🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

1. من كره الخروج في الفتنة وتعوذ منها
جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انہوں نے س سے پناہ مانگی ہے
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38444 ترقیم الشثری: -- 40072
٤٠٠٧٢ - حدثنا ابو معاوية عن الاعمش عن شقيق عن حذيفة قال: كنا مع النبي ﷺ (فقال) (١) :"احصوا كل من (تلفظ) (٢) بالإسلام"، قال: قلنا: يا رسول الله! تخاف علينا ونحن ما بين الستمائة إلى السبعمائة؟ فقال:"إنكم (لا تدرون) (٣) لعلكم إن تبتلوا"، قال: فابتلينا حتى جعل الرجل منا ما يصلي (إلا سرا) (٤) (٥) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (قال).
(٢) في [أ، ب]: (يرفض).
(٣) في [أ، ب]: (لا تدرون).
(٤) في [أ، ب]: (إلا صبحًا).
(٥) صحيح؛ أخرجه البخاري (٣٠٦٠)، ومسلم (١٤٩).

حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے آپ نے فرمایا ہر اسلام کا اقرار کرنے والے کو شمار کرو حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہم نے عرض کیا اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ ہمارے بارے میں خوف کرتے ہیں اور ہم چھ سو سے سات سو تک ہیں آپ نے ارشاد فرمایا یقینا تم نہیں جانتے شاید کہ تمہیں آزمایا جائے راوی فرماتے ہیں ہم آزمائے گئے یہاں تک کہ ہم میں سے کوئی نماز نہیں پڑھ سکتا تھا سوائے چھپ کر۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40072]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40072، ترقيم محمد عوامة 38444)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38445 ترقیم الشثری: -- 40073
٤٠٠٧٣ - حدثنا ابو معاوية عن الاعمش (عن شقيق) (١) عن حذيفة قال: ما بينكم وبين ان يرسل عليكم الشر فراسخ إلا موتة في عنق رجل يموتها وهو عمر (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [أ، ب، جـ، س، ط]، وانظر: مراجع التخريج.
(٢) صحيح؛ أخرجه نعيم بن حماد في الفتن (٥٢)، وابن عساكر ٤٤/ ٣٣٦، وأبو عبيد في غريب الحديث ٤/ ١٢٢.

حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا نہیں ہے تمہارے درمیان اور اس بات کے درمیان کہ تم پر ہمیشہ برائی بھیج دی جائے مگر موت اس آدمی کی گردن میں جو ان برائیوں کو ختم کرتا اور وہ حضرت عمر ہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40073]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40073، ترقيم محمد عوامة 38445)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38446 ترقیم الشثری: -- 40074
٤٠٠٧٤ - حدثنا ابن مهدي عن سفيان عن ابيه عن (حصين) (١) بن عبد الله عن انس بن مالك قال: ما اعرف شيئا إلا الصلاة (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ب، س]: (خضير).
(٢) مجهول؛ لجهالة حصين، أخرجه بنحوه البخاري (٥٢٩)، وأحمد (١١٩٧٧).

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے فرمایا کہ میں کوئی چیز نہیں پہچانتا سوائے نماز کے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40074]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40074، ترقيم محمد عوامة 38446)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38447 ترقیم الشثری: -- 40075
٤٠٠٧٥ - حدثنا محمد بن بشر قال: حدثنا إسماعيل قال: حدثني رجل كان يبيع الطعام، قال: لما قدم حذيفة على جوخا (١) اتى ابا مسعود (يسلم) (٢) عليه، فقال (ابو مسعود) (٣) : ما شان سيفك هذا [يا ابا عبد الله؟ قال: امرني عثمان على (جوخا) (٤) ، فقال: يا ابا عبد الله!] (٥) اتخشى ان تكون هذه فتنة حين طرد الناس سعيد ابن العاص، قال له حذيفة: (اما) (٦) تعرف دينك يا ابا مسعود؟ قال: بلى، قال: فإنها (٧) لا تضرك الفتنة ما عرفت دينك، إنما الفتنة إذا اشتبه عليك الحق والباطل فلم تدر ايهما تتبع، فتلك الفتنة (٨) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) موضع في بغداد.
(٢) في [أ، ب]: (فسلم).
(٣) في [هـ]: (أبوه).
(٤) في [ع]: (جوها).
(٥) سقط ما بين المعكوفين من: [أ، ب، س].
(٦) في [ع]: (ما).
(٧) في [س]: زيادة (لا نصرف).
(٨) مجهول؛ لإبهام الرجل.

حضرت اسماعیل سے روایت ہے فرمایا کہ ہم سے ایک صاحب نے بیان کیا جو گندم فروخت کرتے تھے انہوں نے فرمایا جب حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ بغداد کے صوبے میں آئے تو حضرت ابو مسعود انصاری کے پاس آئے اور انہیں سلام کیا حضرت ابو مسعود نے پوچھا تمہاری تلوار کی کیا حالت ہے اے ابو عبداللہ انہوں نے فرمایا حضرت عثمان نے مجھے اس صوبے پر امیر مقرر کیا ہے انہوں نے فرمایا اے ابو عبداللہ کیا تمہیں اس کا خوف ہے کہ یہ فتنہ ہو جبکہ لوگوں نے حضرت سعید بن عاص کو نکال دیا ہے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا کیا تم اپنے دین کو نہیں جانتے اے ابو مسعود انہوں نے فرمایا کیوں نہیں تو پھر حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا بلاشبہ تمہیں فتنہ نقصان نہیں پہنچائے گا جب تک تم اپنے دین کو پہچانتے ہو فتنہ تو اس وقت ہے جب حق اور باطل تم پر مشتبہ ہوجائے اور تمہیں پتہ نہ چلے کہ دونوں میں سے کس کی پیروی کرو پس یہ فتنہ ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40075]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40075، ترقيم محمد عوامة 38447)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38448 ترقیم الشثری: -- 40076
٤٠٠٧٦ - حدثنا عبد الوهاب الثقفي عن ايوب عن محمد ان رجلا من اصحاب النبي ﷺ قال: ما ادركت الفتنة احدا منا إلا لو شئت ان اقول فيه (لقلت فيه) (١) إلا عبد الله بن (عمر) (٢) (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [أ، ب، جـ، س، ع].
(٢) في [ط]: (عمرو).
(٣) صحيح؛ أخرجه سعيد بن منصور (٢٩٧٤)، وابن سعد ٤/ ١٤٤.

حضرت محمد سے روایت ہے کہ بلاشبہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اصحاب میں ایک صاحب نے فرمایا ہم میں سے کسی کو بھی فتنہ نہیں پاتا مگر یہ کہ اگر میں چاہوں تو اس کے بارے میں کچھ کہہ سکتا ہوں سوائے حضرت عبداللہ بن عمر کے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40076]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40076، ترقيم محمد عوامة 38448)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38449 ترقیم الشثری: -- 40077
٤٠٠٧٧ - حدثنا مروان بن معاوية عن العلاء بن خالد عن شقيق قال: قال عبد الله: (ايها الناس!) (١) إن هذا السلطان قد ابتليتم (به) (٢) ، فإن (عدل) (٣) كان له الاجر وعليكم (الشكر) (٤) ، وإن جار كان عليه الوزر وعليكم الصبر (٥) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [ط، هـ].
(٢) سقط من: [أ، ب].
(٣) في [أ، ب]: (أعدل).
(٤) سقط من: [أ، ب، جـ، ع].
(٥) حسن؛ العلاء بن خالد الأسدي صدوق.

حضرت عبداللہ بن مسعود سے روایت ہے اے لوگو! بلاشبہ یہ بادشاہ اس کی تمہارے ذریعہ آزمائش کی جارہی ہے اگر وہ عدل کرے گا تو اس کے لیے اجر ہوگا اور تم پر لازم ہوگا شکر اور اگر وہ ظلم کرے گا تو اس پر گناہ ہوگا اور تم پر لازم ہوگا صبر۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40077]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40077، ترقيم محمد عوامة 38449)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38450 ترقیم الشثری: -- 40078
٤٠٠٧٨ - حدثنا ابن علية عن (يونس عن علي) (١) قال: قال لي ابي: هلك اهل هذه العقدة -ورب الكعبة- هلكوا واهلكوا كثيرا، اما والله ما (عليهم آسى) (٢) ولكن على من يهلكون من امة محمد ﵇ (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) كذا في النسخ، وورد عند الطبراني في الأوسط (٧٣١٥): (يونس عن الحسن عن عتي عن أبي)، وهذا إسناد صحيح.
(٢) في [أ، ب]: (عليكم أسا).
(٣) في [أ، ب]: ﵊، وسقط من: [ع].

حضرت عتی سے روایت ہے فرمایا کہ مجھ سے حضرت ابی نے فرمایا اس مقام پر اہل حل و عقد (مراد امراء ہیں) ہلاک ہوں گے کعبہ کے رب کی قسم ہلاک ہوں گے اور بہت ساروں کو ہلاک کردیا باقی اللہ کی قسم مجھے ان پر افسوس نہیں ہے لیکن ان پر ہے جو امت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ہلاک ہوں گے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40078]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40078، ترقيم محمد عوامة 38450)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38451 ترقیم الشثری: -- 40079
٤٠٠٧٩ - حدثنا يزيد بن هارون قال: اخبرنا هشام عن الحسن عن ضبة بن محصن عن ام سلمة قالت: قال رسول الله ﷺ:"إنها ستكون (امراء) (١) (تعرفون ⦗٢٥٥⦘ وتنكرون) (٢) ، فمن انكر فقد برئ، ومن كره فقد سلم، ولكن من رضي (وتابع) (٣) "، قالوا: يا رسول الله افلا نقاتلهم؟ قال:"لا، ما صلوا" (٤) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (أمرًا).
(٢) في [ع]: (يعرفون وينكرون).
(٣) في [ع]: (وبايع).
(٤) صحيح؛ أخرجه مسلم (١٨٥٤)، وأحمد (٢٦٥٢٨).

حضرت ام سلمہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ رسو ل اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ عنقریب امراء ہوں گے جن کو تم بھلائی کا حکم دو گے اور برائی سے روکو گے جس آدمی نے انکار کیا وہ بری ہوگیا جس آدمی نے ناپسند کیا وہ بھی محفوظ ہوگیا۔ لیکن وہ آدمی جو راضی ہوا اور پیروی کی صحابہ l نے عرض کیا اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کیا ہم ان سے لڑائی نہ کریں۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا نہیں جب تک کہ وہ نماز پڑھتے رہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40079]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40079، ترقيم محمد عوامة 38451)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38452 ترقیم الشثری: -- 40080
٤٠٠٨٠ - حدثنا ابن علية عن ابن عون عن عمير بن إسحاق قال: قال ابو هريرة: لتؤخذن المراة فليبقرن بطنها، ثم ليؤخذن ما في الرحم فلينبذن مخافة الولد (١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) حسن؛ عمير صدوق على الصحيح.
حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ عورت کو پکڑا جائے گا اور اس کے پیٹ کو پھاڑا جائے گا اور اولاد کے خوف سے اس کے رحم میں موجود جنین کو پھینک دیا جائے گا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40080]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40080، ترقيم محمد عوامة 38452)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38453 ترقیم الشثری: -- 40081
٤٠٠٨١ - حدثنا ابن علية عن ابن عون عن عمير بن إسحاق قال: قال ابو هريرة: يا ويحه! يخلع -والله- كما يخلع الوظيف، يا ويلتاه! يعزل كما يعزل الجدي (١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) حسن؛ عمير بن إسحاق صدوق.
حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے انہوں نے ارشاد فرمایا ہلاکت ہے اس کے لیے جسے الگ کردیا جائے گا اللہ کی قسم جیسا کہ جانور کی پنڈلی کو الگ کردیا جاتا ہے۔ اور ہلاکت ہے اس پر جسے معزول کردیا جائے گا بکری کے بچے کے ہٹانے کی طرح۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40081]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40081، ترقيم محمد عوامة 38453)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں