مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
1. من كره الخروج في الفتنة وتعوذ منها
جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انہوں نے س سے پناہ مانگی ہے
ترقیم عوامۃ: 38454 ترقیم الشثری: -- 40082
٤٠٠٨٢ - حدثنا يزيد بن هارون قال: اخبرنا (مستلم) (١) بن سعيد عن منصور ابن زاذان عن معاوية بن قرة عن معقل بن يسار قال: قال رسول الله ﷺ:"العبادة في (الفتنة) (٢) كالهجرة إلي" (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، س، ع، هـ]: (مسلم).
(٢) سقط من: [أ، ب].
(٣) حسن؛ مستلم صدوق، أخرجه مسلم (٢٩٤٨)، وأحمد (٢٠٣١١).
حضرت معقل بن یسار سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ رسو ل اللہ نے ارشادفرمایا کہ فتنے میں عبادت کرنا میری طرف ہجرت کرنے کی طرح ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40082]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40082، ترقيم محمد عوامة 38454)
ترقیم عوامۃ: 38455 ترقیم الشثری: -- 40083
٤٠٠٨٣ - حدثنا محمد بن (بشر) (١) قال: حدثنا سفيان عن المغيرة بن النعمان عن عبد الله بن الاقنع الباهلي عن الاحنف بن قيس قال: كانت جالسا في مسجد المدينة، فاقبل رجل لا تراه حلقة إلا فروا منه حتى انتهى إلى الحلقة التي كنت فيها، ⦗٢٥٦⦘ فثبت وفروا، فقلت: من انت؟ فقال: ابو ذر صاحب رسول الله ﷺ، (قلت) (٢) : (ما) (٣) يفر الناس مثك؟ قال: إني انهاهم عن الكنوز، قال: قلت: إن اعطياتنا قد بلغت وارتفعت فتخاف علينا منها، قال: اما اليوم فلا، ولكنها (يوشك) (٤) ان يكون (اثمان) (٥) دينكم، فإذا كانت اثمان دينكم (فدعوهم) (٦) (وإياها) (٧) (٨) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ط]: (بشير).
(٢) سقط من: [أ، ب].
(٣) في [هـ]: (لما)، وفي [ط]: (لم).
(٤) في [ع]: (توشك).
(٥) في [أ، ب]: (إيمان).
(٦) في [جـ، ط، هـ]: (فدعوها).
(٧) في [ط، هـ]: (إياهم).
(٨) حسن؛ عبد اللَّه بن الأقنع صدوق، وأخرجه أحمد (٢١٤٥١)، والحاكم ٤/ ٥٢٢، وبنحوه البخاري (١٤٠٧)، ومسلم (٩٩٢).
حضرت احنف بن قیس سے روایت ہے انہوں نے فرمایا میں مدینہ کی مسجد میں بیٹھا ہوا تھا ایک صاحب آئے کہا کہ کوئی بھی (بیٹھنے والاحلقہ ان کو نہیں دیکھتا تھا مگر یہ کہ ان سے بھاگ جاتے تھے۔ یہاں تک کہ وہ اس حلقے میں آگئے جس میں میں تھا پس میں ٹھہرا رہا اور دیگر لوگ بھاگ گئے۔ میں نے کہا آپ کون ہیں؟ انہوں نے بتلایا ابو ذر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ساتھی۔ میں نے عرض کیا آپ سے لوگ کیوں بھاگے ہیں؟ انہوں نے فرمایا اس وجہ سے کہ میں ان کو خزانے جمع کرنے سے روکتا ہوں۔ حضرت احنف بن قیس فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا کہ بیشک ہمارے عطیات کثیر تعداد کو پہنچ چکے ہیں اور بلند ہوچکے ہیں۔ کیا آپ ہم پر ان کی وجہ سے خوف کرتے ہیں انہوں نے فرمایا کہ اس وقت میں تو نہیں لیکن قریب ہے کہ وہ تمہارے دین کی قیمت بن جائیں۔ اس وقت ان عطیات سے اجتناب کرنا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40083]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40083، ترقيم محمد عوامة 38455)
ترقیم عوامۃ: 38456 ترقیم الشثری: -- 40084
٤٠٠٨٤ - حدثنا ابو اسامة قال: حدثنا سفيان قال: حدثني ابو الجحاف قال: اخبرني (معاوية) (١) بن ثعلبة قال. اتيت محمد بن الحنفية فقلت: إن رسول (٢) المختار اتانا يدعونا، قال: فقال لي: (لا تقاتل) (٣) إني اكره ان اسوء هذه الامة (او) (٤) آتيها من غير وجهها.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، جـ، س]: (أبو معاوية).
(٢) في [س]: زيادة (اللَّه).
(٣) سقطت من النسخ وتمت زيادتهامماسبق في كتاب الأمراء برقم [٣١٢٢٧].
(٤) في [ط، هـ]: (و).
حضرت معاویہ بن ثعلبہ فرماتے ہیں میں محمد بن حنفیہ کے پاس آیا میں نے عرض کیا بلاشبہ مختار کے قاصد ہمارے پاس آئے ہمیں دعوت دیتے رہے راوی نے فرمایا مجھ سے انہوں نے فرمایا کہ لڑائی نہ کرنا بلاشبہ میں ناپسند کرتا ہوں اس بات کو کہ اس امت میں سے سب سے برا ہوں یا یہ فرمایا میں آؤں ان کے پاس ان کے طریقے کے علاوہ پر۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40084]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40084، ترقيم محمد عوامة 38456)
ترقیم عوامۃ: 38457 ترقیم الشثری: -- 40085
٤٠٠٨٥ - حدثنا محمد بن بشر عن سفيان عن الزبير بن عدي قال: قال لي إبراهيم: إياك ان (تقتل) (١) مع قتيبة (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (تقاتل).
(٢) هو قتيبة بن مسلم الباهلي كما في معرفة الثقات ص ٣٦٧، وتاريخ الإسلام ٨/ ٤٢٦.
حضرت زبیر بن عدی نے فرمایا مجھ سے حضرت ابراہیم نے فرمایا تو بچ اس بات سے کہ فتنے کے ساتھ قتل کیا جائے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40085]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40085، ترقيم محمد عوامة 38457)
ترقیم عوامۃ: 38458 ترقیم الشثری: -- 40086
٤٠٠٨٦ - حدثنا غندر عن شعبة عن عمرو بن مرة عن ابي وائل قال: دخل ابو موسى (وابو مسعود) (١) على عمار وهو (يستنفر) (٢) الناس فقال: اما (راينا) (٣) منك منذ اسلمت امرا اكره عندنا من إسراعك في هذا الامر، فقال عمار: ما رايت منكما منذ اسلمتما امرا اكره عندي كان إبطائكما عن هذا الامر، قال: فكساهما حلة حلة (٤) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ]: (ابن مسعود).
(٢) في [س]: (ينفر).
(٣) في [ع]: (ما رأيت).
(٤) صحيح؛ أخرجه البخاري (٧١٠٢)، والحاكم ٣/ ١١٧.
حضرت ابو وائل سے روایت ہے فرمایا کہ حضرت ابو موسیٰ اور ابو مسعود حضرت عمار کے پاس آئے وہ لوگوں کو لڑائی کے لیے بلا رہے تھے ان دونوں حضرات نے فرمایا جب سے آپ نے اسلام قبول کیا ہے ہم نے اس سے زیادہ ناپسندیدہ امر آپ سے نہیں دیکھا تمہارے اس امر میں جلدی کرنے کے نسبت حضرت عمار نے فرمایا میں نے تم سے جب سے تم نے اسلام قبول کیا ہے اس سے زیادہ ناپسندیدہ امر اپنے نزدیک نہں ر دیکھا تمہارے اس امر میں سستی کرنے کی نسبت راوی فرماتے ہیں حضرت عمار نے ان دونوں کو ایک ایک جوڑا پہنا دیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40086]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40086، ترقيم محمد عوامة 38458)
ترقیم عوامۃ: 38459 ترقیم الشثری: -- 40087
٤٠٠٨٧ - حدثنا غندر عن شعبة عن عمرو بن مرة قال: (سمعت) (١) ابا وائل يحدث عن الحارث بن (حبيش) (٢) الاسدي قال: بعثني سعيد بن العاص بهدايا إلى اهل المدينة وفضل عليا، قال: وقال في: قل له: إن ابن اخيك يقرئك السلام ويقول: ما بعثت إلى احد باكثر مما بعثت إليك إلا ما كان في خزائن امير المؤمنين، فقال علي: اشد ما يحزن علي ميراث محمد (٣) ، اما والله لئن ملكتها لانفضنها نفض (الوذام) (٤) (التربة) (٥) (٦) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [س].
(٢) في [أ، ط، هـ]: (حنش).
(٣) في [جـ]: زيادة ﷺ.
(٤) في [س]: (الورم)، وسقط من: [ع].
(٥) في [ع]: (التراب)، أي: مثل نفض قطعة اللحم التي سقطت في التراب لإزالة التراب عنها.
(٦) مجهول؛ لجهالة الحارث، أخرجه أحمد في العلل ٢/ ١٦٣ (١٨٧٦)، وأبو عبيد في غريب الحديث ٣/ ٤٣٨، والأصبهاني في الأغاني ١٢/ ١٦٩.
حضرت حارث بن حبیش اسدی نے فرمایا مجھے حضرت سعید بن عاص نے کچھ ہدایا دے کر مدینہ والوں کی طرف بھیجا اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کو فضیلت دی (ہدایا میں) راوی نے فرمایا مجھ سے حضرت سعید بن عاص نے فرمایا ان سے کہنا آپ کے چچا کا بیٹا آپ کو سلام کہہ رہا تھا اور کہہ رہا تھا میں نے کسی کی طرف اس سے زیادہ نہیں بھیجا جتنا آپ کی طرف بھیجا ہے سوائے اس کے جو امیرالمؤمنین کے خزانے میں ہے حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا سب سے زیادہ جس بات کا مجھے غم ہے وہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی میراث ہے باقی اگر میں اس کا مالک ہوجاؤں تو اسے جھاڑ دوں جگر کے گوشت کے ٹکڑے کو مٹی سے جھاڑنے کی طرح۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40087]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40087، ترقيم محمد عوامة 38459)
ترقیم عوامۃ: 38460 ترقیم الشثری: -- 40088
٤٠٠٨٨ - حدثنا (معتمر) (١) بن سليمان عن الركين عن ابيه عن ابن مسعود قال: كان يقول لنا في خلافة عمر: إنها ستكون هنات و (هنات) (٢) ، وإن (بحسب) (٣) الرجل إذا راى امرا يكرهه ان يعلم الله انه له كاره (٤) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [س]: (معمر).
(٢) في [أ، ب]: (هباة).
(٣) في [أ، س، هـ]: (يحسب).
(٤) صحيح؛ أخرجه مسدد كما في المطالب العالية (٣٢٩٢)، وابن أبي حاتم في التفسير (١٨٨٣٠)، وابن عبد البر في التمهيد ٢٣/ ٢٨٤، والبيهقي في شعب الإيمان (٧٥٨٩)، وورد مرفوعًا، أخرجه أبو عدي ٣/ ١٣٦.
حضرت عمیلہ حضرت عبداللہ بن مسعود سے روایت کرتے ہیں فرمایا کہ حضرت ابن مسعود ہم سے حضرت عمر کے خلافت کے زمانے میں فرماتے تھے بلاشبہ عنقریب فتنے ہوں گے فتنے ہوں گے اور آدمی کے لیے کافی ہوگی یہ بات کہ جب کسی ناپسندیدہ امر کو دیکھے تو اسے ناپسند کرے کہ اللہ تعالیٰ جان لیں کہ بلاشبہ یہ اس امر کو ناپسند کرنے والا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40088]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40088، ترقيم محمد عوامة 38460)
ترقیم عوامۃ: 38461 ترقیم الشثری: -- 40089
٤٠٠٨٩ - حدثنا معاوية قال: حدثنا سفيان عن معمر عن ابن طاوس عن ابيه قال: قلت لابن عباس، انهى اميري عن معصية؟ قال: لا تكون فتنة؟ قال: قلت: فإن امرني بمعصية؟ قال: فحينئذ (١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) صحيح؛ أخرجه البيهقي في شعب الإيمان (٧٥٩٣).
حضرت طاؤس سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ کیا میں اپنے امیر کو معصیت سے روکوں انہوں نے فرمایا نہیں فتنہ ہوگا طاؤس نے فرمایا میں نے عرض کیا اگر وہ مجھے گنا ہ کا حکم دے ارشاد فرمایا اس وقت (روک سکتے ہو) [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40089]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40089، ترقيم محمد عوامة 38461)
ترقیم عوامۃ: 38462 ترقیم الشثری: -- 40090
٤٠٠٩٠ - حدثنا جرير عن (معاوية) (١) (٢) (٣) ابن إسحاق عن سعيد بن جبير قال: قال رجل لابن عباس: آمر اميري بالمعروف؟ قال: إن خفت ان يقتلك فلا (٤) تؤنب الإمام، فإن كنت لا بد فاعلا (ففيما) (٥) بينك وبينه (٦) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، جـ، س، ط، ع، هـ]: (مغيرة).
(٢) في [أ، ب، هـ]: زيادة (عن).
(٣) في [أ، ب]: زيادة (ابن إبراهيم).
(٤) في [ع]: زيادة (لا).
(٥) في [ط، هـ]: (فيما).
(٦) صحيح؛ أخرجه البيهقي في الشعب (٧٥٩٢)، وابن عبد البر في التمهيد ٢٣/ ٢٨٢، وسعيد ابن منصور (٨٤٦).
حضرت سعید بن جبیر سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ ایک صاحب نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا کیا میں اپنے امیر کو نیکی کا حکم کروں انہوں نے ارشاد فرمایا اگر تجھے (امر بالمعروف) کرنا ضرور ہو تو اپنے اور اس کے درمیان ہو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40090]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40090، ترقيم محمد عوامة 38462)
ترقیم عوامۃ: 38463 ترقیم الشثری: -- 40091
٤٠٠٩١ - حدثنا جرير عن العلاء عن خيثمة قال: قال عبد الله: إذا اتيت الامير (المؤمن) (١) فلا (يؤنبه) (٢) احد من الناس (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ط]: (المؤمر).
(٢) في [ط]: (تؤنب)، وفي [أ]: (تونبه)، وفي [س، ع]: (تؤتيه).
(٣) منقطع؛ خيثمة لم يسمع من ابن مسعود، أخرجه سعيد بن منصور ق ٢ (٨٥٠).
حضرت عبداللہ سے روایت ہے ارشاد فرمایا جب تو مومن امیر کے پاس جائے تو لوگوں کے سامنے اسے نصیحت مت کر۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40091]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40091، ترقيم محمد عوامة 38463)