مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
3. ما ذكر في عثمان ﵁
سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے تذکرہ کے بیان میں
ترقیم عوامۃ: 38819 ترقیم الشثری: -- 40458
٤٠٤٥٨ - حدثنا ابن إدريس عن هشام عن ابن سيرين قال: جاء زيد بن ثابت إلى عثمان فقال: هذه الانصار بالباب، قالوا: إن شئت ان (نكون) (١) انصارا لله ⦗٤١٠⦘ مرتين، قال: اما قتال فلا (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (تكون).
(٢) منقطع؛ ابن سيرين لا يروي عن عثمان، أخرجه ابن سعد ٣/ ٧٠، وابن عساكر ٣٩/ ٣٩٥، ونعيم في الفتن (٤٥٦)، وأبو العرب في المحن ص ٨٢.
حضرت محمد بن سیرین سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ زید بن ثابت حضرت عثمان کے پاس آئے اور عرض کیا یہ انصار دروازے پر ہیں ان انصار نے عرض کیا اگر آپ چاہیں تو ہم اللہ کے (دین کے) مددگار بننے کو ایک بار پھر تیار ہیں۔ حضرت عثمان نے فرمایا رہا قتال تو وہ نہیں ہوگا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40458]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40458، ترقيم محمد عوامة 38819)
ترقیم عوامۃ: 38820 ترقیم الشثری: -- 40459
٤٠٤٥٩ - حدثنا عبد الله بن إدريس عن إسماعيل عن قيس عن سعيد بن زيد (قال) (١) : لقد رايتني (موثقي) (٢) عمر و (اخته) (٣) على الإسلام، ولو ارفض احد مما صنعتم (بعثمان) (٤) كان (حقيقا) (٥) (٦) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ]: (وقال).
(٢) في [أ، ب، جـ، ح، س، ط]: (موثق).
(٣) في [هـ]: (أخيه).
(٤) سقط من: [جـ].
(٥) في [ب]: (حنيفًا).
(٦) صحيح؛ أخرجه البخاري (٢٦٤٩)، وابن شبه (٢١٩٤).
حضرت سعید بن زید سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ میں اپنے آپ کو اور عمر کی بہن کو دیکھا کہ عمر اسلام کی وجہ سے دونوں کو باندھنے والے تھے اور اگر پہاڑ ریزہ ریزہ ہوجاتا اس بات سے جو تم حضرت عثمان کے ساتھ کی تو وہ اس کا حقدار ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40459]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40459، ترقيم محمد عوامة 38820)
ترقیم عوامۃ: 38821 ترقیم الشثری: -- 40460
٤٠٤٦٠ - حدثنا غندر عن شعبة قال: سمعت سماك بن حرب قال: سمعت حنظلة بن (قنان) (١) ابا محمد (من) (٢) بني عامر بن ذهل قال: اشرف علينا عثمان من كوة وهو محصور فقال: افيكم ابنا (مجدوح؟) (٣) فلم يكونا ثم، كانا نائمين، (فاوقظا) (٤) فجاءا، فقال لهما عثمان: اذكركما الله، الستما (تعلمان) (٥) [ان عمر قال: إنما ربيعة فاجر او غادر، فإني والله لا اجعل (فرائضهم) (٦) وفرائض قوم جاءوا ⦗٤١١⦘ من مسيرة شهر، فهاجر احدهم عند (طنبه) (٧) ، ثم زدتهم في غداة واحدة خمسمائة خمسمائة، حتى الحقتهم بهم؟ قالا: بلى، قال] (٨) : اذكركما الله الستما تعلمان (انكما) (٩) اتيتماني فقلتما: إن كندة اكلة راس وإن ربيعة هم الراس وان الاشعث ابن قيس قد اكلهم (فنزعته) (١٠) واستعملتكما؟ قالا: بلى، قال: اللهم (اللهم) (١١) ، إن (كانوا كفروا) (١٢) معروفي وبدلوا نعمتي فلا (ترضهم) (١٣) عن إمام ولا ترض الإمام عنهم (١٤) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [س، هـ]: (فتان)، وفي [أ]: (فنان).
(٢) في [هـ]: (مني).
(٣) في [س]: (محدوج).
(٤) في [أ، ب]: (فأيقظا).
(٥) في [جـ]: (علمان)، وفي [أ]: (تعلماني).
(٦) في [س]: (فرائضكم).
(٧) في [س]: (طيبة).
(٨) سقط ما بين المعكوفين من: [أ، ب].
(٩) في [س]: (أبكما).
(١٠) في [جـ]: (فزعته)، وفي [س]: (ففزعته).
(١١) سقط من: [أ، ب، جـ].
(١٢) في [ع]: (كانا كفرا).
(١٣) في [ب، جـ]: (رضهم).
(١٤) مجهول؛ لجهالة حنظلة بن قنان، أخرجه خليفة في التاريخ (١٧١)، وابن عساكر ٣٩/ ٣٤٧.
حضرت حنظلہ بن قنان ابو محمد جو بنی عامر بن ذھل سے تھے ان سے روایت ہے ارشاد فرمایا کہ حضرت عثمان نے روشندان سے ہماری طرف جھانکا جبکہ وہ محصور تھے اور فرمایا کیا تم میں محدوج کے دو بیٹے ہں ن وہ وہاں نہ تھے سوئے ہوئے تھے ان کو جگایا گیا وہ دونوں آئے اور ان دونوں سے حضرت عثمان نے کہا میں تم دونوں کو اللہ کا واسطہ دیتا ہوں کیا تم دونوں جانتے نہیں ہو کہ حضرت عمر نے کہا تھا کہ کہ ربیعہ فاجر ہیں یا فرمایا تھا دھوکے باز ہیں اور میں ایک مہینے کی مسافت سے آنے والی قوم والا عطیہ نہیں کرسکتا ہوں ان کے ہجرت کا مقام تو ان کے خیمے کی رسی کے پاس ہے (یعنی یہ قریب سے ہجرت کرنے والے ہیں) پھر میں نے ایک صبح میں ان کے عطیہ میں پانچ پانچ سو زیادہ کیا یہاں تک کہ میں نے ان کو ان کے ساتھ ملا دیا ان دونوں نے کہا کیوں نہیں (ایسا ہوا) حضرت عثمان نے فرمایا میں تمہیں اللہ کا واسطہ دیتا ہوں کیا تم یہ نہیں جانتے کہ تم میرے پاس آئے تھے اور تم دونوں نے کہا تھا کہ کندہ اور ربیعہ ان پر اشعث بن قیس غالب تھا میں نے ان کو ان سے چھڑوایا اور تم دونوں کو ان پر عامل مقرر کیا انہوں نے کہا کیوں نہیں ایسا ہی ہے۔ حضرت عثمان نے فرمایا اے اللہ! اگر وہ میری نیکی کی ناشکری کریں اور نعمت کو بدل دیں تو اے اللہ تو ان کو کسی امام سے راضی نہ کر اور نہ امام کو ان سے راضی کر۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40460]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40460، ترقيم محمد عوامة 38821)
ترقیم عوامۃ: 38822 ترقیم الشثری: -- 40461
٤٠٤٦١ - حدثنا ابو معاوية عن حجاج الصواف عن حميد بن هلال عن يعلى ابن الوليد عن جندب الخير قال: اتينا حذيفة حين (سار) (١) المصريون إلى عثمان فقلنا: إن هؤلاء قد ساروا إلى هذا الرجل فما تقول؟ قال: يقتلونه -والله-؛ قال: قلنا: (اين) (٢) هو؟ قال: (في) (٣) الجنة والله؛ قال: قلنا: فاين قتلته؟ قال: في النار والله (٤) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [س]: (صار).
(٢) في [أ، ب، جـ، س]: (فأين).
(٣) في [ب]: (هو في).
(٤) مجهول؛ لجهالة يعلي بن الوليد، أخرجه يعقوب في المعرفة ٣/ ٨٣، وابن عساكر ٣٩/ ٣٨٣، ونعيم بن حماد في الفتن (٢٧).
جندب خیر سے منقول ہے کہتے ہیں کہ ہم حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے جب مصری حضرت عثمان کی طرف جا چکے تھے۔ ہم نے عرض کیا! یہ لوگ اس شخص (حضرت عثمان) کی طرف گئے ہیں آپ کا اس بارے میں کیا خیال ہے؟ انہوں نے فرمایا اللہ کی قسم یہ ان کو قتل کر ڈالیں گے ہم نے پھر عرض کیا کہ آخرت میں حضرت عثمان کا کیا معاملہ ہوگا تو انہوں نے فرمایا وہ جنت میں جائیں گے اللہ کی قسم۔ پھر ہم نے کہا کہ ان کے قاتل؟ تو انہوں نے فرمایا اللہ کی قسم وہ جہنم میں جائیں گے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40461]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40461، ترقيم محمد عوامة 38822)
ترقیم عوامۃ: 38823 ترقیم الشثری: -- 40462
٤٠٤٦٢ - حدثنا ابو اسامة قال: حدثنا حماد بن زيد عن يزيد بن حميد ابي التياح عن عبد الله بن ابي (الهذيل) (١) قال: لما جاء قتل عثمان قال حذيفة: اليوم نزل الناس حافة الإسلام، فكم من مرحلة قد ارتحلوا عنه (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ق]: (المنهال).
(٢) صحيح الإسناد؛ لكن رواه ابن سعد ٣/ ٣٧٣، وابن شبه في أخبار المدينة (١٦٢٤) فجعلوه في مقتل عمر.
عبداللہ بن ابی ہذیل سے منقول ہے کہ جب حضرت عثمان کی شہادت کی خبرآئی تو حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا آج لوگ اسلام کے کنارے پر اتر آئے۔ پس کتنے مرحلے ہیں جو اس قتل سے انہوں نے عبور کرلیے۔ ابن ابی ہذیل نے فرمایا اللہ کی قسم یہ لوگ راہ اعتدال سے منحرف ہوگئے یہاں تک کہ ان کے اور ان کے درمیان ایسی پیچیدگی ہے کہ نہ تو اس کی ہدایت پاسکیں گے اور نہ ہی یہ اس کو جان پائیں گے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40462]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40462، ترقيم محمد عوامة 38823)
ترقیم عوامۃ: Not Found ترقیم الشثری: -- 40463
٤٠٤٦٣ - قال: وقال ابن ابي الهذيل: والله لقد جار هؤلاء القوم عن القصد حتى إن بينه وبينهم وعورة ما يهتدون له وما يعرفونه.
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40463، ترقيم محمد عوامة ---)
ترقیم عوامۃ: 38824 ترقیم الشثری: -- 40464
٤٠٤٦٤ - قال: وحدثنا ابو بكر قال: حدثنا عبد الله بن إدريس عن حصين عن ابي وائل شقيق بن سلمة عن خالد العبسي عن حذيفة وذكر عثمان فقال: اللهم (لم) (١) اقتل (ولم آمر ولم ارض) (٢) (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [أ، ب]، وفي [جـ]: (لهم).
(٢) سقط من: [أ]، وفي [ب]: (ألم أرض عن ولم أرض).
(٣) مجهول؛ لجهالة خالد العبسي، وأخرجه ابن شبه (٢٢١١).
خالد عبسی سے منقول ہے کہ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے حضرت عثمان کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا! اے میرے اللہ نہ میں نے قتل کیا اور نہ ہی میں نے اس کا حکم دیا اور نہ ہی میں اس سے راضی ہوں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40464]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40464، ترقيم محمد عوامة 38824)
ترقیم عوامۃ: 38825 ترقیم الشثری: -- 40465
٤٠٤٦٥ - حدثنا عبد الله بن إدريس عن ليث عن عبد العزيز بن رفيع قال: لما سار علي إلى صفين استخلف ابا مسعود على الناس فخطبهم في يوم جمعة فراى فيهم قلة، فقال: ايها الناس اخرجوا فمن خرج فهو آمن، إنا والله [نعلم ان منكم (الكاره لهذا) (١) (الامر) (٢) و (المتثاقل) (٣) (عنه) (٤) فاخرجوا، فمن خرج فهو آمن، (إنا) (٥) ⦗٤١٣⦘ والله] (٦) ما (نعدها) (٧) عافية ان يلتقي هذان (الغاران) (٨) يتقي احدهما (صاحبه) (٩) ولكنها نعدها عافية ان يصلح الله امة محمد (١٠) ويجمع الفتها، الا اخبركم عن عثمان وما (نقم) (١١) الناس عليه، إنهم (لن) (١٢) يدعوه وذنبه حتى يكون الله هو يعذبه او يعفو عنه، ولم يدركوا الذي طلبوه (إذ) (١٣) حسدوه ما آتاه الله (إياه) (١٤) . فلما قدم علي قال له: انت (القائل) (١٥) ما بلغني عنك يا فروج؟ إنك شيخ قد ذهب عقلك، قال: لقد (سمتني) (١٦) امي باسم هو احسن من هذا (اذهب) (١٧) عقلي وقد وجبت لي الجنة من الله و (١٨) رسوله (١٩) ، (تعلمه) (٢٠) انت، وما بقي من عقلي فإنا كنا نتحدث: بان الآخر فالآخر شر ثم خرج. فلما كان بالسيلحين او بالقادسية خرج عليهم وظفراه يقطران، يرون انه قد تهيا للإحرام، فلما وضع رجله في الغرز واخذ بمؤخر واسطة ⦗٤١٤⦘ (الرحل) (٢١) قام إليه ناس من الناس فقالوا له: لو عهدت إلينا يا ابا مسعود. قال: (عليكم) (٢٢) بتقوى الله والجماعة، فإن الله لا يجمع امة محمد (٢٣) على ضلالة، قال: فاعادوا عليه فقال: عليكم بتقوى الله والجماعة، فإنما يستريح (بر او يستراح) (٢٤) من فاجر (٢٥) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ب]: (لكاره هذا)، وفي [أ، س]: (الكاره لهذا).
(٢) في [ط، هـ]: (الوجه).
(٣) في [أ، ب، س]: (المتناقل).
(٤) سقط من: [أ، ب، س].
(٥) سقط من: [أ، ب].
(٦) سقط ما بين المعكوفين من: [جـ].
(٧) في [أ، ب]: (بعد)، وفي [هـ]: (نعد).
(٨) في [س]: (الفاران).
(٩) في [س]: (حاحبه).
(١٠) في [جـ]: زيادة ﷺ.
(١١) في [أ، ب]: (تقم).
(١٢) في [س، جـ]: (لم).
(١٣) في [ب]: (إذا).
(١٤) في [ب]: (أتاه)، وفي [جـ]: (أيام).
(١٥) في [أ]: (القاتل)، وفي [ب]: (المقاتل).
(١٦) في [س]: (سمعتني).
(١٧) في [أ، ب، جـ، س]: (ذهب).
(١٨) في [أ، ب، جـ، س]: زيادة (من).
(١٩) في [جـ]: زيادة ﷺ.
(٢٠) في [س]: (لعله)، وفي [جـ]: (علمه).
(٢١) في [س]: (الرجل).
(٢٢) سقط من: [هـ].
(٢٣) في [جـ]: زيادة ﷺ.
(٢٤) في [أ، ب، جـ]: (بر ويستراح).
(٢٥) منقطع ضعيف؛ عبد العزيز بن رفيع لم يدرك عليًا، وليث ضعيف.
عبدالعزیز بن رفیع سے منقول ہے کہ جب حضرت علی رضی اللہ عنہ جنگ صفین کے لیے روانہ ہوئے تو ابو مسعود کو لوگوں پر پیچھے نائب بنایا پس انہوں نے جمعہ کے دن خطبہ دیا تو انہوں نے لوگوں کی قلت محسوس کی پھر فرمایا اے لوگو! نکلو جو نکلے گا وہ امن پائے گا۔ اللہ کی قسم ہم اس بوجھل معاملے میں تمہاری پسندیدگی کو دیکھ رہے ہیں۔ تم نکلو جو نکلے گا وہ امن پائے گا۔ اللہ کی قسم ہم عافیت اسے شمار نہیں کرتے کہ دولشکروں کی آپس میں مڈھ بھیڑ ہو ان میں سے ایک اپنے ساتھی سے بچتا پھرے بلکہ ہم عافیت اسے سمجھتے ہیں کہ اللہ امت محمدیہ کی اصلاح فرمادے اور اس کے مابین محبت و الفت قائم فرمادے۔ کیا میں تم کو حضرت عثمان کے بارے میں نہ بتلاؤں اور ان سے لوگ کیوں ناراض ہوئے میں تم کو نہ بتلاؤں؟ لوگوں نے حضرت عثمان اور ان کی خطا کو اللہ کے سپرد نہیں کیا کہ وہ اس کو عذاب دیتا یا معاف کرتا۔ اور وہ اس کو بھی نہ پاسکے جس کی انہیں طلب تھی کیونکہ انہوں نے ان سے اس پر حسد کیا جو اللہ تعالیٰ نے ان کو عطا کیا تھا۔ جب حضرت علی رضی اللہ عنہ تشریف لائے تو ان سے کہا کہ آپ نے کہی ہے وہ بات جو مجھے پہنچی ہے اے چوزے تمہاری عقل جاتی رہی ہے حضرت ابو مسعود نے فرمایا کہ میری ماں نے اس نام سے بہتر نام رکھا ہے۔ کیا میری عقل جاتی رہی حالانکہ اللہ اور رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میرے لیے جنت واجب کی کیا تم جانتے ہو؟ جو میری عقل سے باقی ہے اسی وجہ سے ہم باتیں کرتے تھے کہ ہر دوسرا شر ہے یہ کہہ کر وہ نکل گئے۔ جب ابو مسعود سیلحین یا قادسیہ میں لوگوں کے سامنے آئے تو ان کی زلفوں سے پانی ٹپک رہا تھا، لوگوں نے دیکھا کہ وہ احرام کے لیے تیاری کرچکے ہیں اور انہوں نے جب رکاب میں پاؤں رکھا اور کجاوے کو پکڑا تو لوگ ان کے آس پاس کھڑے ہو کر کہنے لگے کہ آپ ہمیں کوئی نصیحت فرمائیں۔ تو ابو مسعود نے فرمایا کہ تم تقویٰ کو لازم پکڑو اور جماعت کو لازم پکڑو بیشک اللہ تعالیٰ امت محمدیہ کو گمراہی پر جمع نہیں کرے گا۔ انہوں نے پھر نصیحت کا مطالبہ کیا تو انہوں نے پھر فرمایا تم تقویٰ کو لازم پکڑو اور جماعت کو لازم پکڑو! بیشک نیک صالح ہی اطمینان پاتا ہے یا یہ فرمایا کہ فاجر سے اطمینان حاصل ہوتا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40465]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40465، ترقيم محمد عوامة 38825)
ترقیم عوامۃ: 38826 ترقیم الشثری: -- 40466
٤٠٤٦٦ - حدثنا عبد الله بن إدريس عن ليث عن مجاهد وطاوس عن ابن عباس قال: قال علي: [ما (قتلت) (١) -يعني عثمان- ولا امرت -ثلاثا، (ولكني) (٢) غلبت (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ]: (قلت).
(٢) في [جـ]: (وألمي).
(٣) ضعيف؛ لضعف ليث، وأخرجه نعيم (٤٧٧)، وعبد الرزاق (٢٠٩٧٢)، وابن سعد ٣/ ٨٢، وابن شبه (٢٢٤٣)، وابن عساكر ٣٩/ ٤٥١، وابن البختري في مجموعه (٦٥٥)، وبنحوه الحاكم ٣/ ٢١١ وسعيد ١/ (٢٩٤١)، ومسدد كما في المطالب العالية (٤٣٩٣)، وابن شبه (٢٢٣٨)، وأحمد في العلل ١/ ٢٣٧.
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں نے (حضرت عثمان کو) قتل نہیں کیا اور نہ میں نے قتل کیا کا حکم دیا یہ تین دفعہ فرمایا پھر فرمایا لیکن میں مغلوب ہوگیا تھا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40466]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40466، ترقيم محمد عوامة 38826)
ترقیم عوامۃ: 38827 ترقیم الشثری: -- 40467
٤٠٤٦٧ - حدثنا ابن إدريس عن مسعر عن عبد الملك بن ميسرة عن طاوس عن ابن عباس قال: قال علي] (١) : ما قتلت، وإن كنت (لقتله) (٢) (لكارها) (٣) (٤) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط ما بين المعكوفين من: [أ].
(٢) في [س]: (تقتله).
(٣) في [أ]: (كارهًا).
(٤) صحيح.
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نے قتل کیا نہیں یعنی حضرت عثمان کو اور میں ان کے قاتلوں کو ناپسند کرتا ہوں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40467]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40467، ترقيم محمد عوامة 38827)