مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
45. (ما جاء في) خلافة عثمان وقتله ﵁
سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی خلافت اور آپ کے قتل کے بارے میں احادیث
ترقیم عوامۃ: 38240 ترقیم الشثری: -- 39868
٣٩٨٦٨ - حدثنا إسحاق الرازي عن ابي جعفر عن ايوب عن نافع عن ابن عمر ان عثمان اصبح يحدث الناس قال: رايت النبي ﷺ الليلة في المنام فقال:"يا عثمان! افطر عندنا"، فاصبح صائما وقتل من يومه (١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) حسن؛ أبو جعفر صدوق، أخرجه الحاكم ٣/ ١٠٣، والبزار (٧٤٧)، وأبو يعلى كما في المطالب (٤٣٨٥)، وابن عساكر ٣٩/ ٣٨٤، وأبو نعيم تاريخ أصبهان ١/ ٢٦١، وأبو الشيخ في طبقات أصبهان ٢/ ٢٩٨، واللالكائي (٢٥٧٧).
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ حضرت عثمان نے ایک صبح لوگوں سے بیان کیا۔ فرمایا۔ میں نے آج رات نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خواب میں دیکھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔ اے عثمان! تم روزہ ہمارے پاس افطار کرو۔ حضرت عثمان نے روزہ کی حالت میں صبح کی اور پھر اسی دن شہید ہوگئے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39868]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39868، ترقيم محمد عوامة 38240)
ترقیم عوامۃ: 38241 ترقیم الشثری: -- 39869
٣٩٨٦٩ - حدثنا ابن إدريس عن إسماعيل عن قيس عن سعيد بن زيد قال: لقد رايتني موثقي عمر واخته على الإسلام (ولو) (١) ارفض احد مما صنعتم بعثمان كان حقيقا (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ع]: (ولم)، وفي [هـ]: (لو).
(٢) صحيح؛ أخرجه البخاري (٦٩٤٢).
حضرت سعید بن زید فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر اور ان کی ہمشیرہ کو اسلام پر مضبوط کیا۔ حضرت عثمان کے ساتھ تم نے جو کچھ کیا اگر اس کے بعد تمہارے ساتھ جو بھی سلوک کیا جائے وہ صحیح ہوگا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39869]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39869، ترقيم محمد عوامة 38241)
ترقیم عوامۃ: 38242 ترقیم الشثری: -- 39870
٣٩٨٧٠ - حدثنا ابو اسامة عن الاعمش (حدثنا) (١) ابو صالح قال: قال عبد الله ابن سلام: لما حصر عثمان في الدار قال: لا تقتلوه فإنه لم يبق من اجله إلا قليل؛ والله لئن قتلتموه لا تصلون جميعا ابدا (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ع]: (أخبرنا).
(٢) صحيح؛ أخرجه ابن شبه (٢٠٥٣).
حضرت عبداللہ بن سلام سے روایت ہے کہ جب حضرت عثمان کا گھر میں محاصرہ کیا گیا تو ابن سلام نے فرمایا۔ تم انہیں قتل نہ کرو۔ کیونکہ ان کی (ویسے ہی) تھوڑی سی زندگی باقی ہے۔ خدا کی قسم! اگر تم نے انہیں قتل کردیا تو پھر تم کبھی بھی اکٹھے نماز نہیں پڑھو گے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39870]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39870، ترقيم محمد عوامة 38242)
ترقیم عوامۃ: 38243 ترقیم الشثری: -- 39871
٣٩٨٧١ - حدثنا ابو اسامة عن صدقة بن ابي عمران قال: (حدثنا) (١) ابو اليعفور عن ابي سعيد مولى عبد الله بن مسعود قال: قال عبد الله بن مسعود: (والله) (٢) لئن (قتلتم) (٣) عثمان لا تصيبون منه خلفا (٤) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ع]: (أخبرنا).
(٢) سقط من: [س].
(٣) في [ع]: (قلتم).
(٤) مجهول؛ لجهالة أبي سعيد.
حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام ابو سعید سے روایت ہے کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا تھا۔ خدا کی قسم! اگر تم نے عثمان کو قتل کردیا تو ان کے بعد کسی صحیح جانشین کو نہیں پہنچ پاؤ گے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39871]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39871، ترقيم محمد عوامة 38243)
ترقیم عوامۃ: 38244 ترقیم الشثری: -- 39872
٣٩٨٧٢ - حدثنا ابن علية عن ايوب عن ابي قلابة ان رجلا من قريش يقال له ثمامةكان على صنعاء، فلما جاء قتل عثمان بكى فاطال البكاء، فلما افاق قال: اليوم انتزعت النبوة - (او (قال) (١) -: الخلافة من امة محمد (٢) ، وصارت ملكا (وجبرية) (٣) ، فمن غلب على شيء اكله (٤) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [ع].
(٢) في [جـ، ق]: زيادة ﷺ.
(٣) في [ع]: (وحرية).
(٤) منقطع؛ أبو قلابة لم يدرك عثمان، أخرجه عبد الرزاق (٢٠٩٦٨)، وابن سعد ٣/ ٨٠، والطبراني (١٤٠٤)، وابن أبي عمر كما في المطالب العالية (٤٣٨٩)، وابن قانع ١/ ١٣١، والخلال في السنة ٢/ ٣٣٤، وابن شبه (٢٢٩٧)، ورواه ابن الأثير في أسد الغابة ١/ ٣٦٦ عن أبي قلابة عن أبي الأشعث.
حضرت ابو قلابہ سے روایت ہے کہ قریش کا ایک آدمی تھا جس کو ثمامہ کہا جاتا تھا وہ مقام صنعاء میں تھا۔ جب اس کو حضرت عثمان کے قتل کی خبر پہنچی تو وہ رو پڑا اور خوب دیر تک روتا رہا۔ پھر جب اسے افاقہ ہواتو اس نے کہا۔ آج کے دن امت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نبوت واپس لے لی گئی ہے۔ خلافت واپس لے لی گئی ہے۔ اور (اب) بادشاہی اور سختی ہوگی۔ پس جو جس چیز پر غالب ہوگا اس کو کھاجائے گا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39872]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39872، ترقيم محمد عوامة 38244)
ترقیم عوامۃ: 38245 ترقیم الشثری: -- 39873
٣٩٨٧٣ - حدثنا ابن علية عن ايوب عن ابي قلابة قال: لما قتل عثمان قام خطباء إيلياء؛ فقام من (آخرهم رجل من) (١) اصحاب النبي ﷺ يقال له: مرة بن كعب فقال: لولا حديث سمعته من رسول الله ﷺ (ما قمت، إن رسول الله ⦗١٧٩⦘ ﷺ) (٢) (٣) ذكر فتنة -احسبه قال: فقربها، فمر رجل مقنع بردائه فقال رسول الله ﷺ:"هذا (يومئذ واصحابه) (٤) على الحق"، فانطلقت فاخذت (٥) بوجهه إلى رسول الله ﷺ فقلت: هذا؟ فقال:"نعم" (٦) ، فإذا هو عثمان (٧) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ع]: (قام رجل من أحدهم).
(٢) سقط من: [ع].
(٣) سقط من: [ق].
(٤) في [ع]: (وأصحابه يومئذ).
(٥) في [هـ]: زيادة (بمنكبيه فأقبلت).
(٦) في [ق]: (هذا).
(٧) منقطع؛ أبو قلابة لم يدرك عثمان، أخرجه أحمد (١٨٦٠١)، والخلال في السنة (٤٢٥)، وابن قانع ٣/ ٥٧، والحاكم ٣/ ١٠٢، وبنحوه الترمذي (٣٧٠٤)، والطبراني ٢٠/ (٧٥٢) وابن أبي عاصم (١٢٩٦).
حضرت ابو قلابہ سے روایت ہے کہ جب حضرت عثمان کو قتل کیا گیا تو مقام ایلیاء کے خطباء کھڑے ہوئے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ میں سے (ان کا) آخری خطیب کھڑا ہوا جس کو مرہ بن کعب کہا جاتا تھا۔ اس نے کہا۔ اگر ایسی حدیث نہ ہوتی جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سُنی ہے تو میں کھڑا نہ ہوتا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک فتنہ کا ذکر کیا … میرے خیال کے مطابق راوی کہتے ہیں … آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کا قریب الوقوع ہونا بیان کیا …کہ اس دوران ایک آدمی اپنی چادر ڈالے ہوئے گزرا۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔ اس (فتنہ کے) دن یہ اور اس کے ساتھی حق پر ہوں گے۔ (راوی کہتے ہیں) پس میں چل پڑا اور میں نے ان صاحب کا رُخ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف پھیر کر عرض کیا۔ یہ آدمی؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔ ”ہاں“ یہ آدمی حضرت عثمان تھے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39873]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39873، ترقيم محمد عوامة 38245)
ترقیم عوامۃ: 38246 ترقیم الشثری: -- 39874
٣٩٨٧٤ - حدثنا ابن إدريس عن ليث عن (زياد) (١) بن ابي (المليح) (٢) عن ابيه عن ابن عباس قال: لو ان الناس (اجتمعوا) (٣) على قتل عثمان (لرجموا) (٤) بالحجارة كما رجم قوم لوط (٥) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (زيد).
(٢) في [أ]: (الملح).
(٣) في [جـ، س، ع]: (أجمعوا).
(٤) في [ط، ق، هـ]: (رجموا)، وفي [أ، ب]: (الرجم).
(٥) ضعيف؛ زياد قال عنه أبو حاتم: "ليس بالقوي"، وليث ضعيف، أخرجه أحمد في فضائل الصحابة (٧٤٦)، وابن سعد ٣/ ٨٠، وابن عساكر ٣٩/ ٤٤٨، وابن معين في تاريخه ٣/ ٣٤٥، واللالكائي (٢٥٨٦)، والآجري (١٤٤٦).
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے فرماتے ہیں۔ اگر تمام لوگ بھی حضرت عثمان کے قتل پر اکٹھے ہوجاتے تو تمام لوگوں کو ہی سنگسار کردیا جاتا جیسا کہ قوم لُوط کو سنگسار کیا گیا تھا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39874]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39874، ترقيم محمد عوامة 38246)
ترقیم عوامۃ: 38247 ترقیم الشثری: -- 39875
٣٩٨٧٥ - حدثنا يزيد بن هارون عن ابن عون عن محمد بن سيرين قال: اشرف عليهم عثمان من القصر فقال: ائتوني برجل اتاليه كتاب الله، فاتوه ⦗١٨٠⦘ بمصعصعة بن صوحان وكان شابا، فقال: اما وجدتم احدا (تاتونى) (١) به غير هذا الشاب؟ قال: فتكلم صعصعة بكلام، فقال له عثمان: اتل (فقال) (٢) : ﴿اذن للذين يقاتلون بانهم ظلموا (وإن) (٣) الله على نصرهم لقدير﴾، فقال: كذبت، ليست لك ولا لاصحابك، ولكنها لي ولاصحابي ثم تلا عثمان: ﴿اذن للذين يقاتلون بانهم ظلموا وإن الله على نصرهم لقدير﴾ حتى بلغ ﴿ (ولله) (٤) عاقبة الامور﴾ [الحج: ٣٩ - ٤١] (٥) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ع]: (يأتوني).
(٢) سقط من: [جـ].
(٣) في [جـ]: (وإن).
(٤) سقط من: [ق].
(٥) منقطع؛ ابن سيرين لم يدرك ذلك.
حضرت محمد بن سیرین سے روایت ہے کہ حضرت عثمان نے اپنے گھر سے باغیوں کو جھانک کر دیکھا اور فرمایا۔ تم میرے پاس کوئی آدمی لاؤ جس سے میں اللہ کی کتاب پڑھواؤں۔ پس باغی صعصعہ بن صوحان کو لے آئے۔ یہ ایک جوان آدمی تھا۔ حضرت عثمان نے کہا۔ کیا تم نے اس نوجوان کے علاوہ کوئی آدمی نہیں پایا جس کو تم میرے پاس لائے۔ راوی کہتے ہیں۔ پھر صعصعہ نے کوئی گفتگو کی۔ تو حضرت عثمان نے اس سے کہا۔ قرآن پڑھ۔ اس نے پڑھا۔ { أُذِنَ لِلَّذِینَ یُقَاتَلُونَ بِأَنَّہُمْ ظُلِمُوا، وَإِنَّ اللَّہَ عَلَی نَصْرِہِمْ لَقَدِیرٌ} حضرت عثمان نے فرمایا۔ تو جھوٹ بول رہا ہے۔ یہ آیت تیرے اور تیرے ساتھیوں کے حق میں نہیں ہے بلکہ یہ آیت تو میرے اور میرے ساتھیوں کے لئے ہے۔ پھر حضرت عثمان نے تلاوت کی۔ { أُذِنَ لِلَّذِینَ یُقَاتَلُونَ بِأَنَّہُمْ ظُلِمُوا، وَإِنَّ اللَّہَ عَلَی نَصْرِہِمْ لَقَدِیرٌ} حضرت عثمان نے یہاں تک پڑھا۔ { وَإِلَی اللہِ عَاقِبَۃُ الأُمُورِ }۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39875]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39875، ترقيم محمد عوامة 38247)