🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

1. من كره الخروج في الفتنة وتعوذ منها
جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انہوں نے س سے پناہ مانگی ہے
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38474 ترقیم الشثری: -- 40102
٤٠١٠٢ - حدثنا معاوية بن عمرو عن زائدة عن الاعمش عن عمرو عن عبد الله ابن الحارث عن حبيب بن (حماز) (١) عن ابي ذر قال: قال رسول الله ﷺ:"ليت شعري متى تخرج نار من قبل الوراق تضيء لها اعناق الإبل (ببصرى) (٢) بروكا كضوء النهار" (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، ع]: (حماد)، وفي [هـ]: (جماز).
(٢) في [أ، ب]: (بمصرى).
(٣) حسن؛ حبيب صدوق، أخرجه أحمد (٢١٢٨٩)، وابن حبان (٦٨٤١)، والحاكم ٤/ ٤٤٢، والبزار (٤٣٠)، وابن شبه في تاريخ المدينة ١/ ٢٨٠.

حضرت ابو ذر سے روایت ہے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کاش مجھے معلوم ہوجاتا جبل وراق کی جانب سے کب آگ نکلے گی جس سے بصری میں بیٹھے اونٹوں کی گردنیں روشن ہوجائیں گی دن کی روشنی کی طرح۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40102]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40102، ترقيم محمد عوامة 38474)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38475 ترقیم الشثری: -- 40103
٤٠١٠٣ - حدثنا ابو عامر العقدي عن علي بن المبارك عن يحيى قال: حدثني ابو قلابة قال: حدثني سالم بن عبد الله قال: حدثني عبد الله بن (عمر) (١) قال: قال رسول الله ﷺ:"ستخرج نار قبل يوم القيامة من بكر حضرموت تحشر الناس"، قالوا: يا رسول الله! فما تامرنا؟ قال:"عليكم بالشام" (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، جـ، س، ع]: (عمرو).
(٢) صحيح؛ أخرجه أحمد (٥١٤٦)، والترمذي (٢٢١٧)، وابن حبان (٧٣٠٥)، وأبو يعلى (٥٥٥١)، والبغوي (٤٠٠٧)، ويعقوب في المعرفة ٢/ ٣٠٣، وأبو نعيم في أخبار أصبهان ٢/ ٥٧، وابن طهمان في مشيخته (٢٠١).

حضرت عبداللہ بن عمرو سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا عنقریب قیامت سے پہلے آگ نکلے گی حضر موت سمندر سے، صحابہ کرام نے عرض کیا اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں آپ نے ارشاد فرمایا تم پر لازم ہے شام۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40103]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40103، ترقيم محمد عوامة 38475)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38476 ترقیم الشثری: -- 40104
٤٠١٠٤ - حدثنا ابو معاوية عن (الاعمش) (١) عن حبيب عن (هزيل) (٢) بن شرحبيل قال: خطبهم معاوية فقال: يا ايها الناس إنكم جئتم فبايعتموني طائعين، ولو بايعتم عبدا حبشيا (مجدعا لجئت) (٣) حتى ابايعه معكم، فلما نزل عن المنبر قال له (عمرو) (٤) بن العاص: تدري اي شيء (جئت) (٥) به اليوم؟ زعمت ان الناس بايعوك طائعين، ولو بايعوا عبدا حبشيا (مجدعا) (٦) لجئت (٧) حتى تبايعه معهم، قال: فندم فعاد إلى المنبر فقال: ايها الناس! وهل كان احد احق بهذا الامر مني؟ وهل هو احد احق بهذا الامر مني؟ قال: وابن عمر جالس، قال: فقال ابن عمر: هممت ان اقول: احق بهذا الامر منك من ضربك واباك عن الإسلام؟ ثم خفت (ان تكون) (٨) كلمتي فسادا؛ وذكرت ما اعد الله في الجنان، فهون علي ما اقول (٩) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [أ، ب].
(٢) في [ب، هـ]: (هذيل).
(٣) في [أ، ب]: تقديم وتأخير (لجئت مجدعًا).
(٤) في [أ، ب]: (عمر).
(٥) في [أ، ب، ع]: (جيت).
(٦) سقط من: [أ، ب].
(٧) في [أ، ب]: زيادة (طايعًا).
(٨) سقط من: [ع]، وفي [أ، ب]: (يكون).
(٩) منقطع؛ هزيل لم يدرك ذلك، وورد من طريق حبيب عن ابن عمر، أخرجه ابن سعد ٤/ ١٨٢، ومن طريق جبلة بن سحيم عن ابن عمر عند ابن عساكر ٣١/ ١٨٢.

حضرت ہذیل بن شرحبیل سے روایت ہے فرمایا کہ حضرت معاویہ نے لوگوں کے سامنے خطبہ دیا اور فرمایا اے لوگو! بلاشبہ تم آئے ہو تم نے میری بیعت خوشی سے کی ہے اور اگر تم کان کٹے ہوئے حبشی غلام کی بیعت کرتے تو میں آتا اور تمہارے ساتھ اس کی بیعت کرتا جب منبر سے نیچے اتر آئے ان سے حضرت عمرو بن عاص نے فرمایا آپ جانتے ہیں کہ آپ نے آج کیا کام کیا ہے آپ نے کہا ہے کہ تم نے خوشی سے میری بیعت کی ہے۔ پس اگر وہ حبشی غلام کی بیعت کرتے تو وہ آجائے گا اور آپ کو اس کی بیعت کرنی پڑے گی۔ وہ نادم ہوئے اور منبر کی جانب لوٹے اور ارشاد فرمایا اے لوگو کیا اس امر (خلافت) کا مجھ سے زیادہ حقدار ہے اور کیا کوئی اس کا مجھ سے زیادہ حقدار ہے راوی نے فرمایا اور حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما وہاں تشریف فرما تھے راوی نے بتلایا حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا میں نے یہ ارادہ کیا کہ یوں کہوں اس امر کا آپ سے زیادہ حقدار وہ ہے جس نے آپ کو اور آپ کے والد کو اسلام پر مارا پھر مجھے خوف ہوا کہ میری یہ بات فساد ہوگی اور میں نے جنت میں جو اللہ نے تیار کر رکھا ہے اسے یاد کیا تو جو میں کہنا چاہتا تھا (اس سے رکنا) مجھ پر آسان ہوگیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40104]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40104، ترقيم محمد عوامة 38476)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38477 ترقیم الشثری: -- 40105
٤٠١٠٥ - حدثنا ابو اسامة قال: حدثنا هشام عن ابيه قال: كان قيس بن سعد ابن عبادة مع علي على (مقدمته) (١) ومعه خمسة آلاف قد حلقوا رؤوسهم بعد ما مات علي، فلما دخل الحسن في بيعة معاوية ابى قيس ان يدخل، فقال لاصحابه: ⦗٢٦٤⦘ ما شئتم؟ إن شئتم جالدت بكم ابدا حتى يموت الاعجل، وإن شئتم اخذت لكم (امانا) (٢) ، فقالوا: خذ لنا (امانا) (٣) ، فاخذ لهم ان لهم كذا وكذا، وان لا (يعاقبوا) (٤) (بشيء) (٥) ، واني رجل منهم، ولم ياخذ لنفسه خاصة شيئا، فلما ارتحل نحو المدينة ومضى باصحابه جعل ينحر لهم كل يوم جزورا حتى بلغ (٦) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ع]: (مقدمة).
(٢) في [أ، ب]: (جميعًا).
(٣) سقط من: [أ، ب، س، ع].
(٤) في [ع]: (يعاقبوه).
(٥) في [أ، ب]: (شيء).
(٦) صحيح؛ أخرجه ابن عساكر ٤٩/ ٤٢٩، وابن عبد البر في الاستيعاب ٣/ ١٢٩١.

حضرت عروہ سے روایت ہے فرمایا کہ قیس بن سعد بن عبادہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ ان کے مقدمۃ الجیش پر امیر تھے اور ان کے ساتھ پانچ معزز افراد تھے انہوں نے حلقہ بنایا حضرت علی رضی اللہ عنہ کی بیعت کی حضرت قیس نے بیعت میں داخل ہونے سے انکار کیا اور اپنے ساتھیوں سے فرمایا کیا چاہتے ہو اگر تم چاہتے ہو کہ میں تمہارے ساتھ مل کر ہمیشہ لڑائی کرتا رہوں۔ یہاں تک کہ زیادہ جلدی کرنے والا مرجائے اور اگر تم چاہوں تو تمہارے لیے امان لے لوں انہوں نے کہا ہمارے لیے (امان) لے لیں انہوں نے ان کے لیے (عہد) لیا کہ ان کے لیے یہ یہ ہوگا اور ان کو کوئی سزا نہیں دی جائے گی اور میں ان میں سے ایک آدمی بنوں اور اپنے لیے کوئی خاص عہد نہ لیا جب انہوں نے مدینہ کی طرف کوچ کیا اور اپنے ساتھیوں کو لے کر چلے تو ان کے لیے ہر دن ایک اونٹ ذبح کرتے تھے یہاں تک کہ (مدینہ) پہنچ گئے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40105]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40105، ترقيم محمد عوامة 38477)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38478 ترقیم الشثری: -- 40106
٤٠١٠٦ - حدثنا ابن علية عن حبيب بن شهيد عن محمد بن سيرين قال: كان ابن عمر يقول: (رحم) (١) الله ابن الزبير اراد دنانير الشام، رحم الله مروان اراد دراهم العراق (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ع]: (دعم).
(٢) صحيح.

حضرت عبداللہ بن عمر سے روایت ہے ارشادفرمایا کہ اللہ تعالیٰ رحم کرے ابن زبیر پر انہوں نے شام کے دنانیر کا ارادہ کیا اور اللہ رحم فرمائے مروان پر انہوں نے عراق کے دراہم کا ارادہ کیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40106]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40106، ترقيم محمد عوامة 38478)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38479 ترقیم الشثری: -- 40107
٤٠١٠٧ - حدثنا يحيى بن آدم عن فطر قال: حدثنا منذر الثوري عن محمد بن علي بن الحنفية قال: اتقوا (١) هذه الفتن فإنها لا يستشرف لها احد إلا استبقته، (الا) (٢) إن هؤلاء القوم لهم (اجل) (٣) ومدة، لو اجتمع من في الارض ان يزيلوا ملكهم لم يقدروا على ذلك، حتى يكون الله (هو) (٤) الذي ياذن فيه اتستطيعون ان تزيلوا هذه الجبال.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [س]: زيادة (اللَّه).
(٢) سقط من: [ع].
(٣) في [أ، ب، جـ، س، ع]: (أكل)، وتقدم الخبر ١١/ ١٣٣ برقم [٣٢٦٩٩].
(٤) سقط من: [أ، ب].

حضرت محمد بن علی رضی اللہ عنہابن الحنفیہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا…فتنوں سے بچو بلاشبہ ان کی طرف کوئی بھی نظر نہیں اٹھاتا مگر یہ کہ وہ فتنہ اس پر سبقت لے جاتا ہے آگاہ و خبردار ہو ان لوگوں کے لیے موت اور مقررہ مدت ہے۔ اگر جو لوگ زمین میں ہیں وہ جمع ہوجائیں اس بات پر کہ ان کے ملک کو ختم کردیں تو وہ اس پر قادر نہیں ہوں گے یہاں تک اللہ تعالیٰ اس کی اجازت دے کیا تم طاقت رکھتے ہو اس بات کی کہ ان پہاڑوں کو ہٹا دو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40107]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40107، ترقيم محمد عوامة 38479)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38480 ترقیم الشثری: -- 40108
٤٠١٠٨ - حدثنا ابن علية عن ايوب عن نافع عن ابن عمر قال: لما (بويع) (١) لعلي اتاني فقال: إنك امرؤ محبب في اهل الشام، فإني قد استعملتك عليهم فسر إليهم، قال: فذكرت القرابة وذكرت الصهر، فقلت: اما بعد، فوالله (لا) (٢) ابايعك، قال: فتركني وخرج، فلما كان بعد ذلك جاء ابن عمر إلي (ام) (٣) كلثوم فسلم عليها وتوجه إلى مكة فاتى علي، فقيل له: إن ابن عمر قد توجه إلى الشام فاستنفر الناس، قال: فإن كان الرجل ليعجل حتى يلقي رداءه في عنق بعيره، قال: و (اتيت) (٤) ام كلثوم فاخبرت، (فارسل) (٥) إلى ابيها: ما الذي تصنع؟ قد جاءني الرجل وسلم علي وتوجه إلى مكة فتراجع الناس (٦) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [س]: (توسع).
(٢) في [ح]: (ألا).
(٣) سقط من: [س]، وفي [ط، هـ]: (أمه أم).
(٤) في [أ، ب]: (أنت).
(٥) كذا في النسخ، والوجه: (أرسلت).
(٦) صحيح.

حضرت نافع حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں انہوں نے فرمایا جب حضرت علی رضی اللہ عنہ کی بیعت کی گئی تو وہ میرے پاس آئے اور ارشاد فرمایا آپ ایسے آدمی ہو جو اہل شام کے ہاں محبوب ہو میں نے تمہیں ان پر عامل مقرر کیا ہے تم ان کے پاس جاؤ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا میں نے قرابت اور سسرالی رشتے کو یاد کیا اور میں نے کہا حمدو صلاۃ کے بعد اللہ کی قسم میں آپ کی بیعت نہیں کروں گا انہوں نے (ابن عمر رضی اللہ عنہما نے) فرمایا انہوں نے مجھے چھوڑ دیا اور نکل گئے اس کے بعد جب حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما حضرت ام کلثوم کے پاس آئے ان کو سلام کیا اور مکہ کی طرف متوجہ ہوئے حضرت علی رضی اللہ عنہ تشریف لائے تو ان سے کہا گیا بلاشبہ ابن عمر رضی اللہ عنہما شام کی طرف متوجہ ہوئے ہیں اور لوگوں کو لڑائی کے لیے جمع کررہے ہیں۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا اگر یہ آدمی جلدی کرے یہاں تک کہ اپنی چادر اپنے اونٹ کی گردن میں ڈال دے راوی نے فرمایا حضرت ام کلثوم کے پاس کوئی آیا اور ان کو خبر دی گئی انہوں نے اپنے والد کو پیغام بھیجا آپ کیا کررہے ہیں وہ آدمی میرے پاس آیا مجھے سلام کیا اور مکہ کی طرف چلا گیا پس لوگ واپس ہوگئے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40108]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40108، ترقيم محمد عوامة 38480)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38481 ترقیم الشثری: -- 40109
٤٠١٠٩ - حدثنا ابو اسامة قال: حدثنا هشام عن ابيه قال: دخلت انا وعبد الله ابن الزبير على اسماء قبل قتل عبد الله بن الزبير بعشر ليال واسماء (وجعة) (١) ، فقال لها عبد الله: كيف تجدينك؟ قالت: وجعة، قال: إن في الموت (لعافية) (٢) ، قالت: لعلك تشتهي موتي، فلذلك تمناه، فوالله ما اشتهي ان تموت حتى ناتي على احد (طرفيك) (٣) إما ان تقتل فاحتسبك وإما ان تظهر فتقر عيني، فإياك ان تعرض عليك خطبة لا توافقك، فتقبلها كراهة الموت، وإنما عنى ابن الزبير ليقتل فيحزنها بذلك (٤) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [أ، ب].
(٢) في [أ، ب]: (عاقبة).
(٣) في [أ، ب]: (طرفيه).
(٤) صحيح؛ أخرجه البخاري في الأدب المفرد (٥١٠).

حضرت ہشام بن عروہ حضرت عروہ سے نقل کرتے ہیں انہوں نے فرمایا میں اور عبداللہ بن زبیر شہادت سے دس راتیں پہلے حضرت اسمائ کے پاس آئے حضرت اسماء بیمار تھیں حضرت عبداللہ نے ان سے کہا آپ کیسے پاتی ہیں انہوں نے فرمایا بیمار ہوں حضرت عبداللہ نے ان سے کہا آپ کیسے پاتی ہیں انہوں نے فرمایا بیمار ہوں حضرت عبداللہ نے فرمایا موت میں عافیت ہے حضرت اسماء نے فرمایا شاید تم میری موت کو چاہتے ہو کہ اسی کی تمنا کر رہے ہو اللہ کی قسم میں…چاہتی تھی کہ تمہیں موت آئے یہاں تک کہ کہ دو باتوں میں سے ایک پر تم آؤ…تمہیں قتل کردیا جائے تو میں تمہاری وجہ سے ثواب کی امید رکھوں یا تو غالب آجائے تو میری آنکھ ٹھنڈی ہوجائے اس بات سے بچنا کہ تم پر ایسا خطہ پیش کیا جائے جو تمہارے موافق نہ ہو اور تم اسے موت کی کراہت و ناپسندیدگی کی وجہ سے قبول کرلو حضرت عبداللہ کی مراد یہ تھی کہ انہیں قتل کردیا جائے گا اور یہ بات حضرت اسمائ کو غمگین کرے گی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40109]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40109، ترقيم محمد عوامة 38481)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38482 ترقیم الشثری: -- 40110
٤٠١١٠ - حدثنا ابن علية عن ايوب عن ابن ابي مليكة قال: اتيت اسماء بعد قتل عبد الله بن الزبير (فقالت) (١) : بلغني انهم صلبوا عبد الله منكسا، وعلقوا معه هرة، والله إني لوددت اني لا اموت حتى يدفع إلي فاغسله واحنطه واكفنه ثم ادفنه، فما لبثوا ان جاء كتاب عبد الملك ان يدفع إلى اهله، (فاتيت) (٢) به اسماء فغسلته وحنطته وكفنته ثم دفنته (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، جـ، س، ع]: (فقلت).
(٢) في [أ، ب]: (فاتت).
(٣) صحيح؛ أخرجه أبو نعيم في الحلية ٢/ ٥٦، وابن الجوزي في المنتظم ٦/ ١٣٩.

حضرت ابن ابی ملیکہ سے رو ایت ہے انہوں نے فرمایا میں حضرت اسمائ کے پاس آیا حضرت عبداللہ بن زبیر کی شہادت کے بعد حضرت اسمائ نے فرمایا مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ انہوں نے حضرت عبداللہ کو اوندھے منہ کرکے پھانسی دی ہے اور ان کے ساتھ بلی کو لٹکایا ہے اللہ کی قسم میں یہ چاہتی ہوں کہ مجھے موت نہ آئے یہاں تک وہ مجھے عبداللہ کو دے دیں میں اسے غسل دوں گی اور اسے خوشبو لگاؤں گی اور اسے کفناؤں گی پھر اسے دفن کروں گی تھوڑی ہی دیر کے بعد عبدالملک کا خط آگیا کہ انہیں ان کے گھر والوں کے سپرد کردیا جائے پھر حضرت اسماء نے ان کو غسل دیا اور ان کو خوشبو لگائی اور ان کو کفن دیا پھر ان کو دفنا دیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40110]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40110، ترقيم محمد عوامة 38482)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38483 ترقیم الشثری: -- 40111
٤٠١١١ - حدثنا ابن عيينة عن منصور بن صفية عن امه قالت: دخل ابن عمر المسجد وابن الزبير مصلوب، فقالوا له: هذه اسماء، فاتاها وذكرها ووعظها وقال: إن الجثة ليست بشيء، وإن الارواح عند الله فاصبري واحتسبي، فقالت: وما يمنعني من الصبر وقد اهدي راس يحيى بن زكريا إلى بغي من بغايا بني إسرائيل؟ (١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) صحيح؛ أخرجه الفاكهي في أخبار مكة ٢/ ٣٧٦ (١٦٧٧)، وابن عساكر ٦٩/ ٢٦، وابن حزم في المحلى ١/ ٢٢، والفصل ٤/ ٥٧، وابن الجوزي في المنتظم ٦/ ١٤٠.
حضرت صفیہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما مسجد میں داخل ہوئے اور حضرت عبداللہ بن زبیر کو سولی دے دی گئی تھی انہوں نے کہا یہ اسمائ ہیں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما ان کے پاس آئے اور ان کو نصیحت کی اور ان سے اصلاح کی بات کی اور فرمایا جسم کوئی چیز نہیں اور روحیں اللہ تعالیٰ کے پاس ہیں پس صبر کرو اور ثواب کی نیت کرو حضرت اسماء نے فرمایا اور مجھے صبر سے کونسی چیز روکے گی حالانکہ حضرت یحییٰ بن زکریا کا سر بنی اسرائیل کی زانیہ عورتوں میں سے ایک زانیہ کو دیا گیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40111]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40111، ترقيم محمد عوامة 38483)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں