سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
1. بَابُ أَحْكَامِ النِّكَاحِ
باب: نکاح کے احکام کا بیان
ترقیم العلمیہ : 3467 ترقیم الرسالہ : -- 3521
نَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْهَيْثَمِ الْبَزَّازُ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمَطِيرِيُّ ، قَالا: نَا عِيسَى بْنُ أَبِي حَرْبٍ ، نَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ ، نَا عَدِيُّ بْنُ الْفَضْلِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لا نِكَاحَ إِلا بِوَلِيٍّ وَشَاهِدَيْ عَدْلٍ، وَأَيُّمَا امْرَأَةٍ أَنْكَحَهَا وَلِيُّ مَسْخُوطٌ عَلَيْهِ فَنِكَاحُهَا بَاطِلٌ" ، رَفَعَهُ عَدِيُّ بْنُ الْفَضْلِ، وَلَمْ يَرْفَعْهُ غَيْرُهُ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ولی اور دو عادل گواہوں کے بغیر نکاح نہیں ہوتا، جس عورت کا نکاح ایسا ولی کروائے، جس سے ناراضگی ہو، تو اس عورت کا نکاح باطل ہو گا۔“ عدی بن فضل نامی راوی نے اسے مرفوع حدیث کے طور پر نقل کیا ہے، جبکہ دیگر راویوں نے اسے، مرفوع، حدیث کے طور پر نقل نہیں کیا۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 3521]
ترقیم العلمیہ: 3467
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه الضياء المقدسي فى "الأحاديث المختارة"، 505، 223، 224، 354، 277، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1103، 1104، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 1880، وسعيد بن منصور فى ((سننه)) برقم: 553، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3521، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 2296، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 16171، 16216»
«قال ابن حجر: في إسناده عدي ضعيف، التلخيص الحبير في تخريج أحاديث الرافعي الكبير: (3 / 334)»
«قال ابن حجر: في إسناده عدي ضعيف، التلخيص الحبير في تخريج أحاديث الرافعي الكبير: (3 / 334)»
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
ترقیم العلمیہ : 3468 ترقیم الرسالہ : -- 3522
نَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عِيسَى بْنِ أَبِي حَيَّةَ إِمْلاءً، نَا إِسْحَاقُ بْنُ أَبِي إِسْرَائِيلَ ، نَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِيُّ ، عَنِ ابْنِ الْهَادِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ كَمْ كَانَ صَدَاقُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَزْوَاجَهُ؟، فَقَالَتْ: كَانَ صَدَاقُهُ اثْنَيْ عَشَرَ أُوقِيَّةٍ وَنَشٍّ، قَالَتْ: هَلْ تَدْرِي مَا النَّشُّ؟ هُوَ نِصْفُ الأُوقِيَّةِ، فَذَلِكَ خَمْسُمِائَةِ دِرْهَمٍ" .
ابوسلمہ بیان کرتے ہیں: میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے دریافت کیا: ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ازواج کو کتنا مہر ادا کرتے تھے؟“ تو سیدہ عائشہ نے فرمایا: ”بارہ اوقیہ اور نش۔“ سیدہ عائشہ نے دریافت کیا: ”کیا تم جانتے ہو، نش سے کیا مراد ہے؟“ اس سے مراد نصف اوقیہ ہے اور (مہر کی مجموعی رقم) پانچ سو درہم بنتی ہے۔ امام دارقطنی نے آگے چل کر وہ روایات نقل کی ہیں، جن میں یہ مذکور ہے کہ دس درہم سے کم مہر نہیں ہو سکتا۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 3522]
ترقیم العلمیہ: 3468
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1426، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 2756، 6780، 6846، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 3349، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 5487، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2105، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 2245، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 1886،والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3522، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 25265»
ترقیم العلمیہ : 3469 ترقیم الرسالہ : -- 3523
نَا سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ الْحَنَّاطُ ، نَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى، نَا عُثْمَانُ بْنُ الْيَمَانِ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ مُوسَى بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ:" كَانَ صَدَاقُنَا إِذْ كَانَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشْرَ أَوَاقٍ، وَيَضْرِبُ بِيَدِهِ عَلَى الأُخْرَى، فَذَلِكَ أَرْبَعُمِائَةِ دِرْهَمٍ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان موجود تھے، تو ہم دس اوقیہ مہر ادا کرتے تھے، پھر انہوں نے ایک ہاتھ دوسرے پر مارتے ہوئے فرمایا: ”یہ چار سو درہم ہوتے ہیں۔“ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 3523]
ترقیم العلمیہ: 3469
تخریج الحدیث: «أخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 777، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 4097، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 2740، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 3350، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 5484، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 14467، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3523، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 8929، والبزار فى ((مسنده)) برقم: 8250، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 10406، والطحاوي فى ((شرح مشكل الآثار)) برقم: 5053»
ترقیم العلمیہ : 3470 ترقیم الرسالہ : -- 3524
نَا نَا أَبُو عَلِيٍّ الْمَالِكِيُّ مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، نَا أَبُو مُوسَى ، نَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الْحَسَنِ ، أَنَّ مَعْقِلَ بْنَ يَسَارٍ زَوَّجَ أُخْتًا لَهُ فَطَلَّقَهَا الرَّجُلُ ثُمَّ أَنْشَأَ يَخْطُبُهَا، فَقَالَ: زَوَّجْتُكَ كَرِيمَتِي فَطَلَّقْتَهَا، ثُمَّ أَنْشَأْتَ تَخْطُبُهَا، فَأَبَى أَنْ يُزَوِّجَهُ وَهَوِيَتْهُ الْمَرْأَةُ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى هَذِهِ الآَيَةَ وَإِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَبَلَغْنَ أَجَلَهُنَّ فَلا تَعْضُلُوهُنَّ أَنْ يَنْكِحْنَ أَزْوَاجَهُنَّ سورة البقرة آية 232" ، هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ. عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ، عَنْ عَبْدِ الْوَارِثِ، وَعَنْ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي عُمَرَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ طَهْمَانَ، عَنْ يُونُسَ بِهِ.
سیدنا حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: سیدنا معقل بن یسار رضی اللہ عنہ نے اپنی بہن کی شادی کی۔ ان کے شوہر نے انہیں طلاق دے دی۔ میں نے اپنی (معزز بہن) کے ساتھ تمہاری شادی کی اور تم نے طلاق دے دی۔ اب پھر تم نے نکاح کا پیغام بھیجا ہے۔ سیدنا معقل رضی اللہ عنہ نے اپنی بہن کی شادی اس کے ساتھ کرنے سے انکار کر دیا، لیکن وہ خاتون اس شخص کے ساتھ شادی کرنا چاہتی تھی۔ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی: ”جب تم عورتوں کو طلاق دے دو، اور ان کی عدت پوری ہو جائے، تو تم انہیں اس بات سے منع نہ کرو کہ وہ (اپنے سابقہ) شوہروں کے ساتھ شادی کر لیں۔“ یہ حدیث صحیح ہے۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے اسے ابومعمر کے حوالے سے عبدالوارث کے حوالے سے یونس سے نقل کیا ہے۔ اس کے علاوہ احمد بن ابوعمرو کے حوالے سے ان کے والد کے حوالے سے ابراہیم بن طہمان کے حوالے سے یونس سے نقل کیا ہے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 3524]
ترقیم العلمیہ: 3470
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 4529، 5130، 5330، 5331، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 4071، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 2735، 3125، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 10974، 10975، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2087، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 2981، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3524، 3525، 3526، 3527، والطيالسي فى ((مسنده)) برقم: 972»
«قال الدارقطني: هذا حديث صحيح»
«قال الدارقطني: هذا حديث صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
ترقیم العلمیہ : 3471 ترقیم الرسالہ : -- 3525
نَا نَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ حَفْصٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنِ الْحَسَنِ ، أَنَّهُ قَالَ فِي قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى:" فَلا تَعْضُلُوهُنَّ أَنْ يَنْكِحْنَ أَزْوَاجَهُنَّ إِذَا تَرَاضَوْا بَيْنَهُمْ بِالْمَعْرُوفِ سورة البقرة آية 232، قَالَ: حَدَّثَنِي مَعْقِلُ بْنُ يَسَارٍ الْمُزَنِيُّ أَنَّهَا نزلت فِيهِ، قَالَ: كُنْتُ زَوَّجْتُ أُخْتًا لِي مِنْ رَجُلٍ فَطَلَّقَهَا حَتَّى انْقَضَتْ عِدَّتُهَا، ثُمَّ جَاءَ يَخْطُبُهَا، فَقُلْتُ لَهُ: زَوَّجْتُكَ وَفَرَشْتُكَ وَأَكْرَمْتُكَ فَطَلَّقْتَهَا، ثُمَّ جِئْتُ تَخْطُبُهَا لا وَاللَّهِ لا تَعُودُ إِلَيْهَا أَبَدًا، قَالَ: وَكَانَ الرَّجُلُ لا بَأْسَ بِهِ وَكَانَتِ الْمَرْأَةُ تُرِيدُ أَنْ تَرْجِعَ إِلَيْهِ، قَالَ: فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى هَذِهِ الآيَةَ، فَقُلْتُ: الآنَ أَفْعَلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَزَوَّجْتُهَا إِيَّاهُ" ، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ عَبَّادُ بْنُ رَاشِدٍ، عَنِ الْحَسَنِ، وَسَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ مَعْقِلٍ .
سیدنا حسن بصری رحمہ اللہ، اللہ کے اس فرمان کے بارے میں بیان کرتے ہیں: ”تو تم ان عورتوں کو اس بات سے منع نہ کرو کہ وہ (اپنے سابقہ) شوہروں کے ساتھ شادی کر لیں، اگر وہ مناسب طور پر آپس میں (دوبارہ شادی کرنے پر) راضی ہوں۔“ حسن بصری رحمہ اللہ نے فرمایا: سیدنا معقل بن یسار مزنی رضی اللہ عنہ نے مجھے بتایا: یہ آیت ان کے بارے میں نازل ہوئی تھی۔ انہوں نے اپنی بہن کی شادی ایک شخص کے ساتھ کی۔ اس شخص نے اس خاتون کو طلاق دے دی۔ یہاں تک کہ اس عورت کی عدت گزر گئی۔ پھر اس شخص نے دوبارہ اس خاتون کے ساتھ شادی کرنے کا پیغام بھیجا۔ تو میں نے اس سے کہا: میں نے تمہارے ساتھ (اپنی بہن) کی شادی کی، اسے تمہاری بیوی بنایا، تمہاری عزت افزائی کی اور تم نے اسے طلاق دے دی۔ اب پھر تم نکاح کا پیغام لے کر آ گئے ہو۔ نہیں! اللہ کی قسم تم اسے دوبارہ کبھی بھی حاصل نہیں کر سکو گے۔ سیدنا معقل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اس شخص میں اور کوئی خرابی نہیں تھی، اور وہ عورت بھی اس کے ساتھ شادی دوبارہ کرنا چاہتی تھی۔ تو اللہ نے یہ آیت نازل کی۔ (سیدنا معقل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں) میں نے کہا: یا رسول اللہ! اب میں ایسا ہی کروں گا۔ پھر میں نے عورت کی شادی اس شخص کے ساتھ کر دی۔ عباد بن راشد نے حسن بصری رحمہ اللہ کے حوالے سے اسی طرح نقل کیا ہے۔ سعید نے قتادہ کے حوالے سے، حسن بصری رحمہ اللہ کے حوالے سے، سیدنا معقل رضی اللہ عنہ سے نقل کیا ہے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 3525]
ترقیم العلمیہ: 3471
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 4529، 5130، 5330، 5331، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 4071، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 2735، 3125، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 10974، 10975، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2087، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 2981، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3524، 3525، 3526، 3527، والطيالسي فى ((مسنده)) برقم: 972»
«قال الدارقطني: هذا حديث صحيح»
«قال الدارقطني: هذا حديث صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
ترقیم العلمیہ : 3472 ترقیم الرسالہ : -- 3526
نَا نَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا يَزِيدُ بْنُ سِنَانٍ ، نَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ ، ح وَنا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْبَخْتَرِيِّ ، نَا يَحْيَى بْنُ جَعْفَرٍ، نَا أَبُو عَامِرٍ ، نَا عَبَّادُ بْنُ رَاشِدٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، حَدَّثَنِي مَعْقِلُ بْنُ يَسَارٍ ، قَالَ:" كَانَتْ لِي أُخْتٌ فَخُطِبَتْ إِلَيَّ فَكُنْتُ أَمْنَعُهَا النَّاسَ فَأَتَانِي ابْنُ عَمٍّ لِي فَخَطَبَهَا فَأَنْكَحْتُهَا إِيَّاهُ، فَاضْطَجَعَهَا مَا شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى ثُمَّ طَلَّقَهَا طَلاقًا لَهُ رَجْعَةٌ، ثُمَّ تَرَكَهَا حَتَّى انْقَضَتْ عِدَّتُهَا فَخَطَبَهَا مَعَ الْخُطَّابِ، فَقُلْتُ: مَنَعْتُهَا النَّاسَ وَزَوَّجْتُكَ إِيَّاهَا، ثُمَّ طَلَّقْتَهَا طَلاقًا لَهُ رَجْعَةٌ، ثُمَّ تَرَكْتَهَا حَتَّى انْقَضَتْ عِدَّتُهَا، فَلَمَّا خُطِبَتْ إِلَيَّ أَتَيْتَنِي تَخْطُبُهَا مَعَ الْخُطَّابِ إِنِّي لا أُزَوِّجُكُ أَبَدًا، فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى، أَوْ قَالَ أنزلت وَإِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَبَلَغْنَ أَجَلَهُنَّ فَلا تَعْضُلُوهُنَّ أَنْ يَنْكِحْنَ أَزْوَاجَهُنَّ سورة البقرة آية 232، فَكَفَّرْتُ عَنْ يَمِينِي وَأَنْكَحْتُهَا إِيَّاهُ" ، الْمَعْنَى قَرِيبٌ.
سیدنا معقل بن یسار رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میری ایک بہن تھی۔ اس کے ساتھ شادی کے لیے کچھ لوگوں کے رشتے آئے، لیکن میں نے انہیں منع کر دیا۔ پھر میرا چچا زاد بھائی میرے پاس آیا۔ اس نے اس لڑکی کے ساتھ شادی کے لیے نکاح کا پیغام بھیجا، تو میں نے لڑکی کی شادی اس کے ساتھ کر دی۔ جب تک اللہ کو منظور تھا، وہ دونوں ایک دوسرے کے ساتھ رہے۔ پھر اس شخص نے اس لڑکی کو طلاق دے دی، جس میں اسے رجوع کرنے کی گنجائش تھی، لیکن اس شخص نے رجوع نہیں کیا۔ یہاں تک کہ لڑکی کی عدت گزر گئی۔ اس کے بعد دوسرے لوگوں کے ساتھ اس نے بھی نکاح کا پیغام بھیجا۔ تو میں نے کہا: میں نے دوسرے لوگوں میں سے کسی کے ساتھ اس لڑکی کی شادی نہیں کی، اور تمہارے ساتھ اس کی شادی کر دی، لیکن تم نے اسے طلاق دے دی، جس میں رجوع کی گنجائش تھی، لیکن تم نے رجوع نہیں کیا۔ یہاں تک کہ اس کی عدت گزر گئی۔ اب جب اس کے رشتے آ رہے ہیں، تو تم نے بھی رشتہ بھیج دیا۔ میں تمہارے ساتھ اس کی شادی کبھی نہیں کروں گا۔ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں): ”جب تم عورتوں کو طلاق دو اور ان کی عدت پوری ہو جائے، تو انہیں اس بات سے منع نہ کرو کہ وہ (اپنے سابقہ) شوہروں کے ساتھ دوبارہ شادی کر لیں۔“ (سیدنا معقل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں) میں نے اپنی قسم کا کفارہ دیا اور اس لڑکی کی شادی اس شخص کے ساتھ کر دی۔ اس روایت کا مفہوم (ایک دوسرے کے) قریب ہے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 3526]
ترقیم العلمیہ: 3472
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 4529، 5130، 5330، 5331، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 4071، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 2735، 3125، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 10974، 10975، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2087، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 2981، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3524، 3525، 3526، 3527، والطيالسي فى ((مسنده)) برقم: 972»
«قال الدارقطني: هذا حديث صحيح»
«قال الدارقطني: هذا حديث صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
ترقیم العلمیہ : 3473 ترقیم الرسالہ : -- 3527
نَا نَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا أَبُو الأَزْهَرِ ، نَا رَوْحٌ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ ، قَالَ:" كَانَتْ لِي أُخْتٌ تَحْتَ رَجُلٍ فَطَلَّقَهَا، ثُمَّ خَلا عَنْهَا حَتَّى إِذَا انْقَضَتْ عِدَّتُهَا، ثُمَّ جَاءَ يَخْطُبُهَا، فَحَمَى مَعْقِلٌ عَنْ ذَلِكَ، وَقَالَ: خَلا عَنْهَا وَهُوَ يَقْدِرُ عَلَيْهَا فَحَالَ بَيْنَهُ وَبَيْنَهَا، فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى وَإِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَبَلَغْنَ أَجَلَهُنَّ فَلا تَعْضُلُوهُنَّ سورة البقرة آية 232" .
سیدنا معقل بن یسار رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میری بہن ایک شخص کی بیوی تھی۔ اس نے اسے طلاق دے دی۔ یہاں تک کہ اس کی عدت گزر گئی۔ پھر اس شخص نے نکاح کا پیغام بھیجا، تو سیدنا معقل رضی اللہ عنہ کو اس بات پر غصہ آیا۔ انہوں نے فرمایا: اس نے اس لڑکی کو چھوڑ دیا تھا حالانکہ یہ اس سے رجوع کر سکتا تھا۔ سیدنا معقل رضی اللہ عنہ اس لڑکی اور اس کے سابقہ شوہر کے درمیان رکاوٹ بن گئے، تو اللہ نے یہ آیت نازل کی: ”جب تم عورتوں کو طلاق دو اور ان کی عدت پوری ہو جائے، تو انہیں اس بات سے منع نہ کرو کہ وہ دوبارہ شادی کر لیں۔“ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 3527]
ترقیم العلمیہ: 3473
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 4529، 5130، 5330، 5331، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 4071، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 2735، 3125، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 10974، 10975، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2087، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 2981، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3524، 3525، 3526، 3527، والطيالسي فى ((مسنده)) برقم: 972»
«قال الدارقطني: هذا حديث صحيح»
«قال الدارقطني: هذا حديث صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
ترقیم العلمیہ : 3474 ترقیم الرسالہ : -- 3528
نَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، نَا عَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّلْتِ ، نَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ الْغَسِيلِ ، عَنْ عَمَّتِهِ سَكِينَةَ بِنْتِ حَنْظَلَةَ ، قَالَتِ: اسْتَأْذَنَ عَلَيَّ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ وَلَمْ تَنْقَضِ عِدَّتِي مِنْ مَهْلِكِ زَوْجِي، فَقَالَ: قَدْ عَرَفْتِ قَرَابَتِي مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَرَابَتِي مِنْ عَلِيٍّ وَمَوْضِعِي فِي الْعَرَبِ، قُلْتُ: غَفَرَ اللَّهُ لَكَ يَا أَبَا جَعْفَرٍ إِنَّكَ رَجُلٌ يُؤْخَذُ عَنْكَ تَخْطُبُنِي فِي عِدَّتِي، قَالَ: إِنَّمَا أَخْبَرْتُكِ لِقَرَابَتِي مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمِنْ عَلِيٍّ وَقَدْ دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ وَهِيَ مُتَأَيِّمَةٌ مِنْ أَبِي سَلَمَةَ، فَقَالَ: " لَقَدْ عَلِمْتِ أَنَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَخِيرَتُهُ وَمَوْضِعِي فِي قَوْمِي"، كَانَتْ تِلْكَ خُطْبَتَهُ .
عبدالرحمن بن سلیمان اپنی پھوپھی سکینہ بنت حنطلہ کا بیان نقل کرتے ہیں: امام محمد الباقر نے میرے ہاں اندر آنے کی اجازت مانگی، اس وقت میرے شوہر کے انتقال کی عدت نہیں گزری تھی، انہوں نے فرمایا: ”تم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ میرے رشتے سے اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ میرے رشتے اور عربوں کے درمیان میری حیثیت سے واقف ہو (میں تمہارے ساتھ شادی کرنا چاہتا ہوں)۔“ میں نے کہا: ”اے ابوجعفر، اللہ آپ کی مغفرت کرے، آپ سے استفادہ کیا جاتا ہے، اور آپ میری عدت کے دوران مجھے نکاح کا پیغام دے رہے ہیں؟“ تو امام محمد الباقر نے فرمایا: ”میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ اپنے رشتے کے بارے میں تمہیں بتایا، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ام سلمہ (کو نکاح کا پیغام دینے کے لیے) ان کے پاس تشریف لے گئے تھے، وہ اس وقت سیدنا ابوسلمہ رضی اللہ عنہ (کے انتقال کے بعد بیوگی کی) عدت گزار رہی تھیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا تھا: ”اے ام سلمہ! تم جانتی ہو، میں اللہ کا رسول ہوں اور اس کا برگزیدہ ہوں، میری قوم میں میری حیثیت جو ہے (تم اس سے واقف ہو)۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیغام نکاح کے الفاظ یہ تھے (اور میں نے بھی یہی الفاظ استعمال کیے ہیں)۔“ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 3528]
ترقیم العلمیہ: 3474
تخریج الحدیث: «أخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 14130، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3528»
ترقیم العلمیہ : 3475 ترقیم الرسالہ : -- 3529
نَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، نَا أَبُو وَائِلَةَ الْمَرْوَزِيُّ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحُسَيْنِ مِنْ وَلَدِ بِشْرِ بْنِ الْمُحْتَفِزِ، نَا الزُّبَيْرُ بْنُ بَكَّارٍ ، نَا خَالِدُ بْنُ الْوَضَّاحِ ، عَنْ أَبِي الْخَصِيبِ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لا بُدَّ فِي النِّكَاحِ مِنْ أَرْبَعَةٍ: الْوَلِيِّ وَالزَّوْجِ وَالشَّاهِدَيْنِ" ، أَبُو الْخَصِيبِ مَجْهُولٌ وَاسْمُهُ: نَافِعُ بْنُ مَيْسَرَةَ.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتی ہیں: ”نکاح میں چار چیزیں ضروری ہیں: ولی، شوہر، (یا بیوی) اور دو گواہ۔“ ابوالحصیب نافع بن میسرہ نامی راوی مجہول ہیں۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 3529]
ترقیم العلمیہ: 3475
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه الدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3529، انفرد به المصنف من هذا الطريق»
«قال الدارقطني: هذا الحديث ضعيف، البدر المنير في تخريج الأحاديث والآثار الواقعة في الشرح الكبير: (6 / 738)»
«قال الدارقطني: هذا الحديث ضعيف، البدر المنير في تخريج الأحاديث والآثار الواقعة في الشرح الكبير: (6 / 738)»
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
ترقیم العلمیہ : 3476 ترقیم الرسالہ : -- 3530
نَا نَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، نَا رَوْحٌ ، نَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ شَيْبَةَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ خَالِدٍ ، قَالَ: جَمَعَتِ الطَّرِيقُ رَكْبًا فَجَعَلَتِ امْرَأَةٌ مِنْهُمْ ثَيِّبٌ أَمْرَهَا بِيَدِ رَجُلٍ غَيْرِ وَلِيٍّ فَأَنْكَحَهَا فَبَلَغَ ذَلِكَ عُمَرَ " فَجَلَدَ النَّاكِحَ وَالْمُنْكِحَ وَرَدَّ نِكَاحَهَا" .
عکرمہ بن خالد بیان کرتے ہیں: راستے میں میری ملاقات کچھ سواروں سے ہوئی، ان میں سے ایک ثیبہ عورت نے اپنے نکاح کا معاملہ ایسے شخص کو سونپا، جو اس کا ولی نہیں تھا (کہ وہ اس عورت کا نکاح کروا دے)، تو اس شخص نے اس عورت کا نکاح کروا دیا، جب اس بات کی اطلاع سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو ملی، تو انہوں نے نکاح کرنے والے مرد اور نکاح کروانے والے مرد کو کوڑے لگوائے، اور ان دونوں (میاں بیوی) کے نکاح کو کالعدم قرار دیا۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 3530]
ترقیم العلمیہ: 3476
تخریج الحدیث: «منقطع، وأخرجه سعيد بن منصور فى ((سننه)) برقم: 530، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 13756، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3530، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 10486، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 16191»
«قال ابن حجر: فيه انقطاع لأن عكرمة لم يدرك ذلك، التلخيص الحبير في تخريج أحاديث الرافعي الكبير: (3 / 325)»
«قال ابن حجر: فيه انقطاع لأن عكرمة لم يدرك ذلك، التلخيص الحبير في تخريج أحاديث الرافعي الكبير: (3 / 325)»
الحكم على الحديث: منقطع