سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
133. باب الْمَرْأَةِ تَغْسِلُ ثَوْبَهَا الَّذِي تَلْبَسُهُ فِي حَيْضِهَا
باب: عورت حیض میں پہنے ہوئے کپڑوں کو دھلے اس کے حکم کا بیان۔
حدیث نمبر: 357
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَتْنِي أُمُّ الْحَسَنِ يَعْنِي جَدَّةَ أَبِي بَكْرٍ الْعَدَوِيِّ، عَنْ مُعَاذَةَ، قَالَتْ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنِ الْحَائِضِ يُصِيبُ ثَوْبَهَا الدَّمُ، قَالَتْ:" تَغْسِلُهُ، فَإِنْ لَمْ يَذْهَبْ أَثَرُهُ فَلْتُغَيِّرْهُ بِشَيْءٍ مِنْ صُفْرَةٍ، قَالَتْ: وَلَقَدْ كُنْتُ أَحِيضُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَ حِيَضٍ جَمِيعًا لَا أَغْسِلُ لِي ثَوْبًا".
معاذہ کہتی ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے اس حائضہ کے بارے میں دریافت کیا جس کے کپڑے پر (حیض کا) خون لگ جائے، تو انہوں نے کہا: ”وہ اسے دھو ڈالے اور اگر اس کا اثر زائل نہ ہو تو اسے کسی زرد چیز سے (رنگ کر) بدل دے“، عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: ”مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تین تین حیض اکٹھے لگاتار آتے تھے، میں (ایام حیض میں پہنا ہوا) اپنا کپڑا نہیں دھوتی تھی“۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 357]
معاذہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ حائضہ کے کپڑوں کو خون لگ جاتا ہے (تو کیا کرے؟) انہوں نے کہا: ”اسے دھوئے۔ اگر اس کا نشان باقی رہے تو کچھ زردی (ورس بوٹی یا زعفران) سے اسے تبدیل کر دے۔“ کہتی ہیں کہ: ”مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں تین تین حیض آتے تھے، مگر میں اپنا کوئی کپڑا نہ دھوتی تھی۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 357]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 17971)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/250)، سنن الدارمی/الطھارة 104 (1052) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
أم الحسن: لايعرف حالھا (تقريب: 8718)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 27
إسناده ضعيف
أم الحسن: لايعرف حالھا (تقريب: 8718)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 27
حدیث نمبر: 358
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْعَبْدِيُّ، أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ نَافِعٍ، قَالَ: سَمِعْتُ الْحَسَنَ يَعْنِي ابْنَ مُسْلِمٍ يَذْكُرُ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ: قَالَتْ عَائِشَةُ:"مَا كَانَ لِإِحْدَانَا إِلَّا ثَوْبٌ وَاحِدٌ تَحِيضُ فِيهِ، فَإِنْ أَصَابَهُ شَيْءٌ مِنْ دَمٍ بَلَّتْهُ بِرِيقِهَا ثُمَّ قَصَعَتْهُ بِرِيقِهَا".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ہم میں سے کسی کے پاس سوائے ایک کپڑے کے کوئی اور کپڑا نہیں ہوتا تھا، اسی کپڑے میں اسے حیض (بھی) آتا تھا، اگر اس میں (حیض کا) کچھ خون لگ جاتا تو وہ اپنے تھوک سے اسے تر کرتی پھر اسے تھوک کے ذریعہ ناخن سے کھرچ دیتی تھی۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 358]
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ”ہم ازواجِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے محض ایک ایک ہی کپڑا ہوتا تھا، اسی میں ایامِ حیض گزارتی تھیں۔ اگر کہیں کوئی خون کا دھبہ لگ جاتا تو وہ اسے اپنے لعاب سے گیلا کرتیں اور پھر اسے مل دیتی تھیں۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 358]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الحیض 11 (312)، (تحفة الأشراف: 17575)، وقد أخرجہ: سنن الدارمی/الطھارة 104 (1055) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
حدیث نمبر: 359
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا بَكَّارُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَتْنِي جَدَّتِي، قَالَتْ: دَخَلْتُ عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ فَسَأَلَتْهَا امْرَأَةٌ مِنْ قُرَيْشٍ عَنْ الصَّلَاةِ فِي ثَوْبِ الْحَائِضِ، فَقَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ:" قَدْ كَانَ يُصِيبُنَا الْحَيْضُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَلْبَثُ إِحْدَانَا أَيَّامَ حَيْضِهَا ثُمَّ تَطَّهَّرُ فَتَنْظُرُ الثَّوْبَ الَّذِي كَانَتْ تَقْلِبُ فِيهِ، فَإِنْ أَصَابَهُ دَمٌ غَسَلْنَاهُ وَصَلَّيْنَا فِيهِ، وَإِنْ لَمْ يَكُنْ أَصَابَهُ شَيْءٌ تَرَكْنَاهُ، وَلَمْ يَمْنَعْنَا ذَلِكَ مِنْ أَنْ نُصَلِّيَ فِيهِ، وَأَمَّا الْمُمْتَشِطَةُ، فَكَانَتْ إِحْدَانَا تَكُونُ مُمْتَشِطَةً فَإِذَا اغْتَسَلَتْ لَمْ تَنْقُضْ ذَلِكَ وَلَكِنَّهَا تَحْفِنُ عَلَى رَأْسِهَا ثَلَاثَ حَفَنَاتٍ، فَإِذَا رَأَتِ الْبَلَلَ فِي أُصُولِ الشَّعْرِ دَلَكَتْهُ ثُمَّ أَفَاضَتْ عَلَى سَائِرِ جَسَدِهَا".
بکار بن یحییٰ کی دادی سے روایت ہے کہ میں ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئی تو قریش کی ایک عورت نے ان سے حیض کے کپڑے میں نماز پڑھنے کے متعلق سوال کیا، تو ام سلمہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ہمیں حیض آتا تو ہم میں سے (جسے حیض آتا) وہ اپنے حیض کے دنوں میں ٹھہری رہتی، پھر وہ حیض سے پاک ہو جاتی تو ان کپڑوں کو جن میں وہ حیض سے ہوتی تھی دیکھتی، اگر ان میں کہیں خون لگا ہوتا تو ہم اسے دھو ڈالتے، پھر اس میں نماز پڑھتے، اور اگر ان میں کوئی چیز نہ لگی ہوتی تو ہم انہیں چھوڑ دیتے اور ہمیں ان میں نماز پڑھنے سے یہ چیز مانع نہ ہوتی، رہی ہم میں سے وہ عورت جس کے بال گندھے ہوتے تو وہ جب غسل کرتی تو اپنی چوٹی نہیں کھولتی، البتہ تین لپ پانی لے کر اپنے سر پر ڈالتی، جب وہ بال کی جڑوں تک تری دیکھ لیتی تو ان کو ملتی، پھر اپنے سارے بدن پر پانی بہاتی۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 359]
جناب بکار بن یحییٰ کہتے ہیں کہ مجھ سے میری دادی نے بیان کیا کہ میں ام المؤمنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے ہاں گئی، وہاں ان سے ایک قریشی عورت نے پوچھا کہ حیض والے کپڑوں میں نماز کا کیا حکم ہے؟ تو سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے جواب دیا کہ ”ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں حیض آتا تھا، ہم یہ دن گزارتیں اور پھر پاک ہوتیں اور اپنے کپڑے کو دیکھتیں جس میں یہ دن گزارے ہوتے۔ اگر اسے خون لگا ہوتا تو اسے دھو لیتیں اور پھر اس میں نماز پڑھتیں اور اگر اسے کچھ نہ لگا ہوتا تو اسے اسی طرح رہنے دیتیں اور اس میں نماز پڑھنے سے ہمارے لیے کچھ مانع نہ ہوتا تھا۔ اور جس کے بال گوندھے ہوئے ہوتے تو جب کسی کو غسل (جنابت) کرنا ہوتا تو اپنے بال نہ کھولا کرتی بلکہ اپنے سر پر تین لپ پانی ڈالتی۔ جب دیکھتی کہ بالوں کی جڑیں تر ہو گئی ہیں تو انہیں ملتی پھر باقی جسم پر پانی بہا لیتی۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 359]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد به أبو داود، (تحفة الأشراف: 18298) (ضعیف)» (اس کے راوی بکار بن یحییٰ اور ان کی دادی مجہول ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
بكار بن يحيي: مجهول (تقريب: 736) وجدته: لم أعرفھا
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 27
إسناده ضعيف
بكار بن يحيي: مجهول (تقريب: 736) وجدته: لم أعرفھا
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 27
حدیث نمبر: 360
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، قَالَتْ: سَمِعْتُ امْرَأَةً تَسْأَلُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَيْفَ تَصْنَعُ إِحْدَانَا بِثَوْبِهَا إِذَا رَأَتِ الطُّهْرَ، أَتُصَلِّي فِيهِ؟ قَالَ:" تَنْظُرُ، فَإِنْ رَأَتْ فِيهِ دَمًا فَلْتَقْرُصْهُ بِشَيْءٍ مِنْ مَاءٍ، وَلْتَنْضَحْ مَا لَمْ تَرَ وَلْتُصَلِّي فِيهِ".
اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما کہتی ہیں کہ میں نے ایک عورت کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھتے سنا: جب ہم میں سے کوئی عورت پاکی دیکھ لے تو ایام حیض میں پہنے ہوئے کپڑوں کو وہ کیا کرے؟ کیا اس میں نماز پڑھے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ اسے دیکھے اگر اس کپڑے میں خون لگا ہوا نظر آئے تو تھوڑے سے پانی سے اسے کھرچ دے اور دھو لے یہاں تک کہ وہ چھوٹ جائے، اور اس میں نماز پڑھے“۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 360]
سیدہ اسماء بنت ابوبکر رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے ایک عورت کو سنا، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھ رہی تھی کہ ”جب ہم میں سے کوئی پاک ہو تو اپنے کپڑے کا کیا کرے؟ کیا اس میں نماز پڑھ لیا کرے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے دیکھے، اگر اس میں خون لگا ہو تو اسے پانی لگا کر کھرچے اور جس جگہ کچھ نظر نہ آتا ہو (مگر شبہ ہو تو) وہاں چھینٹے مار لے اور اس میں نماز پڑھ لے۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 360]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 15742) (حسن صحیح)» (اس سند میں ابن اسحاق مدلس راوی ہیں اور عنعنہ سے روایت کی ہے، مگر اگلی سند اور صحیحین کی سندوں میں ثقہ رواة ہیں)
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
ابن إسحاق صرح بالسماع عند الدارمي (778) وصححه ابن خزيمة (276، وسنده حسن)
ابن إسحاق صرح بالسماع عند الدارمي (778) وصححه ابن خزيمة (276، وسنده حسن)
حدیث نمبر: 361
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، أَنَّهَا قَالَتْ: سَأَلَتِ امْرَأَةٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ إِحْدَانَا إِذَا أَصَابَ ثَوْبَهَا الدَّمُ مِنَ الْحَيْضَةِ، كَيْفَ تَصْنَعُ؟ قَالَ:" إِذَا أَصَابَ إِحْدَاكُنَّ الدَّمُ مِنَ الْحَيْضِ، فَلْتَقْرُصْهُ ثُمَّ لِتَنْضَحْهُ بِالْمَاءِ ثُمَّ لِتُصَلِّي".
اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ایک عورت نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: اللہ کے رسول! بتائیے اگر ہم میں سے کسی کے کپڑے میں حیض کا خون لگ جائے تو وہ کیا کرے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کسی کے کپڑے میں حیض کا خون لگ جائے تو اسے چٹکیوں سے مل دے، پھر اسے پانی سے دھو ڈالے پھر (اس میں) نماز پڑھے“۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 361]
سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ایک عورت نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا، اس نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! فرمائیے کہ جب ہم میں سے کسی کے کپڑے کو حیض کا خون لگ جائے تو کیسے کرے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کسی کے کپڑے کو حیض کا خون لگ جائے، تو چاہیے کہ اسے کھرچے (چٹکیوں سے رگڑے)، پھر اس پر پانی ڈالے اور اس میں نماز پڑھ لے۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 361]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الوضوء 63 (227)، والحیض 9 (307)، صحیح مسلم/الطھارة 33 (291)، سنن الترمذی/الطھارة 104 (138)، سنن النسائی/الطھارة 185 (294)، والحیض 2 (350)، سنن ابن ماجہ/الطھارة 118 (629)، (تحفة الأشراف: 15743)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الطھارة (28/103)، مسند احمد (6/345، 346، 353)، سنن الدارمی/الطھارة 82 (799) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (307) صحيح مسلم (291)
حدیث نمبر: 362
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ. ح وحَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ. ح وحَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ، عَنْ هِشَامٍ، بِهَذَا الْمَعْنَى، قَالَ: حُتِّيهِ ثُمَّ اقْرُصِيهِ بِالْمَاءِ ثُمَّ انْضَحِيهِ.
اس سند سے بھی ہشام سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے، اس میں یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو اسے رگڑو پھر پانی سے کھرچ دو اور پھر اسے دھو ڈالو“۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 362]
عیسیٰ بن یونس اور حماد بن سلمہ دونوں نے مذکورہ بالا حدیث کے ہم معنی بیان کیا اور کہا: ”اسے اکھیڑو، پانی ڈال کر چٹکیوں سے رگڑو، پھر (مزید) پانی بہاؤ۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 362]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبله، (تحفة الأشراف: 15743) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
حدیث نمبر: 363
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ الْقَطَّانَ، عَنْ سُفْيَانَ، حَدَّثَنِي ثَابِتٌ الْحَدَّادُ، حَدَّثَنِي عَدِيُّ بْنُ دِينَارٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أُمَّ قَيْسٍ بِنْتَ مِحْصَنٍ، تَقُولُ: سَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ دَمِ الْحَيْضِ يَكُونُ فِي الثَّوْبِ، قَالَ:" حُكِّيهِ بِضِلْعٍ وَاغْسِلِيهِ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ".
ام قیس بنت محصن رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حیض کے خون کے بارے میں جو کپڑے میں لگ جائے پوچھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے کسی لکڑی سے رگڑ کر چھڑا دو، اور پانی اور بیر کی پتی سے اسے دھو ڈالو“۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 363]
سیدہ ام قیس بنت محصن رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے خونِ حیض کے متعلق دریافت کیا جو کہ کپڑے کو لگ جاتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے کسی لکڑی سے اکھیڑو، پھر بیری کے پتے ملے پانی سے دھو ڈالو۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 363]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن النسائی/الطھارة 185 (293)، والحیض 26 (395)، سنن ابن ماجہ/الطھارة 118 (628)، (تحفة الأشراف: 18344)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/355، 356)، سنن الدارمی/الطھارة 104 (1059) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
حدیث نمبر: 364
حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:" قَدْ كَانَ يَكُونَ لِإِحْدَانَا الدِّرْعُ فِيهِ تَحِيضُ قَدْ تُصِيبُهَا الْجَنَابَةُ، ثُمَّ تَرَى فِيهِ قَطْرَةً مِنْ دَمٍ فَتَقْصَعُهُ بَرِيقِهَا".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ہم میں سے ایک کے پاس ایک قمیص ہوتی، اسی میں اسے حیض بھی آتا اور اسی میں اسے جنابت بھی لاحق ہوتی، پھر اس میں خون کا کوئی قطرہ اسے نظر آتا تو وہ اسے اپنے تھوک سے مل کر کھرچ ڈالتی۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 364]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان فرماتی ہیں: ”ہم ازواجِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں سے ہر ایک کے پاس ایک کرتا ہی ہوا کرتا تھا۔ اسی میں ایامِ حیض گزرتے، اسی میں جنابت ہوتی، پھر اگر اس میں خون کا قطرہ دیکھتی تو اسے لعاب لگا کر ملتی (اور اس کا ازالہ کر دیتی)۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 364]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود (تحفة الأشراف: 17380) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
عبد اللّٰه بن أبي نجيح مدلس (طبقات المدلسين: 77/ 3) وعنعن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 27
إسناده ضعيف
عبد اللّٰه بن أبي نجيح مدلس (طبقات المدلسين: 77/ 3) وعنعن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 27
حدیث نمبر: 365
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ خَوْلَةَ بِنْتَ يَسَارٍ أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّهُ لَيْسَ لِي إِلَّا ثَوْبٌ وَاحِدٌ وَأَنَا أَحِيضُ فِيهِ، فَكَيْفَ أَصْنَعُ؟ قَالَ:" إِذَا طَهُرْتِ فَاغْسِلِيهِ ثُمَّ صَلِّي فِيهِ، فَقَالَتْ: فَإِنْ لَمْ يَخْرُجْ الدَّمُ، قَالَ: يَكْفِيكِ غَسْلُ الدَّمِ وَلَا يَضُرُّكِ أَثَرُهُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ خولہ بنت یسار رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میرے پاس سوائے ایک کپڑے کے کوئی اور کپڑا نہیں، اسی میں مجھے حیض آتا ہے، میں کیا کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم پاک ہو جاؤ (حیض رک جائے) تو اسے دھو ڈالو، پھر اس میں نماز پڑھو“، اس پر خولہ نے کہا: اگر خون زائل نہ ہو تو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خون کو دھو لینا تمہارے لیے کافی ہے، اس کا اثر (دھبہ) تمہیں نقصان نہیں پہنچائے گا“۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 365]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ خولہ بنت یسار رضی اللہ عنہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں آئیں اور کہنے لگیں: ”اے اللہ کے رسول! میرے پاس صرف ایک ہی کپڑا ہے اور مجھے اس میں حیض آتا ہے، تو اسے کیسے کیا کروں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم پاک ہوا کرو تو اسے دھو لیا کرو اور اس میں نماز پڑھا کرو۔“ وہ کہنے لگیں: ”اگر اس سے خون (کا نشان) نہ نکلے تو؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہیں خون کا دھو ڈالنا کافی ہے، اس سے داغ اور نشان کا کوئی حرج نہیں۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 365]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 14286)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/364، 380) (صحیح)» (مذکورہ احادیث سے تقویت پاکر یہ حدیث معنی صحیح ہے، ورنہ خود یہ سند ابن لہیعہ کے سبب ضعیف ہے کیونکہ یہاں ان سے روایت کرنے والے عبادلہ اربعہ بھی نہیں ہیں)
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
ابن لھيعة صرح بالسماع عند البيھقي (2/408) ورواه عنه عبد الله بن وھب وغيره وللحديث طريق آخر عند أحمد (2/364)
ابن لھيعة صرح بالسماع عند البيھقي (2/408) ورواه عنه عبد الله بن وھب وغيره وللحديث طريق آخر عند أحمد (2/364)