🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (4836)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم العلمیہ سے تلاش کل احادیث (4750)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

1. بَابُ أَحْكَامِ النِّكَاحِ
باب: نکاح کے احکام کا بیان
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 3487 ترقیم الرسالہ : -- 3541
نَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، وَعَلِيُّ بْنُ سَهْلٍ ، قَالا: نَا مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ الأَصْبَهَانِيِّ ، نَا عَبْدُ السَّلامِ ، عَنْ هِشَامٍ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، رَفَعَهُ قَالَ:" لا تُنْكِحُ الْمَرْأَةُ الْمَرْأَةَ، وَلا تُنْكِحُ الْمَرْأَةُ نَفْسَهَا، وَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: وَكَانَ يُقَالُ: الزَّانِيَةُ تُنْكِحُ نَفْسَهَا" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، مرفوع حدیث کے طور پر نقل کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کوئی عورت کسی دوسری عورت کا نکاح نہیں کروا سکتی، کوئی عورت اپنا نکاح خود نہیں کروا سکتی۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: یہ کہا جاتا تھا: زانیہ اپنا نکاح خود کروا لیتی ہے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 3541]
ترقیم العلمیہ: 3487
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه ابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 1882، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 13749، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3535، 3536، 3537، 3538، 3539، 3540، 3541، والبزار فى ((مسنده)) برقم: 10058، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 10494، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 16209، 16215»
«قال ابن حجر: رجاله ثقات، تحفة الأحوذي شرح سنن الترمذي: (2 / 175)»

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 3488 ترقیم الرسالہ : -- 3542
نَا نَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، نَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الأَشَجِّ، أَنَّهُ سَمِعَ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ ، يَقُولُ: عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، قَالَ:" لا تُنْكَحُ الْمَرْأَةُ إِلا بِإِذْنِ وَلِيِّهَا، أَوْ ذِي الرَّأْيِ مِنْ أَهْلِهَا، أَوِ السُّلْطَانِ" .
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: عورت اپنے ولی کی اجازت کے ساتھ ہی نکاح کر سکتی ہے، (اگر ولی نہ ہو) تو اپنے خاندان کے کسی سمجھدار شخص یا حاکم وقت (کی اجازت سے نکاح کر سکتی ہے)۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 3542]
ترقیم العلمیہ: 3488
تخریج الحدیث: «أخرجه سعيد بن منصور فى ((سننه)) برقم: 575، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 13754، 13755، 13757، 13840، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3542، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 10485، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 16168، 16169، 16177، 16180، 16196»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 3489 ترقیم الرسالہ : -- 3543
نَا نَا دَعْلَجُ بْنُ أَحْمَدَ ، نَا مُوسَى بْنُ هَارُونَ، نَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ أَبُو خَالِدٍ ، عَنْ مُجَالِدٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، قَالَ:" مَا كَانَ أَحَدٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَشَدَّ فِي النِّكَاحِ بِغَيْرِ وَلِيٍّ، مِنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، وَكَانَ يَضْرِبُ فِيهِ" .
شعبی بیان کرتے ہیں: ولی کے بغیر (عورت کے) نکاح کرنے کے معاملے میں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے سب سے زیادہ سخت سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ تھے، وہ (اس حرکت کے ارتکاب) پر سزا دیا کرتے تھے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 3543]
ترقیم العلمیہ: 3489
تخریج الحدیث: «أخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 13761، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3543، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 16170»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 3490 ترقیم الرسالہ : -- 3544
نَا نَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، نَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَكِيمٍ ، نَا سُفْيَانُ، عَنْ جُوَيْبِرٍ ، عَنِ الضَّحَّاكِ ، عَنِ النَّزَّالِ بْنِ سَبْرَةَ ، عَنْ عَلِيٍّ عَلَيْهِ السَّلامُ، قَالَ:" لا نِكَاحَ إِلا بِإِذْنِ وَلِيٍّ، فَمَنْ نَكَحَ أَوْ أَنْكَحَ بِغَيْرِ إِذْنِ وَلِيٍّ، فَنِكَاحُهُ بَاطِلٌ" .
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ولی کی اجازت کے بغیر نکاح نہیں ہوتا، جو شخص ولی کے بغیر نکاح کرے یا کروائے، تو اس کا نکاح باطل ہو گا۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 3544]
ترقیم العلمیہ: 3490
تخریج الحدیث: «أخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 13758، 13759، 13760، 13762، 13763، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3544، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 10476، 10480، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 16181»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 3491 ترقیم الرسالہ : -- 3545
نَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ صَاعِدٍ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ الْمِصْرِيُّ ، وَأَحْمَدُ بْنُ الْفَرَحِ بْنِ سُلَيْمَانَ أَبُو عُتْبَةَ الْحِمْصِيُّ ، قَالا: نَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي فُدَيْكٍ ، نَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ حُسَيْنٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّهُ تَزَوَّجَ بِنْتَ خَالِهِ عُثْمَانَ بْنِ مَظْعُونٍ، قَالَ: فَذَهَبَتْ أُمُّهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: إِنَّ ابْنَتِي تَكْرَهُ ذَلِكَ" فَأَمَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُفَارِقَهَا فَفَارَقَهَا، وَقَالَ: لا تَنْكِحُوا الْيَتَامَى حَتَّى تَسْتَأْمِرُوهُنَّ، فَإِذَا سَكَتَتْ فَهُوَ إِذْنُهَا، فَتَزَوَّجَهَا بَعْدُ عَبْدُ اللَّهِ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ" ، وَرَوَاهُ الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ وَصَدَقَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ نَافِعٍ مُخْتَصَرًا، مُرْسَلا. وَابْنُ أَبِي ذِئْبٍ لَمْ يَسْمَعْهُ مِنْ نَافِعٍ، وَإِنَّمَا رَوَاهُ، عَنْ عُمَرَ بْنِ حُسَيْنٍ عَنْهُ.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے بارے میں منقول ہے: انہوں نے اپنے ماموں سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی کے ساتھ شادی کر لی، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: اس لڑکی کی والدہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کی: میری بیٹی اس رشتے کو ناپسند کرتی ہے۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کو یہ ہدایت کی کہ وہ اس عورت سے علیحدگی اختیار کر لیں (یعنی طلاق دے دیں)، تو سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اس سے علیحدگی اختیار کر لی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ارشاد فرمایا: لڑکیوں کی شادی اس وقت تک نہ کرو، جب تک ان کی رائے معلوم نہ ہو، اگر وہ (جواب میں) خاموش رہیں، تو یہ ان کی اجازت (شمار) ہو گی۔ راوی بیان کرتے ہیں: بعد میں سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے اس لڑکی کے ساتھ شادی کر لی۔ یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ مختصر طور پر اور مرسل روایت کے طور پر نافع سے منقول ہے۔ ابن ابی وہب نامی راوی نے نافع سے اس کا سماع نہیں کیا ہے، انہوں نے عمر بن حسین کے حوالے سے نافع سے روایت کیا ہے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 3545]
ترقیم العلمیہ: 3491
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه الحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 2718، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 1878، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 13773، 13806، 13808، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3545، 3546، 3547، 3548، 3549، 3550، 3570، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 6245»
«قال أحمد بن حنبل: سئل عن هذا الحديث فقال باطل، نصب الراية لأحاديث الهداية: (3 / 190)»

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 3492 ترقیم الرسالہ : -- 3546
نَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، نَا عَبْدُ الْكَرِيمِ بْنُ الْهَيْثَمِ ، نَا عُبَيْدُ بْنُ يَعِيشَ ، نَا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: زَوَّجَنِي خَالِي قُدَامَةُ بْنُ مَظْعُونٍ بِنْتَ أَخِيهِ عُثْمَانَ بْنِ مَظْعُونٍ، فَدَخَلَ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ عَلَى أُمِّهَا فَأَرْغَبَهَا فِي الْمَالِ وَخَطَبَهَا إِلَيْهَا، فَرُفِعَ شَأْنُهَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ قُدَامَةُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ،" ابْنَةُ أَخِي وَأَنَا وَصِيُّ أَبِيهَا وَلَمْ أُقَصِّرْ بِهَا، زَوَّجْتُهَا مَنْ قَدْ عَلِمْتُ فَضْلَهُ وَقَرَابَتَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّهَا يَتِيمَةٌ وَالْيَتِيمَةُ أَوْلَى بِأَمْرِهَا، فَنُزِعَتْ مِنِّي وَزَوَّجَهَا الْمُغِيرَةِ بْنَ شُعْبَةَ" ، لَمْ يَسْمَعْهُ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ مِنْ نَافِعٍ، وَإِنَّمَا سَمِعَهُ مِنْ عُمَرَ بْنِ حُسَيْنٍ عَنْهُ. وَكَذَلِكَ رَوَاهُ إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ عَنْهُ، وَتَابَعَهُ مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ عَنْ عُمَرَ بْنِ حُسَيْنٍ.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: میرے ماموں سیدنا قدامہ بن مظعون رضی اللہ عنہ نے اپنے بھائی سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی کی شادی میرے ساتھ کر دی، سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ اس لڑکی کی والدہ کے پاس تشریف لائے اور اسے زیادہ مال کی پیشکش کر کے اس لڑکی کے لیے نکاح کا پیغام دیا، یہ معاملہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا گیا، تو سیدنا قدامہ بن مظعون رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ! یہ میری بھتیجی ہے، میں اس کے والد کا وصی ہوں، میں نے اس لڑکی کے ساتھ کوئی زیادتی نہیں کی، میں نے اس کی شادی اس شخص کے ساتھ کی، جس کی فضیلت اور (ہمارے ساتھ) رشتہ داری سے آپ بھی واقف ہیں۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: یہ لڑکی ہے اور لڑکی اپنے معاملے میں زیادہ حق دار ہوتی ہے۔ (سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں:) پھر اس کا مجھ سے رشتہ توڑ دیا گیا اور سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے اس کے ساتھ شادی کر لی۔ شیخ فرماتے ہیں: محمد بن اسحاق نے اس روایت کو نافع سے نہیں سنا، انہوں نے اسے عمر بن حسین سے سنا ہے۔ ابراہیم بن سعد نے ان کے حوالے سے یہ روایت اسی طرح نقل کی ہے، جبکہ محمد بن سلمہ نے محمد بن اسحاق کے حوالے سے عمر بن حسین سے منقول ہونے کے طور پر اس کی متابعت کی ہے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 3546]
ترقیم العلمیہ: 3492
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه الحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 2718، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 1878، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 13773، 13806، 13808، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3545، 3546، 3547، 3548، 3549، 3550، 3570، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 6245»
«قال الدارقطني: لم يسمعه محمد بن إسحاق من نافع وإنما سمعه من عمر بن حسين عنه وكذلك رواه إبراهيم بن سعد عنه وتابعه محمد بن سلمة عن محمد بن إسحاق عن عمر بن حسين، سنن الدارقطني: (4 / 330) برقم: (3546)»

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 3493 ترقیم الرسالہ : -- 3547
قُرِئَ عَلَى أَبِي مُحَمَّدِ بْنِ صَاعِدٍ ، وَأَنَا أَسْمَعُ حَدَّثَكُمْ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعْدٍ الزُّهْرِيُّ ، نَا عَمِّي ، نَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ حُسَيْنٍ مَوْلَى آلِ حَاطِبٍ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: تُوُفِّيَ عُثْمَانُ بْنُ مَظْعُونٍ وَتَرَكَ بِنْتًا لَهُ مِنْ خَوْلَةَ بِنْتِ حَكِيمِ بْنِ أُمَيَّةَ، فَأَوْصَى إِلَى أَخِيهِ قُدَامَةَ بْنِ مَظْعُونٍ وَهُمَا خَالايَ فَخَطَبْتُ إِلَى قُدَامَةَ بِنْتَ عُثْمَانَ فَزَوَّجَنِيهَا، فَدَخَلَ الْمُغِيرَةُ إِلَى أُمِّهَا فَأَرْغَبَهَا فِي الْمَالِ فَحَطَّتْ إِلَيْهِ وَحَطَّتِ الْجَارِيَةُ إِلَى هَوَى أُمِّهَا، حَتَّى ارْتَفَعَ أَمْرُهُمْ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ قُدَامَةُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ،" ابْنَةُ أَخِي وَأَوْصَى بِهَا إِلَيَّ فَزَوَّجْتُهَا ابْنَ عَمٍّ وَلَمْ أُقَصِّرْ بِالصَّلاحِ وَالْكَفَاءَةِ، وَلَكِنَّهَا امْرَأَةٌ وَأَنَّهَا حَطَّتْ إِلَى هَوَى أُمِّهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هِيَ يَتِيمَةٌ وَلا تُنْكَحُ إِلا بِإِذْنِهَا، فَانْتُزِعَتْ مِنِّي وَاللَّهِ بَعْدَ أَنْ مَلَكْتُهَا، فَزَوَّجُوهَا الْمُغِيرَةِ بْنَ شُعْبَةَ" .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کا انتقال ہو گیا، انہوں نے (پسماندگان میں) ایک بیٹی چھوڑی، جس کی والدہ سیدہ خولہ بنت حکیم تھیں، سیدنا عثمان بن مظعون نے اپنے بھائی سیدنا قدامہ بن مظعون کو وصیت کی، یہ دونوں حضرات میرے ماموں تھے، میں نے سیدنا قدامہ بن مظعون کو سیدنا عثمان بن مظعون کی بیٹی سے نکاح کا پیغام بھجوایا، تو انہوں نے اس لڑکی کے ساتھ میری شادی طے کر دی، پھر سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ اس لڑکی کی ماں کے پاس گئے اور اسے زیادہ مال کی پیش کش کی، تو وہ عورت ان کی طرف مائل ہو گئی، لڑکی نے ابھی اپنی والدہ کی خواہش کو ترجیح دی، ان لوگوں کا معاملہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کیا گیا، تو سیدنا قدامہ نے عرض کی: یا رسول اللہ! یہ میری بھتیجی ہے، میرے بھائی نے اس کے بارے میں مجھے وصیت کی تھی، میں نے اس کی شادی ابن عمر کے ساتھ کر دی، میں نے اس کی بہتری اور رشتے کے ہم پلہ ہونے میں کوئی کمی نہیں کی، لیکن یہ اپنی ماں کی خواہش کو ترجیح دے رہی ہے۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: یہ لڑکی ہے، اس کی مرضی کے بغیر اس کی شادی نہیں کی جا سکتی۔ (ابن عمر فرماتے ہیں:) اللہ کی قسم، میں اس کا مالک ہو چکا تھا (یعنی نکاح ہو چکا تھا، لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کی وجہ سے) اسے مجھ سے الگ کر دیا گیا اور اس کے گھر والوں نے اس کی شادی سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ کر دی۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 3547]
ترقیم العلمیہ: 3493
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه الحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 2718، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 1878، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 13773، 13806، 13808، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3545، 3546، 3547، 3548، 3549، 3550، 3570، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 6245»
«قال الدارقطني: لم يسمعه محمد بن إسحاق من نافع وإنما سمعه من عمر بن حسين عنه وكذلك رواه إبراهيم بن سعد عنه وتابعه محمد بن سلمة عن محمد بن إسحاق عن عمر بن حسين، سنن الدارقطني: (4 / 330) برقم: (3546)»

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 3494 ترقیم الرسالہ : -- 3548
نَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدِ بْنِ حَفْصٍ ، نَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُعَاوِيَةَ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نَافِعٍ الصَّائِغُ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نَافِعٍ مَوْلَى ابْنِ عُمَرَ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: لَمَّا هَلَكَ عُثْمَانُ بْنُ مَظْعُونٍ تَرَكَ ابْنَتَهُ، قَالَ ابْنُ عُمَرَ: زَوَّجَنِيهَا خَالِي قُدَامَةُ بْنُ مَظْعُونٍ، وَلَمْ يُشَاوِرْهَا فِي ذَلِكَ وَهُوَ عَمُّهَا، وَكَلَّمْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ذَلِكَ، فَرَدَّ نِكَاحَهُ، فَأَحَبَّتْ أَنْ يَتَزَوَّجَهَا الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ، فَزَوَّجَهَا إِيَّاهُ" .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: سیدنا عثمان بن مظعون نے (پسماندگان میں) ایک لڑکی چھوڑی، میرے ماموں سیدنا قدامہ بن مظعون نے اس کے ساتھ میری شادی کر دی، انہوں نے اس بارے میں لڑکی کی مرضی معلوم نہیں کی، وہ اس لڑکی کے چچا تھے، اس لڑکی نے اس بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بات کی، تو نبی نے اس کے نکاح کو کالعدم قرار دیا، وہ لڑکی یہ چاہتی تھی کہ سیدنا مغیرہ بن شعبہ کے ساتھ اس کی شادی کر دیں، تو (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یا سیدنا قدامہ) نے اس لڑکی کی شادی ان (یعنی سیدنا مغیرہ) کے ساتھ کر دی۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 3548]
ترقیم العلمیہ: 3494
تخریج الحدیث: «أخرجه الحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 2718، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 1878، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 13773، 13806، 13808، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3545، 3546، 3547، 3548، 3549، 3550، 3570، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 6245»
«»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 3495 ترقیم الرسالہ : -- 3549
نَا أَبُو عَبْدٍ ، نَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، نَا عَمِّي ، نَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمُطَّلِبِ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ حُسَيْنٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّهُ قَالَ: تَزَوَّجَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ زَيْنَبَ بِنْتَ عُثْمَانَ بْنِ مَظْعُونٍ بَعْدَ وَفَاةِ أَبِيهَا، زَوَّجَهُ إِيَّاهَا عَمُّهَا قُدَامَةُ بْنُ مَظْعُونٍ، فَأَرْغَبَهُمُ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ فِي الصَّدَاقِ، فَقَالَتْ أُمُّ الْجَارِيَةِ لِلْجَارِيَةِ: لا تُجِيزِي، فَكَرِهَتِ الْجَارِيَةُ النِّكَاحَ وَأَعْلَمَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَلِكَ هِيَ وَأُمُّهَا، فَرَدَّ نِكَاحَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَنَكَحَهَا الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ" .
نافع بیان کرتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے سیدنا عثمان بن مظعون کے انتقال کے بعد ان کی صاحبزادی زینب بنت عثمان کے ساتھ شادی کر لی، یہ نکاح اس لڑکی کے چچا سیدنا قدامہ نے کروایا، سیدنا مغیرہ بن شعبہ نے انہیں زیادہ مہر کی پیشکش کی، تو اس لڑکی کی والدہ نے اس لڑکی سے کہا: تم (اپنے چچا کے کیے ہوئے نکاح کو) برقرار نہ رکھو۔ اس لڑکی نے (ابن عمر رضی اللہ عنہما) کے ساتھ نکاح کو پسند نہیں کیا تھا، پھر اس لڑکی اور اس کی والدہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بارے میں بتایا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس نکاح کو کالعدم قرار دیا، بعد میں سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے اس لڑکی کے ساتھ شادی کر لی۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 3549]
ترقیم العلمیہ: 3495
تخریج الحدیث: «أخرجه الحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 2718، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 1878، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 13773، 13806، 13808، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3545، 3546، 3547، 3548، 3549، 3550، 3570، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 6245»
«»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 3496 ترقیم الرسالہ : -- 3550
نَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ نُصَيْرٍ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى الْحُلْوَانِيُّ ، نَا عَلِيُّ بْنُ قَرِينٍ ، نَا سَلَمَةُ الأَبْرَشُ ، نَا ابْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ حُسَيْنٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لا تُنْكَحُ الْيَتِيمَةُ إِلا بِإِذْنِهَا" ، عُمَرُ بْنُ حُسَيْنٍ مَوْلَى آلِ حَاطِبٍ.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: لڑکی کی شادی اس کی اجازت سے کی جائے۔ اس روایت کا راوی عمر بن حسین، آل حاطب کا آزاد کردہ غلام ہے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 3550]
ترقیم العلمیہ: 3496
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه الحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 2718، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 1878، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 13773، 13806، 13808، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3545، 3546، 3547، 3548، 3549، 3550، 3570، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 6245»
«قال الدارقطني: لم يسمعه محمد بن إسحاق من نافع وإنما سمعه من عمر بن حسين عنه وكذلك رواه إبراهيم بن سعد عنه وتابعه محمد بن سلمة عن محمد بن إسحاق عن عمر بن حسين، سنن الدارقطني: (4 / 330) برقم: (3546)»

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں