحتبس) (٢) فلما قالوا: يا رسول الله ما حبسك؟ قال:"ضم سعد في القبر ضمة (فدعوت) (٣) الله ان يكشف عنه" (٤) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [ط، هـ].
(٢) في [أ، ب]: (احتسن).
(٣) في [أ، ب]: (دعوة).
(٤) ضعيف؛ رواية ابن فضيل عن عطاء بعد اختلاطه، أخرجه النسائي (٢١٨٢)، والحاكم ٣/ ٢٠٦، وابن أبي حاتم في التفسير (١٩٩٣)، والطبراني (١٣٥٥٥)، وابن سعد ٣/ ٤٣٣، والبزار كما في المطالب العالية (٤٠٢٧)، وابن حبان (٧٠٣٤).
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ اللہ تعالیٰ کی سعد سے ملاقات پر عرش جھوم گیا۔ یعنی تخت… فرمایا: { وَرَفَعَ أَبَوَیْہِ عَلَی الْعَرْشِ } راوی کہتے ہیں۔ تخت کی لکڑیاں جدا جدا ہوگئیں۔ راوی کہتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، حضرت سعد کی قبر میں داخل ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وہاں ٹھہر گئے پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم باہر تشریف لائے تو لوگوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! کس بات کی وجہ سے آپ اندر ٹھہرے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سعد کی قبر کو ملایا گیا تو میں نے اللہ سے اس کیفیت کے ختم ہونے کی دعا کی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39570]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39570، ترقيم محمد عوامة 37955)
ترقیم عوامۃ: 37956 ترقیم الشثری: -- 39571
٣٩٥٧١ - حدثنا عبد الله بن إدريس عن الاعمش عن ابي سفيان عن جابر قال: قال رسول الله ﷺ:"لقد اهتز العرش لموت سعد بن معاذ" (١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) حسن؛ أبو سفيان صدوق، وأخرجه البخاري (٣٨٠٣)، ومسلم (٢٤٦٦).
حضرت جابر سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بلاشبہ، سعد بن معاذ کی موت پر عرش جھوم گیا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39571]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39571، ترقيم محمد عوامة 37956)
ترقیم عوامۃ: 37957 ترقیم الشثری: -- 39572
٣٩٥٧٢ - حدثنا يزيد بن هارون قال: (اخبرنا) (١) إسماعيل بن ابي خالد عن (إسحاق) (٢) بن راشد عن امراة من الانصار يقال لها اسماء بنت (يزيد) (٣) بن سكن ⦗٤٩٦⦘ قالت: لما خرج بجنازة سعد بن معاذ (صاحت) (٤) امه فقال رسول الله ﷺ لام سعد:" (الا) (٥) (٦) (يرقا) (٧) دمعك ويذهب حزنك: ان ابنك اول من ضحك الله له واهتز له العرش" (٨) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (أخبرني)، وفي [ع]: (أنبأنا).
(٢) في [ع]: (إسماعيل).
(٣) في [هـ]: (زيد).
(٤) في [أ، ب]: (فصاحت).
(٥) في [ق، ع]: (لا).
(٦) في [أ، ب]: زيادة (تلكن).
(٧) في [أ، ب]: (برقى)، وفي [ي]: (يرقاه)، وفي [س]: (برقاد).
(٨) مجهول؛ لجهالة إسحاق بن راشد، أخرجه أحمد (٢٧٥٨١)، وابن سعد ٣/ ٤٣٤، وابن أبي عاصم في السنة (٥٥٩)، وابن خزيمة في التوحيد ص ٢٣٧، والطحاوي في شرح المشكل (٤١٧٠)، والطبراني ٢٤/ (٤٦٧)، والحاكم ٣/ ٢٠٦.
حضرت اسماء بنت یزید بن سکن سے روایت ہے کہ جب حضرت سعد کا جنازہ لے کر نکلا گیا تو آپ کی والدہ نے چیخ ماری۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت سعد کی والدہ سے فرمایا: کیا تمہارے آنسو بند نہیں ہوں گے اور تمہارا غم ختم نہیں ہوگا؟ حالانکہ تیرا بیٹا پہلا شخص ہے جس کو دیکھ کر اللہ تعالیٰ نے ضحک فرمایا: اور اس کی وجہ سے عرش جھوم گیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39572]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39572، ترقيم محمد عوامة 37957)
ترقیم عوامۃ: 37958 ترقیم الشثری: -- 39573
٣٩٥٧٣ - حدثنا (يزيد) (١) بن هارون قال: (اخبرنا) (٢) محمد بن عمرو عن ابيه عن جده عن عائشة قالت: قدمنا (في) (٣) حج او عمرة فتلقينا بذي الحليفة، وكان غلمان الانصار يتلقون اهاليهم، فلقوا اسيد بن حضير فنعوا له امراته (فتقنع) (٤) ، فجعل يبكي، فقلت: غفر الله لك، انت صاحب رسول الله ﷺ ولك من السابقة والقدم ما لك، وانت تبكي على امراة، قالت: فكشف راسه، (فقال) (٥) : صدقت لعمري ليحقن (ان) (٦) لا ابكي على (احد) (٧) بعد سعد بن معاذ، وقد ⦗٤٩٧⦘ قال له رسول الله ﷺ (ما) (٨) (قال) (٩) (١٠) ، (قلت) (١١) : وما قال له رسول الله ﷺ؟ قال:"لقد اهتز العرش (لوفاة) (١٢) سعد بن معاذ"، قالت: هو يسير بيني وبين رسول الله ﷺ (١٣) (١٤) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ط، هـ]: (زيد).
(٢) في [أ، ب، ي]: (أنبأنا).
(٣) في [ق، هـ]: (من).
(٤) في [ي]: (فنقنع).
(٥) في [أ، ب]: (قال).
(٦) في [ق]: (أنا)، وفي [ع]: (ألا).
(٧) في [ي]: (لحيد).
(٨) سقط من: [أ].
(٩) في [ب]: (قلت).
(١٠) في [جـ، ي]: زيادة (له)، وفي [ع]: زيادة (قال).
(١١) في [ع]: (قالت).
(١٢) في [أ]: (بموت).
(١٣) سقط من: [ع].
(١٤) حسن؛ محمد بن عمرو وأبوه صدوقان، أخرجه أحمد (٩٠٩٥)، وابن حبان (٧٠٣٠)، والحاكم ٣/ ٢٠٧، وابن سعد ٣/ ٤٣٤، وابن أبي عاصم في الآحاد (١٩٢٦)، وإسحاق (١٧٢٣)، والطبراني ١/ (٥٥٣)، والطحاوي في شرح المشكل (٤١٧٢)، وأبو نعيم في معرفة الصحابة (٨٧٨).
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ہم حج یا عمرہ کے سلسلہ میں آئے اور ذوالحلیفہ سے ہمارا استقبال کیا گیا۔ انصار کے بچے اپنے گھر والوں کا استقبال کیا کرتے تھے۔ لوگ حضرت اسید ابن حضیر سے ملے اور انہیں ان کی اہلیہ کی وفات کی خبر دی۔ انہوں نے سر پر کپڑا کرلیا اور رونا شروع کردیا۔ میں نے ان سے کہا: اللہ تعالیٰ تمہاری بخشش کریں۔ تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھی ہو اور تمہیں سبقت اور قدامت میں بھی ایک مقام حاصل ہے اور تم ایک عورت پر رو رہے ہو؟ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں۔ انہوں نے اپنا سر کھول دیا اور کہا: میری عمر کی قسم! آپ نے سچ کہا ہے۔ حضرت سعدبن معاذ کے بعد کسی پر بھی رونے کا حق باقی نہیں ہے۔ ا ن کے بارے میں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جو فرما دیا تھا فرما دیا تھا۔ میں نے پوچھا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے بارے میں کیا کہا تھا۔ انہوں نے کہا۔ (یہ کہا تھا) بلاشبہ! سعد بن معاذ کی وفات پر عرش بھی جھوم گیا ہے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا کیتر ہیں۔ اُسید، میرے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے درمیان چل رہے تھے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39573]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39573، ترقيم محمد عوامة 37958)
ترقیم عوامۃ: 37959 ترقیم الشثری: -- 39574
٣٩٥٧٤ - حدثنا هوذة بن خليفة عن عوف عن ابي نضرة عن ابي سعيد عن النبي ﷺ قال:"اهتز العرش لموت سعد بن معاذ" (١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) حسن؛ هوذة بن خليفة صدوق، أخرجه أحمد (١١٨٤)، والنسائي في الكبرى (٨٢٢٥)، والحاكم ٣/ ٢٠٦، وابن سعد ٣/ ٤٣٤، وعبد بن حميد (٨٧١)، وأبو يعلى (١٢٦٠)، والطبراني (٥٣٣٤)، وأبو نعيم في تاريخ أصبهان ٢/ ٢٧٤، والبزار (٢٧٠١) / كشف).
حضرت ابو سعید، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک سعد بن معاذ کی موت پر عرش جھوم اٹھا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39574]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39574، ترقيم محمد عوامة 37959)
ترقیم عوامۃ: 37960 ترقیم الشثری: -- 39575
٣٩٥٧٥ - حدثنا عبيد الله بن موسى عن إسرائيل عن ابي إسحاق عن رجل حدثه (عن حذيفة) (١) قال: لما مات سعد بن معاذ (قال) (٢) رسول الله ﷺ:"اهتز العرش لروح سعد بن معاذ" (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [جـ].
(٢) في [ي]: (وقال).
(٣) مجهول؛ لإبهام راويه، أخرجه ابن سعد ٣/ ٤٣٥.
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب حضرت سعد بن معاذ کی موت واقع ہوئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: حضرت سعد بن معاذ کی روح سے عرش جھوم اٹھا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39575]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39575، ترقيم محمد عوامة 37960)
ترقیم عوامۃ: 37961 ترقیم الشثری: -- 39576
٣٩٥٧٦ - حدثنا عبدة بن سليمان قال: (حدثنا) (١) هشام بن عروة عن ابيه عن عائشة قالت: (اصيب) (٢) اكحل (سعد) (٣) يوم الخندق، رماه رجل يقال له ابن العرقة (قالت) (٤) : فحوله رسول الله ﷺ إلى المسجد وضرب عليه خيمة ليعوده من قريب (٥) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ع]: (أخبرنا).
(٢) في [ي]: (أصيبت).
(٣) في [أ، ب]: (سعدًا).
(٤) في [جـ]: (قالب).
(٥) صحيح؛ أخرجه البخاري (٤٦٣)، ومسلم (١٧٦٩).
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ خندق والے دن حضرت سعد کی بازو کی رگ زخمی ہوگئی تھی۔ آپ کو ایک ابن العرقہ نامی شخص نے تیر مارا تھا۔ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو مسجد کی طرف منتقل کردیا اور ان پر ایک خیمہ لگا دیا گیا تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کی قریب ہی سے عیادت کرسکیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39576]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39576، ترقيم محمد عوامة 37961)
ترقیم عوامۃ: 37962 ترقیم الشثری: -- 39577
٣٩٥٧٧ - حدثنا عبدة بن سليمان عن هشام بن (عروة) (١) عن ابيه عن عائشة في قوله: ﴿إذ جاءوكم من فوقكم ومن اسفل منكم وإذ زاغت الابصار وبلغت القلوب الحناجر﴾ [الاحزاب: ١٠] ، قالت: كان (ذاك) (٢) يوم الخندق (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ]: (غروه).
(٢) في [س، ي]: (ذلك).
(٣) صحيح؛ أخرجه البخاري (٤١٠٣)، ومسلم (٣٨٧٧).
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ {إِذْ جَائُ وکُمْ مِنْ فَوْقِکُمْ وَمِنْ أَسْفَلَ مِنْکُمْ، وَإِذْ زَاغَتِ الأَبْصَارُ، وَبَلَغَتِ الْقُلُوبُ الْحَنَاجِرَ } یہ حالت خندق والے دن کی تھی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39577]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39577، ترقيم محمد عوامة 37962)
ترقیم عوامۃ: 37963 ترقیم الشثری: -- 39578
٣٩٥٧٨ - حدثنا ابو اسامة عن هشام بن عروة عن ابيه ان رسول الله ﷺ (صاف) (١) (المشركين) (٢) يوم الخندق قال: وكان (يوما) (٣) شديدا لم يلق المسلمون مثله قط، قال: ورسول الله ﷺ جالس وابو بكر معه جالس، وذلك زمان طلع النخل، قال: وكانوا يفرحون به (إذا راوه) (٤) فرحا شديدا لان عيشهم فيه، قال: فرفع ابو بكر ⦗٤٩٩⦘ راسه فبصر (بطلعة) (٥) وكانت اول طلعة رئيت (٦) ، فقال: هكذا، بيده طلعة يا رسول الله -من الفرح-، قال: فنظر (إليه رسول الله ﷺ) (٧) فتبسم (وقال) (٨) :"اللهم لا تنزع منا (صالح) (٩) ما اعطيتنا او صالحا (١٠) اعطيتنا" (١١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ي]: (ضاف).
(٢) في [جـ]: (المشركون).
(٣) في [ع]: (يوم).
(٤) سقط من: [ع].
(٥) في [ع]: (بطليعة).
(٦) في [ع]: زيادة (قال).
(٧) في [ع]: (رسول اللَّه ﷺ إليه).
(٨) في [أ، ب]: (فقال).
(٩) في [ع]: (طلح).
(١٠) في [أ، ب]: زيادة (ما).
(١١) مرسل؛ عروة تابعي.
حضرت ہشام بن عروہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ خندق کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مشرکین کے مقابل صف بندی فرمائی۔ راوی کہتے ہیں: یہ بہت سخت دن تھا۔ مسلمانوں نے اس جیسا دن کبھی نہیں دیکھا تھا۔ راوی کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف فرما تھے اور حضرت ابوبکر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تشریف فرما تھے اور یہ وقت کھجوروں کی پیداواری کا تھا۔ راوی کہتے ہیں۔ لوگ کھجور کے زمانہ کو دیکھ کر بہت خوش ہوتے تھے کیونکہ ان کی زندگی (کا مدار ہی) اس پر تھا۔ راوی کہتے ہیں: پھر ابوبکر نے سر اٹھایا تو انہیں کھجور کا شگوفہ دکھائی دیا۔ یہ پہلا دکھائی دینے والا شگوفہ تھا۔ راوی کہتے ہیں: انہوں نے خوشی کی وجہ سے اپنے ہاتھ سے اشارہ کر کے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! شگوفہ۔ راوی کہتے ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی طرف دیکھ کر تبسم فرمایا۔ اے اللہ! جو صالح چیز تو ہمیں عطا کرے وہ ہم سے واپس نہ چھیننا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39578]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39578، ترقيم محمد عوامة 37963)
ترقیم عوامۃ: 37964 ترقیم الشثری: -- 39579
٣٩٥٧٩ - حدثنا ابو اسامة عن شعبة عن ابي إسحاق عن عمرو بن شرحبيل قال: لما اصيب سعد بن معاذ بالرمية يوم الخندق، وجعل دمه يسيل على (النبي) (١) الله ﷺ، [ (فجاء ابو بكر فجعل يقول) (٢) : وا انقطاع ظهراه، فقال (٣) النبي ﷺ] (٤) :" (مه) (٥) يا ابا بكر"، فجاء عمر فقال: إنا لله وإنا إليه راجعون (٦) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: (رسول).
(٢) سقط من: [أ، ب].
(٣) في [أ، ب، جـ، س، ع]: زيادة (له).
(٤) سقط ما بين المعكوفين من: [ي].
(٥) سقط من: [أ، ب].
(٦) مرسل؛ عمرو بن شرحبيل تابعي.
حضرت عمرو بن شرحبیل سے روایت ہے کہ جب حضرت سعد بن معاذ کو خندق والے دن تیر لگ گیا اور ان کا خون نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر بہنے لگا تو حضرت ابوبکر حاضر ہوئے اور کہنے لگے۔ ان کی کمر ٹوٹ گئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ابوبکر! ٹھہر جاؤ۔ پھر حضرت عمر حاضر ہوئے اور کہا: انا للہ وانا الیہ راجعون۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39579]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39579، ترقيم محمد عوامة 37964)