🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

27. غزوة الخندق
غزوہ خندق
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 37965 ترقیم الشثری: -- 39580
٣٩٥٨٠ - حدثنا يزيد بن هارون قال: (اخبرنا) (١) حماد بن سلمة عن هشام عن ابيه قال: كان في اصحاب رسول الله ﷺ رجل يقال له: مسعود، وكان نماما، ⦗٥٠٠⦘ فلما كان يوم الخندق بعث اهل قريظة إلى ابي سفيان ان ابعث إلينا رجالا (٢) يكونون في آطامنا حتى نقاتل محمدا (٣) مما يلي المدينة، وتقاتل انت مما يلي الخندق، (فشق) (٤) ذلك على النبي ﷺ ان يقاتل من وجهين، فقال لمسعود:"يا مسعود إنا نحن بعثنا إلى بني قريظة ان يرسلوا إلى ابي سفيان فيرسل إليهم (رجالا) (٥) فإذا اتوهم قتلوهم"، قال: فما عدا (ان سمع ذلك) (٦) من النبي ﷺ قال: فما تمالك حتى اتى ابا سفيان فاخبره، فقال: صدق -والله- محمد ما كذب قط، فلم يبعث (إليهم) (٧) احدا (٨) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (أنبأنا).
(٢) في [ي]: زيادة (لا).
(٣) في [جـ، ق، ي]: زيادة ﷺ.
(٤) في [ي]: (نسق).
(٥) سقط من: [أ، ب].
(٦) في [أ، ب]: (ذلك سمع).
(٧) في (ق): (إليه).
(٨) مرسل؛ عروة تابعي.

حضرت ہشام، اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھیوں میں ایک صاحب تھے جنہیں مسعود کہا جاتا تھا۔ یہ بہت چغل خور تھے۔ پس جب خندق کا دن تھا تو بنو قریظہ نے ابو سفیان کی طرف پیغام بھیجا۔ تم ہماری طرف کچھ بندے بھیج دو جو ہمارے قلعوں میں (مورچہ زن) ہوں تاکہ ہم محمد کے ساتھ مدینہ کی (اندرونی) طرف سے قتال کریں اور تم لوگ خندق کی طرف سے قتال کرو۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دو جانب سے لڑنا مشکل محسوس ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مسعود سے کہا۔ اے مسعود! ہم نے بنو قریظہ کی طرف یہ پیغام بھیجا ہے کہ وہ ابو سفیان کی طرف اپنے افراد بھیجیں جب ابو سفیان ان کی طرف اپنے آدمی بھیجے گا تو بنو قریظہ والے ان کو قتل کردیں گے۔ جب مسعودنے یہ بات سنی تو ان سے صبر نہ ہوا اور انہوں نے یہ بات جا کر ابوسفیان کو بتادی۔ ابوسفیان نے کہا کہ خدا کی قسم! محمد نے ہمیشہ سچ کہا کبھی جھوٹ نہیں بولا۔ چناچہ اس نے بنو قریظہ کی طرف کسی کو نہیں بھیجا۔ (حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ عمل جنگی تدبیر کا حصہ تھا)۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39580]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39580، ترقيم محمد عوامة 37965)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 37966 ترقیم الشثری: -- 39581
٣٩٥٨١ - حدثنا وكيع بن الجراح قال: (حدثنا) (١) عبد الواحد بن ايمن عن ابيه عن جابر بن عبد الله قال: مكث النبي ﷺ واصحابه يحفرون الخندق ثلاثا ما ذاقوا طعاما، فقالوا: يا رسول الله إن (ههنا) (٢) كدية من الجبل - (يعني قطعة من الجبل) (٣) ، فقال رسول الله ﷺ:"رشوا (عليها) (٤) الماء"، فرشوها ثم جاء النبي ﷺ فاخذ المعول او المسحاة ثم قال:"بسم الله"، ثم ضرب ثلاثا فصارت ⦗٥٠١⦘ ثلاثا فصارت (كثيبا) (٥) ، قال جابر: فحانت مني التفاتة، فرايت رسول الله ﷺ قد شد على بطنه حجرا (٦) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ع]: (أخبرنا).
(٢) في [جـ]: (هبا).
(٣) سقط من: [ط، ق، هـ].
(٤) في [ق]: (عليه).
(٥) في [ي]: (كثب).
(٦) صحيح؛ أخرجه البخاري (٤١٠١)، وأحمد (٤٢١١).

حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ تین دن اس حالت میں خندق کھودتے رہے کہ انہوں نے کھانا چکھا بھی نہیں۔ پھر صحابہ نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! پہاڑ کا کوئی سخت حصہ آگیا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس پر پانی چھڑکو۔ پس صحابہ کرام نے اس قطعہ پر پانی کا چھڑکاؤ کیا پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے اور کدال یا پھاؤڑا ہاتھ میں لیا اور فرمایا: بسم اللہ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تین ضربیں لگائیں تو وہ قطعہ ریت کا ڈھیر بن گیا۔ حضرت جابر کہتے ہیں: فَحَانَتْ مِنِّی الْتِفَاتَۃٌ تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے پیٹ مبارک پر پتھر باندھا ہوا تھا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39581]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39581، ترقيم محمد عوامة 37966)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 37967 ترقیم الشثری: -- 39582
٣٩٥٨٢ - حدثنا ابو الاحوص عن ابي إسحاق عن البراء قال: رايت رسول الله ﷺ يوم الخندق ينقل التراب حتى (وارى) (١) التراب شعر صدره، وهو يرتجز برجز عبد الله بن رواحة يقول: (لا هم) (٢) (لولا) (٣) انت ما اهتدينا … ولا تصدقنا ولا صلينا فانزلن سكينة علينا … وثبت الاقدام إن لاقينا إن (الاولى) (٤) قد بغوا علينا … وإن ارادوا فتنة ابينا (٥)

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ع]: (رارا).
(٢) في [ع]: (اللهم).
(٣) في [أ، ب]: (لولى).
(٤) في [أ، ب]: (الألمن).
(٥) صحيح؛ أخرجه البخاري (٣٠٣٤)، ومسلم (١٨٠٣).

حضرت براء سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خندق والے دن مٹی ڈھوتے ہوئے دیکھا۔ یہاں تک کہ مٹی نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سینہ مبارک کے بالوں کو چھپا دیا تھا۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عبد اللہ بن رواحہ کے رجز کو پڑھ رہے تھے اور فرما رہے تھے: اے اللہ! اگر تو نہ ہوتا تو ہم راہ راست پر نہ آتے، اور نہ ہم صدقہ دیتے اور نہ نماز پڑھتے۔ پس تو ہم پر سکینہ کو نازل فرما، اور قدموں کو ثابت رکھ اگر ہماری ملاقات (دشمن سے) ہو۔ بلا شبہ ان لوگوں نے ہم پر سرکشی کی ہے، اور اگر وہ فتنہ چاہیں گے تو اہم انکار کریں گے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39582]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39582، ترقيم محمد عوامة 37967)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 37968 ترقیم الشثری: -- 39583
٣٩٥٨٣ - حدثنا ابو خالد الاحمر عن حميد عن انس قال: خرج رسول الله ﷺ غداة باردة -والمهاجرون والانصار يحفرون الخندق- فلما نظر إليهم قال:"إن (١) العيش عيش الآخرة … فاغفر للانصار والمهاجرة" فاجابوه: نحن الذين بايعوا محمدا … على الجهاد ما بقينا ابدا (٢)

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ق، هـ]: زيادة (ألا).
(٢) حسن؛ أبو خالد صدوق، وأخرجه البخاري (٢٨٣٥)، ومسلم (١٨٠٥).

حضرت انس سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک ٹھنڈی صبح کو باہر تشریف لائے۔ مہاجرین و انصار خندق کھود رہے تھے۔ تو جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نظر ان پر پڑی تو فرمایا: بلاشبہ زندگی تو آخرت کی زندگی ہے۔ پس (اے اللہ!) تو انصار اور مہاجرین کی مغفرت فرما۔ صحابہ کرام نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جواباً کہا:ہم وہ لوگ ہیں جنہوں نے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بیعت کی۔ فریضہ جہاد پر جب تک ہم باقی رہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39583]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39583، ترقيم محمد عوامة 37968)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 37969 ترقیم الشثری: -- 39584
٣٩٥٨٤ - حدثنا يزيد بن هارون قال: (اخبرنا) (١) ابن (ابي) (٢) ذئب عن المقبري عن عبد الرحمن بن ابي سعيد الخدري عن ابيه قال: حبسنا يوم الخندق عن الظهر والعصر والمغرب والعشاء حتى (كفينا) (٣) ذلك، (و) (٤) ذلك قول الله: ﴿ (وكفى) (٥) الله المؤمنين القتال وكان الله قويا عزيزا﴾ [الاحزاب: ٢٥] ، (فقام) (٦) رسول الله ﷺ فامر بلالا، فاقام ثم صلى (الظهر) (٧) كما كان يصليها قبل ذلك، ثم (٨) اقام العصر فصلاها كما كان يصليها قبل ذلك، ثم اقام فصلى (المغرب) (٩) كما كان يصليها قبل ذلك، ثم (اقام) (١٠) فصلى العشاء كما كان يصليها قبل ذلك) (١١) وذلك قبل ان (ينزل) (١٢) : ﴿خفتم فرجالا او ركبانا﴾ [البقرة: ٢٣٩] (١٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (أنبأنا).
(٢) سقط من: [ق، ع].
(٣) في [ب]: (كففنا)، وفي [أ]: (أكفننا).
(٤) سقط من: [س].
(٥) في [ع]: (كفا).
(٦) في [هـ]: (فقال).
(٧) في [أ]: (للظهر).
(٨) في [أ]: زيادة (ذلك قبل).
(٩) في [ي]: (العشاء).
(١٠) في [ب]: (قام).
(١١) سقط من: [س].
(١٢) في [أ، ب، ق]: (تنزل).
(١٣) صحيح؛ أخرجه أحمد (١١٦٤٤)، والنسائي ٢/ ١٧، وابن خزيمة (٩٩٦)، والطيالسي (٢٢٣١)، والشافعي ١/ ١٩٦، والدارمي ١/ ٣٥٨، وأبو يعلى (١٢٩٦)، والبيهقي ٣/ ٢٥١، وابن عبد البر في التمهيد ٥/ ٢٣٥.

حضرت عبد الرحمان بن ابو سعید خدری اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ خندق کے دن ہمیں ظہر، عصر اور مغرب، عشا سے محبوس رکھا گیا۔ یہاں تک کہ ہمیں اس سے کفایت دے دی گئی۔ یہی ارشاد خداوندی (کا معنی) ہے۔ { وَکَفَی اللَّہُ الْمُؤْمِنِینَ الْقِتَالَ، وَکَانَ اللَّہُ قَوِیًّا عَزِیزًا } پھر نبی کریم کھڑے ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت بلال کو حکم دیا۔ انہوں نے اقامت کہی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ظہر کی نماز پڑھی، جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس سے پہلے ظہر کی نماز پڑھتے تھے۔ پھر حضرت بلال نے عصر کے لئے اقامت کہی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عصر کی نماز بھی ادا کی جس طرح آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، عصر کی نماز پہلے پڑھتے تھے۔ پھر حضر ت بلال نے اقامت کہی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مغرب کی نماز ادا فرمائی جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس سے پہلے مغرب پڑھتے تھے۔ پھر حضرت بلال نے اقامت کہی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عشا کی نماز ادا کی جس طرح آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس سے پہلے عشاء ادا کرتے تھے۔ اور یہ واقعہ { فَإِنْ خِفْتُمْ فَرِجَالاً، أَوْ رُکْبَانًا } کے نازل ہونے سے پہلے کا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39584]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39584، ترقيم محمد عوامة 37969)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 37970 ترقیم الشثری: -- 39585
٣٩٥٨٥ - حدثنا (ابو) (١) خالد الاحمر عن يحيى بن سعيد عن سعيد عن عمر بن الخطاب ان رسول الله ﷺ لم يصل يوم الخندق الظهر والعصر حتى غابت الشمس (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [هـ].
(٢) مرسل؛ سعيد بن المسيب تابعي.

حضرت سعید سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خندق کے دن غروب شمس تک ظہر اور عصر ادا نہیں کی تھی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39585]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39585، ترقيم محمد عوامة 37970)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 37971 ترقیم الشثری: -- 39586
٣٩٥٨٦ - حدثنا عبد الله بن إدريس عن ابي معشر قال: جاء الحارث بن عوف (وعيينة) (١) بن حصن فقالا لرسول الله ﷺ عام الخندق: نكف عنك غطفان على ان تعطينا ثمار المدينة، قال: فراوضوه حتى استقام الامر على نصف ثمار المدينة، فقالوا: اكتب بيننا وبينك كتابا، فدعا بصحيفة، قال: (والسعدان) (٢) - (سعد) (٣) ابن معاذ وسعد بن عبادة- جالسان، فاقبلا على رسول الله ﷺ (فقالا) (٤) : اشيء اتاك عن الله ليس لنا ان نعرض فيه، قال:"لا، ولكني اردت ان اصرف وجوه هؤلاء عني ويفرغ وجهي لهؤلاء"، قال: (قالا) (٥) له: ما نالت منا العرب في جاهليتنا (شيئا) (٦) إلا (بشراء) (٧) او قرى (٨) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ي]: (وعينة).
(٢) في [أ]: (والبعدان).
(٣) سقط من: [أ، ب].
(٤) سقط من: [ع].
(٥) في [جـ]: (قالها).
(٦) في [ع]: (بشيء).
(٧) في [أ، ط، ع، هـ]: (بشري).
(٨) معضل؛ أبو معشر ضعيف من تابعي التابعين.

حضرت ابو معشر سے روایت ہے کہ حارث بن عوف اور عیینہ بن حصن آئے اور انہوں نے عام خندق میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا۔ ہم آپ سے غطفان کو روک کر رکھیں گے اس شرط پر کہ آپ ہمیں مدینہ کے پھل دیں گے۔ راوی کہتے ہیں: پھر انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کمی بیشی کی بات کی اور معاملہ مدینہ کے نصف پھلوں پر طے ہوگیا۔ انہوں نے کہا۔ ہمارے اور اپنے مابین آپ کوئی تحریر لکھ دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کاغذ منگوایا۔ راوی کہتے ہیں: سعد بن معاذ اور سعد بن عبادہ دونوں تشریف فرما تھے۔ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف متوجہ ہوئے اور عرض کیا۔ کیا آپ کے پاس اللہ کی طرف سے کوئی ایسی بات آئی ہے جس سے ہم اعراض نہیں کرسکتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں! الیکن میرا ارادہ ہے کہ میں ان لوگوں کے چہروں کو خود سے پھیر دوں اور میں اپنے چہرے کو ان کے لئے فارغ کرنا چاہتا ہوں۔ راوی کہتے ہیں۔ دونوں صحابیوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا۔ ہماری جاہلیت کے زمانہ میں عرب نے کبھی ہم سے کچھ نہیں لیا تھا۔ سوائے خریداری اور مہمان نوازی کے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39586]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39586، ترقيم محمد عوامة 37971)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 37972 ترقیم الشثری: -- 39587
٣٩٥٨٧ - حدثنا يزيد بن هارون قال: (اخبرنا) (١) هشام بن حسان عن محمد ⦗٥٠٤⦘ (عن) (٢) عبيدة عن علي ان رسول الله ﷺ قال يوم الخندق:"حبسونا عن الصلاة الوسطى: صلاة العصر، ملا الله بيوتهم وقبورهم نارا" (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، ع، ي]: (أنبأنا).
(٢) في [أ، ب، س، ق]: (ابن).
(٣) صحيح؛ أخرجه أحمد (١٢٢١)، والبخاري (٤٥٣٣)، ومسلم (١٤٠٧).

حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خندق والے دن ارشاد فرمایا: انہوں (مشرکین) نے ہمیں صلوۃ وسطی یعنی عصر کی نماز سے روکا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کے گھروں اور ان کی قبروں کو آگ سے بھر دے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39587]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39587، ترقيم محمد عوامة 37972)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 37973 ترقیم الشثری: -- 39588
٣٩٥٨٨ - حدثنا عبد الرحيم بن سليمان وابن إدريس عن عبيد الله ابن عمر عن نافع عن ابن عنر قال: عرضني رسول الله ﷺ (يوم) (١) الخندق وانا ابن خمس عشرة فاجازني، إلا ان ابن إدريس قال: عرضت (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ]: (ابن).
(٢) صحيح؛ أخرجه البخاري (٢٦٦٤)، ومسلم (١٨٦٨).

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے۔ مجھے خندق والے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس پیش کیا گیا اور میری عمر پندرہ سال تھی۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے اجازت عنایت فرما دی۔ ابن ادریس کی روایت میں عُرِضت ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39588]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39588، ترقيم محمد عوامة 37973)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 37974 ترقیم الشثری: -- 39589
٣٩٥٨٩ - حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن هشام عن ابيه ان رسول الله ﷺ قال يوم الخندق:"من رجل يذهب فياتينا بخبر بني قريظة"، فركب الزبير فجاءه بخبرهم، ثم عاد فقال ثلاث مرات:"من يجيئني بخبرهم؟" فقال الزبير: نعم، (قال: وجمع) (١) النبي ﷺ (٢) للزبير ابويه فقال:" (فداك) (٣) ابي وامي"، وقال للزبير:"لكل نبي حواري، وحواري الزبير وابن عمتي" (٤) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ع]: (وقال وجمع).
(٢) سقط من: [ع].
(٣) في [ي]: (فذاك).
(٤) مرسل؛ عروة تابعي، أخرجه ابن سعد ٣/ ١٠٥، وورد من طريق عروة عن عبد اللَّه بن الزبير، أخرجه الضياء (٢٩٤).

حضرت ہشام، اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خندق والے دن ارشاد فرمایا: کون آدمی جائے گا اور ہمیں بنو قریظہ کی خبر لا کر دے گا؟ حضرت زبیر سوار ہوگئے اور بنو قریظہ کے بارے میں خبر لے آئے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ بات دہرائی اور تین مرتبہ فرمایا۔ کون مجھے ان کی خبر لا کر دے گا؟ تو حضرت زبیر نے کہا: جی ہاں! راوی کہتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت زبیر کے لئے اپنے والدین کو جمع فرما کر ارشاد فرمایا: تم پر میرے ماں، باپ قربان ہوں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت زبیر سے فرمایا: ہر نبی کا کوئی حواری ہوتا ہے اور میرا حواری زبیر اور میری پھوپھی کا بیٹا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39589]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39589، ترقيم محمد عوامة 37974)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں