مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
3. ما ذكر في عثمان ﵁
سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے تذکرہ کے بیان میں
ترقیم عوامۃ: 38838 ترقیم الشثری: -- 40478
٤٠٤٧٨ - حدثنا يزيد بن هارون قال: اخبرنا سلام بن مسكين (١) قال: حدثني] (٢) -من راى عبد الله بن سلام يوم قتل عثمان يبكي ويقول: اليوم هلكت العرب (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) زاد في مراجع التخريج: (قال: حدثني مالك بن دينار).
(٢) سقط ما بين المعكوفين من: [أ].
(٣) مجهول، لإبهام شيخ سلام، أخرجه ابن سعد ٣/ ٨١، وابن شبه (٢٠٥٤)، وابن عساكر ٣٩/ ٤٨١.
سلام بن مسکین سے منقول ہے کہتے ہیں کہ مجھ سے راویت کیا ہے اس شخص نے جس نے عبداللہ بن سلام کو حضرت عثمان کے قتل کے دن روتے ہوئے دیکھا تھا وہ فرما رہے تھے آج عرب ہلاک ہوگئے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40478]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40478، ترقيم محمد عوامة 38838)
ترقیم عوامۃ: 38839 ترقیم الشثری: -- 40479
٤٠٤٧٩ - حدثنا ابو اسامة قال: حدثنا معتمر عن ابيه عن ابي نضرة عن ابي سعيد ان ناسا كانوا عند فسطاط عائشة فمر بهم عثمان، وارى ذلك بمكة، قال ابو سعيد: فما بقي احد منهم إلا (لعنه) (١) او سبه (٢) غيري، وكان فيهم رجل من اهل الكوفة، فكان عثمان على (الكوفي) (٣) اجرا منه على غيره، فقال: يا كوفي (اتسبني؟) (٤) اقدم المدينة، كانه يتهدده، قال: فقدم المدينة فقيل له: عليك بطلحة، فانطلق معه طلحة حتى اتى عثمان، فقال (عثمان) (٥) : والله لاجلدنك مائة، قال: فقال طلحة: والله لا تجلده مائة إلا ان يكون زانيا، (قال) (٦) : لاحرمنك (عطاءك) (٧) قال: فقال طلحة: إن الله (سيرزقه) (٨) (٩) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: (بعثه).
(٢) في [أ، ب]: زيادة (منهم).
(٣) في [أ، ب، جـ]: (الكوفة).
(٤) سقط من: [س].
(٥) سقط من: [س].
(٦) في [أ، ب، جـ، س]: (وقال).
(٧) في [جـ]: (عطاؤك).
(٨) في [ص، ع]: (سيرزقك).
(٩) صحيح؛ أخرجه إسحاق كما في المطالب العالية (١٨٧٦).
ابو سعید سے منقول ہے کہ لوگ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے خیمہ کے قریب جمع تھے کہ حضرت عثمان ان کے پا س سے گزرے راوی کہتے ہیں کہ میرا خیال ہے یہ مکہ کا واقعہ ہے ابو سعید کہتے ہیں میرے علاوہ وہاں موجود ہر شخص نے حضرت عثمان پر طعن وتشنیع کی۔ ان لوگوں میں ایک کوفی بھی تھا حضرت عثمان نے اس شخص پر جرأت کرتے ہوئے فرمایا اے کوفی کیا تو مجھے گالی دیتا ہے؟ تو مدینے آنا! گویا کہ حضرت عثمان نے دھمکی دی پس وہ شخص مدینے آیا تو اس سے کہا گیا کہ تم طلحہ کو لازم پکڑو۔ پس حضرت طلحہ اس کے ساتھ چلے یہاں تک کہ حضرت عثمان کی خدمت میں پہنچے حضرت عثمان نے فرمایا میں تم کو عطایا سے محروم کردونگا حضرت طلحہ نے فرمایا بیشک اللہ تعالیٰ رزق عطا کریگا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40479]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40479، ترقيم محمد عوامة 38839)
ترقیم عوامۃ: 38840 ترقیم الشثری: -- 40480
٤٠٤٨٠ - حدثنا غندر عن شعبة عن عمرو بن مرة قال: سمعت ذكوان ابا صالح يحدث عن صهيب مولى العباس قال: ارسلني العباس إلى عثمان ادعوه، قال: فاتيته فإذا هو (يغدي) (١) الناس، فدعوته فاتاه فقال: افلح الوجه ابا الفضل، قال: ووجهك امير المؤمنين، قال: ما زدت ان اتاني رسولك وانا (اغدي) (٢) الناس ⦗٤٢١⦘ (فغديتهم) (٣) ثم اقبلت، فقال العباس: اذكرك الله في علي فإنه ابن عمك، واخوك في دينك وصاحبك مع رسول الله ﷺ وصهرك، وإنه قد بلغني انك تريد ان (تقوم) (٤) بعلي واصحابه فاعفني من ذلك يا امير المؤمنين، فقال عثمان: انا (اول ما) (٥) (اجبتك) (٦) ان قد شفعتك ان عليا لو شاء ما كان احد دونه، ولكنه ابى إلا رايه، وبعث إلى علي فقال له: اذكرك الله في ابن عمك وابن عمتك واخيك في دينك وصاحبك مع رسول الله ﷺ وولي بيعتك، فقال: والله لو امرني ان اخرج من داري لخرجت، فاما ان اداهن ان لا يقام كتاب الله فلم اكن لافعل (٧) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [س]: (تعدي).
(٢) في [جـ، س]: (أغذي).
(٣) في [ب، س]: (فغذيتهم).
(٤) في [س]: (يقوم).
(٥) في [أ، ب، س، ط، هـ]: (أولى من).
(٦) في [س]: (أحبك)، وفي [هـ]: (أخيك).
(٧) مجهول؛ لجهالة صهيب مولى العباس، والخبر أخرجه البخاري في التاريخ الكبير ٤/ ٣١٦، والطبراني كما في مجمع الزوائد ٧/ ٢٠٨، والباجي في التعديل والتخريج ٣/ ١٠٠٧، وابن عساكر ٣٩/ ٢٦٣، وبعضه يعقوب في المعرفة ١/ ٢٨٠، والمزي ١٣/ ٢٤٠.
صہیب جو کہ عباس کے آزاد کردہ غلام ہیں سے منقول ہے عباس نے مجھے حضرت عثمان کے پاس بھیجا کہ میں ان کو بلا کر لاؤں۔ کہتے ہیں میں ان کے پاس آیا تو وہ لوگوں کو ناشتہ کروا رہے تھے میں نے ان کو بلایا پس و ہ آگئے اور فرمایا اے ابو الفضل آپکا چہرہ کامیاب رہے۔ حضرت عباس نے بھی فرمایا اے امیر المؤمنین آپ کا چہرہ بھی فلاح کو پائے پھر عرض کیا کہ آپ کا پیغام سنتے ہی چلا آیا صرف کھانا کھلایا ہے لوگوں کو۔ عباس نے فرمایا میں تم کو نصیحت کرتا ہوں علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں بیشک وہ آپ کے چچا کے بیٹے ہیں اور آپ کے ماموں کے بیٹے ہیں اور آپ کے دینی بھائی ہیں اور وہ آپ کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابی ہیں اور آپ کے ہم زلف ہیں۔ مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ آپ علی رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں کے مد مقابل کھڑا ہونا چاہتے ہیں۔ اے امیرالمؤمنین! اس کی معافی آپ مجھے دیدیں۔ حضرت عثمان نے فرمایا آپ کی اس بات کو قبول کیا اور آپ کی سفارش کو قبو ل کیا بیشک اگر علی رضی اللہ عنہ چاہے تو ان کے علاوہ کوئی نہ ہو مگر انہوں نے انکار کردیا سوائے رائے دینے کے پھر عباس نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو بلایا اور فرمایا کہ میں تم کو تمہارے چچا کے بیٹے کے بارے میں نصیحت کرتا ہوں جو تمہارا پھوپھی کا بیٹا ہے اور دینی بھائی ہے اور آپ کے ساتھ صحابیٔ رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہے اور آپ نے ان سے بیعت بھی کی ہوئی ہے حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اگر وہ مجھے گھر سے نکلنے کا حکم دیتے تو میں ضرور نکلتارہی بات ہدایت کی کہ اللہ کی کتاب کو قائم نہ کیا جائے تو میں ایسا نہیں کرسکتا۔ محمد بن جعفر فرماتے ہیں کہ اس کو میں نے بیشمار دفعہ سنا ہے اور ان پر کئی دفعہ پیش کیا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40480]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40480، ترقيم محمد عوامة 38840)
ترقیم عوامۃ: Not Found ترقیم الشثری: -- 40481
٤٠٤٨١ - قال محمد بن جعفر: سمعته ما لا احصي وعرضته عليه غير مرة.
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40481، ترقيم محمد عوامة ---)
ترقیم عوامۃ: 38841 ترقیم الشثری: -- 40482
٤٠٤٨٢ - قال: وحدثنا ابو بكر قال: حدثنا ابو اسامة قال: حدثنا إسماعيل (عن) (١) قيس قال: لما قدم معاوية وعمرو الكوفة اتى الحارث بن الازمع (عمرا) (٢) فخرج عمرو وهو راكب، فقال له الحارث: (جئت) (٣) في امر لو وجدتك على قرار لسالتك، فقال عمرو: ما كنت (لتسالني) (٤) عن شيء وانا على قرار إلا اخبرتك به ⦗٤٢٢⦘ الآن، قال: فاخبرني عن علي وعثمان، قال: فقال: اجتمعت السخطة والاثرة، فغلبت السخطة الاثرة، ثم سار (٥) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ط، هـ]: (بن).
(٢) في [س]: (عمروا).
(٣) في [ب، جـ]: (وجيت).
(٤) في [أ، ب، س]: (تسألني).
(٥) صحيح.
قیس سے منقول ہے جب معاویہ اور عمرو کوفہ آئے تو حارث بن ازمع عمرو کے پاس آئے۔ عمروسوار ہو کر نکل رہے تھے حارث نے انہیں کہا میں ایک کام آیا تھا اگر آپ تشریف فرما ہوتے تو میں آپ سے ایک سوال پوچھتا۔ حضرت عمرو نے فرمایا تم نے جو سوال کرنا ہے وہ کرلو، کیونکہ جس سوال کا جواب میں تمہیں بیٹھے ہونے کی حالت میں دے سکتا ہوں، اب بھی دے سکتا ہوں۔ حارث نے کہا کہ علی رضی اللہ عنہ اور عثمان کے بارے میں مجھے کچھ بتائیے۔ انہوں نے فرمایا غیظ و غضب اور خود غرضی ایک جگہ جمع ہوئے تھے پس غیظ و غضب خود غرضی پر غالب آگیا۔ پھر آپ چل دیے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40482]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40482، ترقيم محمد عوامة 38841)
ترقیم عوامۃ: 38842 ترقیم الشثری: -- 40483
٤٠٤٨٣ - حدثنا ابو اسامة قال: حدثنا كهمس قال: حدثني عبد الله بن شقيق قال: حدثني الاقرع قال: ارسل عمر إلى الاسقف، قال: فهو يساله وانا قائم عليهما (اظلهما) (١) من الشمس، فقال له: هل تجدنا في كتابكم؟ قال: نعتكم واعمالكم، قال: فما تجدني؟ قال: اجدك قرن (حديد) (٢) [قال: (فنفط) (٣) عمر وجهه وقال: قرن (حديد؟) (٤) ] (٥) قال: امين شديد، قال: فكانه فرح بذلك، قال: فما تجد بعدي؟ (قال) (٦) : [خليفة صدق يؤثر اقربيه، قال: (فقال) (٧) عمر: يرحم الله ابن عفان، قال: فما تجد بعده؟] (٨) قال: صدع حديد، قال: (وفي) (٩) يد عمر شيء يقلبه، قال: فنبذه وقال: يا (دفراه) (١٠) ! مرتين او ثلاثا، (فقال) (١١) : لا تقل (ذلك) (١٢) يا امير المؤمنين فإنه خليفة مسلم ورجل صالح، ولكنه يستخلف والسيف ⦗٤٢٣⦘ مسلول والدم مهراق، قال: ثم التفت إلي وقال: الصلاة (١٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ب]: (ظلهما)، وفي [هـ]: (أظلمهما).
(٢) في [أ، ب]: (جديد).
(٣) في [هـ]: (فنقط)، وفي [ص]: (فنقر).
(٤) في [أ، ب]: (جديد).
(٥) سقط ما بين المعكوفين من: [س].
(٦) سقط من: [س].
(٧) في [جـ، س]: (يقول).
(٨) سقط ما بين المعكوفين من: [أ، ب].
(٩) في [س]: (وافي).
(١٠) أي: رائحته المنتنة، كما في غريب الحديث لأبي عبيد ٣/ ٥٤، وفي [أ، ب، هـ]: (ذفراه)، وهو مؤخر الرأس وأصل الأذن.
(١١) في [أ]: (وقال).
(١٢) في [أ، ب، جـ، س]: (ذاك).
(١٣) صحيح؛ أخرجه أبو داود (٤٦٥٦)، وابن أبي عاصم في الآحاد (١٠٧)، وابن عساكر ٣٩/ ١٨٩، وابن شبه في تاريخ المدينة (١٨٨٨)، واللالكائي (٢٦٥٨)، ونعيم بن حماد في الفتن (٣٠٠).
اقرع بن حابس بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر نے ایک پادری کو بلایا حضرت عمر ان سے سوال کر رہے تھے اور میں ان دونوں پر سایہ کر رہا تھا حضرت عمر نے اس سے کہا کیا آپ اپنی کتابوں میں ہمارا تذکرہ پاتے ہیں؟ اس نے کہا ہاں تمہاری صفات اور اعمال کا تذکرہ ہے حضرت عمر نے پوچھا وہ کیا؟ اس نے کہا میں آپ کو لوہے کا سینگ پاتا ہوں حضرت عمر اس بات سے ذرا پریشان ہوئے پھر پوچھا قرن حدید کیا ہے؟ تو پادری نے جواب دیا سخت امانتدار۔ اس بات سے عمر خوش ہوئے۔ پھر کہنے لگے میرے بعد کیا پاتے ہو تو اس نے جواب دیا سچا خلیفہ جو اپنے اقرباء کو ترجیح د ے گا۔ حضرت عمر نے فرمایا اللہ ابن عفان پر رحم کرے۔ پھر حضرت عمر نے پوچھا اس کے بعد آپ کیا پاتے ہیں؟ اس نے کہا لوہے میں شگاف۔ حضرت عمر کے ہاتھ میں کوئی شے تھی جس کے ذریعے الٹ پلٹ کر رہے تھے حضرت عمر نے اسے پھینکا اور دو یا تین دفعہ یہ فرمایا ”یا دفرا“ (اے رسوا ہونے والے) پادری نے کہا آپ اس طرح نہ کہیے اے امیرالمؤمنین! کیونکہ وہ مسلمان خلیفہ ہوگا اور نیک آدمی ہوگا لیکن وہ ایسی حالت میں خلیفہ بنے گا جب تلوار ننگی ہوگی اور خون بہہ رہا ہوگا۔ پھر حضرت عمر میری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا نماز کے لیے چلو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40483]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40483، ترقيم محمد عوامة 38842)
ترقیم عوامۃ: 38843 ترقیم الشثری: -- 40484
٤٠٤٨٤ - حدثنا وكيع عن يحيى بن ابي الهيثم عن يوسف بن عبد الله بن سلام عن ابيه قال: لا تسلوا سيوفكم فلئن سللتموها لا (تغمد) (١) إلى يوم القيامة، وقال: انظروني ثماني عشرة -يعني يوم عثمان (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ط، هـ]: (تعمد).
(٢) صحيح؛ أخرجه ابن جرير في التاريخ ٢/ ٦٧٥، وابن عساكر ٣٩/ ٤٣٩.
عبداللہ بن سلام سے منقول ہے کہ انہوں نے فرمایا تم اپنی تلواریں نہ کھینچو، اگر تم تلواریں کھونچَ گے تو قیامت تک یہ نیا م میں نہ جائیں گی پھر فرمایا مجھے اٹھارہ دن کی مہلت دے دو یعنی حضرت عثمان کی شہادت کے دن تک (کیونکہ یہ خود وفات پاجائیں گے) [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40484]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40484، ترقيم محمد عوامة 38843)
ترقیم عوامۃ: 38844 ترقیم الشثری: -- 40485
٤٠٤٨٥ - حدثنا بن المبارك عن بن (لهيعة) (١) يزيد بن ابي حبيب قال: قال كعب: كاني انظر إلى هذا وفي يديه (شهابان) (٢) من نار -يعني قاتل عثمان، فقتله.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ب]: (مهيعة).
(٢) في [ع]: (سهامان).
حضرت کعب فرماتے ہیں کہ میں ان کے عثمان کے قاتل کی طرف دیکھ رہا تھا اس کے ہاتھ میں آگ کے دو انگارے ہیں پس اس نے حضرت عثمان کو قتل کردیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40485]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40485، ترقيم محمد عوامة 38844)
ترقیم عوامۃ: 38845 ترقیم الشثری: -- 40486
٤٠٤٨٦ - حدثنا (عفان) (١) قال: حدثني معتمر بن سليمان التيمي قال: سمعت ابي قال: حدثنا ابو نضرة عن ابي سعيد مولى ابي اسيد الانصاري قال: سمع عثمان ان وفد اهل مصر قد اقبلوا، فاستقبلهم فكان في قرية خارجا من المدينة، او كما قال، قال: فلما سمعوا (به) (٢) اقبلوا نحوه إلى المكان الذي هو فيه، قال: اراه قال: (وكره) (٣) ان يقدموا عليه المدينة، او نحوا من ذلك. فاتوه (فقالوا) (٤) : ادع بالمصحف، فدعا بالمصحف (فقالوا) (٥) : ⦗٤٢٤⦘ (افتح) (٦) السابعة، وكانوا (يسمون) (٧) سورة يونس السابعة، فقراها حتى إذا اتى على هذه الآية: ﴿قل ارايتم ما انزل الله لكم من رزق فجعلتم منه حراما وحلالا قل آلله اذن لكم ام على الله تفترون﴾ [يونس: ٥٩] قالوا: ارايت ما حميت من الحمى: آلله اذن لك به ام على الله (تفتري؟) (٨) فقال: امضه، (انزلت) (٩) في كذا وكذا، واما الحمى فإن عمر حمى الحمى (قبلي) (١٠) لإبل الصدقة؛ فلما وليت زادت إبل الصدقة فزدت في الحمى لما زاد من إبل الصدقة، (امضه) (١١) ، فجعلوا ياخذونه بالآية فيقول: امضه، نزلت في كذا وكذا. والذي يلي كلام عثمان يومئذ في سنك، يقول: ابو نضرة يقول لي ذلك ابو سعيد: قال ابو نضرة: وانا في سنك يومئذ، قال: ولم يخرج وجهي -او لم (يستو) (١٢) وجهي- يومئذ، لا ادري لعله قال مرة اخرى: وانا يومئذ في ثلاثين سنة. ثم اخذوه باشياء لم يكن عنده منها نحرج، فعرفها فقال: استغفر الله واتوب إليه، فقال لهم: (ما تريدون؟) (١٣) فاخذوا ميثاقه، قال: واحسبه قال: وكتبوا عليه شرطا، قال: واخذ عليهم، ان لا يشقوا (عصى) (١٤) ولا يفارقوا جماعة ما اقام لهم بشرطهم او كما اخذوا عليه. ⦗٤٢٥⦘ فقال لهم: ما تريدون؟ فقالوا: نريد ان لا ياخذ اهل المدينة عطاء، فإنما هذا المال لمن قاتل عليه ولهذه الشيوخ من اصحاب محمد ﷺ [فرضوا. واقبلوا معه إلى المدينة راضين، فقام فخطب فقال: والله إني ما رايت (وفدا هم) (١٥) خير (لحوباتي) (١٦) من هذا الوفد (الذين) (١٧) قدموا علي، وقال مرة اخرى: حسبت انه قال: من هذا الوفد من اهل مصر، الا من كان له زرع فليلحق بزرعه، ومن كان له ضرع (فليحتلب) (١٨) ، إلا إنه لا مال لكم عندنا، إنما هذا المال لمن قاتل عليه، ولهذه الشيوخ من اصحاب محمد ﷺ] (١٩) ، فغضب الناس (وقالوا) (٢٠) : (هذا) (٢١) مكر بني امية. ثم رجع الوفد المصريون راضين، فبينما هم في الطريق (إذا هم) (٢٢) براكب يتعرض لهم ثم يفارقهم ثم يرجع إليهم (ثم يفارقهم) (٢٣) ويسبهم، فقالوا له: إن لك لامرا، ما شانك؟ قال: انا رسول امير المؤمنين إلى عامله بمصر ففتشوه فإذا (بكتاب) (٢٤) على لسان عثمان، (عليه) (٢٥) خاتمه إلى عامل مصر: ان (٢٦) يقتلهم او يقطع ايديهم وارجلهم. ⦗٤٢٦⦘ فاقبلوا حتى قدموا المدينة، فاتوا عليا فقالوا: الم تر إلى عدو الله، امر فينا بكذا وكذا، والله قد (احل) (٢٧) دمه (قم معنا) (٢٨) إليه، فقال: لا والله، لا اقوم معكم، قالوا: فلم كتبت إلينا؟ قال: لا والله ما كتبت إليكم كتابا قط. قال: فنظر بعضهم إلى بعض، ثم قال بعضهم لبعض: الهذا تقاتلون او لهذا (تغضبون) (٢٩) ، وانطلق علي فخرج من المدينة إلى قرية -او قرية له-. فانطلقوا حتى دخلوا على عثمان فقالوا: (كتبت) (٣٠) فينا بكذا وكذا، فقال: إنما هما (اثنتان) (٣١) ان تقيموا علي رجلين من المسلمين او (يمينا) (٣٢) بالله الذي لا إله إلا هو، ما كتبت ولا امليت، وقد تعلمون ان الكتاب يكتب على لسان الرجل (٣٣) ينقش الخاتم على الخاتم، فقالوا له: قد والله احل الله (دمك) (٣٤) ، ونقض العهد والميثاق. قال: (فحصروه) (٣٥) في القصر، فاشرف عليهم فقال: السلام عليكم، قال: فما (اسمع) (٣٦) احدا رد السلام إلا ان يرد رجل في نفسه، فقال: انشدكم بالله، هل علمتم اني اشتريت رومة (بمالي) (٣٧) (لاستعذب) (٣٨) بها، فجعلت رشائي فيها ⦗٤٢٧⦘ كرشاء رجل من المسلمين، فقيل: نعم، فقال: (فعلام) (٣٩) تمنعوني ان (اشرب) (٤٠) منها حتى افطر (على) (٤١) ماء البحر، قال: انشدكم بالله، هل علمتم اني اشتريت (كذا وكذا) (٤٢) من الارض (فزدته) (٤٣) في المسجد؟ قيل: نعم، قال: فهل علمتم احدا من الناس منع ان يصلي فيه، (قيل: نعم) (٤٤) ، قال: فانشدكم بالله هل سمعتم نبي الله ﵇ (٤٥) (فذكر) (٤٦) (كذا وكذا) (٤٧) شيئا من شانه، وذكر ارى (كتابة) (٤٨) (المفصل) (٤٩) . قال: ففشا النهي، وجعل الناس يقولون: مهلا عن امير المؤمنين، وفشا النهي وقام الاشتر، فلا ادري يومئذ ام يوما آخر فقال: (لعله) (٥٠) قد مكر به وبكم، قال: فوطئه الناس حتى (لقي) (٥١) كذا وكذا. ثم إنه (اشرف) (٥٢) عليهم مرة اخرى فوعظهم وذكرهم، فلم تاخذ ⦗٤٢٨⦘ (فيهم) (٥٣) الموعظة، وكان الناس تاخذ فيهم الموعظة اول ما يسمعونها، فإذا اعيدت عليهم لم تاخذ فيهم الموعظة. ثم فتح الباب ووضع المصحف بين يديه (٥٤) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [س]: (عثمان).
(٢) في [أ]: (إليه).
(٣) في [س]: (ذكره).
(٤) في [أ، ب]: (وقالوا)، وفي [جـ]: (فقال).
(٥) في [أ، ب]: (فقال).
(٦) في [أ، ب]: (افتتح).
(٧) في [أ، ب]: (يسمعون).
(٨) في [ب]: (يفتري).
(٩) في [أ، ب]: (نزلت).
(١٠) في [جـ، س]: (قبل).
(١١) سقط من: [جـ، س].
(١٢) في [أ، ب]: (يسبق).
(١٣) في [س]: (ما يريدون).
(١٤) في [أ، ب]: (غصًا).
(١٥) في [ب، جـ، س]: (وافد)، وفي [هـ]: (وفد أهم).
(١٦) في [ب]: (لحواباتي)، وفي [ع]: (لحبواتي).
(١٧) في [ب]: (الذي).
(١٨) في [ب]: (فلتحتلب).
(١٩) سقط ما بين المعكوفين من: [أ].
(٢٠) في [جـ]: (وقال).
(٢١) سقط من: [أ، ب، جـ، س].
(٢٢) سقط من: [ط، هـ].
(٢٣) في [ب]: (ليفارفهم).
(٢٤) في [أ، ب، جـ، س]: (بالكتاب).
(٢٥) في [جـ، س]: (قلبه)، وسقط من: [أ].
(٢٦) في [هـ]: زيادة (يصلبهم أو).
(٢٧) في [أ، ب]: (أجل).
(٢٨) في [أ، ب، جـ، س]: (فرجعنا).
(٢٩) في [أ، ب، س]: (تعصبون).
(٣٠) في [ب]: (اكتبت).
(٣١) في [أ، ب]: (اثنتين).
(٣٢) في [ط، هـ]: (يميني).
(٣٣) في [هـ]: زيادة (وقد).
(٣٤) في [ع]: (دمه).
(٣٥) في [أ، ب، جـ، س]: (حصروه).
(٣٦) في [ب]: (استمع).
(٣٧) في [س]: (بماتي).
(٣٨) في [أ، ب]: (لأسعدت).
(٣٩) في [أ، ب]: (علام).
(٤٠) في [أ، ب]: (شرب).
(٤١) في [جـ]: (حتى).
(٤٢) في [س]: (كذا كذا).
(٤٣) في [أ، ب]: (فرددته).
(٤٤) في المراجع: (قبلي).
(٤٥) في [أ، ب، جـ]: ﷺ.
(٤٦) في [أ، ب، جـ، س]: (يذكر).
(٤٧) في [أ]: (كذا أو كذا).
(٤٨) في [جـ]: (كتاه).
(٤٩) في [أ، ب]: (المفضل)، وفي [جـ]: (الفضل).
(٥٠) في [أ، ب]: (له).
(٥١) في [أ، ب، جـ]: (بقى).
(٥٢) سقط من: [س]، وفي [أ، ب]: (شرف).
(٥٣) في [أ، ب]: (فيهما).
(٥٤) صحيح؛ أبو سعيد وثقه الهيثمي في مجمع الزوائد ٧/ ٢٢٩، وابن حجر في المطالب العالية ١٨/ ٤٧، وقال ابن منده في فتح الباب ١/ ٣٦٢: "له صحبة"، أخرج بعضه أحمد في فضائل الصحابة (٧٦٦)، وابن خزيمة (٢٤٩٣)، وابن حبان (٦٩١٩)، والبزار (٣٨٩)، وإسحاق (٨٥٩)، وكما في المطالب العالية (٤٣٧٢)، وابن جرير في التاريخ ٢/ ٦٥٥، في كتاب المصاحف (١) والآجري (١٤٧٣)، والبيهقي ٦/ ١٤٧، وابن عساكر ٣٩/ ٢٥٧، وأبو الشيخ في طبقات أصفهان (١٦٢)، وابن شبه (١٩٧١) و (١٩٨٠)، والطحاوي في شرح المشكل (٥٠١٨)، واللالكائي (٢٥٩٥).
ابو سعید سے منقول ہے کہ حضرت عثمان سے سنا کہ مصر کا وفد آیا ہے پس حضر ت عثمان نے ان کا استقبال کیا وہ مدینہ سے باہر ایک بستی میں تھے راوی کہتے ہیں کہ میرا خیال ہے کہ حضرت عثمان اس بات کو ناپسند کرتے تھے کہ وہ مدینہ میں ان کے پاس حاضر ہوں یا اس طرح کا کوئی امر تھا۔ پس اہل مصر ان کے پاس آئے اور کہنے لگے کہ آپ صحیفہ منگوائیے تو انہوں نے صحیفہ منگوا لیا پھر کہنے لگے اس کو کھولیے اور سابعہ نکالیے وہ سور یونس کو سابعہ کا نام دیتے تھے پس حضرت عثمان نے پڑھنا شروع کیا اس آیت پر پہنچے: { قُلْ أَرَأَیْتُمْ مَا أَنْزَلَ اللَّہُ لَکُمْ مِنْ رِزْقٍ فَجَعَلْتُمْ مِنْہُ حَرَامًا وَحَلاَلاً قُلْ آللَّہُ أَذِنَ لَکُمْ أَمْ عَلَی اللہِ تَفْتَرُونَ } (آپ کہہ دیجیے تم بتاؤ کہ اللہ تعالیٰ نے جو رزق اتارا پھر اس میں سے تم نے حرام اور حلال بنا لیا آپ کہہ دیں کیا تمہیں اللہ نے اجازت دی یا اللہ پر تم بہتان باندھتے ہو) حضرت عثمان نے فرمایا پس اسے چھوڑو یہ آیت فلاں فلاں امر میں اتری ہے بہر حال آپ چراگاہ کی جو بات کر رہے ہیں تو مجھ سے پہلے حضرت عمر نے صدقہ کے اونٹوں کے لیے چراگاہ مقرر کی تھی۔ پھر جب مجھے والی بنایا گیا تو صدقہ کے اونٹ بڑھ گئے، میں نے چراگاہ کو بھی وسعت دیدی اونٹوں کی کثرت کے پیش نظر۔ پس اہل مصر آیتوں سے دلیل پکڑتے رہے اور حضرت عثمان فرماتے رہے کہ اسے چھوڑو اور کہتے رہے یہ آیت فلاں فلاں واقعہ میں اتری ہے۔ جو حضرت عثمان سے کلام کررہا تھا وہ آپ کی عمر کا تھا، ابو نضرہ فرماتے ہیں کہ یہ بات مجھے ابو سعیدنے بتائی، ابو نضرہ فرماتے ہیں کہ میں اس دن تمہاری عمر کا تھا کہتے ہیں میرے چہرے پر مکمل جوانی کے اثرات ظاہر نہ ہوئے تھے یا یوں فرمایا کہ میں اچھی طرح جوان نہ ہوا تھا۔ میں نہیں جانتا کہ انہوں نے دوسری دفعہ فرمایا ہو میں اس دن تیس سال کا تھا۔ پھر انہوں نے حضرت عثمان سے ایسے اعتراضات کیے جن سے وہ چھٹکارا نہ پا سکے اور حضرت عثمان نے ان چیزوں کی حقیقت کو اچھی طرح پہچان لیا پھر فرمایا میں اللہ سے مغفرت طلب کرتا ہوں اور اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں۔ پھر ان سے فرمایا تم کیا چاہتے ہو؟ پھر انہوں نے حضرت عثمان سے ایک عہد لیا راوی کہتے ہیں میرا خیال ہے انہوں نے کچھ شرائط بھی طے کیں اور حضرت عثمان نے ان سے عہد لیا کہ وہ مسلمانوں کی قوت کو فرو نہ کریں گے اور نہ ہی مسلمانوں میں تفرقہ پھلائیں گے جب تک کہ میں شرائط پر قائم رہوں گا۔ پھر حضر ت عثمان نے فرمایا تم اور کیا چاہتے ہو تو انہوں نے کہا ہم یہ چاہتے ہیں کہ اہل مدینہ عطا یا نہ لیں کیونکہ یہ مال تو صرف قتال کرنے والوں اور اصحاب محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ہے پس وہ راضی ہوگئے اور حضرت عثمان کے ساتھ مدینہ آئے پس حضرت عثمان کھڑے ہوئے اور خطبہ دیا اور فرمایا اللہ کی قسم میں نے اس وفد سے بہتر کوئی وفد نہیں دیکھا جو میری حاجت کے لیے اس سے بہتر ہو۔ اور پھر دوسری مرتبہ یہی فرمایا۔ راوی کہتے ہیں کہ میرا خیال ہے کہ اس کے شرکاء اہل مصر ہیں سنو جس کے پاس کھیتی ہے وہ اپنی کھیتی باڑی کرے اور جس کے پاس دودھ والا جانور ہے وہ اس کا دودھ نکال کر گزارا کرے میرے پاس تمہارے لیے کوئی مال نہیں۔ اور مال مجاہدین اور اصحاب محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے ہے پس لوگ غصے ہوئے اور کہنے لگے یہ بنوامیہ کا فریب ہے۔ پھر مصری وفد بخوشی واپس لوٹ گیا۔ راستے میں تھے کہ ایک سوار ان کے پاس آیا پھر ان سے جدا ہوگیا پھر ان کی طرف لوٹا اور جدا ہوگیا اور ان کو برا بھلا کہا۔ تو انہوں نے ا س سے کہا تمہارا کیا معاملہ ہے؟ اس نے کہا امیر المؤ منین کی طرف سے مصر کے گورنر کی طرف سفیر ہوں پس اس وفد نے تحقیق کی تو اس کے پاس سے ایک خط نکلا جو حضرت عثمان کی طرف سے تھا اس پر مہر بھی حضرت عثمان کی تھی اور مصر کے گورنر کو یہ پیغام لکھا تھا کہ وہ اس وفد کو قتل کردے یا ان کے ہاتھ پاؤں کاٹ دیے جائیں۔ پس وہ وفد واپس لوٹا اور مدینہ پہنچا اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان سے کہا تم اللہ کے دشمن کی طرف نہیں دیکھتے جس نے ہمارے بارے میں اس طرح کا حکم جاری کیا ہے، اللہ نے اس کا خون حلال کردیا ہے آپ ہمارے ساتھ چلیے مگر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا اللہ کی قسم میں تمہارے ساتھ ہرگز نہیں جاؤنگا، اہل وفد نے حضرت عثمان سے پوچھا آپ نے ہمارے لیے یہ خط کیوں لکھا تو حضرت عثمان نے جواب دیا اللہ کی قسم میں نے تمہارے لیے کوئی خط نہیں لکھا، پس وہ ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے، اور ایک دوسرے کو کہنے لگے کیا اس وجہ سے تم قتال کروگے؟ کیا اس وجہ سے تم غیظ و غضب میں مبتلا ہو؟ حضرت علی رضی اللہ عنہ مدینہ سے نکل کر ایک بستی کی طرف چلے گئے۔ پس وہ چلے اور حضرت عثمان کے پاس پہنچے اور کہنے لگے کہ آپ نے ہمارے بارے میں اس طرح کیوں لکھا۔ حضرت عثمان نے فرمایا کہ تب دو ہی چیزیں ہیں ایک یہ کہ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40486]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40486، ترقيم محمد عوامة 38845)
ترقیم عوامۃ: Not Found ترقیم الشثری: -- 40487
٤٠٤٨٧ - ١٥. قال: فحدثنا الحسن ان محمد بن ابي (بكر) (١) دخل عليه فاخذ بلحيته، فقال له عثمان: لقد اخذت مني (ماخذا) (٢) -او قعدت مني مقعدا- ما كان ابو بكر لياخذه -او ليقعده-، قال: فخرج وتركه (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [أ، ب].
(٢) في [هـ]: (مأخذ).
(٣) منقطع؛ الحسن لم يدرك ذلك.
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40487، ترقيم محمد عوامة ---)