🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (4836)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم العلمیہ سے تلاش کل احادیث (4750)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

1. أَوَّلُ كِتَابِ الطَّلَاقِ وَغَيْرِهِ
طلاق، خلع، ایلاء، وغیرہ کے بارے میں روایات
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 3932 ترقیم الرسالہ : -- 3998
نَا نَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ، نَا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ أَبِي عِيسَى، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ، نَا سُفْيَانُ. ح وَنا أَبُو بَكْرٍ، نَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، نَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَكِيمٍ ، نَا سُفْيَانُ، نَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ أُمَيَّةَ ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ:" إِذَا كَانَتِ الْحُرَّةُ تَحْتَ الْمَمْلُوكِ فَطَلاقُهَا تَطْلِيقَتَانِ، وَعِدَّتُهَا ثَلاثُ حِيَضٍ، وَإِذَا كَانَتِ الْمَمْلُوكَةُ تَحْتَ الْحُرِّ فَطَلاقُهَا تَطْلِيقَتَانِ، وَالْعُدَّةُ عَلَى النِّسَاءِ" .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ”جب کوئی آزاد عورت کسی غلام کی بیوی ہو، تو عورت کو دو طلاقیں دی جا سکتی ہیں، اور اس کی عدت تین حیض ہو گی اور جب کوئی کنیز کسی آزاد شخص کی بیوی ہو، تو اسے دو طلاقیں دی جا سکتی ہیں اور اس کی عدت خاتون کی حیثیت کے اعتبار سے (یعنی کنیز کے طور پر دو حیض) ہو گی۔“ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الطَّلَاقِ وَالْخُلْعِ وَالْإِيلَاءِ وَغَيْرِهِِِ/حدیث: 3998]
ترقیم العلمیہ: 3932
تخریج الحدیث: «موقوف صحيح، وأخرجه مالك فى ((الموطأ)) برقم: 1135، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2079، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 15266، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3994، 3995، 3996، 3997، 3998، 3999، 4000، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 18562، 19102»
«قال الدارقطني: صحح الموقوف، التلخيص الحبير في تخريج أحاديث الرافعي الكبير: (3 / 428)»

الحكم على الحديث:
موقوف صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 3933 ترقیم الرسالہ : -- 3999
نَا نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا الرَّبِيعُ، نَا الشَّافِعِيُّ، نَا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ:" إِذَا طَلَّقَ الْعَبْدُ امْرَأَتَهُ ثِنْتَيْنِ فَقَدْ حُرِّمَتْ عَلَيْهِ، حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ حُرَّةً كَانَتْ، أَوْ أَمَةً، عِدَّةُ الْحُرَّةِ ثَلاثُ حِيَضٍ، وَعِدَّةُ الأَمَةِ حَيْضَتَانِ" .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ”جب غلام اپنی بیوی کو دو طلاقیں دے دے، تو وہ عورت اس پر حرام ہو جاتی ہے، جب تک وہ دوسری شادی کر کے (بیوہ یا مطلقہ) نہ ہو جائے، خواہ عورت آزاد ہو یا کنیز ہو، تاہم آزاد عورت کی عدت تین حیض، جبکہ کنیز کی عدت دو حیض ہو گی۔“ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الطَّلَاقِ وَالْخُلْعِ وَالْإِيلَاءِ وَغَيْرِهِِِ/حدیث: 3999]
ترقیم العلمیہ: 3933
تخریج الحدیث: «موقوف صحيح، وأخرجه مالك فى ((الموطأ)) برقم: 1135، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2079، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 15266، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3994، 3995، 3996، 3997، 3998، 3999، 4000، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 18562، 19102»
«قال الدارقطني: صحح الموقوف، التلخيص الحبير في تخريج أحاديث الرافعي الكبير: (3 / 428)»

الحكم على الحديث:
موقوف صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 3934 ترقیم الرسالہ : -- 4000
نَا نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا أَبُو الأَزْهَرِ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، نَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ فِي الأَمَةِ تَكُونُ تَحْتَ الْحُرِّ تَبِينُ بِتَطْلِيقَتَيْنِ، وَتَعْتَدُّ حَيْضَتَيْنِ، وَإِذَا كَانَتِ الْحُرَّةُ تَحْتَ الْعَبْدِ بَانَتْ بِتَطْلِيقَتَيْنِ، وَتَعْتَدُّ ثَلاثَ حِيَضٍ" ، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، وَابْنُ جُرَيْجٍ، وَغَيْرُهُمَا، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ مَوْقُوفًا، وَهَذَا هُوَ الصَّوَابُ. وَحَدِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عِيسَى، عَنْ عَطِيَّةَ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَابِتٌ مِنْ وَجْهَيْنِ، أَحَدُهُمَا: أَنَّ عَطِيَّةَ، ضَعِيفٌ، وَسَالِمٌ، وَنَافِعٌ أَثْبَتُ مِنْهُ وَأَصَحُّ رِوَايَةً، وَالْوَجْهُ الآخَرُ أَنَّ عَمْرَو بْنَ شَبِيبٍ، ضَعِيفُ الْحَدِيثِ، لا يُحْتَجُّ بِرِوَايَتِهِ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ.
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما، ایسی کنیز جو کسی آزاد شخص کی بیوی ہو، اس کے بارے میں یہ فرماتے ہیں: ”وہ دو طلاقوں کے ذریعے بائنہ ہو جائے گی، اور دو حیض عدت بسر کرے گی، اور جب کوئی آزاد عورت کسی غلام کی بیوی ہو، تو وہ دو طلاقوں کے ذریعے بائنہ ہو جائے گی اور تین حیض تک عدت گزارے گی۔“ یہ روایت دیگر راویوں نے بھی، موقوف، روایت کے طور پر نقل کی ہے اور یہی درست ہے کہ ایک اور سند کے ساتھ یہ روایت مرفوع حدیث کے طور پر نقل کی گئی ہے، یہ روایت منکر ہے اور دو حوالوں سے ثابت نہیں ہے، ایک یہ کہ عطیہ نامی راوی ضعیف ہے، جبکہ سالم اور نافع زیادہ ثبت اور صحیح روایت نقل کرنے والے ہیں، دوسرا پہلو یہ ہے کہ عمرو بن شیب، ضعیف الحدیث، ہے، اس کی نقل کردہ روایت سے استدلال نہیں کیا جا سکتا، باقی اللہ بہتر جانتا ہے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الطَّلَاقِ وَالْخُلْعِ وَالْإِيلَاءِ وَغَيْرِهِِِ/حدیث: 4000]
ترقیم العلمیہ: 3934
تخریج الحدیث: «موقوف صحيح، وأخرجه مالك فى ((الموطأ)) برقم: 1135، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2079، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 15266، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3994، 3995، 3996، 3997، 3998، 3999، 4000، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 18562، 19102»
«قال الدارقطني: صحح الموقوف، التلخيص الحبير في تخريج أحاديث الرافعي الكبير: (3 / 428)»

الحكم على الحديث:
موقوف صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 3935 ترقیم الرسالہ : -- 4001
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الصَّوَّافُ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ ، نَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ ، حَدَّثَنِي الْمُثَنَّى ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، قَالَ: قُلْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " وَأُولاتُ الأَحْمَالِ أَجَلُهُنَّ أَنْ يَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ سورة الطلاق آية 4 لِلْمُطَلَّقَةِ ثَلاثًا، أَوْ لِلْمُتَوَفَّى عَنْهَا زَوْجُهَا؟، قَالَ: هِيَ لِلْمُطَلَّقَةِ، وَالْمُتَوَفَّى عَنْهَا زَوْجُهَا".
سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی: (ارشاد باری تعالیٰ ہے:) ”اور حاملہ عورتوں کی عدت (کا اختتام) یہ ہے کہ وہ حمل کو جنم دے دیں۔“ یہ حکم تین طلاق یافتہ عورت کے لیے ہے؟ یا بیوہ کے لیے ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ طلاق یافتہ کے لیے بھی ہے اور بیوہ کے لیے بھی ہے۔“ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الطَّلَاقِ وَالْخُلْعِ وَالْإِيلَاءِ وَغَيْرِهِِِ/حدیث: 4001]
ترقیم العلمیہ: 3935
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه الضياء المقدسي فى "الأحاديث المختارة"، 1213، 1214، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3800، 3801، 4001، وعبد الله بن أحمد بن حنبل فى زوائده على "مسند أحمد"، 21496»
«‏‏‏‏قال الزیلعي: المثنى بن الصباح متروك بمرة، نصب الراية لأحاديث الهداية: (3 / 256)»

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 3936 ترقیم الرسالہ : -- 4002
نَا أَبُو عَمْرٍو يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ يُوسُفَ بْنِ خَالِدٍ ، نَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْمُقَوِّمُ ، نَا صُغْدِيُّ بْنُ سِنَانٍ ، عَنْ مُظَاهِرِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" طَلاقُ الْعَبْدِ تَطْلِيقَتَانِ، وَلا تَحِلُّ لَهُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا، وَقُرْءُ الأَمَةِ حَيْضَتَانِ، وَتَتَزَوَّجُ الْحُرَّةُ عَلَى الأَمَةِ، وَلا تَتَزَوَّجُ الأَمَةُ عَلَى الْحُرَّةِ" .
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتی ہیں: ”غلام کی دی ہوئی طلاقیں دو ہوں گی اور پھر وہ عورت اس کے لیے اس وقت تک حلال نہیں ہو گی، جب تک دوسری شادی کر کے (بیوہ یا طلاق یافتہ) نہیں ہو جاتی، اور کنیز کی عدت دو حیض ہو گی، کنیز پر آزاد عورت کے ساتھ شادی کی جا سکتی ہے، لیکن آزاد عورت پر کنیز کے ساتھ شادی نہیں کی جا سکتی۔“ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الطَّلَاقِ وَالْخُلْعِ وَالْإِيلَاءِ وَغَيْرِهِِِ/حدیث: 4002]
ترقیم العلمیہ: 3936
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه الحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 2839، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2189، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1182، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 2340، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2080، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 15269، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4002، 4003»
«قال الدارقطني: ومظاهر هذا ضعيف، العلل الواردة في الأحاديث النبوية: (15 / 124)»

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 3937 ترقیم الرسالہ : -- 4003
نَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْجُنَيْدِ وَجَمَاعَةٌ، قَالُوا: نَا أَبُو عَاصِمٍ ، نَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ مُظَاهِرٍ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" طَلاقُ الأَمَةِ تَطْلِيقَتَانِ، وَقُرْؤُهَا حَيْضَتَانِ" .
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتی ہیں: ”کنیز کو دو طلاقیں دی جا سکتی ہیں اور اس کی عدت دو حیض ہو گی۔“ ایک اور سند کے ساتھ یہ منقول ہے، سیدہ عائشہ فرماتی ہیں: ”کنیز کو دو طلاقیں دی جا سکتی ہیں اور اس کی عدت دو حیض ہو گی۔“ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الطَّلَاقِ وَالْخُلْعِ وَالْإِيلَاءِ وَغَيْرِهِِِ/حدیث: 4003]
ترقیم العلمیہ: 3937
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه الحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 2839، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2189، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1182، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 2340، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2080، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 15269، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4002، 4003»
«قال الدارقطني: ومظاهر هذا ضعيف، العلل الواردة في الأحاديث النبوية: (15 / 124)»

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 3938 ترقیم الرسالہ : -- 4004
قَالَ قَالَ أَبُو عَاصِمٍ : فَلَقِيتُ مُظَاهِرًا فَحَدَّثَنِي، عَنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يُطَلِّقُ الْعَبْدُ تَطْلِيقَتَيْنِ، وَتَعْتَدُّ حَيْضَتَيْنِ" ، قَالَ: فَقُلْتُ لَهُ: حَدِّثْنِي كَمَا حَدَّثْتَ ابْنَ جُرَيْجٍ، قَالَ: فَحَدَّثَنِي بِهِ كَمَا حَدَّثَهُ، نَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا عَاصِمٍ، يَقُولُ: لَيْسَ بِالْبَصْرَةِ حَدِيثٌ أَنْكَرَ مِنْ حَدِيثِ مُظَاهِرٍ هَذَا، قَالَ أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ: وَالصَّحِيحُ عَنِ الْقَاسِمِ خِلافُ هَذَا.
ابوعاصم کہتے ہیں: بصرہ میں، مظاہر کی نقل کردہ اس روایت سے، زیادہ منکر روایت کوئی نہیں ہے، ابوبکر نیشابوری کہتے ہیں: قاسم سے مستند طور پر اس کے برخلاف منقول ہے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الطَّلَاقِ وَالْخُلْعِ وَالْإِيلَاءِ وَغَيْرِهِِِ/حدیث: 4004]
ترقیم العلمیہ: 3938
تخریج الحدیث: «أخرجه الدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4004»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 3939 ترقیم الرسالہ : -- 4005
نَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ، نَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، حَدَّثَنِي هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، حَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ، قَالَ: سُئِلَ الْقَاسِمُ" عَنِ الأَمَةِ كَمْ تُطَلَّقُ؟، قَالَ: طَلاقُهَا اثْنَتَانِ، وَعِدَّتُهَا حَيْضَتَانِ. قَالَ: فَقِيلَ لَهُ: أَبَلَغَكَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا؟، قَالَ: لا" .
زید بن اسلم بیان کرتے ہیں: قاسم سے کنیز کے بارے میں دریافت کیا گیا کہ اسے کتنی طلاقیں دی جا سکتی ہیں؟ انہوں نے فرمایا: ”اسے دو طلاقیں دی جا سکتی ہیں اور اس کی عدت دو حیض ہو گی۔“ راوی بیان کرتے ہیں: ان سے دریافت کیا گیا: کیا اس بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے کوئی حدیث آپ تک پہنچی ہے؟ انہوں نے جواب دیا: ”جی نہیں۔“ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الطَّلَاقِ وَالْخُلْعِ وَالْإِيلَاءِ وَغَيْرِهِِِ/حدیث: 4005]
ترقیم العلمیہ: 3939
تخریج الحدیث: «أخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 15272، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4005»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 3940 ترقیم الرسالہ : -- 4006
ثنا أَبُو بَكْرٍ، نَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ، نَا أَبُو عَامِرٍ، نَا هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، قَالَ: سُئِلَ الْقَاسِمُ،" عَنْ عِدَّةِ الأَمَةِ، فَقَالَ: النَّاسُ يَقُولُونَ: حَيْضَتَانِ، وَإِنَّا لا نَعْلَمُ ذَلِكَ، أَوْ قَالَ: لا نَجِدُ ذَلِكَ فِي كِتَابِ اللَّهِ، وَلا فِي سُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" ، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الْقَاسِمِ، وَسَالِمٍ، قَالا:" لَيْسَ هَذَا فِي كِتَابِ اللَّهِ، وَلا فِي سُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَكِنْ عَمَلَ بِهِ الْمُسْلِمُونَ".
زید بن اسلم بیان کرتے ہیں: قاسم سے کنیز کی عدت کے بارے میں دریافت کیا گیا، تو انہوں نے فرمایا: ”لوگ کہتے ہیں یہ دو حیض ہو گی، ہمیں اس بارے میں علم نہیں ہے (راوی کو شک ہے یا شاید یہ الفاظ ہیں)، ہمیں یہ حکم اللہ کی کتاب اور اس کے رسول کی سنت میں نہیں ملتا ہے۔“ ابن وہب نے اپنی سند کے ساتھ قاسم اور سالم کا یہی قول نقل کیا ہے: ”یہ حکم اللہ کی کتاب اور اس کے رسول کی سنت میں نہیں ہے، تاہم مسلمان اس پر عمل کرتے ہیں۔“ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الطَّلَاقِ وَالْخُلْعِ وَالْإِيلَاءِ وَغَيْرِهِِِ/حدیث: 4006]
ترقیم العلمیہ: 3940
تخریج الحدیث: «أخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 15271، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4006»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 3941 ترقیم الرسالہ : -- 4007
نَا نَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نَا يَعْقُوبُ الدَّوْرَقِيُّ ، نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُلَيَّةَ ، نَا هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ ، قَالَ: كَتَبَ إِلَيَّ يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ يُحَدِّثُ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" الْحَرَامُ يَمِينٌ يُكَفِّرُهَا" .
عکرمہ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا یہ قول نقل کرتے ہیں: (بیوی کے لیے) لفظ حرام کا استعمال کرنا (طلاق نہیں) بلکہ قسم ہے جس کا کفارہ ادا کرنا ہو گا۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما لفظ حرام استعمال کرنے کے بارے میں فرماتے ہیں: یہ قسم ہے جس کا کفارہ ادا کیا جائے گا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: تمہارے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت میں بہترین نمونہ ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی کنیز کو حرام قرار دیا تھا، اللہ نے فرمایا: ”تم اسے کیوں حرام قرار دیتے ہو جسے اللہ نے تمہارے لیے حلال قرار دیا ہے۔“ یہ آیت یہاں تک ہے: ”قد فرض اللہ لکم۔“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی قسم کا کفارہ ادا کیا اور آپ نے لفظ حرام استعمال کرنے کو قسم قرار دیا۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الطَّلَاقِ وَالْخُلْعِ وَالْإِيلَاءِ وَغَيْرِهِِِ/حدیث: 4007]
ترقیم العلمیہ: 3941
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه سعيد بن منصور فى ((سننه)) برقم: 1695، 1701، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 15160، 15171، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4007، 4011، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 2001، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 18496، 18497، 18507، والطبراني فى((الكبير)) برقم: 9633»

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں