🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (4836)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم العلمیہ سے تلاش کل احادیث (4750)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

1. أَوَّلُ كِتَابِ الطَّلَاقِ وَغَيْرِهِ
طلاق، خلع، ایلاء، وغیرہ کے بارے میں روایات
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 3979 ترقیم الرسالہ : -- 4048
نَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، نَا عَمْرُو بْنُ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ زُهَيْرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِذَا ادَّعَتِ الْمَرْأَةُ طَلاقَ زَوْجِهَا فَجَاءَتْ عَلَى ذَلِكَ بِشَاهِدٍ عَدْلٍ اسْتُحْلِفَ زَوْجُهَا، فَإِنْ حَلَفَ بَطَلَتْ شَهَادَةُ الشَّاهِدِ، وَإِنْ نَكَلَ فَنُكُولُهُ بِمَنْزِلَةِ شَاهِدٍ آخَرَ، وَجَازَ طَلاقُهُ" .
عمرو بن شعیب اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کے حوالے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جب عورت یہ دعویٰ کرے کہ اس کے شوہر نے اسے طلاق دے دی ہے اور وہ اس پر ایک عادل گواہ بھی پیش کر دے، تو شوہر سے حلف لیا جائے گا، اگر وہ حلف اٹھا لیتا ہے، تو گواہ کی گواہی کالعدم قرار دی جائے گی اور اگر وہ (حلف اٹھانے سے) انکار کر دیتا ہے، تو اس کا انکار دوسرے گواہ کا قائم مقام ہو گا اور طلاق جائز (یعنی واقع) شمار ہو گی۔“ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الطَّلَاقِ وَالْخُلْعِ وَالْإِيلَاءِ وَغَيْرِهِِِ/حدیث: 4048]
ترقیم العلمیہ: 3979
تخریج الحدیث: «أخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 15327، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4047، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 11641، 11644، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 12625، 18866، 18870، 18901، والطبراني فى((الكبير)) برقم: 9638»
«»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 3980 ترقیم الرسالہ : -- 4049
نَا نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْبَغَوِيُّ ، نَا سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى الأُمَوِيُّ ، نَا أَبِي، نَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ ، قَالَ: سَأَلْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ،" عَنِ الرَّجُلِ يُطَلِّقُ امْرَأَتَهُ فَيَبُتُّهَا، ثُمَّ يَمُوتُ فِي عِدَّتِهَا؟، فَقَالَ ابْنُ الزُّبَيْرِ طَلَّقَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ، امْرَأَتَهُ تُمَاضِرَ بِنْتَ الأَصْبَغِ الْكَلْبِيَّةَ، ثُمَّ مَاتَ وَهِيَ فِي عِدَّتِهَا، فَوَرِثَهَا عُثْمَانُ" .
عبداللہ بن ابوملیکہ بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے ایسے شخص کے بارے میں دریافت کیا، جو اپنی بیوی کو طلاق بائنہ دے دیتا ہے، پھر اس عورت کی عدت کے دوران ہی اسی شخص کا انتقال ہو جاتا ہے۔ تو سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے بتایا: سیدنا عبدالرحمن بن عوف نے اپنی اہلیہ تماضر بنت اصبغ کلبی کو طلاق دے دی، پھر اس خاتون کی عدت کے دوران ہی سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کا انتقال ہو گیا، تو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے اس خاتون کو وارث قرار دیا تھا۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الطَّلَاقِ وَالْخُلْعِ وَالْإِيلَاءِ وَغَيْرِهِِِ/حدیث: 4049]
ترقیم العلمیہ: 3980
تخریج الحدیث: «أخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 15227، 15228، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4049، 4050، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 12192، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 19374»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 3981 ترقیم الرسالہ : -- 4050
نَا نَا أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى بْنِ السُّكَيْنِ ، نَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُسْتَهَامِ، نَا مَخْلَدُ بْنُ يَزِيدَ، أَخْبَرَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ، قَالَ: لَقِيتُ ابْنَ الزُّبَيْرِ وَهُوَ مُقْبِلٌ مِنْ قُعَيْقِعَانَ عَلَى بِرْذَوْنٍ، فَقُلْتُ:" كَيْفَ تَرَى فِي رَجُلٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ ثَلاثًا؟، قَالَ: أَمَّا عُثْمَانُ فَوَرِثَهَا".
ابن ابوملیکہ کہتے ہیں: میری ملاقات سیدنا عبداللہ بن زبیر سے ہوئی، وہ اس وقت قعیقعان سے خچر پر سوار ہو کر آئے تھے، میں نے دریافت کیا: ”ایسے شخص کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے، جو اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دے؟“ تو انہوں نے فرمایا: ”سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے ایسی عورت کو وارث قرار دیا ہے۔“ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الطَّلَاقِ وَالْخُلْعِ وَالْإِيلَاءِ وَغَيْرِهِِِ/حدیث: 4050]
ترقیم العلمیہ: 3981
تخریج الحدیث: «أخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 15227، 15228، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4049، 4050، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 12192، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 19374»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 3982 ترقیم الرسالہ : -- 4051
نَا نَا عَبْدُ الْغَافِرِ بْنُ سَلامَةَ، نَا أَبُو شُرَحْبِيلَ عِيسَى بْنُ خَالِدٍ ، نَا أَبُو الْمُغِيرَةِ، نَا الأَوْزَاعِيُّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَنَّ طَلْحَةَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَوْفٍ ، حَدَّثَهُ، أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ ، وَرِثَ تُمَاضِرَ بِنْتَ الأَصْبَغِ مِنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، وَكَانَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ طَلَّقَهَا، وَهِيَ آخِرُ طَلاقِهَا فِي مَرَضِهِ" .
طلحہ بن عبداللہ بیان کرتے ہیں: سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے تماضر بنت اصبغ کو سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کا وارث قرار دیا تھا، حالانکہ سیدنا عبدالرحمن رضی اللہ عنہ نے اس خاتون کو طلاق دے دی تھی، انہوں نے اپنی بیماری کے دوران اسے طلاق دی تھی۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الطَّلَاقِ وَالْخُلْعِ وَالْإِيلَاءِ وَغَيْرِهِِِ/حدیث: 4051]
ترقیم العلمیہ: 3982
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه مالك فى ((الموطأ)) برقم: 1124، 1125، 1126، وسعيد بن منصور فى ((سننه)) برقم: 1958، 1959، 1970، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 15229، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4051، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 19372»
«قال ابن عبدالبر: رواية ابن شهاب عن طلحة بن عبد الله بن عوف أصح الروايات عنه في أنه ورثها بعد العدة، الاستذكار الجامع لمذاهب فقهاء الأمصار وعلماء الأقطار فيما تضمنه الموطأ من معاني الرأي والآثار: (17 / 261)»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 3983 ترقیم الرسالہ : -- 4052
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: لوگوں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے مکتوب میں یہ بات پائی: ”جب کوئی عبث کرے، تو اس کا ولی اس کی طرف سے طلاق دے دے۔“ ان کی مراد یہ تھی کہ جب کوئی پاگل ہو جائے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الطَّلَاقِ وَالْخُلْعِ وَالْإِيلَاءِ وَغَيْرِهِِِ/حدیث: 4052]
ترقیم العلمیہ: 3983
تخریج الحدیث: «أخرجه الدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4052، انفرد به المصنف من هذا الطريق»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 3984 ترقیم الرسالہ : -- 4053
نَا نَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ، نَا الصَّاغَانِيُّ، نَا قَبِيصَةُ، نَا سُفْيَانُ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، قَالَ: وَجَدْنَا فِي كِتَابِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو " إِذَا عَبَثَ الْمَجْنُونُ بِامْرَأَتِهِ، طَلَّقَ عَنْهُ وَلِيُّهُ" .
عمرو بن شعیب بیان کرتے ہیں: ہم نے سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کے مکتوب میں یہ بات پائی ہے: ”جب پاگل اپنی بیوی کے ساتھ عبث (حرکت کرنے لگے)، تو اس کا ولی اس کی طرف سے طلاق دے دے۔“ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الطَّلَاقِ وَالْخُلْعِ وَالْإِيلَاءِ وَغَيْرِهِِِ/حدیث: 4053]
ترقیم العلمیہ: 3984
تخریج الحدیث: «أخرجه الدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4053، انفرد به المصنف من هذا الطريق»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 3985 ترقیم الرسالہ : -- 4054
نَا نَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، نَا يَزِيدُ الْعَدَنِيُّ ، نَا سُفْيَانُ، نَا حَبِيبُ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، قَالَ: وَجَدْنَا فِي كِتَابِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، قَالَ:" إِذَا عَبَثَ الْمَعْتُوهُ بِامْرَأَتِهِ، أُمِرَ وَلِيُّهُ أَنْ يُطَلِّقَ" ، قَالَ: تَابَعَهُ أَبُو حُذَيْفَةَ، عَنْ سُفْيَانَ مِثْلَهُ.
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”جب کوئی پاگل اپنی بیوی کے ساتھ عبث حرکت کرے، تو اس کے ولی کو یہ حکم دیا جائے گا کہ وہ طلاق دے دے۔“ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الطَّلَاقِ وَالْخُلْعِ وَالْإِيلَاءِ وَغَيْرِهِِِ/حدیث: 4054]
ترقیم العلمیہ: 3985
تخریج الحدیث: «أخرجه الدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4054، 4055»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 3986 ترقیم الرسالہ : -- 4055
نَا نَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، نَا سُلَيْمَانُ بْنُ تَوْبَةَ ، نَا أَبُو حُذَيْفَةَ.
صرف سند کا بیان ہے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الطَّلَاقِ وَالْخُلْعِ وَالْإِيلَاءِ وَغَيْرِهِِِ/حدیث: 4055]
ترقیم العلمیہ: 3986
تخریج الحدیث: «أخرجه الدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4054، 4055»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 3986/1 ترقیم الرسالہ : -- 4056
ح وَنا ابْنُ مَنِيعٍ، نَا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُسَيْطٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، قَالَ: أَبْقَتْ أَمَةٌ لِبَعْضِ الْعَرَبِ فَوَقَعَتْ بِوَادِي الْقُرَى فَانْتَهَتْ إِلَى الْحَيِّ الَّذِي أَبْقَتْ مِنْهُمْ، فَتَزَوَّجَهَا رَجُلٌ مِنْ بَنِي عُذْرَةَ، فَنَثَرَتْ لَهُ ذَاتَ بَطْنِهَا، ثُمَّ عَثَرَ عَلَيْهَا سَيِّدُهَا بَعْدُ فَاسْتَاقَهَا وَوَلَدَهَا، فَقَضَى عُمَرُ لِلْعُذْرِيِّ بِغَرَرِ وَلَدِهِ الْغُرَّةُ لِكُلِّ وَصِيفٍ وَصِيفٌ، وَلِكُلِّ وَصِيفَةٍ وَصِيفَةٌ، وَجَعَلَ ثَمَنَ الْغُرَّةِ إِذْ لَمْ يُوجَدْ عَلَى أَهْلِ الْقُرَى سِتِّينَ دِينَارًا، أَوْ سَبْعَمِائَةِ دِرْهَمٍ، وَعَلَى أَهْلِ الْبَادِيَةِ سِتَّ فَرَائِضَ" .
سعید بن مسیب بیان کرتے ہیں: کسی عرب کی کنیز مفرور ہو گئی، وہ وادی قریٰ پہنچ گئی، وہ اس قبیلے تک پہنچ گئی، جن سے بھاگی تھی، بنو عذرہ سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے اس کے ساتھ شادی کر لی، اس کے ہاں بہت سے بچے پیدا ہوئے، پھر اس کنیز کا آقا اس تک پہنچ گیا، اس نے اس کنیز اور اس کے بچوں کو اپنی تحویل میں لینا چاہا، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس مقدمہ میں یہ فیصلہ دیا: عذرہ قبیلے سے تعلق رکھنے والا شخص اپنی اولاد کے عوض میں تاوان کے طور پر غلام (یا کنیز) ادا کرے، لڑکے کے بدلے میں غلام اور لڑکی کے بدلے میں کنیز ادا کرے گا، اگر یہ دستیاب نہ ہوں، شہر کے رہنے والے ایک غلام کے عوض میں 60 دینار یا 700 درہم ادا کریں گے اور دیہاتیوں پر چھ فرائض عائد ہوں گے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الطَّلَاقِ وَالْخُلْعِ وَالْإِيلَاءِ وَغَيْرِهِِِ/حدیث: 4056]
ترقیم العلمیہ: 3986/1
تخریج الحدیث: «أخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 18147، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4056، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 27858»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 3987 ترقیم الرسالہ : -- 4057
نَا نَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبَزَّازُ ، نَا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ ، نَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ مَطَرٍ الْوَرَّاقِ ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ:" فِي الْحَرَامِ يَمِينٌ تُكَفِّرُ" .
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا حرام (قرار دینے) کے بارے میں فرماتی ہیں: ”یہ قسم ہے، جس کا کفارہ دینا ہو گا۔“ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الطَّلَاقِ وَالْخُلْعِ وَالْإِيلَاءِ وَغَيْرِهِِِ/حدیث: 4057]
ترقیم العلمیہ: 3987
تخریج الحدیث: «أخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 15165، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4057، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 18498»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں