سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
1. بَابُ أَحْكَامِ النِّكَاحِ
باب: نکاح کے احکام کا بیان
ترقیم العلمیہ : 3497 ترقیم الرسالہ : -- 3551
نَا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْبَاهِلِيُّ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ بُدَيْلٍ ، نَا ابْنُ فُضَيْلٍ ، نَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنِي الْقَاسِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، وَمُجَمِّعِ ابْنَيْ يَزِيدَ قَالا: أَنْكَحَ خِذَامٌ ابْنَتَهُ خَنْسَاءَ وَهِيَ كَارِهَةٌ رَجُلا وَهِيَ ثَيِّبٌ،" فَأَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لَهُ فَرَدَّ نِكَاحَهَا" .
سیدنا عبدالرحمن بن یزید رضی اللہ عنہ اور سیدنا مجمع بن یزید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: سیدنا خذام رضی اللہ عنہ نے اپنی صاحبزادی خنساء کی شادی کر دی، وہ خاتون اس شخص کو پسند نہیں کرتی تھیں، وہ خاتون ثیبہ (بیوہ یا مطلقہ) تھیں، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس بات کا ذکر کیا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے نکاح کو کالعدم قرار دیا۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 3551]
ترقیم العلمیہ: 3497
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 5138، 5139، 6945، 6969، ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 1061، وابن الجارود فى "المنتقى"، 770، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 3270، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 5361، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2101،وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 1873، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3551، 3552، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 27428،وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 16203»
«قال الدارقطني: حديث صحيح، سنن الدارقطني: (4 / 332) برقم: (3551)»
«قال الدارقطني: حديث صحيح، سنن الدارقطني: (4 / 332) برقم: (3551)»
الحكم على الحديث: صحيح
ترقیم العلمیہ : 3498 ترقیم الرسالہ : -- 3552
نَا أَبُو الْقَاسِمِ بْنُ مَنِيعٍ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْكُوفِيُّ ، نَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ حَجَّاجِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدَّتِهِ خَنْسَاءَ بِنْتِ خِذَامِ بْنِ خَالِدٍ ، قَالَ: كَانَتْ أَيِّمًا مِنْ رَجُلٍ فَزَوَّجَهَا أَبُوهَا رَجُلا مِنْ بَنِي عَوْفٍ، فَحَنَّتْ إِلَى أَبِي لُبَابَةَ بْنِ عَبْدِ الْمُنْذِرِ، فَارْتَفَعَ شَأْنُهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَاهَا أَنْ يُلْحِقَهَا بِهَوَاهَا، فَتَزَوَّجَتْ أَبَا لُبَابَةَ" .
سیدہ خنساء رضی اللہ عنہا کے بارے میں منقول ہے: وہ بیوہ تھیں، ان کے والد نے بنو عوف سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کے ساتھ ان کی شادی کر دی، وہ خاتون ابولبابہ بن عبدالمنذر کے ساتھ شادی کرنا چاہتی تھیں، اس کا معاملہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا گیا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے والد کو یہ ہدایت کی کہ وہ اس کی شادی اس کی خواہش کے مطابق کریں، اس خاتون نے سیدنا ابولبابہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ شادی کر لی۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 3552]
ترقیم العلمیہ: 3498
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 5138، 5139، 6945، 6969، ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 1061، وابن الجارود فى "المنتقى"، 770، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 3270، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 5361، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2101،وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 1873، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3551، 3552، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 27428،وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 16203»
«قال الدارقطني: حديث صحيح، سنن الدارقطني: (4 / 332) برقم: (3551)»
«قال الدارقطني: حديث صحيح، سنن الدارقطني: (4 / 332) برقم: (3551)»
الحكم على الحديث: صحيح
ترقیم العلمیہ : 3499 ترقیم الرسالہ : -- 3553
نَا أَبُو الْقَاسِمِ بْنُ مَنِيعٍ ، نَا شُجَاعُ بْنُ مَخْلَدٍ ، نَا هُشَيْمٌ ، أنا عُمَرُ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ ، أَنَّ امْرَأَةً مِنَ الأَنْصَارِ مِنْ بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ، يُقَالُ لَهَا: خَنْسَاءُ بِنْتُ خِذَامٍ زَوَّجَهَا أَبُوهَا وَهِيَ ثَيِّبٌ، فَأَتَت النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ:" الأَمْرُ إِلَيْكِ، قَالَتْ: فَلا حَاجَةَ لِي فِيهِ، فَرَدَّ نِكَاحَهَا، فَتَزَوَّجَتْ بَعْدَ ذَلِكَ أَبَا لُبَابَةَ بْنَ عَبْدِ الْمُنْذِرِ، فَجَاءَتْ بِالسَّائِبِ بْنِ أَبِي لُبَابَةَ" .
ابوسلمہ بیان کرتے ہیں: انصار کے خاندان بنو عمر و بن عوف سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون، جس کا نام خنساء بنت خذام تھا، ان کے والد نے ان کی شادی کر دی، وہ خاتون ثیبہ تھیں، انہوں نے اس بات کا ذکر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اس کا حق تمہیں حاصل ہے۔“ اس نے عرض کی: ”میں یہ شادی نہیں کرنا چاہتی۔“ تو نبی نے اس کے نکاح کو کالعدم قرار دیا، اس کے بعد اس خاتون نے سیدنا ابولبابہ بن منذر کے ساتھ شادی کر لی، اور اس کے ہاں سیدنا ابولبابہ کے صاحبزادے سائب پیدا ہوئے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 3553]
ترقیم العلمیہ: 3499
تخریج الحدیث: «مرسل، وأخرجه سعيد بن منصور فى ((سننه)) برقم: 566، 567، 568، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 13801، 13803، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3553، 3554، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 10303، 10304، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 16202، والطبراني فى((الكبير)) برقم: 644»
الحكم على الحديث: مرسل
ترقیم العلمیہ : 3500 ترقیم الرسالہ : -- 3554
نَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي يَحْيَى كُرَيْنِبُ ، نَا أَبُو يَعْقُوبَ الأَفْطَسُ أَخُو أَبِي مُسْلِمٍ الْمُسْتَمْلِيُّ، نَا هُشَيْمٌ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ خَنْسَاءَ بِنْتَ خِذَامٍ أَنْكَحَهَا أَبُوهَا وَهِيَ كَارِهَةٌ، فَأَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لَهُ،" فَرَدَّ نِكَاحَهَا، فَتَزَوَّجَهَا أَبُو لُبَابَةَ بْنُ عَبْدِ الْمُنْذِرِ، فَجَاءَتْ بِالسَّائِبِ بْنِ أَبِي لُبَابَةَ وَكَانَتْ ثَيِّبًا" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: سیدہ خنساء بنت خذام رضی اللہ عنہا کے والد نے اس کی شادی کر دی، (اس شوہر کو) وہ خاتون ناپسند کرتی تھیں، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس بات کا تذکرہ کیا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے نکاح کو کالعدم قرار دیا، پھر سیدنا ابولبابہ بن عبدالمنذر نے اس کے ساتھ شادی کی، اور اس کے ہاں سیدنا ابولبابہ کے صاحبزادے سائب پیدا ہوئے، وہ خاتون ثیبہ (بیوہ یا مطلقہ) تھیں۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 3554]
ترقیم العلمیہ: 3500
تخریج الحدیث: «مرسل، وأخرجه سعيد بن منصور فى ((سننه)) برقم: 566، 567، 568، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 13801، 13803، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3553، 3554، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 10303، 10304، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 16202، والطبراني فى((الكبير)) برقم: 644»
الحكم على الحديث: مرسل
ترقیم العلمیہ : 3501 ترقیم الرسالہ : -- 3555
نَا أَبُو عُمَرَ الْقَاضِي مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَجَّاجِ الضَّبِّيُّ ، نَا وَكِيعٌ ، عَنْ كَهْمَسِ بْنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: جَاءَتْ فَتَاةٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ،" إِنَّ أَبِي وَنِعْمَ الأَبُ هُوَ زَوَّجَنِي ابْنَ أَخِيهِ لِيَرْفَعَ مِنْ خَسِيسَتِهِ، قَالَ: فَجَعَلَ الأَمْرَ إِلَيْهَا، فَقَالَتْ: إِنِّي قَدْ أَجَزْتُ مَا صَنَعَ أَبِي وَلَكِنْ أَرَدْتُ أَنْ تَعْلَمَ النِّسَاءَ، أَنْ لَيْسَ إِلَى الآبَاءِ مِنَ الأَمْرِ شَيْءٌ" .
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: ایک لڑکی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی، اس نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! میرے والد، جو ایک بہترین باپ ہیں، انہوں نے میری شادی اپنے بھتیجے سے کر دی ہے، تاکہ میری وجہ سے اس کی کم حیثیت بہتر ہو جائے۔“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس لڑکی کو اختیار دیا (کہ وہ نکاح کو کالعدم کر سکتی ہے)، اس نے عرض کی: ”میرے والد نے جو کیا ہے، میں اسے برقرار رکھتی ہوں، میں یہ چاہتی ہوں کہ خواتین کو اس بات کا پتہ چل جائے کہ اس بارے میں باپ کو اختیار نہیں ہوتا۔“ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 3555]
ترقیم العلمیہ: 3501
تخریج الحدیث: «مرسل، وأخرجه النسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 3271، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 5369، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 1874، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 13790، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3555، 3556، 3557، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 25683، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 10302، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 16230، والطبراني فى ((الأوسط)) برقم: 6842»
«قال الدارقطني: هذه كلها مراسيل ابن بريدة لم يسمع من عائشة شيئا، سنن الدارقطني: (4 / 335) برقم: (3557)»
«قال الدارقطني: هذه كلها مراسيل ابن بريدة لم يسمع من عائشة شيئا، سنن الدارقطني: (4 / 335) برقم: (3557)»
الحكم على الحديث: مرسل
ترقیم العلمیہ : 3502 ترقیم الرسالہ : -- 3556
نَا أَحْمَدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ الْجُنَيْدِ ، نَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ ، نَا عَلِيُّ بْنُ غُرَابٍ ، نَا كَهْمَسُ بْنُ الْحَسَنِ ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ فَتَاةً دَخَلَتْ عَلَيْهَا. ح وَنا أَبُو عُمَرَ الْقَاضِي ، نَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى ، نَا عَوْنٌ يَعْنِي ابْنَ كَهْمَسٍ ، نَا أَبِي ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ، قَالَ: جَاءَتْ فَتَاةٌ إِلَى عَائِشَةَ ، فَقَالَتْ: إِنَّ أَبِي زَوَّجَنِي ابْنَ أَخِيهِ لِيَرْفَعَ مِنْ خَسِيسَتِهِ وَإِنِّي كَرِهْتُ ذَلِكَ، قَالَتِ: اقْعُدِي حَتَّى يَجِيءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاذْكُرِي ذَلِكَ لَهُ، فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لَهُ فَأَرْسَلَ إِلَى أَبِيهَا فَجَاءَ أَبُوهَا، وَجَعَلَ الأَمْرَ إِلَيْهَا". فَلَمَّا رَأَتْ أَنَّ الأَمْرَ جُعِلَ إِلَيْهَا، قَالَتْ: إِنِّي قَدْ أَجَزْتُ مَا صَنَعَ أَبِي، إِنِّي إِنَّمَا أَرَدْتُ أَنْ أَعْلَمَ هَلْ لِلنِّسَاءِ مِنَ الأَمْرِ شَيْءٌ أَمْ لا؟. قَالَ ابْنُ الْجُنَيْدِ: فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَدْ أَجَزْتُ مَا صَنَعَ أَبِي وَلَكِنِّي أَرَدْتُ أَنْ أَعْلَمَ لِلنِّسَاءِ مِنَ الأَمْرِ شَيْءٌ أَمْ لا .
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: ایک لڑکی ان کے پاس آئی (اس کے بعد روایت اگلی حدیث میں ہے)۔ عبداللہ بن بریدہ بیان کرتے ہیں: ایک لڑکی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئی اور بولی: ”میرے والد نے میری شادی اپنے بھتیجے کے ساتھ کر دی ہے، تاکہ میری وجہ سے اس کی کمتر حیثیت بہتر ہو جائے، مجھے یہ پسند نہیں ہے۔“ سیدہ عائشہ نے فرمایا: ”نبی کے تشریف لانے تک تم بیٹھی رہو، میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے معاملہ پیش کروں گی۔“ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، تو سیدہ عائشہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے معاملہ پیش کیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس لڑکی کے والد کو بلایا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (نکاح کے برقرار رکھنے یا کالعدم کرنے) کا اختیار لڑکی کو دیا، جب اس لڑکی نے یہ دیکھا کہ اسے اختیار دیا گیا ہے، تو وہ بولی: ”میرے والد نے جو کیا، میں اسے برقرار رکھنا چاہتی ہوں، میں یہ چاہتی ہوں کہ مجھے اس بات کا پتہ چل جائے کہ کیا خواتین کو اس بارے میں اختیار ہے۔“ ابن جنید نامی راوی نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں: اس نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! انہوں نے جو کیا ہے، میں اسے برقرار رکھتی ہوں، میں یہ چاہتی ہوں کہ مجھے یہ پتہ چل جائے کہ خواتین کو اس بارے میں اختیار ہوتا ہے یا نہیں ہوتا۔“ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 3556]
ترقیم العلمیہ: 3502
تخریج الحدیث: «مرسل، وأخرجه النسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 3271، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 5369، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 1874، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 13790، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3555، 3556، 3557، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 25683، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 10302، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 16230، والطبراني فى ((الأوسط)) برقم: 6842»
«قال الدارقطني: هذه كلها مراسيل ابن بريدة لم يسمع من عائشة شيئا، سنن الدارقطني: (4 / 335) برقم: (3557)»
«قال الدارقطني: هذه كلها مراسيل ابن بريدة لم يسمع من عائشة شيئا، سنن الدارقطني: (4 / 335) برقم: (3557)»
الحكم على الحديث: مرسل
ترقیم العلمیہ : 3503 ترقیم الرسالہ : -- 3557
نَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، نَا الرَّمَادِيُّ ، نَا أَبُو ظُفُرٍ عَبْدُ السَّلامِ بْنُ مُطَهَّرٍ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ سُلَيْمَانَ ، عَنْ كَهْمَسٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: جَاءَتِ امْرَأَةٌ تُرِيدُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمْ تَلْقَهُ فَجَلَسَتْ تَنْتَظِرُهُ حَتَّى جَاءَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ لِهَذِهِ الْمَرْأَةِ إِلَيْكَ حَاجَةً، قَالَ لَهَا: وَمَا حَاجَتُكِ؟، قَالَتْ:" إِنَّ أَبِي زَوَّجَنِي ابْنَ أَخٍ لَهُ لِيَرْفَعَ خَسِيسَتَهُ بِي وَلَمْ يَسْتَأْمِرْنِي، فَهَلْ لِي فِي نَفْسِي أَمْرٌ؟، قَالَ: نَعَمْ، قَالَتْ: مَا كُنْتُ لأَرُدَّ عَلَى أَبِي شَيْئًا صَنَعَهُ وَلَكِنِّي أَحْبَبْتُ أَنْ تَعْلَمَ النِّسَاءُ أَلَهُنَّ فِي أَنْفُسِهِنَّ أَمْرٌ أَمْ لا؟" ، هَذِهِ كُلُّهَا مَرَاسِيلُ ابْنُ بُرَيْدَةَ، لَمْ يَسْمَعْ مِنْ عَائِشَةَ شَيْئًا.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: ایک عورت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ملنے کے لیے آئی، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم موجود نہیں تھے، وہ عورت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے انتظار میں بیٹھ گئی، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، تو میں نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! اس عورت کو آپ سے کوئی کام ہے۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے دریافت کیا: ”تمہیں کیا کام ہے؟“ اس نے بتایا: ”میرے والد نے میری شادی اپنے بھتیجے کے ساتھ کر دی، تاکہ میری وجہ سے اس کی حیثیت بہتر ہو جائے، میرے والد نے اس بارے میں میری مرضی معلوم نہیں کی، تو کیا مجھے اپنی ذات کے بارے میں کوئی اختیار ہے؟“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ہاں۔“ اس عورت نے عرض کی: ”میرے والد نے جو کیا ہے، میں اسے مسترد نہیں کرنا چاہوں گی، البتہ میں یہ چاہتی ہوں کہ خواتین کو اس بات کا پتہ چل جائے کہ انہیں اپنی ذات کے بارے میں اختیار ہوتا ہے یا نہیں ہوتا۔“ شیخ فرماتے ہیں: یہ تمام روایات مراسیل ہیں، کیونکہ ابن بریدہ نامی راوی نے سیدہ عائشہ سے احادیث کا سماع نہیں کیا۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 3557]
ترقیم العلمیہ: 3503
تخریج الحدیث: «مرسل، وأخرجه النسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 3271، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 5369، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 1874، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 13790، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3555، 3556، 3557، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 25683، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 10302، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 16230، والطبراني فى ((الأوسط)) برقم: 6842»
«قال الدارقطني: هذه كلها مراسيل ابن بريدة لم يسمع من عائشة شيئا، سنن الدارقطني: (4 / 335) برقم: (3557)»
«قال الدارقطني: هذه كلها مراسيل ابن بريدة لم يسمع من عائشة شيئا، سنن الدارقطني: (4 / 335) برقم: (3557)»
الحكم على الحديث: مرسل
ترقیم العلمیہ : 3504 ترقیم الرسالہ : -- 3558
نَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ صَاعِدٍ ، نَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ و، َأَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، وَالْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ و َأَبُو إِبْرَاهِيمَ الزُّهْرِيُّ ، وَنا ابْنُ مَخْلَدٍ ، نَا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ و، َأَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ الصُّوفِيُّ وَ غَيْرُهُم ْ، قَالُوا: نَا الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى ، نَا شُعَيْبُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ جَابِرٍ ،" أَنَّ رَجُلا زَوَّجَ ابْنَتَهُ بِكْرًا وَلَمْ يَسْتَأْذِنْهَا، فَأَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَدَّ نِكَاحَهَا" ، لَفْظُ أَبِي بَكْرٍ، وَقَالَ ابْنُ صَاعِدٍ: وَهِيَ بَكْرٌ مِنْ غَيْرِ أَمْرِهَا، فَأَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَفَرَّقَ بَيْنَهَا.
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص نے اپنی ایک کنواری بیٹی کی شادی کر دی، اس نے لڑکی سے اجازت نہیں لی، وہ لڑکی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے نکاح کو کالعدم قرار دیا۔ ابوبکر نامی راوی نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں: وہ لڑکی کنواری تھی (اور اس کی شادی) اس کی اجازت کے بغیر ہوئی، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی، تو نبی نے ان دونوں کے درمیان علیحدگی کروا دی۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 3558]
ترقیم العلمیہ: 3504
تخریج الحدیث: «أخرجه النسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 5363، 5364، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 13789، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3558، 3559، 3560، 3561، 3562»
ترقیم العلمیہ : 3505 ترقیم الرسالہ : -- 3559
نَا ابْنُ مَخْلَدٍ ، نَا أَبُو بَكْرِ بْنُ صَالِحٍ ، نَا نُعَيْمُ بْنُ حَمَّادٍ ، أنا ابْنُ الْمُبَارَكِ ، أنا الأَوْزَاعِيُّ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، أَنَّ رَجُلا زَوَّجَ ابْنَتَهُ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ مِثْلَهُ.
عطاء بن ابی رباح بیان کرتے ہیں: ایک شخص نے اپنی بیٹی کی شادی کی (اس کے بعد حسب سابق حدیث منقول ہے)۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 3559]
ترقیم العلمیہ: 3505
تخریج الحدیث: «أخرجه النسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 5363، 5364، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 13789، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3558، 3559، 3560، 3561، 3562»
ترقیم العلمیہ : 3506 ترقیم الرسالہ : -- 3560
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الشَّافِعِيُّ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ شَاذَانَ ، نَا مُعَلَّى ، نَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ . ح وثنا عَلِيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْمُسْتَمْلِيُّ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَاسَرْجِسِيُّ ، نَا إِسْحَاقُ بْنُ رَاهَوَيْهِ ، أنا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، نَا الأَوْزَاعِيُّ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، أَنَّ رَجُلا زَوَّجَ ابْنَةً لَهُ بِكْرًا وَهِيَ كَارِهَةٌ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَدَّ نِكَاحَهَا" ، الصَّحِيحُ مُرْسَلٌ، وَقَوْلُ شُعَيْبٍ وَهْمٌ.
عطاء بن ابی رباح بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں ایک شخص نے اپنی کنواری بیٹی کی شادی کر دی، وہ لڑکی اس رشتے کو ناپسند کرتی تھی، وہ نبی کی خدمت میں حاضر ہوئی، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے نکاح کو کالعدم قرار دیا۔ شیخ فرماتے ہیں: صحیح یہ ہے کہ یہ روایت مرسل ہے اور شعیب نامی راوی کا قول وہم ہے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 3560]
ترقیم العلمیہ: 3506
تخریج الحدیث: «مرسل، أخرجه النسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 5363، 5364، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 13789، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3558، 3559، 3560، 3561، 3562»
«قال الدارقطني: الصحيح مرسل وقول شعيب وهم، سنن الدارقطني: (4 / 337) برقم: (3560)»
«قال الدارقطني: الصحيح مرسل وقول شعيب وهم، سنن الدارقطني: (4 / 337) برقم: (3560)»
الحكم على الحديث: مرسل