سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
1. باب الرَّضَاعُ
باب: رضاعت کا بیان
ترقیم العلمیہ : 4284 ترقیم الرسالہ : -- 4364
نَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ دُبَيْسِ بْنِ أَحْمَدَ ، وَغَيْرُهُمَا، قَالُوا: نَا أَبُو الْوَلِيدِ بْنُ بُرْدٍ الأَنْطَاكِيُّ ، نَا الْهَيْثَمُ بْنُ جَمِيلٍ ، نَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَال َرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لا رَضَاعَ إِلا مَا كَانَ فِي الْحَوْلَيْنِ" ، لَمْ يُسْنِدْهُ عَنِ ابْنِ عُنَيْنَةَ، غَيْرُ الْهَيْثَمِ بْنِ جَمِيلٍ، وَهُوَ ثِقَةٌ حَافِظٌ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”دو سال کے اندر جو ہو، صرف وہی رضاعت معتبر ہوتی ہے۔“ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الرَّضَاعِ/حدیث: 4364]
ترقیم العلمیہ: 4284
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه الضياء المقدسي فى "الأحاديث المختارة"، 27، وسعيد بن منصور فى ((سننه)) برقم: 980، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 15766،والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4363، 4364، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 17334، 17335»
«قال ابن حجر: سند صحيح، فتح الباري شرح صحيح البخاري: (9 / 414)»
«قال ابن حجر: سند صحيح، فتح الباري شرح صحيح البخاري: (9 / 414)»
الحكم على الحديث: إسناده صحيح
ترقیم العلمیہ : 4285 ترقیم الرسالہ : -- 4365
نَا نَا أَبُو رَوْقٍ الْهَمْدَانِيُّ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ رَوْحٍ، نَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ ، يَقُولُ:" لا رَضَاعَ إِلا فِي الْحَوْلَيْنِ فِي الصِّغَرِ" .
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”کم سنی میں رضاعت صرف وہی ہوتی ہے، جو دو سال کے اندر ہو۔“ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الرَّضَاعِ/حدیث: 4365]
ترقیم العلمیہ: 4285
تخریج الحدیث: «أخرجه سعيد بن منصور فى ((سننه)) برقم: 985، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 15763، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4365، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 17336، 17337»
ترقیم العلمیہ : 4286 ترقیم الرسالہ : -- 4366
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، نَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، نَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ . ح وثنا أَبُو حَامِدٍ مُحَمَّدُ بْنُ هَارُونَ ، نَا يَعْقُوبُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ ، نَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ قَتَادَةَ . ح وَنا الْقَاسِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ بُلْبُلٍ أَبُو أَحْمَدَ ، نَا الْحَسَنُ بْنُ سَلامٍ ، نَا عَفَّانُ ، نَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي الْخَلِيلِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ أُمِّ الْفَضْلِ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، سُئِلَ" عَنِ الْمَصَّةِ الْوَاحِدَةِ أَتُحَرِّمُ؟، قَالَ: لا" ، وَقَالَ أَبُو حَامِدٍ: إِنَّ رَجُلا مِنْ بَنِي عَامِرِ بْنِ صَعْصَعَةَ، قَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ أَتُحَرِّمُ الرَّضْعَةُ الْوَاحِدَةُ؟ قَالَ:" لا".
سیدہ ام فضل رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک گھونٹ چوسنے کے بارے میں دریافت کیا گیا کہ کیا یہ حرمت کو ثابت کر دیتا ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”نہیں!“۔ ابوحامد نامی راوی نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں: بنو عامر سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے عرض کی: ”اے اللہ کے نبی! کیا ایک مرتبہ چوسنے سے حرمت ثابت ہو جاتی ہے؟“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”نہیں!“۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الرَّضَاعِ/حدیث: 4366]
ترقیم العلمیہ: 4286
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1451،وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 4229،والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 3310، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 5430،وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 1940،والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4366، 4380، 4381، 4382، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 27514، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 17301»
«قال ابن حجر: حديث المصتان جاء أيضا من طرق صحيحة لكن قد قال بعضهم إنه مضطرب لأنه اختلف فيه هل هو عن عائشة أو عن الزبير أو عن ابن الزبير أو عن أم الفضل، فتح الباري شرح صحيح البخاري: (9 / 49)»
«قال ابن حجر: حديث المصتان جاء أيضا من طرق صحيحة لكن قد قال بعضهم إنه مضطرب لأنه اختلف فيه هل هو عن عائشة أو عن الزبير أو عن ابن الزبير أو عن أم الفضل، فتح الباري شرح صحيح البخاري: (9 / 49)»
ترقیم العلمیہ : 4287 ترقیم الرسالہ : -- 4367
نَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمَّادٍ ، نَا زَيْدُ بْنُ أَخْزَمَ ، نَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، نَا أَبِي ، نَا حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ ، عَنْ مَكْحُولٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لا تُحَرِّمُ الْمَصَّةُ وَلا الْمَصَّتَانِ، وَلَكِنْ مَا فَتَقَ الأَمْعَاءَ" .
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: ”ایک مرتبہ یا دو مرتبہ چوسنے سے حرمت ثابت نہیں ہوتی، حرمت اس کے ذریعے ثابت ہوتی ہے، جو آنتوں کو سیراب کر دے۔“ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الرَّضَاعِ/حدیث: 4367]
ترقیم العلمیہ: 4287
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1450، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 4225، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 3311، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2063، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1150، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 1941، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4357، 4367، 4383، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 16360، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 17302»
«قال ابن حجر: قال ابن حجر: حديث المصتان جاء أيضا من طرق صحيحة لكن قد قال بعضهم إنه مضطرب لأنه اختلف فيه هل هو عن عائشة أو عن الزبير أو عن ابن الزبير أو عن أم الفضل، فتح الباري شرح صحيح البخاري: (9 / 49)»
«قال ابن حجر: قال ابن حجر: حديث المصتان جاء أيضا من طرق صحيحة لكن قد قال بعضهم إنه مضطرب لأنه اختلف فيه هل هو عن عائشة أو عن الزبير أو عن ابن الزبير أو عن أم الفضل، فتح الباري شرح صحيح البخاري: (9 / 49)»
ترقیم العلمیہ : 4288 ترقیم الرسالہ : -- 4368
نَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْحَرَّانِيُّ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ زُهَيْرٍ ، نَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَعِيدٍ أَبُو أُمَيَّةَ ، نَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَطَّامِيِّ ، نَا أَبُو الْمُهَزِّمِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ امْرَأَةً جَاءَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ:" إِنَّ فُلانًا تَزَوَّجَ وَقَدْ أَرْضَعْتُهُمَا، قَالَ: فَكَيْفَ أَرْضَعْتِهِمَا؟، قَالَتْ: أَرْضَعْتُ الْجَارِيَةَ وَهِيَ ابْنَةُ سِتِّ سِنِينَ وَنِصْفٍ، وَأَرْضَعْتُ الْغُلامَ وَهُوَ ابْنُ ثَلاثِ سِنِينَ، فَقَالَ: اذْهَبِي فَقُولِي لَهُ فَلْيُضَاجِعْهَا هَنِيئًا مَرِيئًا لا رَضَاعَ بَعْدَ الْفِطَامِ، وَإِنَّمَا يُحَرِّمُ مِنَ الرَّضَاعِ مَا فِي الْمَهْدِ" ، ابْنُ الْقَطَّامِيِّ، ضَعِيفٌ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک خاتون نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی، اس نے عرض کی: ”فلاں شخص نے شادی کر لی ہے، جبکہ میں نے ان دونوں میاں بیوی کو دودھ پلایا ہے۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”تم نے ان دونوں کو کب دودھ پلایا تھا؟“ تو اس خاتون نے جواب دیا: ”میں نے اس بچی کو اس وقت دودھ پلایا تھا، جب وہ ساڑھے چھ سال کی تھی اور بچے کو اس وقت دودھ پلایا تھا، جب وہ تین سال کا تھا۔“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم جاؤ اور اس سے کہہ دو کہ اپنی بیوی کے ساتھ خوشی خوشی رہے، کیونکہ دودھ پلانے کی عمر کے بعد رضاعت کا حکم ثابت نہیں ہوتا، وہ رضاعت حرمت ثابت کرتی ہے، جو اس وقت ہو، جب بچہ گود میں ہوتا ہے۔“ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الرَّضَاعِ/حدیث: 4368]
ترقیم العلمیہ: 4288
تخریج الحدیث: «أخرجه الدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4368، انفرد به المصنف من هذا الطريق»
ترقیم العلمیہ : 4289 ترقیم الرسالہ : -- 4369
نَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ هِشَامٍ الْمَرْوَزِيُّ ، نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُلَيَّةَ ، نَا أَيُّوبُ ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عُبَيْدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ الْحَارِثِ ، قَالَ: وَقَدْ سَمِعْتُهُ مِنْ عُقْبَةَ، وَلَكِنِّي لِحَدِيثِ عُبَيْدٍ أَحْفَظُ، قَالَ: تَزَوَّجَتِ امْرَأَةٌ فَجَاءَتْنَا امْرَأَةٌ سَوْدَاءُ، فَقَالَتْ: إِنِّي قَدْ أَرْضَعْتُكُمَا فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ:" إِنِّي تَزَوَّجْتُ فُلانَةَ بِنْتَ فُلانٍ، فَجَاءَتْنَا امْرَأَةٌ سَوْدَاءُ، فَقَالَتْ: قَدْ أَرْضَعْتُكُمَا وَهِيَ كَاذِبَةٌ، فَأَعْرَضَ عَنِّي فَأَتَيْتُهُ مِنْ قِبَلِ وَجْهِهِ، فَقُلْتُ: إِنَّهَا كَاذِبَةٌ، قَالَ: كَيْفَ وَقَدْ زَعَمَتْ أَنَّهَا أَرْضَعَتْكُمَا دَعْهَا عَنْكَ" .
سیدنا عقبہ بن حارث رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے ایک خاتون کے ساتھ شادی کر لی، ایک سیاہ فام عورت ہمارے پاس آئی اور بولی: ”میں نے تم دونوں کو دودھ پلایا ہے۔“ (راوی کہتے ہیں:) میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، میں نے عرض کی: ”میں نے فلاں کی صاحبزادی، فلاں لڑکی سے شادی کی ہے، تو ایک سیاہ فام عورت ہمارے پاس آئی اور اس نے کہا کہ میں نے تم دونوں کو دودھ پلایا ہے، وہ عورت جھوٹ بولتی ہے۔“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے منہ پھیر لیا، میں دوسری طرف سے آپ کے سامنے آیا، تو میں نے عرض کی: ”وہ جھوٹ بولتی ہے۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اب کیا ہو سکتا ہے؟ جبکہ اس نے یہ بات بیان کر دی ہے کہ اس نے تم دونوں کو دودھ پلایا ہے، تم اس عورت کو (یعنی اپنی بیوی کو) اپنے سے الگ کر دو۔“ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الرَّضَاعِ/حدیث: 4369]
ترقیم العلمیہ: 4289
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 88، 2052، 2640، 2659، 2660، 5104، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 5885، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 3332، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 3603، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1151، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4369، 4370، 4371، 4372، 4373، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 16399، والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 590، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 16684، 37291»
ترقیم العلمیہ : 4290 ترقیم الرسالہ : -- 4370
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، نَا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ ، حَدَّثَنِي عُقْبَةُ بْنُ الْحَارِثِ ، قَالَ: لَمْ يُحَدِّثْنِي، وَلَكِنْ سَمِعْتُهُ يُحَدِّثُ، قَالَ: " تَزَوَّجَتِ ابْنَةُ أَبِي إِهَابٍ فَجَاءَتِ امْرَأَةٌ سَوْدَاءُ، فَقَالَتْ: إِنِّي قَدْ أَرْضَعْتُكُمَا، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلْتُهُ فَأَعْرَضَ عَنِّي، ثُمَّ سَأَلْتُهُ فَأَعْرَضَ عَنِّي، وَقَالَ فِي الرَّابِعَةِ أَوِ الثَّالِثَةِ: كَيْفَ بِكَ وَقَدْ قِيلَ، قَالَ: وَنَهَاهُ عَنْهَا" ،.
سیدنا عقبہ بن حارث رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے ابوایہاب کی صاحبزادی کے ساتھ شادی کر لی، ایک سیاہ فام عورت آئی اور بولی: ”میں نے تم دونوں (میاں بیوی) کو دودھ پلایا ہے۔“ (سیدنا عقبہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:) میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں نے آپ سے اس بارے میں دریافت کیا، تو آپ نے مجھ سے منہ پھیر لیا۔ میں نے دوبارہ آپ سے دریافت کیا، تو آپ نے پھر منہ پھیر لیا۔ میں نے چوتھی مرتبہ یا شاید تیسری مرتبہ دریافت کیا، تو آپ نے ارشاد فرمایا: ”اب کیا ہو سکتا ہے؟ جبکہ یہ بات بیان کی جا چکی ہے۔“ راوی کہتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان صاحب کو اس خاتون کے ساتھ تعلق قائم کرنے سے روک دیا۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الرَّضَاعِ/حدیث: 4370]
ترقیم العلمیہ: 4290
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 88، 2052، 2640، 2659، 2660، 5104، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 5885، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 3332، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 3603، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1151، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4369، 4370، 4371، 4372، 4373، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 16399، والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 590، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 16684، 37291»
ترقیم العلمیہ : 4291 ترقیم الرسالہ : -- 4371
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، أَبُو عَاصِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ الْحَارِثِ. قَالَ أَبُو عَاصِمٍ، وَأَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ سَعِيدٍ، وَأَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمٍ، وَأَخْبَرَنِي أَبُو عَامِرٍ الْخَزَّازُ، وَهَذَا حَدِيثُ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: تَزَوَّجَتِ ابْنَةُ أَبِي إِهَابٍ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ.
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ منقول ہے، اس میں یہ الفاظ ہیں: ”میں نے ابوایہاب کی صاحبزادی کے ساتھ شادی کر لی۔“ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الرَّضَاعِ/حدیث: 4371]
ترقیم العلمیہ: 4291
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 88، 2052، 2640، 2659، 2660، 5104، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 5885، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 3332، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 3603، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1151، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4369، 4370، 4371، 4372، 4373، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 16399، والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 590، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 16684، 37291»
ترقیم العلمیہ : 4292 ترقیم الرسالہ : -- 4372
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ، نَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ الْحَارِثِ ،" أَنَّ امْرَأَةً سَوْدَاءَ جَاءَتْ فَزَعَمَتْ أَنَّهَا أَرْضَعَتْهُمَا، وَكَانَتْ تَحْتَهُ بِنْتُ أَبِي إِهَابٍ التَّيْمِيِّ، فَأَعْرَضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ تَبَسَّمَ، وَقَالَ: كَيْفَ وَقَدْ قِيلَ" .
سیدنا عقبہ بن حارث رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک سیاہ فام عورت آئی اور اس نے یہ بیان کیا کہ ”میں نے ان دونوں (میاں بیوی) کو دودھ پلایا ہے۔“ سیدنا عقبہ کی اہلیہ ابوایہاب کی صاحبزادی تھیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے منہ پھیر لیا، پھر آپ مسکرا دیے اور ارشاد فرمایا: ”اب کیا ہو سکتا ہے، جب کہ یہ بات بیان کی جا چکی ہے۔“ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الرَّضَاعِ/حدیث: 4372]
ترقیم العلمیہ: 4292
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 88، 2052، 2640، 2659، 2660، 5104، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 5885، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 3332، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 3603، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1151، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4369، 4370، 4371، 4372، 4373، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 16399، والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 590، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 16684، 37291»
ترقیم العلمیہ : 4293 ترقیم الرسالہ : -- 4373
نَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، نَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ الْحَارِثِ ، قَالَ:" تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً فَدَخَلَتْ عَلَيْهَا امْرَأَةٌ سَوْدَاءُ فَسَأَلَتْ فَأَبْطَأْنَا عَلَيْهَا، قَالَتْ: تَصَدَّقُوا عَلَيَّ فَوَاللَّهِ لَقَدْ أَرْضَعْتُكُمَا جَمِيعًا، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ: دَعْهَا عَنْكَ لا خَيْرَ لَكَ فِيهَا" .
سیدنا عقبہ بن حارث رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے ایک خاتون کے ساتھ شادی کی، ایک سیاہ فام عورت اس کے پاس آئی، اس نے کچھ مانگا، ہم نے اسے دینے میں دیر کی، تو وہ بولی: ”تم میری اس بات کی تصدیق کرو، اللہ کی قسم! میں نے تم دونوں میاں بیوی کو دودھ پلایا ہے۔“ راوی کہتے ہیں: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بات کا تذکرہ کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اپنی بیوی کو اپنے سے الگ کر دو، تمہارے لیے اس میں کوئی بھلائی نہیں ہے۔“ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الرَّضَاعِ/حدیث: 4373]
ترقیم العلمیہ: 4293
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 88، 2052، 2640، 2659، 2660، 5104، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 5885، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 3332، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 3603، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1151، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4369، 4370، 4371، 4372، 4373، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 16399، والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 590، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 16684، 37291»