🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

1. من كره الخروج في الفتنة وتعوذ منها
جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انہوں نے س سے پناہ مانگی ہے
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38434 ترقیم الشثری: -- 40062
٤٠٠٦٢ - حدثنا ابو خالد الاحمر عن مجالد عن الشعبي عن مسروق قال: قدمنا على عمر فقال: كيف عيشكم؟ فقلنا: اخصب قوم من قوم يخافون الدجال، قال: ما قبل الدجال اخوف عليكم: الهرج، (قلت) (١) : وما الهرج؟ قال: القتل حتى إن الرجل ليقتل اباه (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (قالوا)، وفي [ع]: (وثم).
(٢) ضعيف؛ لضعف مجالد.

حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے فرمایا کہ ہم حضرت عمر کے پاس گئے انہوں نے پوچھا تمہاری زندگی کیسی ہے ہم نے عرض کیا کہ ان لوگوں میں سے جو دجال سے ڈرتے ہیں ان میں ہم سب سے زیاد ہ سرسبز و شادابی والے لوگ ہیں حضرت عمر نے ارشاد فرمایا جس چز کا مجھے تمہارے بارے میں دجال سے پہلے زیادہ خوف ہے وہ ہرج ہے مسروق فرماتے ہیں میں نے عرض کیا ہرج کیا چیز ہے ارشاد فرمایا قتل یہاں تک کہ آدمی اپنے باپ کو قتل کرے گا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40062]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40062، ترقيم محمد عوامة 38434)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38435 ترقیم الشثری: -- 40063
٤٠٠٦٣ - حدثنا ابو اسامة عن (سعيد) (١) قال: حدثنا (٢) قتادة عن انس قال: سمعت رسول الله ﷺ يقول -ولا يحدثكم بعدي احد انه سمع رسول الله ﷺ يقول:"إن من اشراط الساعة ان يرفع العلم، ويظهر الجهل، وان تشرب الخمر، ويظهر (الزنا) (٣) ، ويقل الرجال، ويكثر النساء" (٤) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ط، هـ]: (شعبة).
(٢) في [ع]: زيادة (أبو).
(٣) في [ع]: (الربا).
(٤) صحيح؛ أخرجه البخاري (٨١)، ومسلم (٢٦٧١).

حضرت انس سے روایت ہے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا اور میرے بعد تم سے کوئی نہیں بیان کرے گا کہ اس نے رسو ل اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ بلا شبہ قیامت کی نشانیوں میں سے ہے کہ علم اٹھا لیا جائے گا اور جہالت ظاہر ہوجائے گی شراب پی جائے گی اور زنا ظاہر ہوجائے گا مرد کم ہوجائیں گے اور عورتیں کثرت سے ہوجائیں گی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40063]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40063، ترقيم محمد عوامة 38435)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38436 ترقیم الشثری: -- 40064
٤٠٠٦٤ - حدثنا وكيع عن سفيان ومسعر عن اشعث (بن) (١) ابي الشعثاء عن رجاء بن حيوة عن معاذ قال: إنكم ابتليتم بفتنة الضراء فصبرتم، و (سوف تبتلون) (٢) ⦗٢٤٩⦘ بفتنة السراء وإن اخوف ما اتخوف عليكم فتنة النساء إذا (سورن) (٣) الذهب (ولبسن ريط) (٤) الشام فاتعبن (الغني) (٥) وكلفن الفقير ما لا يجد (٦) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [س]: (عن).
(٢) في [أ، ب، جـ، س، ع]: (وستبتلون).
(٣) في [ط، هـ]: (تسورن).
(٤) في [أ، ب]: (ومن له بطا).
(٥) في [ع]: (الغنا).
(٦) منقطع؛ رجاء لم يدرك معاذ بن جبل، وأخرجه ابن المبارك في الزهد (٧٨٥)، وأبو نعيم في الحلية ١/ ٢٣٦، والبيهقي في الزهد (٤٣٧)، وشعب الإيمان (٥٤١٤)، وابن الجوزي في ذم الهوى ص ١٦٣، ورواه مرفوعًا الخطيب في تاريخ بغداد ٣/ ١٩٠.

حضرت معاذ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا یقینا تمہیں تنگی کے فتنے میں آزمایا جائے گا پس صبر کرنا اور عنقریب ت میں آسانی کے فتنے میں آزمایا جائے گا اور بلا شبہ جن چیزوں کا مجھے تم پر خوف ہے ان میں سے سب سے زیادہ خوف عورتوں کے فتنے سے ہے جب ان کو سونے کے کنگن پہنائے جائیں گے اور وہ شام کا باریک کپڑا پہنیں گی مالدار کو تھکا دیں گی اور فقیر کو ایسی چیزوں کا ذمہ دار ٹھہرائیں گی جو اس کے پاس نہیں ہوں گی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40064]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40064، ترقيم محمد عوامة 38436)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38437 ترقیم الشثری: -- 40065
٤٠٠٦٥ - حدثنا ابو خالد الاحمر عن التيمي عن ابي عثمان عن اسامة بن (زيد) (١) قال: قال رسول الله ﷺ:"ما تركت على امتي بعدي فتنة اضر على الرجال من النساء" (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ط]: (يزيد).
(٢) حسن؛ أبو خالد صدوق، وأخرجه البخاري (٥٠٩٦)، ومسلم (٢٧٤١).

حضرت اسامہ بن زید سے روایت ہے فرمایا کہ رسو ل اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا میں نے اپنے بعد اپنی امت میں کوئی ایسا فتنہ نہیں چھوڑاجو مردوں کے لیے زیادہ نقصان دہ ہو عورتوں کے مقابلے میں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40065]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40065، ترقيم محمد عوامة 38437)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38438 ترقیم الشثری: -- 40066
٤٠٠٦٦ - حدثنا ابو اسامة عن عوف عن انس (١) ابن سيرين عن ابي عبيدة بن عبد الله عن ابيه قال: ما ذكر من الآيات فقد مضى إلا اربع: طلوع الشمس من مغربها، والدجال، ودابة الارض، وخروج ياجوج وماجوج، قال: والآية التي تختم بها الاعمال طلوع الشمس من مغربها الم تسمع إلى قول الله (٢) : ﴿يوم ياتي بعض آيات ربك لا ينفع نفسا إيمانها لم تكن آمنت من قبل﴾ [الانعام: ١٥٨] الآية (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في النسخ: زيادة (عن).
(٢) في [أ، ب، س]: زيادة ﷿.
(٣) منقطع؛ أبو عبيدة لا يروي عن أبيه، وأخرجه ابن جرير في التفسير ٨/ ١٠١، وإسحاق كما في المطالب (٤٤٩٨).

حضرت عبداللہ بن مسعود سے روایت ہے انہوں نے ارشاد فرمایا جو نشانیاں ذکر کی گئی ہیں وہ گزر گئیں سوائے چار کے سورج کا مغرب سے طلوع ہونا اور دجال (کا نکلنا) اور زمین کا جانور اور یاجوج ماجوج کا نکلنا ارشاد فرمایا جس پر اعمال ختم ہوجائیں گے وہ سورج کا مغرب سے طلوع ہونا ہے کیا تم نے اللہ عزوجل کا ارشاد نہیں سنا کہ جس دن تیرے پروردگار کی کوئی نشانی تیرے پاس آئے گی تو ایسے آدمی کو جو ایمان نہیں لایا ہوگا ایمان لانا نفع نہیں دے گا (آیت کے اخیر تک) [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40066]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40066، ترقيم محمد عوامة 38438)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38439 ترقیم الشثری: -- 40067
٤٠٠٦٧ - حدثنا حسين بن علي عن زائدة عن هشام قال: زعم الحسن ان نبي الله موسى ﷺ (١) سال ربه ان يريه الدابة، قال: فخرجت ثلاثة ايام لا يرى واحد من (طرفيها) (٢) ، قال: فقال: رب! ردها فردت.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [ع].
(٢) في [أ، ب]: (طرفها).

حضرت حسن سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی حضرت موسیٰ نے اپنے رب سے سوال کیا کہ وہ اسے وہ جانور دکھا دے فرمایا کہ وہ جانور تین دن نکلا اس کی ایک جانب بھی دکھائی نہ دی حسن نے فرمایا حضرت موسیٰ نے عرض کیا اے میرے رب اسے واپس کردیں پس وہ واپس لوٹا دیا گیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40067]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40067، ترقيم محمد عوامة 38439)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38440 ترقیم الشثری: -- 40068
٤٠٠٦٨ - حدثنا حسين بن علي عن زائدة عن عبد العزيز بن رفيع عن ابي الطفيل عن حذيفة قال: تخرج الدابة مرتين قبل يوم القيامة حتى يضرب فيها رجال، ثم تخرج الثالثة عند اعظم مساجدكم، فتاتي القوم وهم مجتمعون عند رجل (فتقول) (١) : ما يجمعكم عند عدو الله، فيبتدرون فتسم الكافر حتى إن (الرجلين) (٢) ليتبايعان فيقول هذا: خذ يا مؤمن، ويقول هذا: خذ يا كافر (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (فيقول).
(٢) في [أ، ب]: (الرجلان).
(٣) صحيح؛ أخرجه عبد الرزاق في التفسير ٣/ ٨٤، وابن أبي حاتم (١٦٥٩٣)، وابن جرير ١٤/ ٢٠، والحاكم ٤/ ٥٣١، والطيالسي (١٠٦٩)، والثعلبي في التفسير ٧/ ٢٢٥، والطبراني في الأوسط (١٦٣٥) والكبير (٣٠٣٥)، والبخاري في التاريخ الكبير ٥/ ٣٩١، والفاكهي (٢٣٤٤)، ونعيم بن حماد (١٨٦٨).

حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ارشاد فرمایا ایک جانور قیامت سے پہلے دو مرتبہ نکلے گا یہاں تک کہ اس کے نکلنے کے موقع پر مردوں کو مارا جائے گا پھر تیسری مرتبہ نکلے گا تمہاری مساجد میں سے سب سے بڑی مسجد کے لوگوں کے پاس آئے گا اس حال میں کہ وہ ایک آدمی کے پاس مجتمع ہوں گے پس وہ جانور کہے گا تمہیں اللہ کے دشمن کے پاس کس نے جمع کیا ہے لوگ جلدی کریں گے وہ جانور کافر پر نشانی لگائے گا یہاں تک کہ دو آدمی آپس میں خریدو فروخت کا معاملہ کریں گے ایک کہے گا لے یہ لے لے اے مومن اور دوسرا کہے گا لے لے اے کافر۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40068]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40068، ترقيم محمد عوامة 38440)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38441 ترقیم الشثری: -- 40069
٤٠٠٦٩ - حدثنا حسين (بن علي عن زائدة) (١) عن عبد الملك بن عمير عن عبد الله بن (عمرو) (٢) قال: تخرج الدابة من جبل (جياد) (٣) ايام التشريق والناس بمنى، قال: فلذلك حي (سابق) (٤) الحاج إذا جاء بسلامة الناس (٥) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) كذا في النسخ، ويحتمل أن تكون: (عن علي بن زيد) كما سيأتي ١٥/ ١٨١ برقم [٤٠٣٩٧]
(٢) كذا في النسخ، وفي تالي التلخيص للخطيب (٢٣٢): (عمر).
(٣) في [ط، هـ]: (حياد).
(٤) في [أ، ط، هـ]: (سائق).
(٥) منقطع؛ عبد الملك لم يدرك عبد اللَّه، وأخرجه الخطيب في تالي تلخيص المتشابه (٢٣٢).

حضرت عبداللہ بن عمرو سے روایت ہے ارشاد فرمایا کہ ایک جانور نکلے گا جیاد پہاڑ کی جانب سے ایام تشریق میں جبکہ لوگ منی میں ہوں گے انہوں نے فرمایا یہی وجہ ہے حاجیوں میں سب سے پہلے آنے والے کو دعا دی جاتی ہے جبکہ وہ لوگوں کو سلامتی کے ساتھ لے آئے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40069]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40069، ترقيم محمد عوامة 38441)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38442 ترقیم الشثری: -- 40070
٤٠٠٧٠ - حدثنا حسين بن علي عن فضيل بن مرزوق عن عطية عن ابن (عمرو) (١) قال: تخرج الدابة من صدع في الصفا جرى الفرس ثلاثة ايام لا تخرج ثلثها (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) كذا في النسخ، وفي الفتن لنعيم (١٨٥٩) وفي مصادر التخريج: (ابن عمر)، وهو المعروف في شيوخ عطية الذي لا يروي عن ابن عمرو، وانظر: الدر المنثور ٦/ ٣٨٢، وتفسير ابن كثير ٣/ ٣٧٧، وتفسير القرطبي ١٣/ ٢٣٧، وزاد المسير ٦/ ١٩١.
(٢) ضعيف؛ لضعف عطية العوفي، وأخرجه ابن أبي حاتم في التفسير (١٦٦٠١)، وابن جرير ١٤/ ٢٠، والثعلبي ٧/ ٢٢٥، والفاكهي (٢٣٥٣)، والبغوي في التفسير ٣/ ٤٣٠، ونعيم في الفتن (١٨٦٦).

حضرت عبداللہ بن عمرو سے روایت ہے انہوں نے ارشاد فرمایا صفا کی دراڑ سے ایک جانور نکلے گا گھوڑے کے تین دن دوڑنے کے بقدر وقت میں اس کا ایک تھا ئی حصہ نہیں نکلے گا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40070]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40070، ترقيم محمد عوامة 38442)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38443 ترقیم الشثری: -- 40071
٤٠٠٧١ - حدثنا محمد بن بشر قال: حدثني ابو حيان عن ابي زرعة قال: جلس ثلاثة نفر من المسلمين إلى مروان بن الحكم فسمعوه يحدث عن الآيات: (ان) (١) اولها خروج الدجال، فانصرف النفر إلى عبد الله بن (عمرو) (٢) فحدثوه بالذي سمعوه من مروان بن الحكم في الآيات ان اولها خروج الدجال، فقال عبد الله: لم يقل مروان شيئا، قد حفظت من رسول الله ﷺ حديثا لم انسه بعد (٣) (سمعت رسول الله ﷺ يقول) (٤) :"إن اول الآيات خروجا: طلوع الشمس من مغربها او خروج الدابة على الناس ضحى، وايتهما ما كانت قبل صاحبتها فالاخرى على اثرها قريبا"، ثم قال عبد الله: وكان يقرا الكتب: واظن اولهما خروجا طلوع الشمس من مغربها، وذاك انها كما غربت اتت تحت العرش فسجدت فاستاذنت في الرجوع فاذن لها (في الرجوع) (٥) ، حتى إذا شاء الله ان ⦗٢٥٢⦘ تطلع من مغربها اتت تحت العرش فسجدت واستاذنت (فلم يرد عليها بشيء) (٦) ، ثم تعود فتستاذن في الرجوع فلا يرد عليها بشيء، ثم تعود فتستاذن في الرجوع فلا يرد عليها بشيء، حتى إذا ذهب من الليل ما شاء الله ان يذهب، وعرفت انها لو اذن لها لم تدرك المشرق قالت: رب ما ابعد المشرق؟ (٧) من لي بالناس، حتى إذا اضاء الافق كانه طرق استاذنت في الرجوع، قيل لها: مكانك فاطلعي، فطلعت على الناس من مغربها، ثم تلا عبد الله هذه الآية (وذلك) (٨) ﴿يوم ياتي بعض آيات ربك لا ينفع نفسا إيمانها لم تكن آمنت من قبل او كسبت في إيمانها خيرا﴾ [الانعام: ١٥٨] (٩) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [أ، ب].
(٢) في [أ، ب، جـ، س]: (عمر).
(٣) في [هـ]: زيادة (ما).
(٤) في [ع]: (سمعته يقول).
(٥) في [أ، ب]: (بالرجوع).
(٦) في [أ، ب]: (ولم يرد عليها)
(٧) في [ط، هـ]: زيادة (قالت).
(٨) سقط من: [ع].
(٩) صحيح؛ أخرجه أحمد (٦٨٨١) كاملًا، وأخرج مسلم (٢٩٤١) المرفوع منه فقط.

حضرت ابو زرعہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا تین آدمی مسلمانوں میں سے مروان بن حکم کے پاس بیٹھے تھے انہوں نے ان سے سنا نشانیوں کے متعلق بیان کر رہے تھے کہ نشانیوں میں سے پہلی نشانی دجال کا نکلنا ہے وہ لوگ حضرت عبداللہ بن عمرو کے پاس گئے اور جو مروان بن حکم سے نشانیوں سے متعلق سنا تھا وہ حضرت عبداللہ سے بیان کیا کہ پہلی نشانی دجال کا نکلنا ہے حضرت عبداللہ نے فرمایا مروان نے کوئی بات بیان نہیں کی میں نے رسو ل اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے یہ فرماتے ہوئے سنا کہ پہلی نشانی نشانیوں میں سے نکلنے میں سورج کا طلوع ہونا ہے مغرب سے یا جانور کا نکلنا ہے لوگوں پر چاشت کے وقت اور ان دونوں نشانیوں میں سے جو بھی دوسری نشانی سے پہلے ہوگی دوسری اس کے پیچھے قریب ہی واقع ہوجائے گی پھر حضرت عبداللہ نے فرمایا وہ کتابیں پڑھتے تھے کہ میرا گمان ہے کہ ان دونوں نشانیوں سے پہلی سورج کا مغرب سے طلوع ہونا ہوگی اور یہ اس وجہ سے کہ جب بھی وہ غروب ہوتا ہے عرش کے نیچے آتا ہے اور دوبارہ طلوع کی اجازت چاہتا ہے اسے دوبارہ طلوع کی اجازت دے دی جاتی ہے یہاں تک کہ جب اللہ تعالیٰ چاہیں گے کہ سورج مغرب سے طلوع ہو وہ عرش کے نیچے آئے گا اور سجدہ ریز ہوگا واپسی کی اجازت چاہے گا اسے کوئی جواب نہیں دیا جائے گا پھر لوٹے گا اور واپسی کی اجازت مانگے گا اسے کوئی جواب نہیں دیا جائے گا پھر لوٹے گا اور واپسی کی اجازت مانگے گا اسے کوئی جواب نہیں دیاجائے گا یہاں تک جب رات کا جتنا حصہ اللہ چاہیں گے گزر جائے گا اور سورج یہ جان لے گا کہ اگر اسے اجازت دی گئی تو وہ مشرق تک نہیں پہنچ سکے گا تو وہ عرض کرے گا اے میرے رب مشرق کتنی ہی دور ہے سورج عرض کرے گا اے میرے رب کون ہے میرے لیے لوگوں میں سے یہاں تک کہ جب افق روشن ہوگا گویا کہ طوق ہے واپسی کی اجازت چاہے گا اس سے کہا جائے گا تم پر لازم ہے تمہارا مقام طلوع ہو پس وہ طلوع ہوگا لوگوں پر مغرب سے پھر حضرت عبداللہ نے یہ آیت تلاوت کی جس دن تیرے پروردگار کی کوئی نشانی آئیگی اس دن کسی ایسے شخص کا ایمان کار آمد نہیں ہوگا جو پہلے ایمان نہ لایا ہو یا جس نے اپنے ایمان کے ساتھ کسی نیک عمل کی کمائی نہ کی ہو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40071]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40071، ترقيم محمد عوامة 38443)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں