صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
1. باب صِفَّاتِ الْمُنَافِقِينَ وَأَحْكَامِهِمْ
باب: منافقین کی صفات اور ان کے بارے میں احکام۔
ترقیم عبدالباقی: 2778 ترقیم شاملہ: -- 7034
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَهَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ وَاللَّفْظُ لِزُهَيْرٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ ، أَنَّ حُمَيْدَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّ مَرْوَانَ، قَالَ: اذْهَبْ يَا رَافِعُ لِبَوَّابِهِ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، فَقُلْ: لَئِنْ كَانَ كُلُّ امْرِئٍ مِنَّا فَرِحَ بِمَا أَتَى وَأَحَبَّ أَنْ يُحْمَدَ بِمَا لَمْ يَفْعَلْ مُعَذَّبًا لَنُعَذَّبَنَّ أَجْمَعُونَ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: " مَا لَكُمْ وَلِهَذِهِ الْآيَةِ إِنَّمَا أُنْزِلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ فِي أَهْلِ الْكِتَابِ، ثُمَّ تَلَا ابْنُ عَبَّاسٍ وَإِذْ أَخَذَ اللَّهُ مِيثَاقَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ لَتُبَيِّنُنَّهُ لِلنَّاسِ وَلا تَكْتُمُونَهُ سورة آل عمران آية 187 هَذِهِ الْآيَةَ وَتَلَا ابْنُ عَبَّاسٍ لا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ يَفْرَحُونَ بِمَا أَتَوْا وَيُحِبُّونَ أَنْ يُحْمَدُوا بِمَا لَمْ يَفْعَلُوا سورة آل عمران آية 188، وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : سَأَلَهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ شَيْءٍ، فَكَتَمُوهُ إِيَّاهُ وَأَخْبَرُوهُ بِغَيْرِهِ، فَخَرَجُوا قَدْ أَرَوْهُ أَنْ قَدْ أَخْبَرُوهُ بِمَا سَأَلَهُمْ عَنْهُ، وَاسْتَحْمَدُوا بِذَلِكَ إِلَيْهِ وَفَرِحُوا بِمَا أَتَوْا مِنْ كِتْمَانِهِمْ إِيَّاهُ مَا سَأَلَهُمْ عَنْهُ.
ابن جریج سے روایت ہے، انہوں نے کہا: مجھے ابن ابی ملیکہ نے بتایا، انہیں حمید بن عبدالرحمن بن عوف نے خبر دی کہ مروان نے اپنے دربان سے کہا: ”رافع! حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کے پاس جاؤ اور کہو کہ اگر یہ بات ہے کہ ہم میں سے ہر شخص جو اپنے کیے پر خوش ہوتا ہے اور ہر ایک جو یہ پسند کرتا ہے کہ جو10 جو اس نے نہیں کیا، اس پر اس کی تعریف کی جائے، اس کو عذاب ہو گا تو ہم سب ہی ضرور عذاب میں ڈالے جائیں گے۔“ تو حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم لوگوں کا اس آیت سے کیا تعلق (بنتا) ہے؟ یہ آیت اہل کتاب کے بارے میں اتری تھی، پھر حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے (اس سے پہلی) یہ آیت پڑھی: «وَإِذْ أَخَذَ اللَّهُ مِيثَاقَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ» ”اور جب اللہ نے ان لوگوں کا، جنہیں کتاب دی گئی تھی، عہد لیا کہ تم اسے لوگوں کے سامنے کھول کر بیان کرو گے اور اس کو چھپاؤ گے نہیں۔“ پھر ابن عباس رضی اللہ عنہ نے (াস کے بعد والی) آیت تلاوت فرمائی: «لَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ يَفْرَحُونَ بِمَا أَتَوْا» ”ان لوگوں کے بارے میں گمان نہ کرو جو اپنے کیے پر خوش ہوتے ہیں اور پسند کرتے ہیں کہ اس کام پر ان کی تعریف کی جائے جو انہوں نے نہیں کیا۔“ اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے (ان کی کتاب میں لکھی ہوئی) کسی چیز کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے آپ سے وہ چیز چھپا لی اور (اس کے بجائے) ایک دوسری بات بتا دی اور وہ اس طرح نکلے کہ انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے یہ ظاہر کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے جو پوچھا تھا، انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو وہی بتا دیا ہے اور اس بات پر انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے تعریف بھی بٹورنی چاہی اور جو بات آپ نے ان سے پوچھی وہ بات چھپا کر انہوں نے جو کچھ لیا تھا اس پر (اپنے دلوں میں) خوش بھی ہوئے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب صِفَاتِ الْمُنَافِقِينَ وَأَحْكَامِهِمْ/حدیث: 7034]
حمید بن عبدالرحمٰن بن عوف رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ مروان رحمہ اللہ نے اپنے دربان سے کہا: ”اے ابو رافع! عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس جاؤ اور پوچھو، اگر ہم میں سے ہر وہ فرد جو اپنے کیے پر خوش ہوتا ہے اور جو کام نہیں کیا، اس پر تعریف چاہتا ہے، عذاب سے دوچار ہو گا تو پھر ہم سب کو عذاب سے گزرنا پڑے گا؟“ تو عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے جواب دیا: ”تمھارا اس آیت سے کیا تعلق؟ یہ آیت تو بس اہل کتاب کے بارے میں اتری ہے۔“ پھر عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے یہ آیت پڑھی: ﴿وَإِذْ أَخَذَ اللَّهُ مِيثَاقَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ لَتُبَيِّنُنَّهُ لِلنَّاسِ وَلَا تَكْتُمُونَهُ فَنَبَذُوهُ وَرَاءَ ظُهُورِهِمْ وَاشْتَرَوْا بِهِ ثَمَنًا قَلِيلًا ۖ فَبِئْسَ مَا يَشْتَرُونَ﴾ [سورة آل عمران: 187] ”اس وقت کو یاد کرو، جب اللہ نے ان لوگوں سے عہد لیا جنہیں کتاب دی گئی تھی کہ تم اسے اچھی طرح بیان کرو گے اور اسے چھپاؤ گے نہیں تو انہوں نے اس عہد کو پسِ پشت پھینک دیا اور اس کے عوض حقیر مال حاصل کیا، انتہائی بری چیز جو وہ لے رہے ہیں۔“ اور عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے یہ آیت پڑھی: ﴿لَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ يَفْرَحُونَ بِمَا أَتَوْا وَيُحِبُّونَ أَنْ يُحْمَدُوا بِمَا لَمْ يَفْعَلُوا فَلَا تَحْسَبَنَّهُمْ بِمَفَازَةٍ مِنَ الْعَذَابِ ۖ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ﴾ [سورة آل عمران: 188] ”وہ لوگ جو اپنے کیے پر خوش ہوتے ہیں اور چاہتے ہیں جو کام انہوں نے نہیں کیا، اس پر ان کی تعریف کی جائے، تو انہیں عذاب سے محفوظ خیال نہ کریں۔“ اور عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کسی چیز کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے اسے چھپا لیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی اور چیز بتا دی اور وہ یہ ظاہر کرتے ہوئے نکلے کہ انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو وہ چیز بتا دی ہے جس کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے سوال کیا تھا اور اس طرزِ عمل سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے تعریف کی خواہش کی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے جس کے بارے میں سوال کیا تھا، اس کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے چھپانے پر وہ خوش ہوئے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب صِفَاتِ الْمُنَافِقِينَ وَأَحْكَامِهِمْ/حدیث: 7034]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2778
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2779 ترقیم شاملہ: -- 7035
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ بْنُ الْحَجَّاجِ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ قَيْسٍ ، قَالَ: قُلْتُ لِعَمَّارٍ أَرَأَيْتُمْ صَنِيعَكُمْ هَذَا الَّذِي صَنَعْتُمْ فِي أَمْرِ عَلِيٍّ أَرَأْيًا رَأَيْتُمُوهُ أَوْ شَيْئًا عَهِدَهُ إِلَيْكُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟، فَقَالَ: مَا عَهِدَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا لَمْ يَعْهَدْهُ إِلَى النَّاسِ كَافَّةً، وَلَكِنْ حُذَيْفَةُ أَخْبَرَنِي، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فِي أَصْحَابِي اثْنَا عَشَرَ مُنَافِقًا، فِيهِمْ ثَمَانِيَةٌ لَا يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ حَتَّى يَلِجَ الْجَمَلُ فِي سَمِّ الْخِيَاطِ ثَمَانِيَةٌ مِنْهُمْ تَكْفِيكَهُمُ الدُّبَيْلَةُ وَأَرْبَعَةٌ "، لَمْ أَحْفَظْ مَا قَالَ شُعْبَةُ فِيهِمْ.
اسود بن عامر نے کہا: ہمیں شعبہ بن حجاج نے قتادہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے ابونضرہ سے اور انہوں نے قیس بن عباد سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے حضرت عمار رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ نے اپنے اس کام پر غور و فکر کیا جو آپ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے معاملے میں کیا ہے (ان کا بھرپور ساتھ دیا ہے اور ان کے مخالفین سے جنگ تک کی ہے) یہ آپ کے اپنے غور و فکر سے اختیار کی ہوئی آپ کی رائے تھی یا ایسی چیز تھی جس کی ذمہ داری رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ لوگوں کے سپرد کی تھی؟ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی ایسی ذمہ داری ہمارے سپرد نہیں کی جو انہوں نے تمام لوگوں کے سپرد نہ کی ہو لیکن حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے خبر دی، کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے ساتھیوں میں سے بارہ افراد منافق ہیں، ان میں سے آٹھ ایسے ہیں جو جنت میں داخل نہیں ہوں گے یہاں تک کہ اونٹ سوئی کے ناکے میں داخل ہو جائے (کبھی داخل نہیں ہوں گے)، ان میں آٹھ ایسے ہیں (کہ ان کے شر سے نجات کے لیے ان کے کندھوں کے درمیان ظاہر ہونے والا سرخ) پھوڑا تمہاری نجات کے لیے تمہیں کفایت کرے گا۔ اور چار۔“ (آگے کا حصہ) مجھے (اسود بن عامر کو) یاد نہیں کہ شعبہ نے ان (چار) کے بارے میں کیا کہا تھا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب صِفَاتِ الْمُنَافِقِينَ وَأَحْكَامِهِمْ/حدیث: 7035]
قیس رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے حضرت عمار رضی اللہ عنہ سے پوچھا: بتائیے! آپ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے معاملہ میں جو وطیرہ (مددو نصرت) اپنایا، کیا یہ طرز عمل تمھاری اپنی سوچ تھی جو تم نے سوچی یا ایسی چیز جس کی تلقین تمھیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کی تھی؟ تو انھوں نے جواب دیا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں کسی ایسی چیز کی تلقین نہیں فرمائی جس کی تاکید سب لوگوں کو نہ کی ہو، لیکن حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بتایا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے ساتھیوں میں منافق ہیں (یعنی میرے ماننے والوں میں سے)، ان میں سے آٹھ اس وقت تک جنت میں داخل نہیں ہو سکیں گے جب تک اونٹ سوئی کے ناکہ سے نہ گزر جائے، ان میں سے آٹھ کے لیے «الدُّبَيْلَةُ» (پیٹ کا پھوڑا) کافی ہو گا اور چار“ کے بارے میں مجھے یاد نہیں ہے (یعنی اسود کو) کہ شعبہ نے کیا کہا تھا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب صِفَاتِ الْمُنَافِقِينَ وَأَحْكَامِهِمْ/حدیث: 7035]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2779
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2779 ترقیم شاملہ: -- 7036
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّى، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ عُبَادٍ ، قَالَ: قُلْنَا لِعَمَّارٍ : أَرَأَيْتَ قِتَالَكُمْ أَرَأْيًا رَأَيْتُمُوهُ فَإِنَّ الرَّأْيَ يُخْطِئُ وَيُصِيبُ أَوْ عَهْدًا عَهِدَهُ إِلَيْكُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟، فَقَالَ: مَا عَهِدَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا لَمْ يَعْهَدْهُ إِلَى النَّاسِ كَافَّةً، وَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِنَّ فِي أُمَّتِي، قَالَ شُعْبَةُ: وَأَحْسِبُهُ، قَالَ: حَدَّثَنِي حُذَيْفَةُ ، وَقَالَ غُنْدَرٌ: أُرَاهُ قَالَ: " فِي أُمَّتِي اثْنَا عَشَرَ مُنَافِقًا لَا يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ، وَلَا يَجِدُونَ رِيحَهَا حَتَّى يَلِجَ الْجَمَلُ فِي سَمِّ الْخِيَاطِ، ثَمَانِيَةٌ مِنْهُمْ تَكْفِيكَهُمُ الدُّبَيْلَةُ سِرَاجٌ مِنَ النَّارِ يَظْهَرُ فِي أَكْتَافِهِمْ حَتَّى يَنْجُمَ مِنْ صُدُورِهِمْ ".
محمد بن جعفر غندر نے کہا: ہمیں شعبہ نے قتادہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے ابونضرہ سے اور انہوں نے قیس بن عباد سے روایت کی، انہوں نے کہا: ہم لوگوں نے حضرت عمار رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ (حضرت علی رضی اللہ عنہ کی حمایت میں) اپنی جنگ کو کیسے دیکھتے ہیں، کیا یہ ایک رائے ہے جو آپ نے غور و فکر سے اختیار کی ہے؟ تو رائے غلط بھی ہو سکتی ہے اور صحیح بھی، یا کوئی ذمہ داری ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں کوئی ایسی (خصوصی) ذمہ داری نہیں دی تھی جو تمام لوگوں کے سپرد نہ کی ہو۔ اور کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: ”بے شک میری امت میں بارہ منافق ہیں، وہ جنت میں داخل نہ ہوں گے اور نہ اس کی خوشبو پائیں گے، جب تک کہ اونٹ سوئی کے ناکے میں داخل نہ ہو جائے۔ ان میں سے آٹھ ایسے ہیں (کہ ان کے شر سے بچاؤ کے لیے) تمہاری کفایت ایک ایسا پھوڑا کرے گا جو آگ کے جلتے ہوئے دیے کی طرح (اوپر سے سرک) ہو گا، ان کے کندھوں میں ظاہر ہو گا یہاں تک کہ ان کے سینوں سے نکل آئے گا۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب صِفَاتِ الْمُنَافِقِينَ وَأَحْكَامِهِمْ/حدیث: 7036]
قیس بن عباد رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں، ہم نے حضرت عمار رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا، لڑائی میں حصہ لینے کے بارے میں بتائیں، کیا یہ تمھاری سوچ تھی، جو تم نے سوچی؟ کیونکہ رائے خطا بھی ہو سکتی ہے اور راست بھی، یا یہ تلقین تھی جو تمھیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کی تھی؟ تو انہوں نے کہا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں کسی ایسی چیز کی تلقین نہیں کی، جس کی تلقین سب لوگوں کو نہ کی ہو، اور کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری امت میں۔“ شعبہ کہتے ہیں میرا خیال ہے حضرت عمار رضی اللہ عنہ نے کہا، مجھے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے بتایا، غندر کہتے ہیں میرا خیال ہے، آپ نے فرمایا: ”میری امت میں بارہ منافق ایسے ہیں جو جنت میں داخل نہیں ہوں گے اور نہ اس کی مہک محسوس کریں گے، ﴿حَتَّىٰ يَلِجَ الْجَمَلُ فِي سَمِّ الْخِيَاطِ﴾ [سورة الأعراف: 40] (حتیٰ کہ اونٹ سوئی کے ناکہ میں داخل ہو جائے)۔ ان میں سے آٹھ کے لیے «دَبِيلَةٌ» ”دبیلہ“ کافی ہو گا۔“ یعنی آگ کا چراغ جو ان کے کندھوں میں ظاہر ہو گا حتیٰ کہ ان کے سینوں میں پھوٹے گا۔ یعنی سینوں سے نکلے گا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب صِفَاتِ الْمُنَافِقِينَ وَأَحْكَامِهِمْ/حدیث: 7036]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2779
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2779 ترقیم شاملہ: -- 7037
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْكُوفِيُّ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ جُمَيْعٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو الطُّفَيْلِ ، قَالَ: كَانَ بَيْنَ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ الْعَقَبَةِ وَبَيْنَ حُذَيْفَةَ بَعْضُ مَا يَكُونُ بَيْنَ النَّاسِ، فَقَالَ " أَنْشُدُكَ بِاللَّهِ كَمْ كَانَ أَصْحَابُ الْعَقَبَةِ؟ قَالَ: فَقَالَ لَهُ: الْقَوْمُ أَخْبِرْهُ إِذْ سَأَلَكَ، قَالَ: كُنَّا نُخْبَرُ أَنَّهُمْ أَرْبَعَةَ عَشَرَ، فَإِنْ كُنْتَ مِنْهُمْ فَقَدْ كَانَ الْقَوْمُ خَمْسَةَ عَشَرَ وَأَشْهَدُ بِاللَّهِ أَنَّ اثْنَيْ عَشَرَ مِنْهُمْ حَرْبٌ لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا، وَيَوْمَ يَقُومُ الْأَشْهَادُ وَعَذَرَ ثَلَاثَةً، قَالُوا: مَا سَمِعْنَا مُنَادِيَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا عَلِمْنَا بِمَا أَرَادَ الْقَوْمُ، وَقَدْ كَانَ فِي حَرَّةٍ فَمَشَى، فَقَالَ: إِنَّ الْمَاءَ قَلِيلٌ فَلَا يَسْبِقْنِي إِلَيْهِ أَحَدٌ، فَوَجَدَ قَوْمًا قَدْ سَبَقُوهُ فَلَعَنَهُمْ يَوْمَئِذٍ ".
ولید بن جمیع نے کہا: ہمیں ابوطفیل رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: عقبہ والوں میں سے ایک شخص اور حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کے درمیان (اس طرح کا) جھگڑا ہو گیا جس طرح لوگوں کے درمیان ہو جاتا ہے۔ (گفتگو کے دوران میں) انہوں نے (اس شخص سے) کہا: میں تمہیں اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کہ عقبہ والوں کی تعداد کتنی تھی؟ (حضرت ابوطفیل رضی اللہ عنہ نے) کہا: لوگوں نے اس سے کہا: جب وہ آپ سے پوچھ رہے ہیں تو انہیں بتاؤ۔ (پھر حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے خود ہی جواب دیتے ہوئے) کہا: ہمیں بتایا جاتا تھا کہ وہ چودہ لوگ تھے اور اگر تم بھی ان میں شامل تھے تو وہ کل پندرہ لوگ تھے اور میں گواہی دیتا ہوں کہ ان میں سے بارہ دنیا کی زندگی میں بھی اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف جنگ میں تھے اور (آخرت میں بھی) جب گواہ کھڑے ہوں گے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان تین لوگوں کا عذر قبول فرما لیا تھا جنہوں نے کہا تھا کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اعلان کرنے والے کا اعلان نہیں سنا تھا اور اس بات سے بھی بے خبر تھے کہ ان لوگوں کا ارادہ کیا ہے جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت حرہ میں تھے، آپ چل پڑے اور فرمایا: ”پانی کم ہے، اس لیے مجھ سے پہلے وہاں کوئی نہ پہنچے۔“ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (وہاں پہنچ کر) دیکھا کہ کچھ لوگ آپ سے پہلے وہاں پہنچ گئے ہیں تو آپ نے اس روز ان پر لعنت کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب صِفَاتِ الْمُنَافِقِينَ وَأَحْكَامِهِمْ/حدیث: 7037]
حضرت ابو طفیل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جنگ تبوک کی گھاٹی والوں میں سے ایک کا حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے جھگڑا ہوا جیسا کہ لوگوں میں ہو ہی جاتا ہے، تو اس نے کہا: میں تمھیں اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں، اہل عقبہ کتنے اشخاص تھے؟ تو لوگوں نے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے کہا: جب یہ آپ سے پوچھ رہا ہے تو آپ اسے بتا دیں، حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ہمیں بتایا جاتا تھا وہ چودہ تھے، اگر تو بھی ان کے ساتھ تھا تو وہ لوگ پندرہ ہو گئے، اور میں اللہ کو گواہ بنا کر کہتا ہوں ان میں سے بارہ وہ ہیں جو دنیا میں اور جس دن گواہ کھڑے ہوں گے، اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے جنگ کرنے والے ہوں گے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین کی معذرت قبول فرمائی، انھوں نے کہا: ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منادی کی آواز نہیں سنی تھی اور نہ ہمیں پتا تھا ان لوگوں کا ارادہ کیا ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سنگریزوں میں چل رہے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آگے تھوڑا سا پانی آنے والا ہے تو مجھ سے پہلے اس پر کوئی نہ پہنچے۔“ سو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ لوگوں کو پایا کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے پانی پر پہنچ چکے ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پر لعنت بھیجی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب صِفَاتِ الْمُنَافِقِينَ وَأَحْكَامِهِمْ/حدیث: 7037]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2779
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2780 ترقیم شاملہ: -- 7038
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا قُرَّةُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ يَصْعَدُ الثَّنِيَّةَ ثَنِيَّةَ الْمُرَارِ، فَإِنَّهُ يُحَطُّ عَنْهُ مَا حُطَّ عَنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ "، قَالَ: فَكَانَ أَوَّلَ مَنْ صَعِدَهَا خَيْلُنَا خَيْلُ بَنِي الْخَزْرَجِ ثُمَّ تَتَامَّ النَّاسُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " وَكُلُّكُمْ مَغْفُورٌ لَهُ إِلَّا صَاحِبَ الْجَمَلِ الْأَحْمَرِ "، فَأَتَيْنَاهُ، فَقُلْنَا لَهُ: تَعَالَ يَسْتَغْفِرْ لَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: وَاللَّهِ لَأَنْ أَجِدَ ضَالَّتِي أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ يَسْتَغْفِرَ لِي صَاحِبُكُمْ، قَالَ: وَكَانَ رَجُلٌ يَنْشُدُ ضَالَّةً لَهُ "،
معاذ عنبری نے کہا: ہمیں قرہ بن خالد نے ابوزبیر سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کون ہے جو اس گھاٹی (یعنی) مرار کی گھاٹی پر چڑھے گا! بے شک اس کے گناہ بھی اسی طرح جھڑ جائیں گے جس طرح بنی اسرائیل کے گناہ جھڑ گئے تھے۔“ (حضرت جابر رضی اللہ عنہما نے) کہا: تو سب سے پہلے جو اس گھاٹی پر چڑھے وہ ہمارے بنو خزرج کے گھوڑے تھے، پھر لوگوں کا تانتا بندھ گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم سب وہ ہو جن کے گناہ بخش دیے گئے، سوائے سرخ اونٹ والے شخص کے۔“ ہم اس کے پاس آئے اور (اس سے) کہا: آؤ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمہارے لیے بھی استغفار فرمائیں۔ اس نے کہا: اللہ کی قسم! اگر میں اپنی گم شدہ چیز پاؤں تو یہ بات مجھے اس کی نسبت زیادہ پسند ہے کہ تمہارا صاحب میرے لیے مغفرت کی دعا کرے۔ (حضرت جابر رضی اللہ عنہما نے) کہا: وہ آدمی اس وقت اپنی گم شدہ چیز کو ڈھونڈنے کے لیے آوازیں لگا رہا تھا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب صِفَاتِ الْمُنَافِقِينَ وَأَحْكَامِهِمْ/حدیث: 7038]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”گھاٹی پر، یعنی مرار کی گھاٹی پر کون چڑھے گا؟ کیونکہ اس سے گناہ اس طرح جھڑ جائیں گے جس طرح بنو اسرائیل سے جھڑ گئے تھے“، تو اس پر سب سے پہلے ہمارے یعنی خزرج کے گھوڑے چڑھے، پھر لوگوں کا تانتا بندھ گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم سب کو بخش دیا جائے گا سوائے سرخ اونٹ والے کے۔“ چنانچہ ہم اس کے پاس آئے اور اسے کہا: آؤ تاکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تیرے لیے بخشش طلب کریں، تو اس نے کہا: «وَاللّٰهِ» ”اللہ کی قسم! میرے لیے میری گمشدہ چیز کا مل جانا، اس سے زیادہ محبوب ہے کہ تمہارا ساتھی میرے لیے بخشش طلب کرے“، اور وہ آدمی اپنی گمشدہ چیز تلاش کر رہا تھا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب صِفَاتِ الْمُنَافِقِينَ وَأَحْكَامِهِمْ/حدیث: 7038]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2780
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2780 ترقیم شاملہ: -- 7039
وحَدَّثَنَاه يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ، حَدَّثَنَا قُرَّةُ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ يَصْعَدُ ثَنِيَّةَ الْمُرَارِ أَوِ الْمَرَارِ، بِمِثْلِ حَدِيثِ مُعَاذٍ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: وَإِذَا هُوَ أَعْرَابِيٌّ جَاءَ يَنْشُدُ ضَالَّةً لَهُ.
یحییٰ بن حبیب حارثی نے ہمیں یہی حدیث بیان کی، کہا: ہمیں خالد بن حارث نے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں قرہ نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں ابوزبیر نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت کی، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کون ہے جو مرار کی گھاٹی پر چڑھے گا۔“ (آگے) معاذ عنبری کی حدیث کے مانند، البتہ (اس حدیث میں) انہوں نے کہا: اور وہ ایک اعرابی تھا جو اپنی گم شدہ چیز ڈھونڈنے کے لیے اعلان کرنے کے لیے آیا تھا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب صِفَاتِ الْمُنَافِقِينَ وَأَحْكَامِهِمْ/حدیث: 7039]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «مَنْ يَصْعَدُ ثَنِيَّةَ الْمُرَارِ» ثنیہ مرار یا مرار پر کون چڑھے گا؟“ آگے مذکورہ روایت ہے، ہاں یہ فرق ہے اس میں یہ ہے کہ وہ ایک جنگلی تھا جو اپنی گمشدہ چیز تلاش کر رہا تھا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب صِفَاتِ الْمُنَافِقِينَ وَأَحْكَامِهِمْ/حدیث: 7039]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2780
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2781 ترقیم شاملہ: -- 7040
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ وَهُوَ ابْنُ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: " كَانَ مِنَّا رَجُلٌ مِنْ بَنِي النَّجَّارِ قَدْ قَرَأَ الْبَقَرَةَ وَآلَ عِمْرَانَ، وَكَانَ يَكْتُبُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَانْطَلَقَ هَارِبًا حَتَّى لَحِقَ بِأَهْلِ الْكِتَابِ، قَالَ: فَرَفَعُوهُ، قَالُوا: هَذَا قَدْ كَانَ يَكْتُبُ لِمُحَمَّدٍ، فَأُعْجِبُوا بِهِ فَمَا لَبِثَ أَنْ قَصَمَ اللَّهُ عُنُقَهُ فِيهِمْ، فَحَفَرُوا لَهُ فَوَارَوْهُ، فَأَصْبَحَتِ الْأَرْضُ قَدْ نَبَذَتْهُ عَلَى وَجْهِهَا، ثُمَّ عَادُوا فَحَفَرُوا لَهُ فَوَارَوْهُ، فَأَصْبَحَتِ الْأَرْضُ قَدْ نَبَذَتْهُ عَلَى وَجْهِهَا، ثُمَّ عَادُوا فَحَفَرُوا لَهُ فَوَارَوْهُ، فَأَصْبَحَتِ الْأَرْضُ قَدْ نَبَذَتْهُ عَلَى وَجْهِهَا فَتَرَكُوهُ مَنْبُوذًا ".
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کہا: ہم بنو نجار میں سے ایک شخص تھا، اس نے سورہ بقرہ اور سورہ آل عمران پڑھی (یاد کی) ہوئی تھی اور وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کتابت کیا کرتا تھا، وہ بھاگ کر چلا گیا اور اہل کتاب کے ساتھ شامل ہو گیا، انہوں نے اس کو بہت اونچا اٹھایا اور کہا: یہ ہے جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کتابت کرتا تھا وہ اس کے آنے سے بہت خوش ہوئے، تھوڑے ہی دن گزرے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے بیچ میں (ہوتے ہوئے) اس کی گردن توڑ دی۔ انہوں نے اس کے لیے قبر کھودی اور اسے دفن کر دیا۔ صبح ہوئی تو زمین نے اسے اپنی سطح کے اوپر پھینک دیا تھا۔ انہوں نے دوبارہ وہی کیا، اس کی قبر کھودی اور اسے دفن کر دیا۔ پھر صبح ہوئی تو زمین نے اسے باہر پھینک دیا تھا، انہوں نے پھر (تیسری بار) اسی طرح کیا، اس کے لیے قبر کھودی اور اسے دفن کر دیا، صبح کو زمین نے اسے باہر پھینک دیا ہوا تھا تو انہوں نے اسے اسی طرح پھینکا ہوا چھوڑ دیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب صِفَاتِ الْمُنَافِقِينَ وَأَحْكَامِهِمْ/حدیث: 7040]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، ہم بنو نجار میں سے ایک آدمی تھا جو سورۃ البقرہ اور سورۃ آل عمران پڑھ چکا تھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے لکھا کرتا تھا، وہ بھاگ گیا، حتیٰ کہ اہل کتاب سے جا ملا اور انہوں نے اسے بلند مقام دیا۔ کہنے لگے یہ محمد کے لیے لکھا کرتا تھا، چنانچہ وہ اس پر فریفتہ ہو گئے، تھوڑے عرصہ کے بعد اللہ نے ان میں اس کی گردن توڑ دی (اسے ہلاک کر دیا) تو انہوں نے اس کے لیے گڑھا کھود کر اسے چھپا دیا (دفن کر دیا) سو زمین نے اسے اپنی سطح پر باہر پھینک دیا (اسے قبول نہ کیا)، پھر انہوں نے اس کے لیے دوبارہ گڑھا کھودا اور اسے دفن کر دیا۔ زمین نے پھر اسے اپنے اوپر باہر پھینک دیا، چنانچہ انہوں نے اسے باہر پھینکا ہوا ہی چھوڑ دیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب صِفَاتِ الْمُنَافِقِينَ وَأَحْكَامِهِمْ/حدیث: 7040]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2781
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2782 ترقیم شاملہ: -- 7041
حَدَّثَنِي أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، حَدَّثَنَا حَفْصٌ يَعْنِي ابْنَ غِيَاثٍ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدِمَ مِنْ سَفَرٍ، فَلَمَّا كَانَ قُرْبَ الْمَدِينَةِ هَاجَتْ رِيحٌ شَدِيدَةٌ تَكَادُ أَنْ تَدْفِنَ الرَّاكِبَ، فَزَعَمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " بُعِثَتْ هَذِهِ الرِّيحُ لِمَوْتِ مُنَافِقٍ "، فَلَمَّا قَدِمَ الْمَدِينَةَ فَإِذَا مُنَافِقٌ عَظِيمٌ مِنَ الْمُنَافِقِينَ قَدْ مَاتَ ".
حضرت جابر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک سفر سے واپس آئے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ کے قریب تھے تو اتنے زور کی آندھی چلی کہ قریب تھا وہ سوار کو بھی (ریت میں) دفن کر دے گی۔ تو وہ (جابر رضی اللہ عنہما) یقین سے کہتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ آندھی کسی منافق کی موت کے لیے بھیجی گئی ہے۔“ جب آپ مدینہ منورہ تشریف لے آئے تو منافقوں میں سے ایک بہت بڑا منافق مر چکا تھا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب صِفَاتِ الْمُنَافِقِينَ وَأَحْكَامِهِمْ/حدیث: 7041]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک سفر سے واپس آئے، جب مدینہ کے قریب پہنچے تو شدید آندھی چلی کہ سوار دفن ہونے کے قریب ہو گئے (خطرہ پیدا ہو گیا آندھی سوار کو اٹھا لے جائے گی)۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ کے خیال میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ آندھی کسی منافق کی موت کے لیے بھیجی گئی ہے۔“ تو جب آپ مدینہ پہنچے تو منافقوں میں سے ایک بہت بڑا منافق مر چکا تھا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب صِفَاتِ الْمُنَافِقِينَ وَأَحْكَامِهِمْ/حدیث: 7041]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2782
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2783 ترقیم شاملہ: -- 7042
حَدَّثَنِي عَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ الْعَنْبَرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ النَّضْرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُوسَى الْيَمَامِيُّ ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ ، حَدَّثَنَا إِيَاسٌ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، قَالَ: عُدْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا مَوْعُوكًا، قَالَ: فَوَضَعْتُ يَدِي عَلَيْهِ، فَقُلْتُ: وَاللَّهِ مَا رَأَيْتُ كَالْيَوْمِ رَجُلًا أَشَدَّ حَرًّا، فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِأَشَدَّ حَرًّا مِنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ هَذَيْنِكَ الرَّجُلَيْنِ الرَّاكِبَيْنِ الْمُقَفِّيَيْنِ لِرَجُلَيْنِ حِينَئِذٍ مِنْ أَصْحَابِهِ ".
ایاس (بن سلمہ بن اکوع) نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: مجھے میرے والد نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک شخص کی، جسے بخار چڑھا ہوا تھا، عیادت کی، کہا: میں نے اس (کے جسم) پر اپنا ہاتھ رکھا تو میں نے کہا: اللہ کی قسم! میں نے آج کی طرح کسی شخص کو نہیں دیکھا جو اس سے زیادہ تپ رہا ہو، تو اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا میں تمہیں قیامت کے دن اس سے بھی زیادہ تپتے ہوؤں کے بارے میں نہ بتاؤں؟ یہ دونوں شخص جو (اونٹوں پر) سوار ہیں، اپنے منہ دوسری طرف کیے ہوئے ہیں۔“ (آپ نے یہ بات) دو آدمیوں کے بارے میں (فرمائی) جو اس وقت (ظاہر طور) آپ کے ساتھیوں میں (شمار ہوتے) تھے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب صِفَاتِ الْمُنَافِقِينَ وَأَحْكَامِهِمْ/حدیث: 7042]
ایاس رحمہ اللہ اپنے باپ (سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ) سے بیان کرتے ہیں، ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک بخار زدہ شخص کی عیادت کے لیے گئے تو میں نے اس پر اپنا ہاتھ رکھا، چنانچہ میں نے کہا: «وَاللَّهِ!» میں نے آج تک اس قدر گرم بدن آدمی نہیں دیکھا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا میں تمھیں قیامت کے دن اس سے بھی گرم بدن آدمی کے بارے میں نہ بتاؤں؟ یہ دو سوار آدمی جو منہ پھیرے ہوئے ہیں۔“ یہ دو آدمی اس وقت آپ کے ساتھیوں میں سے تھے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب صِفَاتِ الْمُنَافِقِينَ وَأَحْكَامِهِمْ/حدیث: 7042]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2783
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2784 ترقیم شاملہ: -- 7043
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، قَالَا: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى وَاللَّفْظُ لَهُ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ يَعْنِي الثَّقَفِيَّ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَثَلُ الْمُنَافِقِ كَمَثَلِ الشَّاةِ الْعَائِرَةِ بَيْنَ الْغَنَمَيْنِ تَعِيرُ إِلَى هَذِهِ مَرَّةً وَإِلَى هَذِهِ مَرَّةً "،
عبیداللہ نے نافع سے، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”منافق کی مثال اس بکری کی طرح ہے جو بکریوں کے دو ریوڑوں کے درمیان ممیاتی ہوئی بھاگتی پھرتی ہے کبھی بھاگ کر اس ریوڑ میں جاتی ہے اور کبھی اس طرف جاتی ہے (کسی بھی ایک ریوڑ کا حصہ نہیں ہوتی)۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب صِفَاتِ الْمُنَافِقِينَ وَأَحْكَامِهِمْ/حدیث: 7043]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”منافق کی تمثیل اس بکری کی طرح ہے، بکریوں میں حیران و پریشان گھومتی پھرتی ہے، کبھی اس کی طرف بھاگتی ہے، کبھی اس کی طرف دوڑتی ہے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب صِفَاتِ الْمُنَافِقِينَ وَأَحْكَامِهِمْ/حدیث: 7043]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2784
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة