🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن سعید بن منصور سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شرکۃ الحروف
ترقيم دار السلفیہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شرکۃ الحروف سے تلاش کل احادیث (4154)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم دار السلفیہ سے تلاش کل احادیث (2978)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

170. بَابُ الْمَرْأَةِ يُشْهَدُ عَلَيْهَا بِالزِّنَا ثُمَّ تُوجَدُ بِكْرًا
باب: اُس عورت کا بیان جس پر زنا کی گواہی دی جائے، پھر وہ کنواری پائی جائے۔
اظهار التشكيل
ترقیم دار السلفیہ: 2121 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 3298
أنا مُطَرِّفٌ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، أَنَّهُ قَالَ فِي امْرَأَةٍ يَشْهَدُ عَلَيْهَا أَرْبَعَةٌ بِالزِّنَا، فَنَظَرَ إِلَيْهَا، فَإِذَا هِيَ بِكْرٌ، فَقَالَ الشَّعْبِيُّ: " مَا كُنْتُ لأُقِيمَ حَدًّا عَلَى امْرَأَةٍ عَلَيْهَا مِنَ اللَّهِ خَاتَمٌ" .
حضرت شعبی رحمہ اللہ نے کہا: جس عورت پر چار آدمی زنا کی گواہی دیں اور وہ کنواری نکلے تو میں اس پر حد قائم نہ کرتا جس پر اللہ کی طرف سے مہر ہے۔ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 3298]
تخریج الحدیث: «أخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2121، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 13379»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم دار السلفیہ: 2122 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 3299
نا هُشَيْمٌ، أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ سَالِمٍ، قَالَ: سَمِعْتُ الشَّعْبِيَّ، يَقُولُ: " يُقَامُ عَلَيْهَا الْحَدُّ، وَلا يُلْتَفَتُ إِلَى ذَلِكَ مِنْهَا" . قَالَ هُشَيْمٌ: وَهُوَ الْقَوْلُ.
حضرت شعبی رحمہ اللہ نے کہا: عورت پر حد جاری کی جائے گی اور اس کا کنوارہ پن معتبر نہ ہو گا۔ ہشیم نے کہا: یہی قول درست ہے۔ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 3299]
تخریج الحدیث: « «انفرد به المصنف من هذا الطريق» »
وضاحت: (1) كذا في طبعة الدار طبعة الدار السلفية بالهند، ولعل الصواب: (إسماعيل بن سالم)، كما في (مسند بن الجعد)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم دار السلفیہ: 2123 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 3300
نا هُشَيْمٌ، أنا مُطَرِّفٌ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: " لَيْسَ عَلَى تَائِبٍ حَدٌّ" .
حضرت شعبی رحمہ اللہ نے کہا: توبہ کرنے والے پر حد نہیں ہے۔ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 3300]
تخریج الحدیث: «أخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2123، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 18551»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم دار السلفیہ: 2124 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 3301
نا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ بَيَانٍ، عَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُهُ يَقُولُ: " إِذَا تَزَوَّجَ الرَّجُلُ الْبِكْرَ، فَقَذَفَهَا زَوْجُهَا قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بِهَا فَنَظَرَ إِلَيْهَا النِّسَاءُ، فَوَجَدُوهَا بِكْرًا، فَإِنَّهُ يُجْلَدُ ؛ لأَنَّهُ اسْتَبَانَ أَنَّهُ كَذَبَ عَلَيْهَا" .
حضرت شعبی رحمہ اللہ نے کہا: اگر شوہر دخول سے پہلے بیوی پر تہمت لگائے اور عورت کنواری نکلے تو شوہر پر حد جاری ہو گی کیونکہ اس کا جھوٹ ثابت ہو گیا۔ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 3301]
تخریج الحدیث: «انفرد به المصنف من هذا الطريق»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم دار السلفیہ: 2125 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 3302
نا نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يُوسُفَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، قَالَ: قَضَى عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي امْرَأَةٍ عَذْرَاءَ تَزَوَّجَهَا شَيْخٌ كَبِيرٌ فَحَمَلَتْ، فَزَعَمَ الشَّيْخُ أَنَّهُ لَمْ يُجَامِعْهَا، وَسُئِلَتْ هَلِ افْتَضَّكِ؟ قَالَتْ: لا، فَأَمَرَ النِّسَاءَ أَنْ يَنْظُرْنَ إِلَيْهَا، فَزَعَمْنَ أَنَّهَا عَذْرَاءُ، فَقَالَ:" إِنَّ لِلْمَرْأَةِ سَمَّيْنِ: سَمُّ الْحَيْضِ، وَسَمُّ الْبَوْلِ، فَلَعَلَّ الرَّجُلَ كَانَ يُنْزِلُ فِي قُبُلِهَا فِي سِمِّ الْمَحِيضِ، فَحَمَلَتْ"، فَسُئِلَ الرَّجُلُ، فَقَالَ؟ كُنْتُ أُنْزِلُ الْمَاءَ فِي قُبُلِهَا، فَقِيلَ لِلشَّيْخِ:" إِنَّهَا لَمْ تَزَلْ بِكْرًا، وَإِنَّمَا الْحَمْلُ لَكَ، وَلَكَ وَلَدُهُ" .
سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ایک عورت کے بارے میں فیصلہ کیا، جو کنواری تھی، اور اس کی شادی ایک بوڑھے شخص سے ہوئی۔ عورت حاملہ ہو گئی۔ بوڑھے شخص نے دعویٰ کیا کہ میں نے اس سے جماع نہیں کیا۔ عورت سے پوچھا گیا کہ کیا تمہاری بکارت زائل ہوئی؟ عورت نے کہا: نہیں۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے عورتوں کو حکم دیا کہ وہ عورت کا معائنہ کریں۔ انہوں نے بتایا کہ وہ واقعی کنواری ہے۔ تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: عورت کے جسم میں دو راستے ہوتے ہیں: حیض کا راستہ اور پیشاب کا راستہ۔ ممکن ہے کہ مرد نے حیض کے مقام میں (یعنی فرج کے دہانے پر) انزال کیا ہو اور عورت حاملہ ہو گئی ہو۔ پھر بوڑھے شخص سے پوچھا گیا، تو اس نے کہا: میں اس کے فرج پر منی گراتا تھا۔ چنانچہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فیصلہ کیا: عورت بدستور کنواری ہے اور حمل تیرے (اسی بوڑھے شخص کے) نطفہ سے ہے، اور یہ بچہ تیرا ہی ہو گا۔ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 3302]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، و «انفرد به المصنف من هذا الطريق» »
وضاحت: وضاحت: إسماعيل بن عياش: ثقہ، لیکن جب "حجازیوں سے روایت" کرے تو اس میں ضعف آتا ہے یہاں سعید بن یوسف حجازی ہے، اس لیے اس کی روایت میں کلام ہے
سعید بن یوسف: ضعیف، محدثین نے اس کی تفصیل میں اختلاف کیا۔ اس بناء پر یہ روایت سنداً ضعیف ہے، مگر معنوی اعتبار سے قوی و مقبول کیونکہ: قضیہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے منسوب ہے اور فقہی قاعدے و امکانِ حمل پر مبنی ہے طبی لحاظ سے بھی یہ ممکن الوقوع ہے۔

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں