مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
3. ما ذكر في عثمان ﵁
سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے تذکرہ کے بیان میں
ترقیم عوامۃ: 38828 ترقیم الشثری: -- 40468
٤٠٤٦٨ - حدثنا عبدة بن سليمان (عن عاصم) (١) عن ابي زرارة وابي عبد الله قالا: سمعنا عليا يقول: والله ما شاركت، وما قتلت، و (لا) (٢) امرت ولا رضيت -يعني قتل عثمان (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [ع].
(٢) في [أ، ب]: (مانا).
(٣) صحيح؛ أبو زرارة هو مصعب بن سعد بن أبي وقاص، أخرجه سعيد (٢٩٤١)، وابن شبه (٢٢٥٨)، ونعيم (٤٥٢).
ابو زرارہ اور ابو عبداللہ سے منقول ہے کہ ہم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ اللہ کی قسم نہ میں قتل میں شریک ہوا نہ میں نے قتل کیا نہ میں نے قتل کا حکم دیا اور نہ اس قتل پر میں راضی تھا یعنی حضرت عثمان کے قتل پر۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40468]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40468، ترقيم محمد عوامة 38828)
ترقیم عوامۃ: 38829 ترقیم الشثری: -- 40469
٤٠٤٦٩ - حدثنا محمد بن (بشر) (١) قال: حدثنا إسماعيل بن ابي خالد قال: حدثني حصين رجل من بني الحارث قال: اخبرتني سرية زيد بن ارقم قالت: جاء علي يعود زيد بن ارقم وعنده القوم، فقال للقوم: انصتوا (واسكتوا) (٢) ، فوالله لا تسالوني اليوم عن شيء إلا اخبرتكم به، فقال له زيد: انشدك الله انت (٣) قتلت عثمان؟ فاطرق ساعة (٤) قال: والذي (فلق) (٥) (الحبة) (٦) وبرا النسمة ما قتلته ولا (امرت) (٧) بقتله وما (ساءني) (٨) (٩) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [س]: (بشير).
(٢) في [جـ]: (أو اسكتوا).
(٣) في [أ، ب]: زيادة (الذي).
(٤) في [هـ]: زيادة (ثم).
(٥) في [س]: (خلق).
(٦) في [س]: (الجنة).
(٧) في [أ، ب]: (ولا أمرني).
(٨) في [هـ]: (سرني).
(٩) مجهول؛ لجهالة حصين بن عبد الرحمن الحارثي وسرية زيد بن أرقم، أخرجه البخاري في التاريخ الكبير ٣/ ٨، وابن عساكر ٣٩/ ٤٥٤.
زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کی باندی کہتی ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کی عیادت کے لیے تشریف لائے جبکہ ان کے ارد گرد لوگ بیٹھے تھے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے لوگوں سے کہا تم خاموش رہو۔ اللہ کی قسم تم آج جس چیز کے بارے میں سوال کرو گے میں تم کو اس کی خبر دونگا حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں آپ کو اللہ کی قسم دیتا ہوں! بتاؤ تم ہی ہو جس نے عثمان کو قتل کیا؟ پس حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کچھ دیر نظر نیچی کی پھر فرمایا اللہ کی قسم جس نے بیج کو پھاڑا اور جس نے ہوا چلائی، میں نے ان کو قتل نہیں کیا اور نہ ہی اس کا حکم دیا اور نہ ہی مجھ پر اس کی کوئی برائی عائد ہوتی ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40469]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40469، ترقيم محمد عوامة 38829)
ترقیم عوامۃ: 38830 ترقیم الشثری: -- 40470
٤٠٤٧٠ - حدثنا ابو معاوية عن الاعمش عن منذر بن يعلى قال: (لما كان) (١) كان يوم ارادوا قتل عثمان ارسل مروان إلى علي الا تاتي هذا الرجل (فتمنعه) (٢) فإنهم لن يبرموا (امرا) (٣) دونك، فقال علي: (لناتينهم) (٤) ، (قال) (٥) : فاخذ ابن الحنفية بكتفيه (فاحتضنه) (٦) فقال: يا (ابت) (٧) اين تذهب؟ (والله) (٨) ما يزيدونك إلا رهبة، فارسل إليهم علي (بعمامته) (٩) ينهاهم عنه (١٠) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [ط، هـ].
(٢) في [س]: (فتمنوا).
(٣) سقط من: [هـ].
(٤) في [جـ]: (ما يأتيهم).
(٥) سقط من: [هـ].
(٦) في [س]: (فاحتفنه).
(٧) في [جـ]: (أبه).
(٨) في [أ، ب، جـ، س]: (فاوللَّه).
(٩) في [س]: (بعمامة).
(١٠) منقطع؛ منذر بن يعلى لم يدرك عثمان.
منذر بن یعلی رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ جس دن باغیوں نے حضرت عثمان کو قتل کرنے کا ارادہ کیا تو مروان نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو پیغام بھیجا کہ کیا آپ اس شخص (حضرت عثمان) کے پاس جا کر ان کی حفاظت نہیں کریں گے؟ کیونکہ و ہ آپ کے علاوہ کسی کا فیصلہ ماننے کو تیار نہیں۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہم ضرور جائیں گے ان کے پاس۔ پس ابن حنفیہ نے ا ن کے کندھے کو پکڑا اور اس کام کی ذمہ داری خود اٹھانے کا ارادہ کیا۔ اور عرض کیا اے میرے اباجان آپ کہاں جارہے ہیں اللہ کی قسم وہ لوگ آپ کے خوف میں ہی اضافہ کریں گے پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے باغیوں کی طرف اپنا عمامہ بھیجا اور باغیوں کو حضرت عثمان کو ضرر پہنچانے سے رکنے کا کہا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40470]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40470، ترقيم محمد عوامة 38830)
ترقیم عوامۃ: 38831 ترقیم الشثری: -- 40471
٤٠٤٧١ - حدثنا ابو معاوية عن الاعمش عن ثابت بن عبيد عن ابي جعفر الانصاري قال: دخلت مع المصريين على عثمان، فلما ضربوه خرجت اشتد قد ملات (فروجي) (١) عدوا حتى دخلت المسجد، فإذا رجل جالس في نحو من عشرة عليه عمامة (سوداء) (٢) فقال: ويحك ما وراءك؟ قال: قلت: قد والله فرغ من الرجل، قال: فقال: تبا لكم آخر الدهر، قال: فنظرت فإذا هو علي (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، هـ]: (فروحي).
(٢) في [ب، جـ، س]: (سودا)، واللفظة كناية عن شدة السرعة.
(٣) صحيح؛ أبو جعفر عده ابن حجر في القسم الثاني من الإصابة ٧/ ٥٧ وقال: "أقل أحواله أن يكون من أهل هذا القسم" وأخرجه ابن سعد ٣/ ٢٩، واللالكائي (٢٥٨٣)، والخلال (٤٤١)، والبيهقي ٣/ ٢٤٦، وابن عساكر ٣٩/ ٤٤٨، وابن منده في فتح الباب ١/ ١٨٢.
ابو جعفر انصاری سے منقول ہے کہتے ہیں کہ حضرت عثمان پر حملہ کرنے والے مصریوں کے ساتھ میں بھی تھا۔ جب انہوں نے حضرت عثمان کو مارا تو میں گھبراہٹ کی حالت میں بھاگتا ہوا وہاں سے نکلا یہاں تک کہ میں مسجد میں داخل ہوا تو ایک شخص مسجد کے ایک کونے میں بٹھا تھا اور اس کے سر پر سیاہ عمامہ تھا۔ اس نے کہاتمہاری ہلاکت ہو تمہارے پیچھے کیا معاملہ ہوا؟ میں نے کہا اللہ کی قسم اس شخص (حضرت عثمان) کا کام تمام ہوگیا۔ اس بیٹھے ہوئے شخص نے کہا ہلاکت ہو تمہارے لیے آخر زمانہ میں۔ میں نے دیکھا تو وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ تھے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40471]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40471، ترقيم محمد عوامة 38831)
ترقیم عوامۃ: 38832 ترقیم الشثری: -- 40472
٤٠٤٧٢ - حدثنا يعلى بن عبيد عن إسماعيل بن ابي خالد عن حكيم بن جابر قال: لما حصر عثمان اتى (علي طلحة) (١) وهو مستند إلى وسائد في بيته فقال: انشدك الله ما رددت الناس (عن) (٢) امير المؤمنين فإنه مقتول، فقال طلحة: لا والله حتى (تعطي) (٣) بنو امية الحق من انفسها (٤) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [س]: (علي وطلحة).
(٢) في [ص]: (على).
(٣) في [ط]: (تعطوا).
(٤) صحيح؛ أخرجه ابن شبه (٢٠٢٥)، وابن عساكر ٣٩/ ٤٠٢، وابن جرير في التاريخ ٢/ ٦٧٣.
حکیم بن جابر سے منقول ہے کہتے ہیں کہ جب حضرت عثمان کا محاصرہ کیا گیا تو حضرت علی رضی اللہ عنہ، حضرت طلحہ کے پاس تشریف لائے وہ اپنے گھر میں تکیوں پر ٹیک لگائے بیٹھے تھے۔ حضرت عیت نے فرمایا میں تم کو قسم دیتا ہوں آپ نے لوگوں (باغیوں) کو امیر المومنین سے نہیں روکا کیونکہ ان کو قتل کردیا جائے گا۔ حضرت طلحہ نے فرمایا اللہ کی قسم نہیں روکوں گا یہاں تک کہ بنو امیہ اپنے پاس سے لوگوں کو حق نہ دیدیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40472]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40472، ترقيم محمد عوامة 38832)
ترقیم عوامۃ: 38833 ترقیم الشثری: -- 40473
٤٠٤٧٣ - حدثنا وكيع عن عمران بن (حدير) (١) عن ابي مجلز قال: عابوا على عثمان تمزيق المصاحف وآمنوا بما كتب لهم.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، س]: (جدير).
ابو مجلز سے منقول ہے کہتے ہیں کہ لوگ حضرت عثمان کو صحیفے جلانے پر برا بھلا بھی کہتے ہیں اور ان کے لکھے (ان کے جمع کے لیے قرآن) پر ایمان بھی لاتے ہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40473]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40473، ترقيم محمد عوامة 38833)
ترقیم عوامۃ: 38834 ترقیم الشثری: -- 40474
٤٠٤٧٤ - حدثنا ابو اسامة عن عوف عن محمد قال: خطب علي بالبصرة فقال: والله ما قتلته ولا مالات (على) (١) قتله، (فلما) (٢) نزل قال له بعض اصحابه: اي شيء صنعت، الآن (يتفرق) (٣) عنك اصحابك، فلما عاد إلى المنبر قال: من كان سائلا عن دم عثمان فإن الله قتله وانا معه، (قال) (٤) محمد: هذه كلمة قرشية (ذات) (٥) وجه (٦) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ب]: (عليه).
(٢) في [أ، ب]: (فلا).
(٣) في [جـ]: (يتقوف).
(٤) في [أ، ب، جـ، س]: (فقال).
(٥) في [جـ]: (ذاب).
(٦) منقطع؛ ابن سيرين لا يروي عن علي، أخرجه الطبراني ١/ (١١٢)، وابن عساكر ٣٩/ ٤٥٨.
محمد سے منقول ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے بصرہ میں خطبہ فرمایا اللہ کی قسم میں نے عثمان کو قتل نہیں کیا اور نہ میں نے ان کے قتل میں معاونت کی۔ جب وہ منبر سے نیچے اترے تو آپ کے کسی ساتھی نے کہا پھر آپ نے کیا کیا؟ اب آپ سے آپ کے ساتھی جدا ہورہے ہیں۔ پس جب حضرت علی رضی اللہ عنہ واپس منبر پر آئے تو فرمایا عثمان کے قتل کے بارے میں سوال کرنے والا کون ہے؟ بیشک عثمان کو اللہ نے قتل کیا اور میں ان کے ساتھ ہوں گا (یعنی میں بھی قتل کردیا جاؤں گا) محمد کہتے ہیں یہ کلمہ ذو وجہین ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40474]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40474، ترقيم محمد عوامة 38834)
ترقیم عوامۃ: 38835 ترقیم الشثری: -- 40475
٤٠٤٧٥ - حدثنا كثير بن هشام عن جعفر بن برقان قال: حدثنا العلاء بن ⦗٤١٨⦘ (عبد الله) (١) بن رافع عن ميمون قال: لما قتل عثمان قال حذيفة: هكذا وحلق بيده وقال: فتق في الإسلام فتق لا يرتقه جبل (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ، ع]: (عبيد اللَّه)، وانظر: التاريخ الكبير ٦/ ٥١٠، والجرح والتعديل ٦/ ٣٥٨، والثقات ٧/ ٢٦٥.
(٢) منقطع؛ ميمون لم يدرك عثمان، وأخرجه ابن سعد ٣/ ٨٠، وأبو نعيم في الإمامة (١٤٢).
میمون سے منقول ہے کہ جب عثمان کو قتل کیا گیا تو حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے ہاتھ سے حلقہ بناتے ہوئے فرمایا اسلام میں ایسا شگاف پیدا ہوا ہے جس کو پہاڑ بھی پر نہیں کرسکے گا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40475]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40475، ترقيم محمد عوامة 38835)
ترقیم عوامۃ: 38836 ترقیم الشثری: -- 40476
٤٠٤٧٦ - حدثنا ابو اسامة قال: حدثنا الثوري قال: حدثنا (اسلم) (١) المنقري عن عبد الله بن عبد الرحمن بن (ابزى) (٢) عن ابيه قال: لما وقع من امر عثمان ما كان وتكلم الناس في امره، اتيت ابي بن كعب فقلت (له) (٣) : ابا المنذر ما المخرج؟ قال: كتاب الله، قال: ما استبان لك (منه) (٤) فاعمل به وانتفع به، وما اشتبه عليك فآمن به وكله إلى عالمه (٥) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، هـ]: (سالم)، وفي [س]: (سلم).
(٢) في [أ، جـ، س]: (أبزا)، وفي [ب]: (بز).
(٣) سقط من: [هـ].
(٤) سقط من: [جـ].
(٥) حسن؛ عبد اللَّه بن عبد الرحمن بن أبزى صدوق، أخرجه الحاكم ٣/ ٣٠٣، وابن عساكر ٧/ ٣١٤، وابن حزم في الإحكام ٦/ ٢٥٢.
عبدالرحمن بن ابزی سے منقول ہے کہتے ہیں کہ جب حضرت عثمان کا معاملہ ہوا تو لوگوں نے چہ میگوئیاں شروع کردیں۔ میں ابی بن کعب کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا اے ابو منذر اب راہ نجات کیا ہے تو انہوں نے فرمایا کتاب اللہ، پھر فرمایا جو تم پر واضح ہوجائے اس پر عمل کرو اور اس سے فائدہ اٹھاؤ اور جو تم پر مشتبہ ہو اس پر ایمان لے آؤ اور اس کو اس کے جاننے والے کے سپرد کردو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40476]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40476، ترقيم محمد عوامة 38836)
ترقیم عوامۃ: 38837 ترقیم الشثری: -- 40477
٤٠٤٧٧ - حدثنا عبيد الله بن موسى قال: اخبرنا شيبان عن الاعمش عن إسماعيل بن رجاء عن صخر بن الوليد عن (جزي) (١) بن بكير العبسي قال: جاء حذيفة إلى عثمان ليودعه او يسلم عليه، فلما ادبر قال: ردوه، فلما جاء قال: ما بلغني عنك بظهر الغيب؟ فقال: والله (ما ابغضتك) (٢) منذ احببتك، ولا غششتك ⦗٤١٩⦘ منذ نصحت (لك) (٣) ، قال: انت اصدق منهم وابر، انطلق، فلما ادبر قال: ردوه [قال: ما بلغني عنك بظهر الغيب؟ فقال حذيفة بيده هكذا: ما بلغني عنك بظهر الغيب، اجل (والله لتخرجن إخراج الثور) (٤) ] (٥) ثم (لتذبحن) (٦) ذبح الجمل، (قال) (٧) : [فاخذه من ذلك افكل (٨) ، فارسل إلى معاوية فجيئ به يدفع، قال: هل تدري ما قال حذيفة؟ والله [لتخرجن إخراج الثور ولتذبحن ذبح الجمل، فقال (ادفنها (ادفنها) ) (٩) (١٠) ] (١١) (١٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، جـ]: (جرير)، وفي [هـ]: (جزء)، وفي [ع]: (حربي)، وانظر: التاريخ الكبير ٢/ ٢٥٠، وتوضيح المشتبه ٢/ ٣٠٥، وضعفاء العقيلي ١/ ٢٠١، وتصحيفات المحدثين ٢/ ٧٥٢.
(٢) في [س]: (ما أبغضك).
(٣) سقط من: [جـ].
(٤) في [جـ]: (وإنه خرجن إخراج الثور).
(٥) سقط ما بين المعكوفين من: [أ، ب].
(٦) في [أ، ب]: (لتذبحوا).
(٧) في [جـ]: (فقال).
(٨) أي: رعدة من برد أو خوف، انظر: جمهرة اللغة ٢/ ٩٦٨ تاج العروس ٣/ ١٨٨، والنهاية ١/ ٥٦.
(٩) في [هـ]: (لعثمان).
(١٠) سقط من: [جـ]، وفي [أ، هـ]: (أولها)، وفي [ب، س]: (أوتها).
(١١) سقط ما بين المعكوفين من: [جـ].
(١٢) ضعيف جدًّا؛ جزي متروك، وأخرجه ابن شبه (١٨٩٦)، وورد خبر آخر بنحوه أخرجه يعقوب في المعرفة ٣/ ٨٤، والعقيلي ١/ ٢٠١.
جزی بن بکیر عبسی سے منقول ہے کہ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ حضرت عثمان کے پاس آئے تا کہ ان کو الوداع کریں یا سلام کریں۔ جب وہاں سے پیٹھ پھیر کر واپس آئے تو حضرت عثمان نے فرمایا ان کو واپس لاؤ جب حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ واپس آئے تو حضرت عثمان نے فرمایا کہ کیا بات ہے جو آپ کی طرف سے مجھے پہنچی ہے؟ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا اللہ کی قسم جب سے میں نے بیعت کی ہے کبھی آپ سے بغض نہیں رکھا اور جب سے آپ کی خیر خواہی کی اس کے بعد نہ ہی میں نے اپنے دل میں کینہ رکھا۔ حضرت عثمان نے فرمایا آپ ا ن سے زیادہ سچے اور نیک ہیں آپ جائیں پس جب وہ منہ پھیر کر جانے لگے پھر حضرت عثمان نے فرمایا وہ کیا بات ہے جو آپ کی طرف سے مجھے پہنچی؟ پھر فرمایا ہاں اللہ کی قسم تم ضرور بیل کی طرح نکال دیے جاؤ گے اور اونٹ کی طرح ذبح کیے جاؤ گے راوی کہتے ہیں کہ حضرت عثمان پر کپکپی طاری ہوگئی پھر انہوں نے معاویہ کو بلایا پس حضرت معاویہ کو لایا گیا تا کہ اس کا کچھ ازالہ کیا جاسکے۔ حضرت عثمان نے کہا کیا تمہیں معلوم ہے کہ حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کیا کہا؟ انہوں نے کہا کہ تم کو بیل کی طرح نکالا جائے گا اور اونٹ کی طرح ذبح کیا جائے گا حضرت معاویہ نے فرمایا کہ آپ اس بات کو دفن کردیجیے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40477]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40477، ترقيم محمد عوامة 38837)