مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
1. في مسير عائشة وعلي وطلحة والزبير ﵃
سیدہ عائشہ، سیدنا علی، سیدنا طلحہ، اور سیدنا زبیر رضی اللہ عنہم کے سفر کے بارے میں
ترقیم عوامۃ: 38960 ترقیم الشثری: -- 40609
٤٠٦٠٩ - حدثنا وكيع عن إسماعيل عن السدي: ﴿واتقوا فتنة لا تصيبن الذين ظلموا منكم خاصة﴾ [الانفال: ٢٥] قال: اصحاب الجمل.
حضرت سدی سے منقول ہے کہ ”تم اس فتنے سے ڈرو جو صرف ظلم کرنے والے پر نہیں آئے گا (القرآن) اس کا مصداق اصحاب جمل ہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجمل وصلى الله على سيدنا محمد النبي وآله/حدیث: 40609]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40609، ترقيم محمد عوامة 38960)
ترقیم عوامۃ: 38961 ترقیم الشثری: -- 40610
٤٠٦١٠ - حدثنا هشيم عن عوف قال: لا اعلمه إلا عن الحسن في قوله: ﴿واتقوا فتنة لا تصيبن الذين ظلموا منكم خاصة﴾ [الانفال: ٢٥] ، قال: فلان وفلان.
حضرت عوف فرماتے ہیں کہ میں نے اللہ تعالیٰ کے قول { وَاتَّقُوا فِتْنَۃً لاَ تُصِیبَنَّ الَّذِینَ ظَلَمُوا مِنْکُمْ خَاصَّۃًْ } کے بارے میں کسی سے نہیں سنا مگر حسن سے فرماتے ہیں تھے کہ فلاں فلاں اس کا مصداق ہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجمل وصلى الله على سيدنا محمد النبي وآله/حدیث: 40610]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40610، ترقيم محمد عوامة 38961)
ترقیم عوامۃ: 38962 ترقیم الشثری: -- 40611
٤٠٦١١ - حدثنا وكيع عن سفيان عن جعفر عن ابيه ان رجلا ذكر عند علي اصحاب الجمل حتى ذكر الكفر، فنهاه (علي) (١) (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [أ، ب].
(٢) منقطع؛ أبو جعفر لم يدرك عليًا، أخرجه ابن عساكر ١/ ٣٤٣.
حضرت جعفر اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے سامنے اصحاب جمل کا ذکر کیا یہاں تک کہ کفر تک پہنچا دیا پس حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اس کو منع کیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجمل وصلى الله على سيدنا محمد النبي وآله/حدیث: 40611]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40611، ترقيم محمد عوامة 38962)
ترقیم عوامۃ: 38963 ترقیم الشثری: -- 40612
٤٠٦١٢ - [حدثنا (١) محمد بن ابي عدي عن التيمي عن حريث بن مخش قال: ⦗٥٠٣⦘ ما شهدت يوما اشد من يوم ابن عليس إلا يوم الجمل] (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ]: زيادة (علي)، وفي [ب] زيادة: (علي بن).
(٢) سقط الخبر من: [ع].
حریث بن مخشی سے منقول ہے کہ میں نے علیس کے دن سے زیادہ سخت دن نہیں دیکھا مگر جنگ جمل کا دن (کہ یہ اس بھی سخت تھا)۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجمل وصلى الله على سيدنا محمد النبي وآله/حدیث: 40612]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40612، ترقيم محمد عوامة 38963)
ترقیم عوامۃ: 38964 ترقیم الشثری: -- 40613
٤٠٦١٣ - حدثنا وكيع عن علي بن (١) صالح عن ابيه عن ابي بكر بن عمرو ابن عتبة قال: كان بين صفين والجمل (شهران) (٢) او ثلاثة.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، س، هـ]: زيادة (أبي).
(٢) في [ع]: (شهرين).
حضرت ابوبکر بن عمرو بن عتبہ سے منقول ہے کہ جنگ صفین اور جمل کے درمیان دو یا تین مہینے کا فرق تھا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجمل وصلى الله على سيدنا محمد النبي وآله/حدیث: 40613]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40613، ترقيم محمد عوامة 38964)
ترقیم عوامۃ: 38965 ترقیم الشثری: -- 40614
٤٠٦١٤ - حدثنا يعلى بن عبيد قال: حدثنا إسماعيل بن ابي خالد عن ابي (الضحاك) (١) عن ابي (جعفر) (٢) قال: سمع علي يوم الجمل صوتا تلقاء ام المؤمنين فقال: انظروا ما (يقولون؟) (٣) فرجعوا (فقالوا) (٤) : يهتفون بقتلة عثمان، فقال: اللهم (جلل) (٥) بقتلة عثمان خزيا (٦) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، هـ]: (الضحى).
(٢) في [هـ]: (حفص).
(٣) في [ع]: (يقولوا).
(٤) سقط من: [س].
(٥) في [أ، ب]: (حلل)، وفي [هـ]: (احلل)، قال الحربي في غريب الحديث ١/ ١٢٤: "أي: غطهم وألبسهم إياه كما يتجلل الرجل بالثوب".
(٦) منقطع؛ أبو جعفر لم يدرك عليًا، أخرجه ابن منده في فتح الباب ص ٤٤٤، وابن عساكر ٣٩/ ٤٥٧.
ابو جعفر سے روایت ہے کہ جنگ جمل کے دن ام المومنین کی طرف سے حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ایک آواز سنی۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ لوگوں سے کہا دیکھو یہ کیا کہہ رہے ہیں۔ کچھ لوگوں نے دیکھ کر بتایا کہ حضرت عثمان کے قاتلین کو ملامت کر رہے ہیں۔ پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا۔ اے اللہ حضرت عثمان کے قاتلوں کو ذلیل کر دے [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجمل وصلى الله على سيدنا محمد النبي وآله/حدیث: 40614]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40614، ترقيم محمد عوامة 38965)
ترقیم عوامۃ: 38966 ترقیم الشثری: -- 40615
٤٠٦١٥ - حدثنا يعلى بن عبيد قال: اخبرنا إسماعيل بن ابي خالد عن علي بن عمرو الثقفي قال: قالت عائشة: لان اكون جلست عن مسيري كان احب إلي من ان يكون لي عشرة من رسول الله ﷺ (١) مثل ولد الحارث بن هشام (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [هـ]، وفي [أ]: زيادة (وآله وسلم).
(٢) مرسل مجهول؛ علي بن عمرو الثقفي مجهول من أتباع التابعين، أخرجه ابن أبي الدنيا في المتمنين (٦٥).
علی رضی اللہ عنہ بن عمروثقفی سے منقول ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ میں اس سفر سے رک جاتی مجھے اس سے زیادہ پسند تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے میرے لیے حارث بن ہشام جیسے دس بیٹے ہوتے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجمل وصلى الله على سيدنا محمد النبي وآله/حدیث: 40615]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40615، ترقيم محمد عوامة 38966)
ترقیم عوامۃ: 38967 ترقیم الشثری: -- 40616
٤٠٦١٦ - حدثنا عفان قال: حدثنا ابو عوانة عن إبراهيم بن محمد بن (المنتشر) (١) عن ابيه عن عبيد بن (نضيلة) (٢) عن سليمان بن (صرد) (٣) قال: اتيت عليا يوم الجمل وعنده (الحسن) (٤) وبعض اصحابه، فقال علي حين رآني: يا ابن (صرد) (٥) (تنانات) (٦) و (تزحزحت) (٧) وتربصت، كيف ترى الله (صنع؟) (٨) (قد اغنى) (٩) الله عنك، قلت: يا امير المؤمنين إن (الشوط) (١٠) (بطين) (١١) وقد بقي من الامور ما (تعرف) (١٢) فيها عدوك من صديقك، قال: فلما (قام) (١٣) الحسن لقيته فقلت: ما اراك اغنيت عني شيئا ولا عذرتني عند الرجل؟ وقد كنت حريصا على ان (تشهد) (١٤) معه، قال: هذا يلومك على (ما) (١٥) يلومك، وقد قال لي يوم الجمل: مشى الناس بعضهم إلى بعض، يا حسن ثكلتك امك -او هبلتك امك- ما ظنك بامرئ، جمع بين هذين الغارين، والله ما ارى بعد هذا خيرا، قال: فقلت: ⦗٥٠٥⦘ الهمكت، لا (يسمعك) (١٦) (اصحابك) (١٧) فيقولوا: شككت فيقتلونك (١٨) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ]: (المنعشر).
(٢) في [أ، ب]: (نصلة)، وفي [جـ]: (نصلة)، وفي [س]: (نضلية)، وفي [هـ]: (نضيلة).
(٣) في [س]: (ضرد).
(٤) في [جـ]: (علي).
(٥) في [س]: (ضرد).
(٦) في [أ]: (وتنأنأت).
(٧) في [هـ]: (ترجرجت)، وفي [أ، ب]: (ترخرجت).
(٨) في [أ، ب]: (ضعف).
(٩) في [أ، ب]: (فرعاني).
(١٠) في [هـ]: (السوط).
(١١) أي: بعيد، وفي [أ، ب]: (لطين).
(١٢) في [ب، س]: (يعرف).
(١٣) في [أ، ب]: (قدم).
(١٤) في [س]: (يشهد).
(١٥) سقط من: [ع].
(١٦) في [ع]: (تسمعك).
(١٧) في [ع]: (أصخابك).
(١٨) صحيح؛ أخرجه نعيم في الفتن (٢٠٧)، والعسكري في جمهرة الأمثال ١/ ٥٥٤، وبنحوه أخرجه مسدد كما في المطالب (٤٤٠٥)، وابن أبي الدنيا في المتمنين (١٥٥)، والخطيب في موضح أوهام الجمع والتفريق ١/ ١٠٥، وابن ماكولا في تهذيب مستمر الأوهام ص ٧٢.
سلیمان بن صرد سے منقول ہے کہتے ہیں کہ میں جنگ جمل کے دن حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا ان کے پاس حضرت حسن اور ان کے بعض ساتھی بھی تھے حضرت علی رضی اللہ عنہ نے جب مجھے دیکھا تو فرمایا اے ابن صرد کمزور اور ڈھیلے پڑگئے اور پیچھے ٹھہر گئے۔ اللہ کے ساتھ تمہارا کیا معاملہ ہوگا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ سے بےنیاز کردیا میں نے کہا اے امیر المومنین معاملہ بڑا سخت ہوگیا۔ معاملات ایسے ہوگئے ہیں کہ آپ کے دوست اور دشمن میں امتیاز مشکل ہوچکا کہتے ہیں کہ جب حضرت حسن کھڑے ہوئے تو میں نے ان سے عرض کیا آپ نے میری ذرا بھی حمایت نہیں کی اور نہ ہی میری طرف سے کوئی عذراسی شخص (حضرت علی رضی اللہ عنہ) کے پاس کیا؟ حالانکہ میں اس بات کا متمنی تھا ان کے پاس میری گواہی ہے۔ حضرت حسن نے فرمایا انہوں نے (حضرت علی رضی اللہ عنہ) جو ملامت آپ پر کرنی تھی سو وہ کی۔ حالانکہ مجھے جنگ جمل کے دن فرمایا کہ لوگ ایک دوسرے کی طرف جا رہے ہیں اے حسن تیری ماں تجھے گم کرے! تیرا میرے اس معاملے کے بارے میں کیا خیال ہے۔ دونوں لشکر آمنے سامنے ہیں اللہ کی قسم میں اس کے بعد خیر نہیں دیکھتا۔ میں نے کہا آپ خاموش ہوجائیے آپ کے ساتھی نہ سن لیں پس کہنے لگیں کہ تو نے معاملہ مشکوک کردیا اور تجھے قتل کردیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجمل وصلى الله على سيدنا محمد النبي وآله/حدیث: 40616]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40616، ترقيم محمد عوامة 38967)
ترقیم عوامۃ: 38968 ترقیم الشثری: -- 40617
٤٠٦١٧ - حدثنا ابو اسامة (١) عن عوف عن الحسن قال: جاء رجل إلى الزبير يوم الجمل (فقال) (٢) : (اقتل) (٣) لك عليا؟ قال: وكيف؟ قال: آتيه فاخبره اني معه، ثم افتك به، فقال الزبير: سمعت رسول الله ﷺ يقول:" (إن) (٤) الإيمان قيد الفتك لا يفتك مؤمن" (٥) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: زيادة (قال).
(٢) في [ع]: (قال).
(٣) في [س]: (أقبل).
(٤) سقط من: [هـ].
(٥) منقطع؛ الحسن لا يروي عن الزبير، أخرجه أحمد (١٤٢٦)، وعبد الرزاق (٩٦٧٦)، وسبق ١٥/ ١٢٣.
حضرت حسن سے منقول ہے کہ ایک آدمی زبیر کے پاس آیا اور عرض کیا میں آپ کے لیے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو قتل کردوں۔ حضرت زبیر نے فرمایا وہ کیسے؟ اس نے جواب دیا میں اس کے پاس جا کر کہوں گا کہ میں آپ کے ساتھ ہوں پھر میں انہیں دھوکے سے قتل کر ڈالوں گا۔ حضرت زبیر نے فرمایا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ایمان دھوکے کو روکنے والا ہے اور مومن کبھی دھوکا نہیں دیتا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجمل وصلى الله على سيدنا محمد النبي وآله/حدیث: 40617]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40617، ترقيم محمد عوامة 38968)
ترقیم عوامۃ: 38969 ترقیم الشثری: -- 40618
٤٠٦١٨ - حدثنا ابو اسامة قال: (حدثنا) (١) هشام بن عروة عن ابيه عن عبد الله ابن الزبير قال: لما وقف الزبير يوم الجمل دعاني فقمت إلى جنبه، فقال: إنه لا يقتل (إلا) (٢) (ظالم) (٣) او (مظلوم) (٤) ، وإني لاراني (ساقتل) (٥) اليوم (٦) ، ⦗٥٠٦⦘ وإن اكبر همي لديني، افترى ديننا يبقي من مالنا شيئا؟ (فقال) (٧) : يا بني (بع) (٨) مالنا واقض ديننا، واوصيك (بالثلث) (٩) -وثلثيه لبنيه-، فإن فضل شيء من مالنا بعد قضاء الدين فثلثه لولدك، قال عبد الله بن الزبير: فجعل يوصيني بدينه ويقول: يا بني إن عجزت عن شيء منه (فاستعن) (١٠) عليه مولاي، قال: فوالله ما دريت ما اراد حتى قلت: (يا ابت) (١١) من مولاك؟ قال: الله، قال: (فوالله) (١٢) (ما وقعت) (١٣) في كربة من دينه إلا (قلت) (١٤) : يا مولى الزبير اقض عنه دينه قال: فيقضيه. قال: وقتل الزبير فلم يدع دينارا ولا درهما إلا ارضين منها الغابة (وإحدى عشرة) (١٥) دارا بالمدينة، ودارين بالبصرة، ودارا بالكوفة، ودارا بمصر، قال: وإن ما كان (١٦) عليه: ان الرجل كان ياتيه بالمال فيستودعه (١٧) إياه، فيقول الزبير: لا، ولكنه سلف، (إني) (١٨) (اخشى) (١٩) عليه ضيعة، وما ولي ولاية قط ولا جباية ولا ⦗٥٠٧⦘ (خراجا) (٢٠) ولا شيئا إلا ان يكون في (غزو) (٢١) مع (النبي) (٢٢) ﷺ او مع ابي بكر وعمر وعثمان (٢٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ع]: (أخبرنا).
(٢) سقط من: [ع].
(٣) في [أ، ب، جـ، س، ع]: (ظالًا).
(٤) في [أ، ب، جـ، س، ع]: (مظلومًا).
(٥) في [ع]: (سأفقل).
(٦) في [هـ]: زيادة (مظلومًا).
(٧) [هـ]: (ثم قال).
(٨) في [أ]: (بغ)، وفي [هـ]: (مع).
(٩) في [ب]: (بثلث).
(١٠) في [س]: (استعن).
(١١) في [ع]: (أبة).
(١٢) في [ط، هـ]: (واللَّه).
(١٣) في [أ، ب]: (أوقعت).
(١٤) في [ع]: (فلت).
(١٥) في [ع]: (أحد عشر).
(١٦) في [هـ]: زيادة (دينه الذي كان).
(١٧) في [ع]: زيادة (عنده).
(١٨) سقط من: [ع].
(١٩) في [ع]: (أخشا).
(٢٠) في [ع]: (خراج).
(٢١) في [س]: (غزوة).
(٢٢) في [هـ]: (رسول اللَّه).
(٢٣) صحيح؛ أخرجه البخاري (٣١٢٩)، وابن سعد ٣/ ١٠٨.
عبداللہ بن زبیر سے روایت ہے کہ جنگ جمل کے دن حضرت زبیر کھڑے تھے انہوں نے مجھے بلایا میں ان کے پہلو میں کھڑا ہوگیا۔ پھر فرمانے لگے کہ ظالم ہو کر یا مظلوم ہو کر قتل کردیا جاؤنگا۔ میں دیکھ رہا ہوں کہ میں آج مظلوم قتل کردیا جاؤں گا مجھے سب سے زیادہ فکر اپنے قرض کی ہے۔ کیا تو میرے قرض سے کوئی ما ل زائد دیکھتا ہے؟ پھر فرمایا اے میرے بیٹے میرے مال و جائیداد کو بیچ کر میرا دین ادا کردینا۔ میں تمہارے لیے ایک تہائی کی وصیت کرتا ہوں اور دو ثلث اپنے بیٹوں کے لیے ہے۔ قرضہ ادا کرنے کے بعد اگر کوئی مال بچے تو ایک تہائی تیرے بیٹے کے لیے ہے۔ عبداللہ بن زبیر فرماتے ہیں کہ حضرت زبیر نے مجھے دین کے بارے میں وصیت کرتے ہوئے فرمایا کہ میرے بیٹے اگر تو کہیں عاجز آجائے تو میرے مولا سے مدد طلب کرلینا، عبداللہ ابن زبیر فرماتے ہیں کہ اللہ کی قسم میں نہ سمجھا کہ مولا سے کیا مراد ہے یہاں تک کہ میں نے عرض کیا آپ کے مولا کون ہیں تو انہوں نے فرمایا اللہ! وہ کہتے ہیں کہ اللہ کی قسم جب بھی مجھے قرض ادا کرنے میں مشکل پیش آئی تو میں نے دعا کی اے زبیر کے مولا اسکا قرض ادا فرما دے پس اللہ تعالیٰ نے قرض ادا کرنے میں مدد کی کہتے ہیں کہ حضرت زبیر شہید ہوئے تو ان کے ورثے میں کوئی درہم و دینار نہیں تھا سوائے زمینوں کے۔ ان زمینوں میں سے کچھ باغات تھے، گیارہ گھر مدینہ میں تھے، دو گھر بصرہ میں، ایک گھر کوفہ میں اور ایک گھر مصر میں۔ یہ قرض ان پر ایسے ہوا تھا کہ جب کوئی شخص ان کے پاس امانت رکھنے کے لیے آیا تو حضرت زبیر فرماتے یہ امانت نہیں بلکہ آپ کا میرے پاس قرض ہے، کیونکہ میں ڈرتا ہوں اس کے ضائع ہونے سے۔ وہ کبھی کسی شہر کے والی نہیں بنے، نہ ٹیکس اور خراج کے والی بنے اور نہ کسی اور شئے کے والی بنے سوائے اس کے کہ وہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور حضرت ابو بکر، حضرت عمر اور حضرت عثمان کے ساتھ غزوات میں رہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجمل وصلى الله على سيدنا محمد النبي وآله/حدیث: 40618]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40618، ترقيم محمد عوامة 38969)