🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

1. من كره الخروج في الفتنة وتعوذ منها
جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انہوں نے س سے پناہ مانگی ہے
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38464 ترقیم الشثری: -- 40092
٤٠٠٩٢ - حدثنا ابن عيينة عن إبراهيم بن ميسرة عن طاوس قال: ذكرت الامراء عند ابن عباس (فابترك) (١) فيهم رجل فتطاول حتى (ما ارى) (٢) في البيت اطول منه، فسمعت ابن عباس يقول: لا تجعل نفسك فتنة للقوم الظالمين، فتقاصر حتى ما ارى في البيت اقصر منه (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) أي: جثا على ركبتيه، وفي [أ، ب]: (فإن نزل)، وفي [ط، هـ]: (وفانبرك).
(٢) في [أ، ب]: (ما رأى).
(٣) صحيح؛ أخرجه سعيد بن منصور ٢/ (١٠٧١).

حضرت طاؤس سے روایت ہے فرمایا کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس امراء کا تذکرہ کیا گیا ان میں سے ایک لڑائی کے لیے گھٹنوں کے بل بیٹھ گیا اس نے سر اٹھایا یہاں تک کہ گھر میں اس سے زیادہ لمبا میں نے کسی کو نہیں دیکھا حضرت طاؤس فرماتے ہیں میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا یہ فرماتے ہوئے کہ اپنے آپ کو ظالم قوم کے لیے فتنہ نہ بنا پس وہ نیچے ہوگیا یہاں تک کہ اس سے زیادہ چھوٹا مجھے گھر میں کوئی دکھائی نہیں دے رہا تھا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40092]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40092، ترقيم محمد عوامة 38464)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38465 ترقیم الشثری: -- 40093
٤٠٠٩٣ - حدثنا كثير بن (هشام) (١) عن جعفر بن برقان عن عبد الله بن بشر قال: حدثنا ايوب السختياني قال: اجتمع ابن مسعود وسعد وابن عمر وعمار فذكروا فتنة (تكون) (٢) فقال سعد: اما انا فاجلس في بيتي ولا اخرج منه، وقال ابن مسعود: انا على ما قلت، وقال ابن عمر: انا (على) (٣) مثل ذلك، وقال عمار: لكني اتوسطها فاضرب خيشومها الاعظم (٤) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، س، هـ]: (همام).
(٢) في [ط، هـ]: (المؤمن).
(٣) في [ط، هـ]: (لي).
(٤) منقطع؛ أيوب لم يدرك ذلك.

حضرت ایوب السختیانی سے روایت ہے انہوں نے فرمایا حضرت عبداللہ بن مسعود اور حضرت سعد اور حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما اور حضرت عمار جمع ہوئے آئندہ کے فتنے کے بارے میں تذکرہ کرنے لگے حضرت سعد نے فرمایا باقی رہا میں تو میں اپنے گھر میں بیٹھوں گا اور اس سے نہیں نکلوں گا اور حضرت عبداللہ بن مسعود نے فرمایا میں اس پر ہوں جو تم نے کہا اور حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا میں بھی اس کی مثل پر ہوں اور حضرت عمار نے فرمایا لیکن میں اس کے درمیان میں ہوں گا اس کے بڑے ناک پر ماروں گا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40093]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40093، ترقيم محمد عوامة 38465)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38466 ترقیم الشثری: -- 40094
٤٠٠٩٤ - حدثنا محمد بن (عبيد) (١) عن الاعمش عن إبراهيم التيمي قال: ⦗٢٦٠⦘ كان الحارث بن سويد في نفر فقال: إياكم والفتن فإنها قد ظهرت، فقال رجل: فانت قد خرجت مع علي، قال: واين لكم إمام مثل علي؟.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ط، هـ]: (عبيدة).
حضرت ابراہیم تیمی سے روایت ہے انہوں نے فرمایا حضرت حارث بن سوید ایک لشکر میں تھے انہوں نے ارشاد فرمایا بچو تم فتنوں سے بلا شبہ وہ ظاہر ہوچکے ہیں ایک آدمی نے کہا آپ بھی تو حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ نکلے ہیں انہوں نے فرمایا کہاں ہوگا امام حضرت علی رضی اللہ عنہ جیسا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40094]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40094، ترقيم محمد عوامة 38466)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38467 ترقیم الشثری: -- 40095
٤٠٠٩٥ - حدثنا محمد بن عبيد عن الاعمش عن زياد عن تبيع قال: قال كعب: إن لكل قوم كلبا، فاتق الله لا (يضرنك) (١) شره.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [س، ع]: (يضل بك).
حضرت کعب سے روایت ہے ارشاد فرمایا کہ ہر قوم کے لیے کتا ہوتا ہے پس اللہ سے ڈرو اس کا شر تمہیں نقصان نہیں پہنچائے گا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40095]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40095، ترقيم محمد عوامة 38467)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38468 ترقیم الشثری: -- 40096
٤٠٠٩٦ - حدثنا عفان قال: حدثنا حماد بن سلمة قال: اخبرنا (حسين) (١) عن ميمون بن (استاذ) (٢) عن جندب بن عبد الله انه قال في الفتنة: إنه من (انبجس) (٣) له (اردته) (٤) (٥) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) كذا في النسخ، ولعل الصواب: (حميد)، وهو الطويل كما عند نعيم (٤٤٢) و (٤٩٩).
(٢) في [ط، هـ]، والفتن لنعيم: (سياه).
(٣) في [أ، ب، س، ع]: (إن بعض).
(٤) في [أ، ب، جـ، ع]: (أدرته).
(٥) ضعيف؛ لضعف ميمون، أخرجه نعيم (٤٤٢) (٤٩٩)، وابن الأثير في أسد الغابة ١/ ٤٤٥.

حضرت جندب بن عبداللہ سے روایت ہے انہوں نے فتنے کے بارے میں ارشاد فرمایا کہ جس آدمی نے اس طرف ٹکٹکی باندھ کر دیکھا…تو وہ اسے ہلاک کر دے گا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40096]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40096، ترقيم محمد عوامة 38468)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38469 ترقیم الشثری: -- 40097
٤٠٠٩٧ - حدثنا يحيى بن ابي بكير قال: حدثنا زهير بن محمد عن موسى بن جبير عن بشر بن (المحرر) (١) عن ابي ذر قال: (توشك) (٢) المدينة ان لا يحمل إليها طعام على قتب، ويكون طعام اهلها بها، من كان له اصل او حرث او ماشية يتبع اذنابها في اطراف السحاب، فإذا رايتم البنيان قد على (سلعا) (٣) (فارتبصوه) (٤) (٥) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [س]: (المحر)، وفي [أ، ب، ح، ع]: (المحرز).
(٢) في [س، ع]: (يوشك).
(٣) في [س]: (لمحقا)، وفي [أ، ب، ح، ع]: (ملقًا).
(٤) أي: انتظروه، وفي [س]: (فارفضوه)، وفي [ع]: (فارتبضوه)، وفي [هـ]: (فارمضوه).
(٥) مجهول؛ بشر مجهول، والمعروف أن بشير بن المحرر يروي عن سعيد بن المسيب، وسعيد يروي عن أبي ذر، انظر: تهذيب الكمال ١١/ ٦٨.

حضرت ابو ذر سے روایت ہے انہوں نے ارشاد فرمایا …قریب ہے یہ بات کہ مدینہ کی طرف کھانے کی چیزیں نہیں لے جائی جائیں گی پالان پر اور وہاں رہنے والوں کا کھانا وہیں سے ہی پورا ہوگا جس آدمی کے پاس زمین ہو یا کھیتی ہو یا مویشی ہوں وہ ان کی دموں کے پیچھے رہے بادلوں کے کناروں میں اور جب تم دیکھو عمارتوں کو کہ وہ کوہ سلع سے بلند ہوجائیں اس میں ٹھہرے رہو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40097]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40097، ترقيم محمد عوامة 38469)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38470 ترقیم الشثری: -- 40098
٤٠٠٩٨ - حدثنا ابو خالد الاحمر عن عمرو بن قيس عن رجل عن ابي ذر قال: اقبل رسول الله ﷺ من سفر، (فلما) (١) دنا من المدينة تعجل قوم على (راياتهم) (٢) ، فارسل (فجيء) (٣) بهم فقال:"ما اعجلكم؟" قالوا: او ليس قد اذنت لنا، قال:"لا، ولا (شبهت) (٤) ولكنكم تعجلتم إلى النساء بالمدينة"، ثم قال:"الا ليت شعري متى تخرج نار من قبل جبل الوراق تضيء لها اعناق الإبل بروكا إلى برك الغماد من عدن ابين كضوء النهار" (٥) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [س]: (فما).
(٢) في [أ، ب، جـ، س]: (رياتهم).
(٣) في [ع]: (فجاء).
(٤) في [س]: (سبهت)، وفي [هـ]: (لاشهت).
(٥) مجهول لإبهام راويه؛ أخرجه أحمد (٢١٢٨٩)، وابن حبان (٦٨٤١)، والبزار (٤٣٠)، والحاكم ٤/ ٤٤٢، وابن شبه في تاريخ المدينة ١/ ٢٨٠.

حضرت ابوذر سے روایت ہے انہوں نے ارشاد فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک سفر سے واپسی فرما رہے تھے جب مدینہ منورہ کے قریب ہوئے تو لوگوں نے اپنے جھنڈوں کے ساتھ جلدی کی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی طرف پیغام بھیجا ان کو لایا گیا آپ نے فرمایا کس چیز نے تمہیں جلدی میں ڈال دیا انہوں نے عرض کیا کیا آپ نے ہمیں اجازت نہیں دی؟ آپ نے فرمایا نہیں اور نہ ہی میں تشبیہ دی ہے۔ لیکن تم نے مدینہ میں عورتوں کی طرف جلدی کی پھر فرمایا ایک وقت آئے گا جب جبل وراق کی جانب سے ایک آگ ظاہر ہوگی، اس آگ کی وجہ سے عدن کے برک الغماد میں بیٹھے ہوئے اونٹوں کی گردنیں دن کی روشنی سے زیادہ روشن ہوجائیں گی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40098]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40098، ترقيم محمد عوامة 38470)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38471 ترقیم الشثری: -- 40099
٤٠٠٩٩ - حدثنا ابو خالد الاحمر عن حميد عن انس ان عبد الله بن سلام سال النبي ﷺ: ما اول اشراط الساعة؟ فقال:"اخبرني جبريل آنفا ان نارا تحشرهم من قبل المشرق" (١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) حسن؛ أبو خالد صدوق، وأخرجه البخاري (٣٣٢٩)، وأحمد ٣/ ١٠٨ (١٢٠٧٦).
حضرت انس سے روایت ہے فرمایا کہ عبداللہ بن سلام نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا قیامت کی نشانیوں میں سے پہلی نشانی کون سی ہے آپ نے فرمایا مجھے جبرئیل نے ابھی خبر دی بلا شبہ آگ ان کو جمع کرے گی مشرق کی جانب سے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40099]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40099، ترقيم محمد عوامة 38471)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38472 ترقیم الشثری: -- 40100
٤٠١٠٠ - حدثنا ابو خالد الاحمر عن سعيد بن عبد العزيز عن مكحول قال: قال عمر: ايها الناس! هاجروا قبل الحبشة، تخرج من اودية بني علي نار (١) تقبل من قبل اليمن تحشر الناس، تسير إذا ساروا، وتقيم إذا (ناموا) (٢) ، حتى إنها لتحشر ⦗٢٦٢⦘ (الجعلان) (٣) حتى تنتهي بهم إلى (بصرى) (٤) ، وحتى ان الرجل ليقع فيقف حتى تاخذ (٥) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، س]: زيادة (واو).
(٢) في [ط، هـ]: (أقاموا).
(٣) سقط من: [س].
(٤) في [أ]: (بصرًا).
(٥) منقطع؛ مكحول لم يسمع من عمر.

حضرت عمر سے روایت ہے انہوں نے ارشاد فرمایا اے لوگو! حبشہ کی طرف ہجرت کرو بنی علی رضی اللہ عنہ کی وادیوں سے آگ نکلے گی جو یمن کی جانب سے آئے گی لوگوں کو اکٹھا کرے گی چلے گی جب وہ لوگ چلیں گے…اور ٹھہر جائے گی جب وہ سو جائیں گے یہاں تک کہ وہ نگرانوں کو جمع کرے گی اور ان کو بصری تک پہنچا دے گی اور ایک آدمی گرپڑے تو وہ ٹھہر جائے گی یہاں تک کہ اسے پکڑے گی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40100]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40100، ترقيم محمد عوامة 38472)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38473 ترقیم الشثری: -- 40101
٤٠١٠١ - حدثنا ابو خالد عن جويبر عن الضحاك قوله: ﴿يرسل عليكما شواظ من نار﴾ [الرحمن: ٣٥] قال: نار تخرج من قبل المغرب تحشر الناس حتى إنها لتحشر القردة والخنازير، تبيت حيث باتوا، وتقيل حيث قالوا.
حضرت ضحاک سے منقول ہے کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے قول: (یُرْسَلُ عَلَیْکُمَا شُوَاظٌ مِنْ نَارٍ ونحاس) (تم پر آگ کا شعلہ اور تانبے کے رنگ کا دھواں چھوڑے گا) کے بارے میں فرمایا (اس سے مراد یہ ہے) کہ آگ ہوگی جو مغرب کی جانب سے نکلے گی لوگوں کو اکٹھا کرے گی یہاں تک کہ بندروں اور خنزیروں کو بھی جمع کرے گی رات گزارے گی جہاں وہ رات گزاریں گے اور دوپہر کو وہاں رہے گی جہاں وہ رہیں گے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40101]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40101، ترقيم محمد عوامة 38473)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں