مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
3. ما (ذكر) في الخوارج
خوارج کا بیان
ترقیم عوامۃ: 39083 ترقیم الشثری: -- 40739
٤٠٧٣٩ - حدثنا شريك عن محمد بن قيس عن ابي موسى ان عليا لما اتي بالمخدج سجد (١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) مجهول؛ لجهالة أبي موسى مالك بن الحارث، وقيل مالك بن عبد اللَّه، وأخرجه أبو القاسم البغوي في الجعديات (٢٢٣٢)، وعبد اللَّه بن أحمد في السنة (١٥٢٣)، وعبد الرزاق (٥٩٦٢)، والبيهقي في المعرفة (١١٧٧) ٢/ ٣٧١، ودلائل النبوة ٦/ ٤٣٣، والخطيب في تاريخ بغداد ١٣/ ١٥٧، والشافعي في الأم ١/ ١٣٤، والمرزوي في تعظيم الصلاة (٢٤٦).
حضرت ابو موسیٰ فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس جب مفلوج شخص کو لایا گیا تو آپ نے سجدہ کیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجمل وصلى الله على سيدنا محمد النبي وآله/حدیث: 40739]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40739، ترقيم محمد عوامة 39083)
ترقیم عوامۃ: 39084 ترقیم الشثری: -- 40740
٤٠٧٤٠ - حدثنا وكيع قال: حدثنا الاعمش عن ابي إسحاق عن حصين -وكان صاحب شرطة علي- قال: قال علي: قاتلهم الله، اى حديث (شابوا) (١) -يعني الخوارج الذين (قتل) (٢) (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ع]: (سانوا).
(٢) في [هـ]: (قتلوا).
(٣) مجهول؛ لجهالة حصين، وأخرجه عبد اللَّه بن أحمد في السنة (١٥٣٦).
حضرت حصین فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے خوارج کے بارے میں فرمایا کہ اللہ انہیں ہلاک کرے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجمل وصلى الله على سيدنا محمد النبي وآله/حدیث: 40740]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40740، ترقيم محمد عوامة 39084)
ترقیم عوامۃ: 39085 ترقیم الشثری: -- 40741
٤٠٧٤١ - حدثنا ابن نمير عن الاجلح عن سلمة بن كهيل عن كثير بن (نمر) (١) قال: بينا انا في الجمعة وعلي بن ابي طالب (٢) على المنبر إذ (قام) (٣) رجل (فقال) (٤) : لا حكم إلا لله، ثم قام آخر فقال: لا حكم إلا لله، ثم قاموا من نواحي المسجد يحكمون الله فاشار بيده: اجلسوا، نعم لا حكم إلا لله، كلمة حق (يبتغى) (٥) بها باطل، حكم الله ينتظر فيكم، (الآن) (٦) لكم عندي ثلاث خلال ما (كنتم) (٧) ، معنا لن (نمنعكم) (٨) مساجد الله ان يذكر فيها اسمه، ولا (نمنعكم) (٩) (فيئا) (١٠) ما كانت ايديكم مع ايدينا، ولا نقاتلكم حتى (تقاتلونا) (١١) ، ثم اخذ في خطبته (١٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ع]: (تمر).
(٢) في [أ، ب]: زيادة ﵁.
(٣) في [هـ]: (جاء).
(٤) في [أ، ب]: (قال).
(٥) في [ع]: (يبتغا).
(٦) في [ع]: (إن).
(٧) في [ب]: (كنت).
(٨) في [ب]: (يمنعكم).
(٩) في [ب]: (يمنعكم).
(١٠) في [ع]: (فياء).
(١١) في [هـ]: (تقاتلوا).
(١٢) مجهول؛ لجهالة كثير بن نمر، أخرجه البيهقي ٨/ ١٨٤، والطبراني في الأوسط (٧٧٧١).
حضرت کثیر بن نمر فرماتے ہیں کہ ہم جمعہ کی نماز پڑھ رہے تھے، حضرت علی رضی اللہ عنہ منبر پر تھے کہ ایک آدمی اٹھا اور اس نے کہا کہ اللہ کے سوا کسی کا حکم قبول نہیں۔ پھر ایک اور آدمی کھڑا ہوا اور اس نے کہا کہ اللہ کے سوا کسی کا حکم نہیں۔ پھر مسجد کے گوشوں سے مختلف لوگ کھڑے ہو کر یہی نعرہ لگانے لگے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے انہیں ہاتھ سے بیٹھ جانے کا اشارہ کیا۔ اور فرمایا کہ بلاشبہ اللہ کے سوا کسی کا حکم نہیں، لیکن یہ کلمۂ حق ہے جس سے باطل کا ارادہ کیا گیا ہے۔ تمہارے بارے میں اللہ کے حکم کا انتظار کیا جارہا ہے۔ اس وقت ہمارے پاس تمہارے لئے تین رعایتیں ہیں جب تک تم ہمارے ساتھ ہو، ہم تمہیں اللہ کی مسجدوں سے منع نہیں کریں گے کہ ان میں اللہ کے نام کا ذکر کیا جائے، ہم تمہیں فیء سے بھی محروم نہیں کریں گے جب تک ہمارے اور تمہارے ہاتھ اکٹھے ہیں، ہم تم سے اس وقت تک قتال نہیں کریں گے جب تک تم ہم سے قتال نہ کرو۔ پھر آپ نے دوبارہ خطبہ شروع کردیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجمل وصلى الله على سيدنا محمد النبي وآله/حدیث: 40741]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40741، ترقيم محمد عوامة 39085)
ترقیم عوامۃ: 39086 ترقیم الشثری: -- 40742
٤٠٧٤٢ - حدثنا يحيى بن آدم قال: حدثنا يزيد بن عبد العزيز عن عمر بن (حسيل) (١) بن سعد بن حذيفة قال: حدثنا (حبيب) (٢) ابو الحسن (العبسي) (٣) عن ⦗٥٦٦⦘ ابي البختري قال: دخل رجل المسجد فقال: لا حكم إلا لله، (ثم قال آخر: لا حكم إلا لله، قال: فقال علي: لا حكم إلا لله) (٤) ، ﴿إن وعد الله حق ولا يستخفنك الذين لا يوقنون﴾ [الروم: ٦٠] ، فما تدرون ما يقول هؤلاء؟ يقولون: لا إمارة، ايها الناس، إنه لا يصلحكم إلا امير: بر او فاجر، قالوا: هذا البر قد عرفناه، فما بال الفاجر؟ فقال: يعمل (المؤمن) (٥) (ويملى) (٦) للفاجر، ويبلغ الله الاجل، (وتامن) (٧) سبلكم، (وتقوم) (٨) اسواقكم، (ويقسم) (٩) فيئكم ويجاهد عدوكم ويؤخذ (الضعيف) (١٠) من القوي -او قال: من الشديد- منكم (١١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، جـ]: (حسبل).
(٢) في [ع]: (أحبيب).
(٣) في [ع]: (العنبسي).
(٤) سقط من: [أ، ب، هـ].
(٥) في [ع]: (للمؤمن).
(٦) في [ع]: (ويملأ).
(٧) في [ع]: (ويأمن)، وفي [هـ]: (نأمن).
(٨) في [ب]: (ويقوم).
(٩) في [ع]: (ويجبا).
(١٠) في [أ، ب، ع]: (للضعيف).
(١١) منقطع؛ أبو البختري لا يروي عن علي.
حضرت ابو بختری فرماتے ہیں کہ ایک آدمی مسجد میں داخل ہوا اور اس نے کہا کہ اللہ کے سوا کسی کی حکومت نہیں۔ پھر ایک اور آدمی کھڑا ہوا اور اس نے کہا کہ اللہ کے سوا کسی کی حکومت نہیں۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے یہ سن کر فرمایا کہ اللہ کے سوا کسی کی حکومت نہیں۔ بیشک اللہ کا وعدہ حق ہے اور وہ لوگ آپ کو حقیر نہ سمجھیں جو ایمان نہیں رکھتے۔ کیا تم جانتے ہو کہ یہ لوگ کیا کہہ رہے ہیں؟ یہ کہہ رہے ہیں کہ امارت نہیں ہے۔ اے لوگو! تمہارے لئے امیر کا ہونا ضروری ہے، خواہ وہ نیک ہو یا فاسق۔ لوگوں نے کہا کہ نیک امیر کو تو ہم نے دیکھ لیا۔ فاسق کیسا ہوتا ہے؟ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ مومن عمل کرتا ہے اور فاجر کو ڈھیل دی جاتی ہے، اللہ تعالیٰ مدت تک پہنچاتا ہے، تمہارے راستے مامون ہیں، تمہارے بازار قائم ہیں، تمہارا مال غنیمت تقسیم کیا جاتا ہے، تمہارے دشمن سے جہاد کیا جاتا ہے۔ ضعیف کا حق قوی سے لے کر اسے دلایا جاتا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجمل وصلى الله على سيدنا محمد النبي وآله/حدیث: 40742]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40742، ترقيم محمد عوامة 39086)
ترقیم عوامۃ: 39087 ترقیم الشثری: -- 40743
٤٠٧٤٣ - حدثنا يحيى بن آدم قال: حدثنا يزيد بن عبد العزيز قال: حدثنا إسحاق بن راشد عن الزهري عن ابي سلمة بن عبد الرحمن والضحاك بن قيس عن ابي سعيد الخدري قال: (بينا) (١) رسول الله ﷺ يقسم مغنما يوم (خيبر) (٢) ، فاتاه رجل من بني تميم يقال: له ذو الخويصرة، فقال: يا رسول الله اعدل، فقال:"هاك! لقد خبت وخسرت إن لم اعدل"، فقال عمر: دعني يا رسول الله اقتله، فقال:"لا، إن لهذا اصحابا يخرجون عند اختلاف من الناس، يقراون القرآن لا ⦗٥٦٧⦘ يجاوز حناجرهم، (يمرقون) (٣) من الدين كما (يمرق) (٤) السهم من الرمية، تحقرون صلاتكم مع صلاتهم، وصيامكم مع صيامهم، آيتهم رجل منهم كان يده ثدي المراة، وكانها بضعة تدردر"، قال: فقال ابو سعيد: (فسمع) (٥) اذني من رسول الله ﷺ يوم حنين وبصر عيني مع علي حين قتلهم، ثم استخرجه فنظرت إليه (٦) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ع]: (بينما).
(٢) كذا في النسخ، وفي آخر الخبر قال: (حنين).
(٣) في [ع]: (يمزقون).
(٤) في [ع]: (يمزق).
(٥) في [ط، هـ]: (فسمعت)، وفي [أ، ب]: (سمعت).
(٦) حسن؛ إسحاق بن راشد صدوق، أخرجه بنحوه البخاري (٦١٦٣)، ومسلم (١٠٦٤)، وأحمد (١١٦٢١)، ورواه ابن أبي عاصم في السنة (٩٢٣) من طريق المؤلف.
حضرت ابو سعید خدری فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے درمیان حنین کا مال غنیمت تقسیم فرما رہے تھے کہ بنو تمیم کا ایک آدمی آیا جسے ذوخویصرہ کہا جاتا تھا۔ اس نے کہا کہ اے اللہ کے رسول! انصاف کیجئے۔ آپ نے فرمایا کہ تیرا ناس ہو، اگر میں انصاف نہ کروں تو مریی ناکامی اور نامرادی میں کیا شک ہے۔ حضرت عمر نے عرض کیا اے اللہ کے رسول! مجھے اجازت دیجئے، میں اسے قتل کردوں۔ آپ نے فرمایا کہ نہیں، اس کے کچھ ساتھی ہیں جو لوگوں کے اختلاف کے وقت ظاہر ہوں گے۔ یہ لوگ قرآن پڑھیں گے لیکن قرآن ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا۔ وہ دین سے اس طرح نکل جائیں گے جس طرح تیر کمان سے نکل جاتا ہے۔ تم ان کی نماز کے سامنے اپنی نماز کو حقیر سمجھو گے، تم ان کے روزے کے سامنے اپنے روزے کو حقیر سمجھو گے۔ ان کی نشانی یہ ہوگی کہ ان میں عورت کے پستان جیسے ہاتھ والا ایک آدمی ہوگا، جو گوشت کے ٹکڑے کی طرح لٹک رہا ہوگا۔ حضرت ابو سعید فرماتے ہیں کہ اس بات کو حنین کے دن میرے کانوں نے سنا اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ہمراہ خوارج کے خلاف جنگ میں میری آنکھوں نے دیکھا کہ اس کو نکالا گیا اور میں نے اس علامت والے شخص کو دیکھا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجمل وصلى الله على سيدنا محمد النبي وآله/حدیث: 40743]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40743، ترقيم محمد عوامة 39087)
ترقیم عوامۃ: 39088 ترقیم الشثری: -- 40744
٤٠٧٤٤ - حدثنا ابو اسامة قال: حدثنا حماد بن زيد قال: حدثنا (مجالد) (١) بن سعيد عن عمير بن (٢) (زوذى) (٣) ابي (كثير) (٤) قال: خطبنا علي يوما، فقام الخوارج فقطعوا عليه كلامه، قال: فنزل فدخل ودخلنا معه، فقال: الا اني إنما اكلت يوم اكل الثور الابيض، ثم قال: مثلي مثل (ثلاثة) (٥) اثوار (واسد) (٦) اجتمعن في اجمة: ابيض واحمر واسود، فكان إذا اراد شيئا منهن اجتمعن فامتنعن منه. فقال للاحمر والاسود: إنه لا يفضحنا في اجمتنا هذه إلا مكان هذا ⦗٥٦٨⦘ الابيض، فخليا (بيني وبينه) (٧) حتى آكله، ثم اخلو انا وانتما في هذه الاجمة، فلونكما على لوني ولوني على لونكما، قال: ففعلا، قال: فوثب عليه فلم (يلبثه) (٨) ان قتله. قال: فكان إذا اراد احدهما اجتمعا، فامتنعا منه، (فقال) (٩) للاحمر: يا احمر، إنه لا يشهرنا في اجمتنا هذه إلا مكان هذا الاسود، فخل بيني وبينه حتى آكله، ثم اخلو انا وانت، فلوني على لونك ولونك على لوني، قال: فامسك عنه فوثب عليه فلم يلبثه ان قتله، ثم لبث ما شاء الله. ثم قال للاحمر: يا احمر إني آكلك، قال: تاكلني، قال: نعم، قال: اما لا فدعني حتى اصوت ثلاثة اصوات، ثم شانك بي قال: فقال: الا إني إنما اكلت يوم اكل الثور الابيض، قال: ثم قال علي: الا وإني إنما (وهنت) (١٠) يوم قتل عثمان (١١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: (مخالد).
(٢) في [جـ]: زيادة (ابن).
(٣) في [أ، ب]: (زدزي).
(٤) في [أ، هـ]: (كبير).
(٥) في [أ]: (أثلاثة)، وفي [ب]: (الثلاثة).
(٦) في [أ، ب]: (وأشد).
(٧) في [ع]: (بينه وبيني).
(٨) في [ع]: (يلبث).
(٩) في [هـ]: (وقال).
(١٠) في [أ، ب، ع]: (وهبت)، وفي [هـ]: (رهبت).
(١١) مجهول؛ لجهالة عمير، وأخرجه ابن حبان في الأمثال في الحديث النبوي (١٦٧)، وابن شبه (٢١٧٧)، وابن الجوزي في المنتظم ٥/ ٦١.
حضرت عمیر بن زوذی ابو کثیرہ فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ایک دن ہمیں خطبہ دیا، اس خطبہ میں خوارج کھڑے ہوئے اور ان کی بات کو کاٹ دیا۔ وہ نیچے اترے اور حجرے میں تشریف لے گئے، ہم بھی ان کے ساتھ اندر چلے گئے۔ انہوں نے فرمایا کہ میں اس دن کھایا گیا جس دن سفید بیل کھایا گیا۔ پھر فرمایا کہ میری مثال ان تین بیلوں اور شیر کی سی ہے جو ایک کچھار میں جمع ہوگئے، ایک بیل سفید تھا، ایک سرخ اور ایک کالا، جب بھی شیر ان بیلوں کو کھانے کی کوشش کرتا وہ تینوں جمع ہوجاتے اور شیر کا مقابلہ کرتے اور شیر کو باز رکھتے۔ ایک دن شیر نے سرخ اور کالے بیل سے کہا کہ سفید بیل کا رنگ اس کچھار میں ہماری ذلت کا سبب ہے، تم دونوں ایسا کرو کہ مجھے وہ بیل کھا لینے دو، پھر ہم تینوں آرام سے اس کچھار میں رہیں گے، میرا اور تمہارا رنگ بھی ایک جیسا ہے۔ چناچہ وہ دونوں بیل اس کے جھانسے میں آگئے۔ اس بات کو منظور کرلیا اور شیر نے فورا حملہ کرکے سفید بیل کا کام تمام کردیا۔ (٢) پھر اس کے بعد جب کبھی وہ ان دونوں بیلوں میں سے کسی ایک کو مارنا چاہتا تو وہ دونوں جمع ہوجاتے اور اسے باز رکھتے۔ پس ایک دن شیر نے سرخ بیل سے کہا کہ اے سرخ بیل! اس جگہ کالے کے ہونے کی وجہ سے ہماری عزت خراب ہورہی ہے۔ تم مجھے اجازت دو کہ میں اسے کھا لوں، پھر تم اور میں یہاں اکیلے رہیں گے، میرا رنگ تمہارے جیسا ہے اور تمہارا رنگ میرے جیسا ہے۔ پس سرخ بیل نے اسے اجازت دے دی اور اس نے کالے بیل کا قصہ تمام کردیا۔ (٣) پھر وہ کچھ دیر تک رکا رہا اور پھر سرخ بیل سے کہا کہ اے سرخ بیل! میں تجھے کھاؤں گا۔ اس نے کہا کہ کیا تو مجھے کھائے گا! اس نے کہا ہاں میں تجھے کھاؤں گا۔ بیل نے کہا کہ اگر تو نے مجھے کھانا ہی ہے تو مجھے تین آوازیں نکالنے کی اجازت دے دے۔ پھر تم جو چاہو کرلینا۔ پھر بیل نے کہا کہ میں تو اسی دن کھایا گیا تھا جس دن سفید بیل کھایا گیا تھا۔ (٤) پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ یاد رکھو جس دن حضرت عثمان کو شہید کیا گیا میں اسی دن کمزور ہوگیا تھا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجمل وصلى الله على سيدنا محمد النبي وآله/حدیث: 40744]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40744، ترقيم محمد عوامة 39088)
ترقیم عوامۃ: 39089 ترقیم الشثری: -- 40745
٤٠٧٤٥ - حدثنا ابن فضيل عن إسماعيل بن سميع عن الحكم قال: خمس علي اهل النهر (١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) منقطع؛ الحكم لا يروي عن علي
حضرت حکم فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہاہل نہر کے مال کا خمس دیا تھا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجمل وصلى الله على سيدنا محمد النبي وآله/حدیث: 40745]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40745، ترقيم محمد عوامة 39089)
ترقیم عوامۃ: 39090 ترقیم الشثری: -- 40746
٤٠٧٤٦ - حدثنا يزيد بن هارون عن الحجاج عن الحكم ان عليا قسم بين اصحابه رقيق اهل النهر ومتاعهم كله (١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) منقطع؛ الحكم لا يروي عن علي.
حضرت حکم فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اہل نہر کے غلام اور ان کا سارا سامان اپنے ساتھیوں میں تقسیم کردیا تھا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجمل وصلى الله على سيدنا محمد النبي وآله/حدیث: 40746]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40746، ترقيم محمد عوامة 39090)
ترقیم عوامۃ: 39091 ترقیم الشثری: -- 40747
٤٠٧٤٧ - حدثنا وكيع عن سفيان عن شبيب بن غرقدة عن رجل] * (١) من بني تميم قال: سالت ابن عمر عن اموال الخوارج، (فقال) (٢) : ليس فيها غنيمة ولا غلول (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) إلى هنا انتهى السقط في [س] الذي بدأ أثناء الحديث رقم [٤٠٧٢٤] فقرة [٤].
(٢) في [هـ]: (قال).
(٣) مجهول؛ لإبهام الرجل التميمي.
بنو تمیم کے ایک آدمی بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے خوارج کے مال کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ اس میں غنیمت اور غلول نہیں ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجمل وصلى الله على سيدنا محمد النبي وآله/حدیث: 40747]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40747، ترقيم محمد عوامة 39091)
ترقیم عوامۃ: 39092 ترقیم الشثری: -- 40748
٤٠٧٤٨ - حدثنا ابن إدريس عن ابيه عن جده قال: (فزع) (١) المسجد حين اصيب اهل النهر.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) كذا في النسخ، ولعلها: (فرغ).
حضرت ابن ادریس کے دادا بیان کرتے ہیں کہ جب اہل نہر پر حملہ ہوا تو مسجد گونج اٹھی تھی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجمل وصلى الله على سيدنا محمد النبي وآله/حدیث: 40748]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40748، ترقيم محمد عوامة 39092)