سنن سعید بن منصور سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شرکۃ الحروف
ترقيم دار السلفیہ
عربی
اردو
93. قَوْلُهُ تَعَالَى: {وَاسْتَشْهِدُوا شَهِيدَيْنِ مِنْ رِجَالِكُمْ فَإِنْ لَمْ يَكُونَا رَجُلَيْنِ فَرَجُلٌ وَامْرَأَتَانِ مِمَّنْ تَرْضَوْنَ مِنَ الشُّهَدَاءِ}
باب: اللہ تعالیٰ کے قول «وَاسْتَشْهِدُوا شَهِيدَيْنِ مِنْ رِجَالِكُمْ» کا بیان
ترقیم دار السلفیہ: 455 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 455
نا نا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ , قَالَ: كَتَبْتُ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ , أَسْأَلُهُ عَنْ شَهَادَةِ الصِّبْيَانِ، فَكَتَبَ إِلَيَّ:" إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ: مِمَّنْ تَرْضَوْنَ مِنَ الشُّهَدَاءِ سورة البقرة آية 282 , فَلَيْسُوا مِمَّنْ نَرْضَى، لا تَجُوزُ" .
ابن ابی ملیکہ رحمہ اللہ روایت کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو لکھا اور بچوں کی گواہی کے بارے میں سوال کیا۔ تو انہوں نے مجھے جواب میں لکھا: ”اللہ عزوجل کا فرمان ہے: ﴿مِمَّنْ تَرْضَوْنَ مِنَ الشُّهَدَاءِ﴾ یعنی ’ان میں سے جن کی گواہی تم پسند کرو‘، بچے ان میں سے نہیں جن کی گواہی کو ہم معتبر سمجھیں، اس لیے ان کی گواہی جائز نہیں۔“ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 455]
تخریج الحدیث: «أخرجه الحاكم فى (مستدركه) برقم: 3149، 7142، والدارمي فى (مسنده) برقم: 3337، وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 455، 1717، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 20676، 20677، 20678، وأورده ابن حجر فى "المطالب العالية"، 2196، وأخرجه عبد الرزاق فى (مصنفه) برقم: 15494، وأخرجه ابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 18236، 21212، 21433، 21440، 31505»
الحكم على الحديث: سنده صحيح.
ترقیم دار السلفیہ: 456 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 456
نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ زَكَرِيَّا ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: " وَاسْتَشْهِدُوا شَهِيدَيْنِ مِنْ رِجَالِكُمْ سورة البقرة آية 282، قَالَ: مِنَ الأَحْرَارِ" .
مجاہد رحمہ اللہ اس آیت ﴿وَاسْتَشْهِدُوا شَهِيدَيْنِ مِنْ رِجَالِكُمْ﴾ کے بارے میں فرماتے ہیں: ”اس سے مراد آزاد مرد ہیں۔“ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 456]
تخریج الحدیث: «أخرجه سعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 456، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 20674، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 20661»
الحكم على الحديث: سنده حسن، وهو صحيح لغيره
ترقیم دار السلفیہ: 457 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 457
نا هُشَيْمٌ ، قَالَ: نَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ ، قَالَ: سَأَلْتُ مُجَاهِدًا ، عَنِ الظِّهَارِ مِنَ الأَمَةِ، فَقَالَ: " لَيْسَ بِشَيْءٍ"، فَقُلْتُ: أَلَيْسَ اللَّهُ يَقُولُ: وَالَّذِينَ يُظَاهِرُونَ مِنْ نِسَائِهِمْ سورة المجادلة آية 3، أَفَلَسْنَ مِنَ النِّسَاءِ؟، فَقَالَ:" وَاللَّهُ يَقُولُ: وَاسْتَشْهِدُوا شَهِيدَيْنِ مِنْ رِجَالِكُمْ سورة البقرة آية 282، أَفَتَجُوزُ شَهَادَةُ الْعَبِيدِ؟" .
مجاہد رحمہ اللہ سے سوال کیا گیا کہ اگر کوئی شخص اپنی لونڈی سے ظہار کرے تو کیا حکم ہوگا؟ انہوں نے فرمایا: ”یہ ظہار کچھ بھی نہیں۔“ پوچھا گیا: ”کیا اللہ عزوجل نے نہیں فرمایا: ﴿وَالَّذِينَ يُظَاهِرُونَ مِنْ نِسَائِهِمْ﴾ ’اور جو اپنی بیویوں سے ظہار کرتے ہیں‘، تو کیا وہ لونڈیاں عورتوں میں شامل نہیں؟“ اس پر مجاہد رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اللہ عزوجل نے یہ بھی فرمایا: ﴿وَاسْتَشْهِدُوا شَهِيدَيْنِ مِنْ رِجَالِكُمْ﴾ ’اور اپنے لوگوں میں سے دو مرد گواہ بنا لو‘، تو کیا غلاموں کی گواہی جائز ہے؟“ یعنی جیسے گواہی کے معاملے میں مردوں کی قید لگائی گئی اور غلام اس میں شامل نہیں، اسی طرح ”بیویوں“ کے حکم میں بھی آزاد عورتیں مراد ہیں، لونڈیاں نہیں۔ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 457]
تخریج الحدیث: «أخرجه سعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 457، 1853، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 20675»
الحكم على الحديث: سنده صحيح، وله طريق آخر صحيح عن مجاهد، وهو الحديث السابق.