سنن سعید بن منصور سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شرکۃ الحروف
ترقيم دار السلفیہ
عربی
اردو
161. بَابُ مَا جَاءَ فِي أُمَّهَاتِ الْأَوْلَادِ
باب: اُن باندیوں کے بارے میں بیان جن کے بطن سے مالک کے اولاد پیدا ہو (یعنی امہات الأولاد)۔
ترقیم دار السلفیہ: 2046 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 3223
نا نا هُشَيْمٌ، أنا مُغِيرَةُ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَبِيدَةَ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ، وَعَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَعْتَقَا أُمَّهَاتِ الأَوْلادِ، فَقَضَى بِذَلِكَ عُمَرُ حَتَّى أُصِيبَ، ثُمَّ وَلِيَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقَضَى بِذَلِكَ حَتَّى أُصِيبَ، قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ:" فَلَمَّا وُلِّيتُ فَرَأَيْتُ أَنْ أُرِقَّهُنَّ" . قَالَ عَبِيدَةُ: فَرَأْيُ عُمَرَ وَعَلِيٍّ فِي جَمَاعَةٍ أَمْثَلُ مِنْ رَأْيِ عَلِيٍّ وَحْدَهُ فِي الْفُرْقَةِ".
سیدنا عمر بن خطاب اور سیدنا علی رضی اللہ عنہما نے امہات الاولاد کو آزاد کر دیا تھا، اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے دور خلافت میں اسی پر فیصلہ دیا، پھر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے دور میں بھی یہی فیصلہ جاری رہا۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”جب خلافت مجھے ملی تو میں نے چاہا کہ ان عورتوں کو دوبارہ غلامی میں رکھا جائے۔“ حضرت عبیدہ رحمہ اللہ نے کہا: ”عمر اور علی رضی اللہ عنہما کی جماعت کا رائے علیحدہ علی رضی اللہ عنہ کی انفرادی رائے سے افضل ہے۔“ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 3223]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 658، 2046، 2047، 2048، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 21803، 21804، 21805، 21833، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 13224، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 22010»
الحكم على الحديث: إسناده صحيح
ترقیم دار السلفیہ: 2047 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 3224
نا نا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَبِيدَةَ، قَالَ: خَطَبَ عَلِيٌّ النَّاسَ، فَقَالَ:" شَاوَرَنِي عُمَرُ عَنْ أُمَّهَاتِ الأَوْلادِ، فَرَأَيْتُ أَنَا وَعُمَرُ أَنْ أُعْتِقَهُنَّ، فَقَضَى بِهَا عُمَرُ حَيَاتَهُ، وَعُثْمَانُ حَيَاتَهُ، فَلَمَّا وُلِّيتُ رَأَيْتُ أَنَّ أُرِقَّهُنَّ" . قَالَ عَبِيدَةُ: فَرَأْيُ عُمَرَ وَعَلِيٍّ فِي الْجَمَاعَةِ أَحَبُّ إِلَيْنَا مِنْ رَأْيِ عَلِيٍّ وَحْدَهُ.
حضرت عبیدہ رحمہ اللہ نے بیان کیا کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا: ”عمر رضی اللہ عنہ نے مجھ سے امہات الاولاد کے بارے میں مشورہ کیا تھا، تو میرا اور عمر کا فیصلہ تھا کہ انہیں آزاد کیا جائے، چنانچہ عمر نے اپنی زندگی میں یہی فیصلہ نافذ کیا، اور عثمان رضی اللہ عنہ نے بھی اپنی زندگی میں اسی پر عمل کیا، لیکن جب مجھے خلافت ملی تو میں نے رائے بدلی اور چاہا کہ انہیں دوبارہ غلام بنا دوں۔“ عبیدہ رحمہ اللہ نے کہا: ”ہمیں عمر اور علی رضی اللہ عنہما کی جماعت کی رائے علیحدہ علی رضی اللہ عنہ کی انفرادی رائے سے زیادہ محبوب ہے۔“ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 3224]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 658، 2046، 2047، 2048، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 21803، 21804، 21805، 21833، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 13224، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 22010»
الحكم على الحديث: إسناده صحيح
ترقیم دار السلفیہ: 2048 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 3225
نا نا هُشَيْمٌ، أنا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ عَبِيدَةَ، عَنْ عَلِيٍّ ، قَالَ:" اجْتَمَعَ رَأْيِي وَرَأْيُ عُمَرَ فِي عِتْقِ أُمَّهَاتِ الأَوْلادِ، فَلَمَّا وُلِّيتُ رَأَيْتُ أَنْ أُرِقَّهُنَّ" . قَالَ عَبِيدَةُ: فَرَأْيُ عُمَرَ وَعَلِيٍّ فِي الْجَمَاعَةِ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ رَأْيِ عَلِيٍّ وَحْدَهُ فِي الْفُرْقَةِ.
حضرت عبیدہ رحمہ اللہ نے بیان کیا کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میرا اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا فیصلہ تھا کہ امہات الاولاد کو آزاد کر دیا جائے، لیکن جب مجھے حکومت ملی تو میں نے چاہا کہ انہیں غلامی میں رکھا جائے۔“ عبیدہ رحمہ اللہ نے کہا: ”جماعت کی رائے، علی رضی اللہ عنہ کی تنہا رائے سے زیادہ محبوب ہے۔“ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 3225]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 658، 2046، 2047، 2048، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 21803، 21804، 21805، 21833، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 13224، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 22010»
الحكم على الحديث: إسناده صحيح
ترقیم دار السلفیہ: 2049 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 3226
نا نا هُشَيْمٌ، أنا عُمَرُ بْنُ ذَرٍّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَارِبٍ الثَّقَفِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ اشْتَرَى أَمَةً فَأَسْقَطَتْ مِنْهُ فَبَاعَهَا، فَذَكَرَ ذَلِكَ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقَالَ:" أَبَعْدَ مَا اخْتَلَطَ دِمَاؤُكُمْ وَدِمَاؤُهُنَّ، وَلُحُومُكُمْ وَلُحُومُهُنَّ، بِعْتُمُوهُنَّ؟ ارْدُدْهَا! ارْدُدْهَا" .
محمد بن عبداللہ بن قارب ثقفی اپنے والد سے روایت کرتے ہیں: ”انہوں نے ایک لونڈی خریدی، پھر اس سے حمل گر گیا تو اسے فروخت کر دیا، جب یہ بات سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ تک پہنچی تو آپ نے فرمایا: جب تمہارے خون اور ان کے خون، اور تمہارے گوشت اور ان کے گوشت میں اختلاط ہو چکا، پھر تم انہیں بیچتے ہو؟ جاؤ اور اس کو واپس لوٹا دو۔“ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 3226]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن، «انفرد به المصنف من هذا الطريق» »
الحكم على الحديث: إسناده حسن
ترقیم دار السلفیہ: 2050 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 3227
نا نا هُشَيْمٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، قَالَ: " أَعْتَقَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أُمَّهَاتِ الأَوْلادِ وَأُمَّهَاتِ الأَسْقَاطِ" .
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے امہات الاولاد اور ساقط ہونے والے بچوں کی ماؤں کو آزاد کر دیا تھا۔ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 3227]
تخریج الحدیث: «مرسل، وأخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 657، 2050، 2051، 2052، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 21824، 21825، 21826، 21837، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 13243، 13244، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 21894»
الحكم على الحديث: مرسل
ترقیم دار السلفیہ: 2051 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 3228
نا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: " إِذَا وَلَدَتِ الأَمَةُ مِنْ سَيِّدِهَا فَقَدْ أُعْتِقَتْ، وَإِنْ كَانَ سِقْطًا" .
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”جب کسی لونڈی کے پیٹ سے مالک کا بچہ پیدا ہو جائے، چاہے وہ بچہ ساقط ہو کر گرا ہو، وہ آزاد ہو جائے گی۔“ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 3228]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن، وأخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 657، 2050، 2051، 2052، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 21824، 21825، 21826، 21837، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 13243، 13244، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 21894»
الحكم على الحديث: إسناده حسن
ترقیم دار السلفیہ: 2052 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 3229
نا نا عَتَّابُ بْنُ بَشِيرٍ، عَنْ خُصَيْفٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ عُمَرُ : " مَا مِنْ رَجُلٍ كَانَ يُقِرُّ بِأَنَّهُ كَانَ يَطَأُ جَارِيَتَهُ، ثُمَّ يَمُوتُ إِلا أَعْتَقَهَا إِذَا وَلَدَتْ، وَإِنْ كَانَ سِقْطًا" .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ کوئی بھی مرد اگر اپنی باندی سے ہمبستری کا اقرار کرتا اور مر جاتا تو وہ باندی آزاد ہو جاتی، چاہے حمل ساقط ہی کیوں نہ ہو۔“ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 3229]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف مرسل، وأخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 657، 2050، 2051، 2052، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 21824، 21825، 21826، 21837، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 13243، 13244، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 21894»
عتّاب بن بشیر: ضعيف۔ خصيف بن عبد الرحمن الجزري:، صدوق، کثرتِ خطا کی وجہ سے ضعیف الحفظ
عتّاب بن بشیر: ضعيف۔ خصيف بن عبد الرحمن الجزري:، صدوق، کثرتِ خطا کی وجہ سے ضعیف الحفظ
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف مرسل
ترقیم دار السلفیہ: 2053 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 3230
نا نا سُفْيَانُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، وَعُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، قَالَ: أَدْرَكَ ابْنَ عُمَرَ رَجُلانِ بِالأَبْوَاءِ، فَقَالا لَهُ: إِنَّا تَرَكْنَا هَذَا الرَّجُلَ يَبِيعُ أُمَّهَاتِ الأَوْلادِ، يُرِيدَانِ ابْنَ الزُّبَيْرِ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ :" أَتَعْرِفَانِ أَبَا حَفْصٍ، فَإِنَّهُ قَضَى فِي أُمَّهَاتِ الأَوْلادِ: لا يُبَعْنَ، وَلا يُوهَبْنَ، يَسْتَمْتِعُ بِهَا صَاحِبُهَا، فَإِذَا مَاتَ فَهِيَ حُرَّةٌ" .
نافع رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے دو آدمیوں نے ابواء کے مقام پر ملاقات کی اور کہا: ”ہم نے فلاں شخص (ابن زبیر) کو امہات الاولاد کو بیچتے دیکھا ہے۔“ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”کیا تم ابو حفص (یعنی عمر) کو جانتے ہو؟ بے شک انہوں نے امہات الاولاد کے بارے میں فیصلہ دیا تھا کہ نہ ان کا بیچنا جائز ہے، نہ ہبہ کرنا، مالک ان سے فائدہ اٹھائے گا اور جب وہ مر جائے تو وہ آزاد ہو جائیں گی۔“ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 3230]
تخریج الحدیث: «موقوف صحيح، أخرجه مالك فى «الموطأ» برقم: 2871، وسعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2053، 2054، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 21800، 21801، 21802، 21834، 21835، 21844، والدارقطني فى «سننه» برقم: 4246، 4247، 4248، 4249، 4250، وأورده ابن حجر فى "المطالب العالية"، 1526، وأخرجه عبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 13225، 13226، 13227، 13228، 13229، 13230، وأخرجه ابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 22011، 22016»
الحكم على الحديث: موقوف صحيح
ترقیم دار السلفیہ: 2054 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 3231
نا نا فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ لَقِيَهُ رَكْبٌ بِالأَبْوَاءِ، فَقَالُوا: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، فَسَأَلُوهُ يَعْنِي عَنْ أُمَّهَاتِ الأَوْلادِ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: تَعْرِفُونَ عُمَرَ؟ فَقَالُوا: نَعَمْ، قَالَ:" فَإِنَّهُ قَضَى فِيهِنَّ أَنْ يَسْتَمْتِعَ بِهِنَّ سَادَتُهُنَّ مَا بَدَا لَهُمْ، فَإِذَا هَلَكَ السَّيِّدُ فَلا بَيْعَ فِيهَا، وَلا مِيرَاثَ" .
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے امہات الاولاد کے بارے میں یہ فیصلہ دیا تھا کہ جب تک مالک زندہ ہے ان سے فائدہ اٹھا سکتا ہے، لیکن جب مالک مر جائے تو نہ انہیں بیچا جا سکتا ہے اور نہ ان کا وارث بنایا جا سکتا ہے۔“ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 3231]
تخریج الحدیث: «موقوف حسن، أخرجه مالك فى «الموطأ» برقم: 2871، وسعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2053، 2054، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 21800، 21801، 21802، 21834، 21835، 21844، والدارقطني فى «سننه» برقم: 4246، 4247، 4248، 4249، 4250، وأورده ابن حجر فى "المطالب العالية"، 1526، وأخرجه عبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 13225، 13226، 13227، 13228، 13229، 13230، وأخرجه ابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 22011، 22016»
وضاحت: وضاحت: اگرچہ سند میں فلَیح بن سلیمان کی وجہ سے کچھ ضعف ہے، لیکن عبد اللہ بن دینار کی روایت، اور 2053 والی صحیح روایت سے تائید ہونے کی وجہ سے یہ اثر بھی قابل قبول ہے۔
یہ فقہی اصولی قول ہے، اور فقہائے مدینہ، امام مالک، اور امام ابو حنیفہ رحمہم اللہ کے مسلک کے مطابق ہے۔
یہ فقہی اصولی قول ہے، اور فقہائے مدینہ، امام مالک، اور امام ابو حنیفہ رحمہم اللہ کے مسلک کے مطابق ہے۔
الحكم على الحديث: موقوف حسن
ترقیم دار السلفیہ: 2055 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 3232
نا نا هُشَيْمٌ، أنا مَنْصُورٌ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي عَطِيَّةَ مَالِكِ بْنِ عَامِرٍ الْهَمْدَانِيِّ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ قَالَ فِي أُمِّ الْوَلَدِ:" إِنْ أَسْلَمَتْ، وَأُحْصِنَتْ، وَعَفَّتْ أُعْتِقَتْ، وَإِنْ كَفَرَتْ، وَفَجَرَتْ، وَغَدَرَتْ رَقَّتْ" .
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اگر ام ولد اسلام لے آئے، پاکدامن ہو جائے اور عفت اختیار کرے تو وہ آزاد ہو جائے گی، لیکن اگر کفر پر قائم رہے اور بدکاری کرے یا خیانت کرے تو وہ غلام ہی رہے گی۔“ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 3232]
تخریج الحدیث: «مرسل، وأخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2055، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 13237، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 22026»
قال أبو حاتم الرازي: هذا وهم وإنما هو مالك بن أبي عامر ويقال ابن عامر وهو أبو عطية الهمداني ثم الوادعي، علل الحديث: (4 / 182)
قال أبو حاتم الرازي: هذا وهم وإنما هو مالك بن أبي عامر ويقال ابن عامر وهو أبو عطية الهمداني ثم الوادعي، علل الحديث: (4 / 182)
الحكم على الحديث: مرسل