مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
1. من كره الخروج في الفتنة وتعوذ منها
جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انہوں نے س سے پناہ مانگی ہے
ترقیم عوامۃ: 38484 ترقیم الشثری: -- 40112
٤٠١١٢ - حدثنا خلف بن خليفة عن ابيه قال: (اخبرت) (١) ان الحجاج (حين) (٢) قتل ابن الزبير جاء به إلى منى فصلبه عند الثنية في بطن الوادي، ثم قال للناس: انظروا إلى هذا، هذا شر الامة، فقال: إني رايت ابن عمر جاء على بغلة له فذهب ليدنيها من الجذع فجعلت تنفر، فقال لمولى له: ويحك! خذ بلجامها فادنها ⦗٢٦٧⦘ (قال) (٣) : فرايته ادناها فوقف عبد الله بن عمر وهو يقول: (رحمك) (٤) الله، إن كانت لصواما قواما، ولقد افلحت امة انت شرها (٥) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ط، ع]: (أخبرني)، وتقدم ١١/ ١٣٥ برقم [٣٢٧٠٨] بلفظ: (أخبرني أبي).
(٢) في [س]: (فلك).
(٣) سقط من: [ع].
(٤) في [أ، ب]: (دعمك).
(٥) مجهول؛ شيخ خليفة مجهول.
حضرت خلف بن خلیفہ اپنے والد حضرت خلیفہ سے نقل کرتے ہیں انہوں نے فرمایا مجھے یہ خبر دی گئی کہ حجاج نے جب حضرت عبداللہ بن زبیر کو قتل کرنے کا ارادہ کیا تو ان کو منیٰ کی طرف لے گیا اور ان کو بطن وادی میں گھاٹی کے پاس پھانسی دی پھر اس نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کو دیکھا وہ اپنے خچر پر تشریف لائے وہ اسے قریب کر رہے تھے تنے کے اور وہ بدک رہی تھی انہوں نے اپنے غلام سے فرمایا تیرے لیے ہلاکت ہو اس کی لگام پکڑ اور اسے قریب کر راوی فرماتے ہیں اس نے اس خچر کو قریب کیا حضرت عبداللہ بن عمر ٹھہرے اور یہ فرما رہے تھے اللہ تعالیٰ تم پر رحم کرے تم روزہ رکھنے والے اور قیام کرنے والے تھے وہ امت فلاح پا گئی جس کے تم شرو برائی ہو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40112]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40112، ترقيم محمد عوامة 38484)
ترقیم عوامۃ: 38485 ترقیم الشثری: -- 40113
٤٠١١٣ - حدثنا ابو اسامة عن الاعمش عن (شمر) (١) عن (هلال) (٢) بن يساف قال: حدثني البريد الذي جاء براس المختار إلى عبد الله بن الزبير قال: لما وضعته بين يديه قال: ما حدثني كعب بحديث إلا رايت مصداقه غير هذا، فإنه حدثني (انه) (٣) يقتلني رجل من ثقيف، اراني انا الذي قتلته (٤) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ط]: (شهر).
(٢) في [س]: (بلال).
(٣) في [س، هـ]: (أن).
(٤) مجهول؛ لإبهام اسم البيد، أخرجه الحاكم ٣/ ٦٣٣ (٦٣٣٣)، والطحاوي في شرح مشكل الآثار ٦/ ٤٠٧، ونعيم في الفتن (٣٣٦).
حضرت ہلال بن یساف سے روایت ہے انہوں نے فرمایا مجھ سے حضرت برید نے بیان کیا جو مختار کا سر حضرت عبد اللہ بن زبیر کے پاس لے کر آئے تھے انہوں نے فرمایا جب میں نے اس کا سر حضرت ابن زبیر کے سامنے رکھا تو انہوں نے فرمایا مجھ سے کعب نے کوئی بھی بات نقل نہیں کی مگر میں نے اس کا مصداق دیکھ لیا سوائے اس کے کیونکہ انہوں نے مجھ سے بیان کیا کہ ثقیف کا ایک آدمی مجھے قتل کرے گا میں اپنے آپ کو دیکھ رہا ہوں کہ میں نے اسے قتل کردیا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40113]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40113، ترقيم محمد عوامة 38485)
ترقیم عوامۃ: 38486 ترقیم الشثری: -- 40114
٤٠١١٤ - حدثنا (ابن فضيل) (١) عن سالم بن (ابي) (٢) حفصة عن منذر قال: كانت عند ابن الحنفية فرايته (يتقلب) (٣) على فراشه (وينفخ) (٤) ، فقالت له (امراته) (٥) : ما (يكربك) (٦) من امر عدوك هذا ابن الزبير؟ فقال: (والله) (٧) ⦗٢٦٨⦘ (ما بي) (٨) عدو الله، هذا ابن الزبير، ولكن بي ما يفعل في حرمه (غدا) (٩) ، (قال) (١٠) : ثم رفع يديه إلى السماء ثم قال: اللهم انت تعلم اني كنت اعلم (مما علمتني) (١١) انه (يخرج) (١٢) (منها) (١٣) (قتيلا) (١٤) يطاف براسه في الامصار (او) (١٥) في الاسواق (١٦) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (ابن نمير).
(٢) سقط من: [س].
(٣) في [أ، ب، س]: (يقلب)، وفي [هـ]: (يتقلب).
(٤) في [س]: (يفتح).
(٥) في [س]: (امرأة).
(٦) في [جـ]: (يكرثك).
(٧) في [أ، ب، س، ع]: (ما واللَّه).
(٨) في [أ، ب، س، ع]: (ما لي).
(٩) في (س): (عدا).
(١٠) سقط من: [أ، ب].
(١١) في [ع]: (منا على)، وفي [جـ]: (منا علمي)، وسقط من: [أ، ب].
(١٢) في [جـ، ع]: (يحرم)، وسقط من: [س].
(١٣) في [أ، ب]: (منا).
(١٤) في [س]: (فيلا).
(١٥) في (س): (و).
(١٦) انظر: تاريخ دمشق لابن عساكر ٢٨/ ٢٢١، وتاريخ الإسلام للذهبي ٦/ ١٩٢، والبداية والنهاية ٨/ ٣٤٠.
حضرت منذر سے روایت ہے میں محمد بن حنفیہ کے پاس تھا میں نے ان کو دیکھا کہ اپنے بستر پر کروٹیں بدل رہے تھے اور پھونکیں مار رہے تھے ان سے ان کی اہلیہ نے کہا کیا چیز آپ کو بےچین کر رہی ہے آپ کے دشمن ابن زبیر کے امر سے تو انہوں نے کہا مجھے اللہ کے دشمن ابن زبیر کے بارے میں کوئی پریشانی نہیں بلکہ مجھے پریشانی اس بات کی ہے جو اللہ تعالیٰ کے حرم میں کل کو کی جائے گی راوی فرماتے ہیں پھر انہوں نے اپنے ہاتھ اٹھائے آسمان کی طرف اور فرمایا اے اللہ آپ جانتے ہیں کہ جو آپ نے مجھے سکھایا بلا شبہ وہ (مراد بن زبرن تھے) حرم سے قتل کیا ہوا نکالا جائے گا اس کے سر کو شہروں میں فرمایا یا بازاروں میں فرمایا چکر لگوایا جائے گا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40114]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40114، ترقيم محمد عوامة 38486)
ترقیم عوامۃ: 38487 ترقیم الشثری: -- 40115
٤٠١١٥ - حدثنا محمد (بن كناسة) (١) عن إسحاق بن سعيد عن ابيه قال: اتى عبد الله بن عمر (٢) عبد الله بن الزبير فقال: يا ابن الزبير! إياك والإلحاااد (٣) في (حرم الله) (٤) ؟ فإني سمعت رسول الله ﷺ يقول:"إنه سيلحد فيه رجل من قريش لو ان ذنوبه توزن بذنوب الثقلين لرجحت عليه"، فانظر (ان) (٥) ⦗٢٦٩⦘ لا تكونه (٦) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) انظر: تاريخ دمشق لابن عساكر ٢٨/ ٢٢١، وتاريخ الإسلام للذهبي ٦/ ١٩٢، والبداية والنهاية ٨/ ٣٤٠.
(٢) سقط من: [أ، ب].
(٣) في [س]: (الإتحاذ).
(٤) في [أ]: (حرمه).
(٥) سقط من: [س].
(٦) رجاله ثقات؛ ولكن فيه وهم، أخرجه أحمد (٦٢٠٠)، والحاكم ٢/ ٣٨٨، وابن عساكر ٢٨/ ٢٢٠، وصوب جماعة أنه من رواية ابن عمرو بن العاص، كما أخرجه أحمد (٦٨٤٨)، ورجحوا وقفه.
حضرت سعید سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ حضرت عبداللہ بن عمر حضرت عبداللہ بن زبیر کے پاس آئے اور فرمایا اے ابن زبیر حرم میں الحاد کرنے سے بچو بلاشبہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ عنقریب حرم میں قریش میں سے ایک آدمی الحاد پھیلائے گا اگر اس کے گناہ جنوں اور انسانوں کے گناہوں کے ساتھ تو لے جائیں تو ان سے زیادہ ہوجائیں پس تم دیکھو وہ آدمی نہ ہوجانا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40115]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40115، ترقيم محمد عوامة 38487)
ترقیم عوامۃ: 38488 ترقیم الشثری: -- 40116
٤٠١١٦ - حدثنا محمد بن كناسة عن إسحاق عن ابيه قال: اتى مصعب بن الزبير عبد الله بن (عمر) (١) وهو يطوف بين الصفا والمروة فقال: من انت؟ قال: ابن اخيك مصعب بن الزبير، قال: صاحب العراق؟ قال: نعم، قال: جئت لاسالك عن قوم خلعوا الطاعة وسفكوا الدماء (وجمعوا) (٢) الاموال فقوتلوا (فغلبوا) (٣) فدخلوا قصرا (فتحصنوا) (٤) فيه، ثم سالوا الامان فاعطوه ثم قتلوا، قال: وكم العدة؟ قال: خمسة آلاف، قال: فسبح ابن عمر عند ذلك، وقال: عمرك الله! يا ابن الزبير لو ان رجلا اتى (ماشية) (٥) الزبير فذبح منها في غداة خمسة آلاف اكنت تراه مسرفا؟ قال: نعم، قال: فتراه إسرافا في بهائم لا تدري ما الله، وتستحله ممن هلل الله يوما واحدا (٦) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ، س]: (عمرو).
(٢) في [ع]: (وجبوا)، وفي [أ، ب]: (حلوا)، وفي [س]: (وحموا).
(٣) في [س]: (فيغلبوا).
(٤) في [س]: (فحصنوا).
(٥) في [أ، ب]: (ماسنة).
(٦) صحيح.
حضرت اسحاق اپنے والد سے روایت کرتے ہیں انہوں نے فرمایا کہ حضرت مصعب بن زبیر حضرت عبداللہ بن عمر کے پاس آئے جبکہ وہ صفا اور مروہ کے درمیان سعی کر رہے تھے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے پوچھا تم کون ہو انہوں نے بتلایا آپ کا بھتیجا مصعب بن زبیر ابن عمر رضی اللہ عنہما نے پوچھا عراق والے انہوں نے فرمایا جی ہاں مصعب بن زبیر نے فرمایا میں آپ کے پاس ایسے لوگوں کے بارے میں پوچھنے آیا ہوں جو اطاعت سے نکل چکے ہیں اور خون بہا چکے ہیں اور مالوں کو واجب کرچکے ہیں ان سے لڑائی کی گئی اور ان پر غلبہ پا لیا گیا وہ ایک محل میں داخل ہوئے اس میں محصور ہوگئے پھر انہوں نے امان طلب کی ان کو امن دے دیا گیا پھر قتل کردیا گیا حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے پوچھا ان کی تعداد کتنی تھی انہوں نے بتلایا پانچ ہزار راوی نے فرمایا اس وقت حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے سبحان اللہ کہا اور فرمایا اے ابن زبیر اللہ تجھے عمر عطا فرمائے اگر کوئی آدمی زبیر کے مویشیوں میں آئے اور ان میں سے ایک صبح میں پانچ ہزار کو ذبح کردے کیا آپ اسے حد سے بڑھنے والا سمجھتے ہو حضرت مصعب نے جواب میں کہا جی ہاں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا تم ان چوپاؤں میں زیادتی سمجھتے ہو جو اللہ کو نہیں جانتے اور ان کے خون کو حلال سمجھتے ہو ایک ہی دن میں جو اللہ کی پاکی بیان کرتے ہیں کلمہ پڑھتے ہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40116]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40116، ترقيم محمد عوامة 38488)
ترقیم عوامۃ: 38489 ترقیم الشثری: -- 40117
٤٠١١٧ - حدثنا ابو بكر بن عياش عن ابي حصين قال: ما رايت رجلا هو (اسب) (١) منه -يعني ابن الزبير (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ع]: (أشبه).
(٢) صحيح.
ابو حصین سے روایت ہے انہوں نے فرمایا میں نے کوئی آدمی عبداللہ بن زبیر سے بڑھ کر برا بھلا کہنے والا نہیں دیکھا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40117]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40117، ترقيم محمد عوامة 38489)
ترقیم عوامۃ: 38490 ترقیم الشثری: -- 40118
٤٠١١٨ - حدثنا ابو اسامة قال: حدثنا هشام عن ابيه (ان) (١) اهل الشام كانوا يقاتلون ابن الزبير ويصيحون به: يا ابن ذات النطاقين (فقال) (٢) ابن الزبير: تلك (شكاة) (٣) ظاهر عنك عارها قالت اسماء: عيروك به قال: نعم قالت: فهو والله (احق) (٤) (٥) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [س]: (أنه).
(٢) في [جـ]: (وقال)، وفي [أ، ب]: (قال).
(٣) في [ع]: (سكاة).
(٤) سقط من: [جـ، س].
(٥) صحيح؛ أخرجه البخاري (٥٣٨٨).
حضرت عروہ سے روایت ہے کہ شام والے حضرت ابن زبیر سے لڑائی کرتے تھے اور چیخ چیخ کر ان کو کہتے تھے اے ذات النطا قین کے بیٹے حضرت ابن زبیر یہ پڑھتے یہ عیب ہے جس کی عار تم پر واضح ہے حضرت اسمائ نے فرمایا کیا وہ تمہیں اس سے عار دلاتے ہیں حضرت ابن زبیر نے فرمایا جی ہاں انہوں نے فرمایا اللہ کی قسم وہ حق ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40118]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40118، ترقيم محمد عوامة 38490)
ترقیم عوامۃ: 38491 ترقیم الشثری: -- 40119
٤٠١١٩ - حدثنا جعفر بن عون عن هشام بن عروة ان ابن الزبير كان (يشد) (١) عليهم حتى يخرجهم (من) (٢) الابواب ويقول: لو كان (قرني) (٣) واحدا كفيته لسنا على الاعقاب تدمي كلومنا … ولكن على اقدامنا تقطر الدما (٤)
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ، س]: (يسد)، وفي [ب]: (شد).
(٢) في [ط، هـ]: (عن).
(٣) في [س]: (مرني).
(٤) صحيح؛ أخرجه يحيى بن معين في تاريخه رواية الدوري ٣/ ٢٩ (١٢٥)، وأبو نعيم في الحلية ١/ ٣٣٣، والفاكهي (١٦٥٧)، وابن عساكر ٢٨/ ٢٢٣.
حضرت ہشام بن عروہ سے روایت ہے کہ حضرت ابن زبیر ان پر حملہ کرتے تھے یہاں تک کہ ان کو دروازوں سے نکال دیتے تھے اور کہتے تھے اگر میرا مقابل اکیلا ہو تو میں اس کے لیے کافی ہوں اور شعر بھی پڑھتے۔ وَلَسْنَا عَلَی الأَعْقَابِ تَدْمَی کُلُومُنَا۔۔۔ وَلَکِنْ عَلَی أَقْدَامِنَا تَقْطُرُ الدِّمَا۔ ہماری ایڑیوں پر ہمارے زخموں کے خون نہیں گرتے بلکہ ہمارے قدموں پر خون کے قطرات گرتے ہیں (مرادیہ ہے کہ ہم دشمن کا سامنا کرتے ہوئے لڑتے ہیں پشت پھیر کر نہیں بھاگتے) [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40119]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40119، ترقيم محمد عوامة 38491)
ترقیم عوامۃ: 38492 ترقیم الشثری: -- 40120
٤٠١٢٠ - حدثنا حسين بن علي عن زائدة قال: حدثنا ابو حصين الاسدي عن عامر عن ثابت بن قطبة عن عبد الله قال: الزموا هذه الطاعة والجماعة، فإنه حبل الله الذي امر به، وان ما (تكرهون) (١) في الجماعة خير مما تحبون في الفرقة، إن الله ⦗٢٧١⦘ لم يخلق شيئا (قط) (٢) إلا جعل له منتهى، كان هذا الدين (قد تم) (٣) ، وإنه صائر إلى نقصان، وإن إمارة ذلك ان تنقطع الارحام، ويؤخذ المال بغير حقه، (وتسفك) (٤) الدماء و (يشتكي) (٥) ذو القرابة قرابته لا (يعود) (٦) عليه بشيء، ويطوف السائل بين (جمعتين) (٧) لا يوضع في يده شيء، (فبينما هم) (٨) كذلك (إذ) (٩) خارت الارض خوار البقرة يحسب كل اناس انها خارت من قبلهم، (فبينا) (١٠) الناس (كذلك) (١١) إذ قذفت الارض بافلاذ كبدها من الذهب (و) (١٢) الفضة، لا ينفع بعد شيء منه ذهب ولا فضة (١٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [س]: (تكون).
(٢) سقط من: [جـ].
(٣) في [ع]: (قديم).
(٤) في [س]: (وتفسك).
(٥) في [ب]: (ويشتكي).
(٦) في [أ، ب، س]: (نعود).
(٧) سقط من: [س].
(٨) في [س]: (فيما هم).
(٩) في [س]: (إذا).
(١٠) في [س]: (فبنا)، وفي [ع]: (فبينما).
(١١) سقط من: [س].
(١٢) سقط من: [س].
(١٣) صحيح؛ ثابت بن قطبة ثقة، كما قال ابن سعد وابن حبان وروى عنه جمع، والخبر أخرجه ابن أبي حاتم في التفسير (٣٩١٦)، والحاكم ٤/ ٥٩٨ (٨٦٦٣)، والطبراني (٨٩٧١)، وابن عبد البر في التمهيد ٢١/ ٢٧٤، واللالكائي (١٥٩)، والآجري في الشريعة (١٧)، وأبو القاسم التيمي في الحجة ١/ ٢٦٢، وأبو عبيد في غريب الحديث ٤/ ٣٩٤.
حضرت عبداللہ سے روایت ہے فرمایا کہ اس اطاعت اور جماعت کو لازم پکڑو بلاشبہ یہ اللہ کی وہ رسی ہے جس کے تھامنے کا اللہ نے حکم دیا ہے اور بلاشبہ جو چیزیں تمہیں جماعت میں ناپسندیدہ ہیں وہ ان سے بہتر ہیں جو تمہیں جدائی میں پسند ہیں اللہ تعالیٰ نے کوئی بھی چیز پیدا نہیں کی مگر اس کی انتہا مقرر کی ہے یہ دین یقینا کا مل ہوچکا اور اب نقصان کی طرف جانے والا ہے اور اس نقصان کی علامت یہ ہے کہ رشتے داریاں ختم ہوجائیں گی ناحق مال لیا جائے گا خون بہائے جائیں گے قرابت والا اپنے قریبی رشتے داروں کی شکایت کرے گا کہ وہ اسے کچھ نہیں دیتے مانگنے والا دو جمعے چکر لگائے گا اس کے ہاتھ پر کچھ بھی نہیں رکھا جائے گا لوگ اسی حالت پر ہوں گے یکایک زمین گائے کی طرح آواز نکالے گی سارے لوگ یہ خیال کریں گے کہ یہ ہماری جانب میں آواز نکال رہی ہے لوگ اسی حالت پر ہوں گے اچانک زمین اپنے جگر کے ٹکڑے یعنی سونا اور چاندی نکالے گی اس کے بعد اس سونا چاندی سے کوئی نفع نہیں ہوگا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40120]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40120، ترقيم محمد عوامة 38492)
ترقیم عوامۃ: 38493 ترقیم الشثری: -- 40121
٤٠١٢١ - حدثنا حسين بن علي عن زائدة عن ابي حصين عن يحيى عن مسروق قال: اشرف عبد الله على (داره) (١) فقال: اعظم بها ⦗٢٧٢⦘ (خربة) (٢) ، (ليحيطن) (٣) فقيل: من؟ (فقال) (٤) : (اناس) (٥) ياتون من هاهنا، واشار ابو حصين بيده نحو المغرب (٦) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [س]: (وأمره).
(٢) في [ط، هـ]: (حرمة)، وفي [أ، ب]: (جربة).
(٣) في [أ، ب، س]: (ليحطبن)، وفي [هـ]: (ليحيطن).
(٤) في [أ، ب]: (قال).
(٥) في [أ، ب]: (ناس).
(٦) صحيح؛ أخرجه نعيم في الفتن (٧٨٩).
حضرت مسروق سے روایت ہے انہوں نے فرمایا حضرت عبداللہ نے اپنے گھر کی طرف جھانکا اور فرمایا اس میں بڑی ویرانی ہوگی وہ لوگ اس کا احاطہ کریں گے آئیں گے۔ ان سے پوچھا گیا وہ کون لوگ ہوں گے؟ انہوں نے فرمایا کہ یہ ادھر ادھر سے آئیں گے۔ ابو حصین نے روایت بیان کرتے ہوئے اپنے ہاتھ سے مغرب کی طرف اشارہ کیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40121]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40121، ترقيم محمد عوامة 38493)