🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

3. ما (ذكر) في الخوارج
خوارج کا بیان
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 39074 ترقیم الشثری: -- 40729
٤٠٧٢٩ - حدثنا ابو (الاحوص) (١) عن سماك عن عكرمة عن ابن عباس قال: قال رسول الله ﷺ] (٢) :"ليقران القرآن ناس من امتي (يمرقون) (٣) من (الإسلام) (٤) كما (يمرق) (٥) السهم من الرمية (٦) " (٧) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ع]: (الأخوص).
(٢) سقط ما بين المعكوفين من: [أ، ب].
(٣) في [ع]: (يمزقون).
(٤) في [أ، ب]: (الدين).
(٥) في [ع]: (يمزق).
(٦) في [أ، ب]: زيادة (على قوته).
(٧) مضطرب؛ رواية سماك عن عكرمة مضطربة، وأخرجه أحمد (٢٣١٢)، وابن ماجه (١٧١)، والطيالسي (٢٦٨٧)، والفرياني في فضائل القرآن (١٩٤)، والطبراني (١١٧٣٤)، وأبو يعلى (٢٣٥٤).

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ میری امت کے کچھ لوگ قرآن پڑھتے ہوں گے لیکن اسلام سے اس طرح نکل جائیں گے جس طرح تیر کمان سے نکل جاتا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجمل وصلى الله على سيدنا محمد النبي وآله/حدیث: 40729]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40729، ترقيم محمد عوامة 39074)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 39075 ترقیم الشثری: -- 40730
٤٠٧٣٠ - حدثنا زيد بن (حباب) (١) قال: اخبرني موسى بن عبيدة قال: اخبرني عبد الله بن دينار عن ابي سلمة وعطاء بن يسار (قالا) (٢) : جئنا ابا سعيد الخدري فقلنا: (سمعنا) (٣) من رسول الله ﷺ في الحرورية (شيئا) (٤) ، فقال: ما ادري ما الحرورية؟ ولكن سمعت رسول الله ﷺ يقول:"ياتي من بعدكم اقوام تحتقرون صلاتكم مع صلاتهم، وصيامكم مع صيامهم، وعبادتكم مع عبادتهم، يقرؤون القرآن لا يجاوز تراقيهم، (يمرقون) (٥) من الدين كما (يمرق) (٦) ⦗٥٥٩⦘ السهم من الرمية" (٧) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (خباب).
(٢) في [ب]: (قال).
(٣) في [ع]: (سمعت).
(٤) سقط من: [ع].
(٥) في [ع]: (يمزقون).
(٦) في [ع]: (يمزق).
(٧) ضعيف؛ لضعف موسى بن عبيدة، وأصله أخرجه البخاري (٩٥٣٢)، ومسلم (١٠٦٤)، وأحمد ٣/ ٣٣ (١١٣٠٩).

حضرت ابوسلمہ اور حضرت عطاء بن یسار فرماتے ہیں کہ ہم حضرت ابو سعید خدری کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ہم نے ان سے کہا کہ کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے حروریہ کے بارے میں کچھ سنا ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ حروریہ کو تو میں نہیں جانتا، البتہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ تمہارے بعد ایسی قوم آئے گی جن کی نمازوں کے سامنے تم اپنی نمازوں کو معمولی سمجھو گے، جن کے روزے کے سامنے تم اپنے روزوں کو اور جن کی عبادت کے سامنے تم اپنی عبادتوں کو بےحیثیت سمجھو گے۔ وہ قرآن پڑھتے ہوں گے لیکن قرآن ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا، وہ دین سے اس طرح نکل جائیں گے جس طرح تیر کمان سے نکل جاتا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجمل وصلى الله على سيدنا محمد النبي وآله/حدیث: 40730]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40730، ترقيم محمد عوامة 39075)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 39076 ترقیم الشثری: -- 40731
٤٠٧٣١ - حدثنا يحيى بن ابي (بكير) (١) قال: حدثنا ابن عيينة قال: حدثنا العلاء بن ابي العباس قال: سمعت ابا الطفيل يخبر عن بكر بن (قرواش) (٢) عن سعد بن مالك قال: قال رسول الله ﷺ وذكر ذا الثدية الذي كان مع اصحاب النهر- فقال:"شيطان الردهة (يحتدره) (٣) رجل من بجيلة يقال له الاشهب -او ابن الاشهب- علامة (٤) في قوم ظلمة" (٥) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ع]: (بكر).
(٢) في [أ، ب]: (قراراش)، وفي [ع]: (فرواس)، وفي [هـ]: (فوارس).
(٣) في [أ، ب، ط، هـ]: (يجتدره).
(٤) في [هـ]: زيادة (سوء).
(٥) مجهول؛ لجهالة بكر بن قرواش، أخرجه أحمد (١٥٥١)، والبزار (١٢٢٧)، والحميدي (٧٤)، والحاكم ٤/ ٥٢١، وابن أبي عاصم في السنة (٩٢٠)، وأبو يعلى (٧٥٣).

حضرت سعد بن مالک فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس ذوالثدیہ کا تذکرہ کیا جو اصحاب نہر کے ساتھ تھا، آپ نے اس کے بارے میں فرمایا کہ وہ گڑھے کا شیطان ہے، اس قبیلہ بجیلہ کا ایک آدمی جس کا نام اشہب یا ابن اشہب ہوگا وہ اسے گڑھے میں پھینکے گا، یہ ظالم قوم کی علامت ہوگا۔ عمار جہنی نے بیان کیا کہ قبیلہ بجیلہ کا ایک آدمی آیا جس کا نام اشہب یا ابن اشہب تھا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجمل وصلى الله على سيدنا محمد النبي وآله/حدیث: 40731]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40731، ترقيم محمد عوامة 39076)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: Not Found ترقیم الشثری: -- 40732
٤٠٧٣٢ - فقال عمار (الدهني) (١) حين كذب به: جاء رجل من بجيلة، قال: واراه قال: من دهن، يقال له: الاشهب او ابن الاشهب.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ب]: (الذهبي).
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40732، ترقيم محمد عوامة ---)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 39077 ترقیم الشثری: -- 40733
٤٠٧٣٣ - حدثنا محمد بن بشر قال: حدثنا (عبد الله) (١) بن الوليد عن عبيد بن الحسن قال: قالت الخوارج لعمر بن عبد العزيز: تريد ان تسير فينا بسيرة عمر بن الخطاب؟ فقال: ما لهم، قاتلهم الله، والله ما زدت ان اتخذ رسول الله ﷺ إماما.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ع، هـ]: (عبيد اللَّه).
حضرت عبید بن حسن فرماتے ہیں کہ خوارج نے حضرت عمر بن عبد العزیز سے فرمایا کہ ہم چاہتے ہیں کہ آپ ہمارے ساتھ حضرت عمر بن خطاب والا معاملہ کریں۔ حضرت عمر بن عبد العزیز نے فرمایا کہ انہیں کیا ہوا، اللہ انہیں مارے! خدا کی قسم! میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے علاوہ کسی کو مقتدیٰ نہیں بناؤں گا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجمل وصلى الله على سيدنا محمد النبي وآله/حدیث: 40733]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40733، ترقيم محمد عوامة 39077)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 39078 ترقیم الشثری: -- 40734
٤٠٧٣٤ - حدثنا ابن علية عن التيمي عن ابي مجلز قال: بينما عبد الله بن خباب (في يد) (١) الخوارج إذ اتوا على نخل، فتناول رجل منهم تمرة فاقبل عليه ⦗٥٦٠⦘ اصحابه فقالوا له: اخذت تمرة من تمر اهل العهد، واتوا على خنزير (فنفحه) (٢) (رجل) (٣) منهم بالسيف، فاقبل عليه اصحابه فقالوا له: قتلت خنزيرا من خنازير اهل العهد، قال: فقال عبد الله: الا اخبركم (من) (٤) هو اعظم عليكم حقا من هذا؟ قالوا: من؟ قال: انا، ما تركت صلاة ولا تركت كذا و (لا) (٥) تركت كذا، قال: فقتلوه، قال: فلما جاءهم علي قال: اقيدونا بعبد الله بن خباب، قالوا: كيف نقيدك (به) (٦) وكلنا قد شرك في دمه؟ فاستحل قتالهم (٧) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ع]: (عند).
(٢) سقط من: [ع]، وفي [هـ]: (فنفخه).
(٣) في [ع]: (لرجل).
(٤) في [ع]: (بمن).
(٥) سقط من: [ب].
(٦) سقط من: [ع].
(٧) منقطع؛ أبو مجلز لا يروي عن علي، أخرجه الدارقطني ٣/ ١٣١، وأبو عبيد في الأموال (٤٧٥)، والبيهقي ٨/ ١٨٤، وأخرجه مسدد كما في المطالب العالية (٤٤٤٠)، وفيه: (عن أبي مجلز أراه عن قيس بن عباد)، وصحح الدارقطني في العلل ٤/ ١٠١ رواية الإرسال.

حضرت ابو مجلز فرماتے ہیں کہ جب حضرت عبد اللہ بن خباب خوارج کے قبضے میں تھے۔ اس وقت ان کا ایک آدمی کھجور کے ایک درخت کے پاس سے گزرا اور ایک کھجور اٹھا لی۔ اس کے ساتھیوں نے اس سے کہا کہ تو نے ایک ذمی کی کھجور اٹھا لی ہے! پھر وہ ایک خنزیر کے پاس سے گزرے، ایک آدمی نے اسے تلوار ماری تو اس کے ساتھیوں نے کہا کہ تو نے ایک ذمی کے خنزیر کو مار ڈالا! اس پر حضرت عبد اللہ بن خباب نے فرمایا کہ کیا میں تمہیں ان دونوں سے زیادہ حرمت والے کے بارے میں نہ بتاؤں؟ انہوں نے کہا کہ وہ کون ہے؟ حضرت عبد اللہ بن خباب نے فرمایا کہ وہ میں ہوں۔ میں نے نماز نہیں چھوڑی، میں فلاں عمل نہیں چھوڑا اور فلاں عمل بھی نہیں چھوڑا۔ اس کے باوجود بھی انہوں نے حضرت عبداللہ بن خباب کو شہید کردیا۔ جب حضرت علی رضی اللہ عنہان کے پاس آئے اور ان سے کہا کہ حضرت عبد اللہ کے قاتل ہمارے حوالے کردو، تو انہوں نے کہا کہ ہم ان کے قاتل آپ کے حوالے کیسے کردیں حالانکہ ہم سب ان کے خون میں شریک ہیں۔ اس کے بعد حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ان سے قتال کو حلال قرار دے دیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجمل وصلى الله على سيدنا محمد النبي وآله/حدیث: 40734]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40734، ترقيم محمد عوامة 39078)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 39079 ترقیم الشثری: -- 40735
٤٠٧٣٥ - حدثنا إسحاق بن منصور عن عبد الله بن عمرو بن مرة عن ابيه عن عبد الله بن سلمة قال - (وقد كان) (١) شهد مع علي الجمل وصفين- وقال: ما يسرني (بهما) (٢) كل ما على وجه الارض.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (وكان قد).
(٢) سقط من: [هـ]

حضرت عبد اللہ بن سلمہ ان لوگوں میں سے ہیں جو جنگ جمل اور جنگ صفین میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کی طرف سے شریک تھے، وہ فرماتے ہیں کہ مجھے ان دونوں سے بڑھ کر دنیا کی کوئی چیز محبوب نہیں ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجمل وصلى الله على سيدنا محمد النبي وآله/حدیث: 40735]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40735، ترقيم محمد عوامة 39079)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 39080 ترقیم الشثری: -- 40736
٤٠٧٣٦ - حدثنا غندر عن شعبة عن عمرو بن مرة عن مصعب بن سعد قال: سالت ابي عن هذه الآية: ﴿قل هل (ننبئكم) (١) بالاخسرين اعمالا (١٠٣) الذين ضل سعيهم في ⦗٥٦١⦘ الحياة الدنيا﴾ [الكهف: ١٠٣ - ١٠٤] (اهم) (٢) الحرورية؟ قال: لا، هم اهل الكتاب اليهود والنصارى، اما اليهود (فكذبوا) (٣) (بمحمد) (٤)(٥) ، واما النصارى فكفروا بالجنة (وقالوا) (٦) : ليس فيها طعام ولا شراب، ولكن الحوورية ﴿الذين ينقضون عهد الله من بعد ميثاقه ويقطعون ما امر الله به ان يوصل ويفسدون في الارض اولئك هم الخاسرون﴾ [البقرة: ٢٧] ، وكان سعد يسميهم الفاسقين (٧) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ع]: (أنبئكم).
(٢) في [ع]: (هم).
(٣) في [ب]: (كذبوا).
(٤) في [أ، ب، جـ]: (محمدا).
(٥) سقط من: [ع].
(٦) في [أ، جـ]: (قالوا)، وفي [ع]: (فقالوا).
(٧) صحيح؛ أخرجه البخاري (٤٤٥١)، والنسائي (١١٣١٣)، والحاكم ٢/ ٣٧٠، وابن جرير في التفسير ١٦/ ٣٣، وابن أبي حاتم في التفسير (٢٨٧)، والطحاوي في شرح المشكل ١٠/ ٢٤١.

حضرت مصعب بن سعد فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے والد سے سوال کیا کہ قرآن مجید کی یہ آیت کیا خوارج کے بارے میں نازل ہوئی ہے: { قُلْ ہَلْ نُنَبِّئُکُمْ بِالأَخْسَرِینَ أَعْمَالاً الَّذِینَ ضَلَّ سَعْیُہُمْ فِی الْحَیَاۃِ الدُّنْیَا } انہوں نے فرمایا کہ نہیں یہ آیت اہل کتاب یہود اور نصاریٰ کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ یہود نے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تکذیب کی اور نصاریٰ نے جنت کا انکار کیا۔ اور کہا کہ اس میں کھانا اور پینا نہیں ہے۔ حروریہ کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی ہے: { الَّذِینَ یَنْقُضُونَ عَہْدَ اللہِ مِنْ بَعْدِ مِیثَاقِہِ وَیَقْطَعُونَ مَا أَمَرَ اللَّہُ بِہِ أَنْ یُوصَلَ وَیُفْسِدُونَ فِی الأَرْضِ أُولَئِکَ ہُمُ الْخَاسِرُونَ } حضرت سعد خوارج کو فاسق کہا کرتے تھے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجمل وصلى الله على سيدنا محمد النبي وآله/حدیث: 40736]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40736، ترقيم محمد عوامة 39080)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 39081 ترقیم الشثری: -- 40737
٤٠٧٣٧ - حدثنا وكيع عن إسماعيل بن ابي خالد قال: سمعت مصعب بن سعد قال: سئل ابي عن الخوارج قال: هم (قوم) (١) زاغوا فازاغ الله قلوبهم (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [أ، ب، جـ].
(٢) صحيح؛ أخرجه الحاكم ٢/ ٣٧٠، وعبد اللَّه بن أحمد في السنة (١٥٢٥) و (١٥٣٤)، وابن جرير ١٦/ ٣٣.

حضرت مصعب بن سعد فرماتے ہیں کہ میرے والد سے خوارج کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے فرمایا کہ یہ وہ قوم ہے جس نے ٹیڑھے راستے کو اختیار کیا تو اللہ نے ان کے دلوں کو ٹیڑھا کردیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجمل وصلى الله على سيدنا محمد النبي وآله/حدیث: 40737]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40737، ترقيم محمد عوامة 39081)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 39082 ترقیم الشثری: -- 40738
٤٠٧٣٨ - حدثنا عبيد الله قال: (اخبرنا) (١) نعيم بن حكيم قال: حدثني ابو مريم ان (شبث) (٢) بن ربعي وابن الكواء خرجا من الكوفة إلى حروراء، فامر علي الناس ان يخرجوا بسلاحهم فخرجوا إلى المسجد حتى امتلا المسجد. ⦗٥٦٢⦘ فارسل (إليهم) (٣) علي: بئس ما صنعتم (حين) (٤) (تدخلون) (٥) المسجد بسلاحكم، اذهبوا إلى جبانة مراد حتى ياتيكم امري، (قال) (٦) : قال ابو مريم: فانطلقنا إلى جبانة مراد، (فكنا بها) (٧) ساعة من نهار، ثم بلغنا ان القوم قد رجعوا (او) (٨) انهم (راجعون) (٩) ، قال: (فقلت) (١٠) : (١١) (انطلق) (١٢) انا فانظر إليهم. قال: فانطلقت فجعلت اتخلل صفوفهم حتى انتهيت إلى (شبث) (١٣) بن ربعي وابن الكواء وهما واقفان متوركان على (دابتهما) (١٤) ، (وعندهم) (١٥) رسل علي (يناشدونهم) (١٦) الله لما رجعوا، وهم يقولون لهم: نعيذكم بالله ان (تعجلوا) (١٧) (الفتنة) (١٨) العام خشية عام قابل. ⦗٥٦٣⦘ فقام رجل منهم (إلى) (١٩) بعض رسل علي فعقر دابته، فنزل الرجل وهو يسترجع، فحمل سرجه فانطلق به، وهما يقولان: ما طلبنا إلا منابذتهم، (وهم) (٢٠) يناشدونهم الله، فمكثوا ساعة ثم انصرفوا إلى الكوفة كانه يوم اضحى او يوم فطر. وكان علي يحدثنا قبل ذلك ان قوما يخرجون من الإسلام، (يمرقون) (٢١) منه كما (يمرق) (٢٢) السهم من الرمية، علامتهم رجل مخدج اليد، قال: فسمعت ذلك مرارا كثيرة، قال: وسمعه نافع (المخدج) (٢٣) ايضا، حتى رايته (يتكره) (٢٤) طعامه من كثرة ما سمعه منه. قال: وكان نافع معنا في المسجد يصلي فيه بالنهار، (ويبيت) (٢٥) فيه بالليل، وقد كسوته برنسا فلقيته من الغد فسالته: هل كان خرج معنا الناس الذين خرجوا إلى حروراء؟ قال: خرجت (اريدهم) (٢٦) حتي إذا بلغت إلي بني فلان لقيني صبيان، فنزعوا سلاحي، فرجعت. حتى إذا كان الحول او نحوه خرج اهل النهروان وسار علي إليهم، فلم اخرج معه، قال: وخرج اخي ابو عبد الله (و) (٢٧) مولاه مع علي. ⦗٥٦٤⦘ قال: فاخبرني ابو عبد الله ان عليا سار إليهم حتى إذا كان حذاءهم على شاطيء النهروان ارسل إليهم يناشدهم الله ويامرهم ان يرجعوا، فلم تزل رسله تختلف إليهم حتى قتلوا رسوله، فلما راى ذلك نهض إليهم فقاتلهم حتى فرغ منهم كلهم، ثم امر اصحابه ان يلتمسوا المخدج، فالتمسوه، فقال بعضهم: ما نجده حيا، وقال بعضهم: ما هو فيهم؛ ثم إنه جاءه رجل فبشره فقال: يا امير المؤمنين قد (والله وجدناه) (٢٨) تحت قتيلين في ساقية، فقال: اقطعوا يده المخدجة واتوني بها، فلما اتي بها اخذها بيده ثم رفعها ثم قال: والله ما كذبت ولا كذبت (٢٩) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، ع]: (أنبأنا).
(٢) في [أ، ب]: (شبت)، وفي [ع]: (شبثت).
(٣) سقط من: [هـ].
(٤) في [أ، ب]: (حتى).
(٥) في [أ، ب]: (يدخلون).
(٦) سقط من: [ع].
(٧) في [ع]: (وكنا بها).
(٨) في [هـ]: (و).
(٩) في [هـ]: (زاحفون).
(١٠) في [ع]: (قلت).
(١١) في [أ، ب]: زيادة (أنا).
(١٢) في [ع]: (فأنطلق).
(١٣) في [أ، ب]: (سبيب).
(١٤) في [هـ]: (دابتيهما).
(١٥) في [أ، ب، جـ، ع]: (وعندهما).
(١٦) في [هـ]: (يناشدونهما).
(١٧) في [أ، ب]: (يعجلوا).
(١٨) في [هـ]: (بفتنة).
(١٩) في [أ، ب]: (أتا).
(٢٠) في [أ، ب]: (وهما).
(٢١) في [ع]: (يمزقون).
(٢٢) في [ع]: (يمزق).
(٢٣) في [هـ]: (المخدع).
(٢٤) في [أ، ب]: (يتكو).
(٢٥) في [أ، ب]: (ويثبت)، وفي [ع]: (ونبيت).
(٢٦) سقط من: [أ، ب].
(٢٧) في [ع]: (مع).
(٢٨) في [ع]: (وجدناه واللَّه).
(٢٩) مجهول؛ لجهالة أبي مريم، والنسائي إنما وثق الحنفي لا الثقفي، أخرجه أبو داود (٤٧٧٠)، وعبد اللَّه بن أحمد في زوائد المسند (١٣٠٣)، وأبو يعلى (٣٥٨)، والطيالسي (١٦٥)، وابن جرير في التاريخ ٣/ ١٢٤، وابن بشكوال ٢/ ٥٤٦، والخطيب في الأسماء المبهمة ٤/ ٣١٣.

حضرت ابو مریم فرماتے ہیں کہ شبث بن ربعی اور ابن کو اء کوفہ سے حروراء کی طرف گئے، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو حکم دیا کہ وہ اپنے ہتھیار کے ساتھ نکلیں۔ لوگ مسجد میں آگئے یہاں تک کہ مسجد لوگوں سے بھر گئی۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ تم نے ہتھیاروں کے ساتھ مسجد مں داخل ہوکربہت برا کیا۔ تم سب میدان میں جمع ہوجاؤ اور اس وقت تک وہاں رہو جب تک میرا حکم تمہیں نہ مل جائے۔ ابو مریم فرماتے ہیں کہ پھر ہم میدان میں چلے گئے اور دن کا کچھ حصہ وہاں ٹھہرے پھر ہمیں خبر ہوئی کہ لوگ واپس جارہے ہیں۔ (٢) ابو مریم کہتے ہیں کہ میں ان کو دیکھنے کے لئے ان کی طرف چلا۔ میں ان کی صفوں کو چیرتا ہوا شبث بن ربعی اور ابن کو اء تک پہنچ گیا، وہ دونوں سواری سے ٹیک لگائے کھڑے تھے۔ ان کے پاس حضر ت علی رضی اللہ عنہ کے قاصد تھے جو انہیں اللہ کا واسطہ دے رہے تھے اور کہہ رہے تھے کہ تمہارا اگلے سال کے آنے سے پہلے فتنہ مچانے میں جلدی کرنا ایسا عمل ہے جس سے اللہ تعالیٰ تمہیں پناہ عطا فرمائے۔ خوارج کا ایک آدمی حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ایک قاصد کے پاس گیا اور اس کی سواری کو مار ڈالا۔ وہ آدمی انا للہ وانا الیہ راجعون پڑھتا ہوا نیچے اترا اور اپنی زین کو لے کر چل پڑا۔ وہ دونوں کہہ رہے تھے کہ ہم تو ان سے صرف مقابلہ چاہتے ہیں اور وہ اللہ کے واسطے دے رہے ہیں۔ (٣) وہ سب کچھ دیر ٹھہرے اور پھر کوفہ چلے گئے، وہ یوم اضحی یایوم فطر تھا، حضرت علی رضی اللہ عنہ اس سے پہلے ہم سے بیان کررہے تھے کہ ایک قوم اسلام سے خارج ہوجائے گی، وہ اسلام سے ایسے نکل جائیں گے جیسے تیر کمان سے نکل جاتا ہے۔ ان کی علامت یہ ہے ان میں مفلوج ہاتھ والا ایک آدمی ہوگا۔ راوی کہتا ہے کہ میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے یہ بات کئی مرتبہ سنی ہے۔ اس بات کو مفلوج ہاتھ والے نافع نے بھی سنا۔ یہاں تک کہ میں نے اسے دیکھا کہ اس نے اس بات کو زیادہ سن کر اس کی ناگواری کی وجہ سے کھاناکھانا بھی چھوڑ دیا تھا۔ نافع ہمارے ساتھ مسجد میں تھا دن کو نماز پڑھتا تھا اور رات مسجد میں گزارتا تھا۔ میں نے اسے ایک ٹوپی پہنائی تھی۔ میں اگلے دن اسے ملا، میں نے اس سے سوال کیا کہ کیا وہ ان لوگوں کے ساتھ نکلا تھا جو حروراء کی طرف گئے تھے؟ انہوں نے کہا کہ میں ان کا ارادہ کرکے نکلا تھا لیکن جب میں فلاں قبیلے مں ھ پہنچا تو مجھے کچھ بچے ملے جنہوں نے میرا اسلحہ چھین لیا۔ میں واپس آگیا، ایک سال بعد اہل نہروان نکلے اور حضرت علی رضی اللہ عنہ بھی ان کی طرف گئے لیکن میں ان کے ساتھ نہیں گیا۔ (٤) میرے بھائی ابو عبد اللہ اور ان کے غلام حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ نکلے۔ مجھے ابو عبد اللہ نے بتایا کہ حضر ت علی رضی اللہ عنہ خوارج کی طرف گئے، جب نہروان کے کنارے ان کے برابر ہوگئے تو ان کی طرف آدمی بھیجا جو انہیں اللہ کا واسطہ دے اور انہیں رجوع کی دعوت دے۔ مختلف قاصدوں کا آنا جانا لگا رہا، یہاں تک کہ خارجیوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے قاصد کو قتل کردیا۔ جب حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اس صورت حال کو دیکھا تو ان سے قتال کیا۔ جب سب کو تہس نہس کرکے فارغ ہوگئے تو اپنے ساتھیوں کو حکم دیا کہ مفلوج ہاتھ والے شخص کو تلاش کریں۔ لوگوں نے انہیں تلاش کیا تو ایک آدمی نے کہا کہ ہمیں وہ زندہ حالت میں تو نہیں ملا۔ ایک آدمی نے کہا کہ وہ ان میں نہیں ہے۔ پھر ایک آدمی نے آکر خوشخبری دی کہ اے امیر المومنین! خدا کی قسم ہم نے اسے دو مقتولوں کے نیچے گرا ہوا پالیا ہے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حکم دیا کہ اس کا مفلوج ہاتھ کاٹ کر میرے پاس لاؤ۔ جب وہ ہاتھ لایا گیا تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اسے بلند کرکے کہا کہ خدا کی قسم! نہ تو میں نے جھوٹ بولا اور نہ مجھ سے جھوٹ بولا گیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجمل وصلى الله على سيدنا محمد النبي وآله/حدیث: 40738]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40738، ترقيم محمد عوامة 39082)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں