🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

1. في مسير عائشة وعلي وطلحة والزبير ﵃
سیدہ عائشہ، سیدنا علی، سیدنا طلحہ، اور سیدنا زبیر رضی اللہ عنہم کے سفر کے بارے میں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: Not Found ترقیم الشثری: -- 40579
٤٠٥٧٩ - قال التيمي: وقال الوليد بن عبد الملك: إن منافقا من منافقي اهل العراق جبلة بن حكيم قال للزبير: فإنك قد بايعت؟ فقال الزبير: إن السيف وضع على (قفي) (١) فقيل لي: بايع وإلا قتلناك، قال: فبايعت (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) أي: قفاي، قال أبو عبيد في غريب الحديث ٤/ ١١: "هي لغة طائية"، وقال ابن الأثير في النهاية ٤/ ٩٤: "قفي أي: قفاي، وهي لغة طائية يشددون ياء المتكلم".
(٢) صحيح.

تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40579، ترقيم محمد عوامة ---)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38931 ترقیم الشثری: -- 40580
٤٠٥٨٠ - حدثنا محمد بن بشر قال: سمعت (حميد) (١) بن عبد الله بن الاصم يذكر عن ام راشد جدته قالت: كنت عند ام هانئ فاتاها علي، فدعت له بطعام فقال: ما لي لا ارى عندكم بركة -يعني الشاة، (قالت) (٢) : فقالت: سبحان الله، بلى والله إن عندنا (لبركة) (٣) ، قال: إنما اعني الشاة، قالت: ونزلت فلقيت رجلين في الدرجة، فسمعت احدهما يقول لصاحبه: بايعته ايدينا ولم تبايعه قلولنا، [ (قالت) (٤) : فقلت: من (هذان) (٥) الرجلان؟ فقالوا: طلحة والزبير، قالت: فإني قد سمعت احدهما يقول لصاحبه: بايعته ايدينا ولم تبايعه قلوبنا] (٦) ، فقال علي: ﴿فمن نكث فإنما ينكث على نفسه ومن اوفى بما عاهد عليه الله فسيؤتيه اجرا عظيما﴾ [الفتح: ١٠] (٧) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ]: (محمد)، وفي [أ، ب، ط، هـ]: (أحمد)، وتقدم ١١/ ١٠٥.
(٢) في [أ، ب، جـ، س، ع]: (قال).
(٣) في [أ، ب، س]: (البركة).
(٤) في [س، ع]: (قال).
(٥) في [ع]: (هذين).
(٦) سقط ما بين المعكوفين من: [جـ].
(٧) مجهول؛ لجهالة أم راشد.

ام راشد سے روایت ہے فرماتی ہیں کہ میں ام ہانی کے پاس تھی حضرت علی رضی اللہ عنہان کے پاس تشریف لائے پس ام ہانی نے ان کی کھانے پر دعوت کی حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ کیا بات ہے مجھے تمہارے ہاں برکت (بکری) نظر نہیں آرہی۔ ام ہانی نے کہا سبحان اللہ کیوں نہیں! اللہ کی قسم ہمارے ہاں برکت ہے حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا میری مراد بکری ہے۔ میں اتری تو سیڑھی میں دو آدمیوں سے ملاقات ہوئی میں نے ان دونوں میں سے ایک کوسنا کہ وہ دوسرے کو کہہ رہا تھا ہمارے ہاتھوں نے بیعت کی ہے ہمارے دلوں نے نہیں۔ ام راشد نے کہا یہ کون ہیں۔ پس لوگوں نے جواب دیا طلحہ اور زبیر میں نے سنا ان میں سے ایک دوسرے کو کہہ رہا تھا ہمارے ہاتھوں نے بیعت کی ہے ہمارے قلوب نے نہیں۔ پس حضرت علی رضی اللہ عنہ نے یہ آیت پڑھی { فَمَنْ نَکَثَ فَإِنَّمَا یَنْکُثُ عَلَی نَفْسِہِ وَمَنْ أَوْفَی بِمَا عَاہَدَ عَلَیْہُ اللَّہَ فَسَیُؤْتِیہِ أَجْرًا عَظِیمًا }۔ (جو عہد شکنی کرے گا اس کا بوجھ اسی پر ہوگا جو اللہ سے کیا عہد پورا کرے گا اللہ اس کو اجر عظیم دے گا)۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجمل وصلى الله على سيدنا محمد النبي وآله/حدیث: 40580]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40580، ترقيم محمد عوامة 38931)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38932 ترقیم الشثری: -- 40581
٤٠٥٨١ - حدثنا يحيى بن آدم حدثنا ابو الاحوص عن خالد بن علقمة عن عبد خير قال: ضرب (فسطاط) (١) بين العسكرين يوم الجمل ثلاثة ايام، فكان علي والزبير وطلحة ياتونه، فيذكرون فيه ما شاء الله، حتى إذا كان يوم الثالث عند زوال الشمس رفع علي جانب الفسطاط ثم امر بالقتال، فمشى بعضنا إلى بعض، وشجرنا بالرماح حتى لو شاء الرجل ان يمشي عليها لمشى، ثم اخذتنا السيوف فما شبهتها إلا دار الوليد (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ع]: (فسطاطين).
(٢) صحيح.

عبد خیر سے روایت ہے جنگ جمل کے دوران تین دن تک دونوں لشکروں کے درمیان ایک خیمہ گاڑھا گیا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ، حضرت طلحہ، حضرت زبیر (رض) عنھم وہاں تشریف لاتے اور اس بارے میں باتیں کرتے جو اللہ چاہتا حتیٰ کہ جب تیسرا دن ہوا تو دوپہر کے بعد حضرت علی رضی اللہ عنہ نے خمہں کی ایک جانب اٹھائی اور قتال کا حکم دیا۔ پھر ہم نے ایک دوسرے کی جانب چلنا شروع کیا ایک دوسرے کی طرف نیزے چلانے شروع کیے یہاں تک کہ اگر کوئی شخص ان نیزوں کے اوپر چلنا چاہتا تو چل سکتا تھا پھر ہم نے تلواریں اٹھائیں اور ان کو میں تشبیہ نہیں دیتا مگر ولید کے گھر کے ساتھ۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجمل وصلى الله على سيدنا محمد النبي وآله/حدیث: 40581]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40581، ترقيم محمد عوامة 38932)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38933 ترقیم الشثری: -- 40582
٤٠٥٨٢ - حدثنا يحيى بن آدم قال: حدثنا شريك عن (السدي) (١) عن عبد خير عن علي انه قال يوم الجمل: لا تتبعوا مدبرا، ولا تجهزوا على جريح، ومن القى سلاحه فهو آمن (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [س، ع]: (الشدي).
(٢) حسن؛ شريك والسدي صدوقان، أخرجه ابن سعد ٥/ ٩٣، وابن جرير في التاريخ ٣/ ٨٢، والحاكم ٢/ ١٥٥، والبيهقي ٨/ ١٨١، وسعيد بن منصور (٢٩٥٠)، وأسلم في تاريخ واسط ص ١٦٥.

عبد خیر سے روایت ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے جنگ جمل کے دن فرمایا! تم بھاگنے والے کا پیچھا مت کرو اور نہ زخمی کو قتل کرو اور جس نے ہتھیار ڈال دیا وہ امن والا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجمل وصلى الله على سيدنا محمد النبي وآله/حدیث: 40582]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40582، ترقيم محمد عوامة 38933)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38934 ترقیم الشثری: -- 40583
٤٠٥٨٣ - حدثنا يحيى بن آدم قال: حدثنا موسى بن قيس الحضرمي عن مسلم البطين وسلمة بن كهيل عن حجر بن (عنبس) (١) ان عليا اعطى اصحابه بالبصرة خمسمائة خمسمائة (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [س]: (عبس)، وفي [هـ]: (غلس).
(٢) صحيح.

حجر بن عنبس سے روایت ہے حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اپنے ساتھیوں کو بصرہ میں پانچ پانچ سو درہم دئیے تھے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجمل وصلى الله على سيدنا محمد النبي وآله/حدیث: 40583]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40583، ترقيم محمد عوامة 38934)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38935 ترقیم الشثری: -- 40584
٤٠٥٨٤ - حدثنا يحيى بن آدم قال: حدثنا مسعود بن سعد الجعفي عن عطاء بن السائب عن ابي البختري قال: لما انهزم اهل الجمل قال علي: لا يطلبن عبد خارجا من العسكر، وما كان من دابة او سلاح فهو لكم؛ وليس لكم ام ولد؛ (والمواريث) (١) على فرائض الله، واي امراة قتل زوجها فلتعتد اربعة اشهر وعشرا، قالوا: يا امير المؤمنين تحل لنا دماؤهم ولا تحل لنا نساؤهم قال: فخاصموه، فقال: كذلك السيرة في اهل القبلة، قال: فهاتوا سهامكم واقرعوا على عائشة فهي راس الامر وقائدهم قال: (فعرفوا) (٢) وقالوا: نستغفر الله، قال: فخصمهم علي (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ب]: (الموارث).
(٢) في [ب]: بياض، وفي [ط، هـ]: (ففرقوا).
(٣) ضعيف منقطع؛ عطاء اختلط، وأبو البختري لا يروي عن علي.

ابو بختری سے روایت ہے کہ جب اہل جمل (حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا لشکر) شکست کھاچکا تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کوئی آدمی لشکر سے باہر کسی کی تلاش نہ کرے (یعنی شکست کھانے والوں کا پیچھا نہ کرے) جو سواری یا ہتھیار یہاں سے ملے ہیں وہ تمہارا ہے لیکن تمہارے لیے کوئی ام ولد نہیں (یعنی کوئی باندی تمہارے لیے نہیں) اور وراثتیں اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ حصوں کے مطابق تقسیم ہوں گی اور جس عورت کا خاوند فوت ہوچا ہے وہ اپنی عدت چار مہینے دس دن (آزاد عورت کی طرح) پوری کرے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے ان کے لشکر والے کہنے لگے اے امیر المومنین آپ ان کا مال ہمارے لیے حلال کرتے ہیں مگر ان کی عورتیں حلال نہیں کرتے۔ پس لشکر والے حضرت علی رضی اللہ عنہ پر غالب آگئے۔ آپ نے فرمایا اہل قبلہ کے اخلاق ایسے ہی ہوتے ہیں پھر فرمایا لاؤ اپنے تیر مجھے دو اور سب سے پہلے قرعہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر ڈالو وہ کس کے حصے میں آتی ہں ر (جو تمہاری سب کی ماں ہے) کیونکہ وہ لشکر کی قائد تھیں۔ پس یہ سن کر وہ منتشر ہوگئے اور اللہ سے مغفرت کرنے لگے۔ پس حضرت علی رضی اللہ عنہان پر غالب آگئے حجت اور دلیل میں (یعنی مسلمانوں کی عورتوں کو باندی نہیں بنایا جاسکتا) [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجمل وصلى الله على سيدنا محمد النبي وآله/حدیث: 40584]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40584، ترقيم محمد عوامة 38935)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38936 ترقیم الشثری: -- 40585
٤٠٥٨٥ - حدثنا يحيى بن آدم قال: حدثنا ابن عيينة عن إسماعيل بن ابي خالد عن حكيم بن جابر قال: سمعت طلحة بن عبيد الله يوم الجمل يقول: إنا كنا (ادهنا) (١) في امر عثمان فلا نجد بدا من (المبالغة) (٢) (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [س]: (أدهناني)، وفي [هـ]: (داهنا).
(٢) في [أ، ب، ط، هـ]: (المبايعة)، وفي [س]: (المتابعة).
(٣) صحيح؛ أخرجه ابن سعد ٣/ ٢٢٢، وابن شبه (٢٠٢٥)، وابن عساكر ٢٥/ ١٠٩، وأبو نعيم في الإمامة (١٣٤).

حکیم ابن جابر فرماتے ہیں کہ میں نے طلحہ بن عبید اللہ کو فرماتے ہوئے سنا جنگ جمل کے دن کہ ہم نے حضرت عثمان کے بارے میں دور خار ویہ اپنایا پس ہم نہیں پاتے بیعت کے بغیر چارہ کار۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجمل وصلى الله على سيدنا محمد النبي وآله/حدیث: 40585]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40585، ترقيم محمد عوامة 38936)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38937 ترقیم الشثری: -- 40586
٤٠٥٨٦ - حدثنا ابن علية عن منصور بن عبد الرحمن عن الشعبي قال: لم يشهد الجمل من اصحاب (رسول الله) (١) من المهاجرين والانصار إلا علي وعمار وطلحة والزبير فإن جاؤوا بخامس فانا كذاب (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: (النبي).
(٢) صحيح الإسناد إلى الشعبي؛ وأخرجه خليفة في التاريخ ص ١٨٦، وقال فيه: "من أهل بدر"، وأخرجه ابن عساكر ٤٣/ ٤٦٠، وأحمد في العلل ٣/ ٤٥، والخلال في السنة (٧٢٩).

حضرت شعبی سے روایت ہے کہ جنگ جمل کے دن کوئی صحابی رسول شریک نہیں ہوئے حضرت علی۔ عمار، طلحہ اور زبیر کے سوا اگر کوئی پانچواں صحابی شریک ہوا ہو تو میں کذاب ہوں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجمل وصلى الله على سيدنا محمد النبي وآله/حدیث: 40586]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40586، ترقيم محمد عوامة 38937)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38938 ترقیم الشثری: -- 40587
٤٠٥٨٧ - حدثنا عبدة بن سليمان عن الاعمش عن (شمر) (١) بن عطية عن عبد الله بن زياد قال: قال عمار بن ياسر: إن (امنا) (٢) سارت مسيرنا هذا، وإنها والله زوجة محمد ﷺ (٣) في الدنيا والآخرة، ولكن الله ابتلانا (بها) (٤) ليعلم (إياه) (٥) نطيع (ام) (٦) إياها (٧) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: (شهر).
(٢) في [أ]: (أمتنا).
(٣) سقط من: [ع].
(٤) في [أ، جـ، هـ]: (بهذا).
(٥) في [أ، ب، جـ، س]: (إيانا).
(٦) في [أ، ب، جـ]: (أمر).
(٧) صحيح؛ شمر وعبد اللَّه بن زياد كلاهما ثقة على الصحيح، وأخرجه البخاري (٧١٠٠)، والترمذي (٣٨٨٩).

عبداللہ بن زیاد سے روایت ہے کہ عمار بن یاسر نے فرمایا ہماری ماں (حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا) ہمارے اس راستے پر چلیں اور بیشک حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دنیا آخرت میں زوجہ محترمہ ہیں لیکن اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس کے ذریعے آزمایا تا کہ اللہ تعالیٰ جان لے ہم اس کی اطاعت کرتے ہیں یا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجمل وصلى الله على سيدنا محمد النبي وآله/حدیث: 40587]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40587، ترقيم محمد عوامة 38938)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38939 ترقیم الشثری: -- 40588
٤٠٥٨٨ - حدثنا بن إدريس عن حسن بن فرات عن ابيه عن (عمير) (١) بن سعد قال: لما رجع علي من الجمل وتهيا (لصفين) (٢) (اجتمع) (٣) النخع حتى دخلوا على الاشتر، فقال: هل في البيت إلا نخعي؟ فقالوا: لا، فقال: إن هذه الامة (عمدت) (٤) إلى خيرها فقتلته، وسرنا إلى اهل البصرة قوم لنا عليهم بيعة فنصرنا عليهم بنكثهم، وإنكم تسيرون غدا إلى اهل الشام قوم ليس (لكم) (٥) (عليهم) (٦) بيعة، فلينظر امرؤ منكم (اين) (٧) يضع سيفه (٨) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، جـ، ع]: (عمر)، وفي [س]: (عمرو).
(٢) في [س]: (بصفين).
(٣) في [ع]: (اجتمعنا)، وفي [هـ]: (اجتمعت).
(٤) في [جـ]: (عهدت)، وفي [س]: (عدت).
(٥) سقط من: [أ، ب].
(٦) في [أ، ب]: (عليكم).
(٧) في [س]: (أني).
(٨) صحيح؛ أخرجه الحاكم ٣/ ١٠٧، وابن عساكر ٥٦/ ٣٨٦.

عمیر بن سعد سے روایت ہے کہ جب حضرت علی رضی اللہ عنہ جنگ جمل سے واپس لوٹے تو جنگ صفین کی تیاری شروع فرمائی نخعی قبیلہ والے جمع ہوئے اور اشتر کے پاس آئے۔ اس نے کہا گھر میں نخعی کے علاوہ بھی کوئی ہے؟ انہوں نے جواب دیا نہیں۔ پھر کہنے لگا اس امت نے اپنے بہترین انسان کا قصد کیا اور اس کو قتل کرڈالا۔ ہم اہل بصرہ کی طرف گئے وہ ایسی قوم تھی جس نے ہماری بیعت کی ہوئی تھی پس ان کے بیعت توڑنے کی وجہ سے ہماری مدد کی گئی اور کل تم ایسی قوم کی طرف جانے والے ہو جو شام کے رہنے والے ہیں اور انہوں نے ہماری بیعت نہیں کی۔ پس تم میں سے ہر آدمی دیکھ لے کہ وہ اپنی تلوار کہاں رکھے گا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجمل وصلى الله على سيدنا محمد النبي وآله/حدیث: 40588]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40588، ترقيم محمد عوامة 38939)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں