🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

12. الْبَحْرُ هُوَ الطَّهُورُ مَاؤُهُ الْحِلُّ مَيْتَتُهُ
سمندر کا پانی پاک ہے اور اس کے مردہ جانور حلال ہیں۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 495
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن إسحاق الصَّغَاني، حدثنا سُرَيج بن النُّعمان، حدثنا حماد بن سَلَمة، عن أبي التَّيّاح، عن موسى بن سَلَمة، عن ابن عباس قال: سُئِلَ النبيُّ ﷺ عن ماء البحر، فقال:"ماءُ البحرِ طَهُورٌ" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، وشواهده كثيرة، ولم يُخرجاه، فأوَّلُ شواهده:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 490 - على شرط مسلم
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سمندر کے پانی کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سمندر کا پانی پاک (کرنے والا) ہے۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے اور اس کے شواہد کثیر ہیں، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 495]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 496
ما حدَّثَناه أبو العباس، أخبرنا محمد بن عبد الله بن عبد الحَكَم وبَحْر بن نصر قالا: حدثنا ابن وهب. وأخبرنا الحسن بن يعقوب، حدثنا يحيى بن أبي طالب، حدثنا عبد الوهاب بن عطاء. وأخبرني أبو بكر بن نصر، حدثنا أحمد بن محمد بن عيسى، حدثنا القَعنَبي، كلهم عن مالك، عن صفوان بن سُلَيم، عن سعيد بن سَلَمة مولى لآل الأزرق، أنَّ المغيرة ابن أبي بُرْدة - رجلٌ من بني عبد الدار- أخبره أنه سمع أبا هريرة يقول: سأل رجلٌ رسولَ الله ﷺ فقال: يا رسول الله، إنا نَركَبُ البحرَ ونَحمِلُ معنا القليلَ من الماء، فإن توضَّأْنا به عَطِشْنا، أفنتوضَّأُ بماءِ البحر؟ فقال رسول الله ﷺ:"هو الطَّهُورُ ماؤُه، الحِلُّ مَيْتتُه" (1) . وقد تابع مالكَ بنَ أنس على روايته عن صفوان بن سُلَيم عبدُ الرحمن بنُ إسحاق وإسحاقُ بنُ إبراهيم المُزَني. أما حديث عبد الرحمن بن إسحاق:
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا: یا رسول اللہ! ہم سمندری سفر کرتے ہیں اور اپنے ساتھ تھوڑا پانی رکھتے ہیں، اگر ہم اس سے وضو کر لیں تو پیاسے رہ جائیں گے، کیا ہم سمندر کے پانی سے وضو کر سکتے ہیں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کا پانی پاک ہے اور اس کا مردار حلال ہے۔
امام مالک نے اس کی روایت کی ہے اور دیگر راویوں نے بھی اس میں ان کی متابعت کی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 496]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 497
فحدَّثَناه أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا عبد الله بن أيوب بن زاذانَ، حدثنا محمد بن المِنْهال، حدثنا يزيد بن زُرَيع، حدثنا عبد الرحمن بن إسحاق، عن صفوان بن سُلَيم. قال: وأخبرنا يوسف (2) بن يعقوب، حدثنا محمد بن أبي بكر، حدثنا يزيد بن زُرَيع، حدثنا عبد الرحمن بن إسحاق، حدثنا صفوان بن سُلَيم، عن سعيد بن سَلَمة، عن المغيرة بن أبي بُرْدة، عن أبي هريرة، ولا عن النبي ﷺ، نحوَه (3) . [وأما حديث إسحاق بن إبراهيم] :
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے واسطے سے سمندر کے پانی کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح (سابقہ حدیث کے مانند) مروی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 497]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 498
[فحدَّثَناه أبو علي الحسن بن علي الحافظ، أخبرنا محمد بن صالح] (1) الكِيلِيني بالرَّيّ، حدثنا سعيد بن كَثِير بن يحيى بن حُمَيد بن نافع الأنصاري، حدثنا إسحاق بن إبراهيم، عن صفوان بن سُلَيم، عن سعيد بن سَلَمة، عن المغيرة بن أبي بُرْدة - وهو من بني عبد الدار - عن أبي هريرة قال: أَتى رسولَ الله ﷺ نَفَرٌ ممَّن يَركَبُ البحرَ، فقالوا: يا رسول الله، إنا نركبُ البحرَ ونتزوَّد شيئًا من الماء، فإن توضَّأْنا به عَطِشْنا، فهل يَصلُحُ لنا أن نتوضَّأَ من ماءِ البحر؟ فقال رسول الله ﷺ:"هو الطَّهُورُ ماؤُه، الحِلُّ مَيْتَتُه" (2) . وقد تابع الجُلَاحُ أبو كَثيرٍ صفوانَ بنَ سُلَيم على رواية هذا الحديث عن سعيد بن سَلَمة:
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سمندری سفر کرنے والے کچھ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم سمندر میں سفر کرتے ہیں اور کچھ پانی ساتھ رکھتے ہیں، اگر ہم اس سے وضو کریں تو پیاسے رہ جائیں گے، کیا ہمارے لیے سمندر کے پانی سے وضو کرنا درست ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کا پانی پاک ہے اور اس کا مردار حلال ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 498]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 499
حدَّثَناه علي بن حَمْشَاذَ العَدْل، أخبرنا عبيد بن عبد الواحد بن شَرِيك، حدثنا يحيى بن بُكَير، حدثني الليث، عن يزيد بن أبي حَبِيب، حدثني الجُلَاح أبو كَثير، أنَّ ابن سلمة المخزومي حدَّثه، أنَّ المغيرة بن أبي بُرْدة أخبره، أنه سمع أبا هريرة يقول: كنا عند رسول الله ﷺ يومًا فجاءه صيَّاد فقال: يا رسول الله، إنا ننطلقُ في البحر نريد الصيدَ فيَحمِلُ معه أحدُنا الإداوَةَ وهو يرجو أن يَأخُذَ الصيدَ قريبًا، فربما وَجَدَه كذلك، وربما لم يَجِدِ الصيدَ حتى يَبلُغَ من البحر مكانًا لم يَظُنَّ أن يَبلُغَه، فلعلَّه يَحتلِمُ أو يتوضَّأُ، فإن اغتسل أو توضَّأَ بهذا الماء فلعلَّ أحدَنا يُهلِكُه العطشُ، فهل ترى في ماء البحر أن نغتسل به أو نتوضأَ به إِذا خِفْنا ذلك؟ فَزَعَمَ أنَّ رسول الله ﷺ قال:"اغتسِلُوا منه وتوضؤوا به، فإنه الطَّهُورُ ماؤُه، الحِلُّ مَيْتتُه" (3) . قد احتَجَّ مسلمٌ بالجُلَاح أبي كثير. وقد تابع يحيى بنُ سعيد الأنصاريُّ ويزيدُ بنُ محمد القرشي سعيدَ بنَ سلمة المخزوميَّ على رواية هذا الحديث. واختُلف عليه فيه (1) :
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے تھے کہ ایک شکاری آیا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم مچھلیوں کے شکار کے لیے سمندر میں جاتے ہیں، ہم میں سے کوئی اپنے ساتھ پانی کا برتن لے جاتا ہے اس امید پر کہ شکار جلد مل جائے گا، لیکن بسا اوقات وہ سمندر میں ایسی جگہ پہنچ جاتا ہے جہاں پہنچنے کا اسے گمان بھی نہیں ہوتا، وہاں اسے احتلام ہو جاتا ہے یا وضو کی ضرورت پڑتی ہے، اب اگر وہ اس پانی (پینے والے) سے غسل یا وضو کرے تو پیاس سے ہلاکت کا ڈر ہے، تو کیا آپ کی رائے میں ہم سمندر کے پانی سے غسل یا وضو کر سکتے ہیں؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسی سے غسل اور وضو کرو، کیونکہ اس کا پانی پاک ہے اور اس کا مردار حلال ہے۔
امام مسلم نے جلاح ابو کثیر سے احتجاج کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 499]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 500
أخبرَنيهِ أبو محمد بن زياد العَدْل، حدثنا جدِّي، أخبرنا عمرو بن زُرَارة، حدثنا هُشَيم، عن يحيى بن سعيد، عن المغيرة بن أبي بُرْدة، عن رجل من بني مُدلِج، عن النبي ﷺ، نحوَه.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے (بنو مدلج کے ایک شخص کے واسطے سے) سمندر کے پانی کے بارے میں اسی طرح کی روایت مروی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 500]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 501
أخبرَناه أبو الحسن محمد بن الحسن، أخبرنا علي بن عبد العزيز، حدثنا حجَّاج بن مِنْهال، حدثنا حمَّاد، عن يحيى بن سعيد، عن المغيرة بن عبد الله، عن أبيه، عن النبي ﷺ، نحوَه. وقال سليمان بن بلال عن يحيى بن سعيد: عن عبد الله بن المغيرة عن أبيه. وأما حديث يزيد بن محمد القرشي:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 493 - احتج مسلم بالجلاح وَأَمَّا حَدِيثُ يَزِيدَ بْنِ مُحَمَّدٍ الْقُرَشِيُّ
مغیرہ بن عبداللہ نے اپنے والد کے واسطے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح کی روایت نقل کی ہے۔ سلیمان بن بلال نے یحییٰ بن سعید سے روایت کرتے ہوئے عبداللہ بن مغیرہ عن ابیہ کا ذکر کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 501]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 502
فحدَّثَناه علي بن حَمْشاذ العَدْل، حدثنا عُبيد بن عبد الواحد، حدثنا ابن أبي مريم، أخبرني يحيى بن أيوب، حدثني خالد بن يزيد، أنَّ يزيد بن محمد القرشي حدثه عن المغيرة بن أبي بُرْدة، عن أبي هريرة قال: أتى نفرٌ إلى رسول الله ﷺ فقالوا: إنا نصيد في البحر ومعنا من الماء [العَذْب، فربَّما تخوَّفْنا العطشَ، فهل يَصلُحُ أن نتوضأَ من البحر المالح؟] (2) فقال:"نعم، توضَّؤُوا منه". وأما...... (1) البخاريُّ يزيدَ بن محمد القرشي هذا في"التاريخ"، وأنه قد روى عنه الليث بن أبي بردة (2) . فمنهم سعيد بن المسيّب:
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ کچھ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی: ہم سمندر میں شکار کرتے ہیں اور ہمارے ساتھ میٹھا پانی ہوتا ہے، پس بسا اوقات ہمیں پیاس لگ جانے کا خوف ہوتا ہے، تو کیا سمندر کے نمکین پانی سے وضو کرنا درست ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، تم اس سے وضو کر لیا کرو۔ امام بخاری نے یزید بن محمد قرشی کا ذکر اپنی کتاب التاریخ میں کیا ہے اور ان سے لیث بن ابی بردہ نے روایت کی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 502]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 503
حدثنا أبو علي الحسين بن علي الحافظ، حدثنا أبو يعقوب إسحاق بن إبراهيم بن يونس بمصر، حدثنا إسحاق بن إبراهيم بن سَهْم، حدثنا عبد الله بن محمد بن رَبِيعة، حدثنا إبراهيم بن سعد، عن الزُّهْري، عن سعيد بن المسيّب، عن أبي هريرة قال: سُئِلَ النبيُّ ﷺ عن ماء البحر: أنتوضَّأُ منه؟ فقال:"الطَّهُورُ ماؤُه، والحِلُّ مَيْتَتُه" (3) . ومنهم أبو سلمة بن عبد الرحمن:
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سمندر کے پانی کے بارے میں سوال کیا گیا: کیا ہم اس سے وضو کر لیں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کا پانی پاک کرنے والا ہے اور اس کا مردار حلال ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 503]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 504
حدثنا أبو جعفر محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا أبو بكر محمد بن محمد بن رجاء بن السِّنْدي، حدثنا أبو أيوب سليمان بن عبد الرحمن الدمشقي، حدثنا محمد بن غَزْوان، حدثنا الأوزاعي، عن يحيى بن أبي كثير، عن أبي سَلَمة، عن أبي هريرة قال: سُئِلَ رسولُ الله ﷺ عن الوضوءِ من ماءِ البحر، فقال:"هو الطَّهورُ ماؤه، الحِلُّ مَيْتتُه" (4) . قال الحاكم: قد رَوَيتُ في متابعات الإمام مالك بن أنس في طرق هذا الحديث عن ثلاثة ليسوا من شرط هذا الكتاب: وهم عبد الرحمن بن إسحاق (1) ، وإسحاق بن إبراهيم المُزَني، وعبد الله بن محمد القُدَامي، وإنما حَمَلَني على ذلك أن يعرف العالِمُ أنَّ هذه المتابَعات والشواهد لهذا الأصل الذي صَدَّرَ به مالكٌ كتاب"الموطأ"، وتداوَلَه فقهاءُ الإسلام ﵃ من عصره إلى وقتنا هذا، وأنَّ مثل هذا الحديث لا يُعلَّل (2) بجهالةِ سعيد بن سَلَمة والمغيرة بن أبي بُرْدة، على أنَّ اسم الجهالة مرفوعٌ عنهما بهذه المتابَعات. وقد رُوِيَ هذا الحديث عن علي بن أبي طالب وعبد الله بن عبّاس وجابر بن عبد الله وعبد الله بن عمرو وأنس بن مالك عن رسول الله ﷺ نحوُه. أما حديث عليٍّ:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 498 - سعيد بن سلمة والمغيرة فيهما جهالة
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سمندر کے پانی سے وضو کرنے کے متعلق سوال کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کا پانی پاک کرنے والا اور اس کا مردار حلال ہے۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ امام حاکم فرماتے ہیں: میں نے اس حدیث کے طرق میں امام مالک بن انس کی متابعات میں ایسے راویوں سے روایت کی ہے جو اس کتاب کی شرط پر نہیں ہیں، اور مجھے اس پر صرف اس بات نے ابھارا ہے تاکہ صاحبِ علم یہ جان لے کہ یہ متابعات اور شواہد اس اصل حدیث کے لیے ہیں جس سے امام مالک نے اپنی کتاب الموطا کا آغاز کیا ہے، اور اس جیسی حدیث کی علت راویوں کی جہالت سے بیان نہیں کی جائے گی کیونکہ ان متابعات کے ذریعے ان کی جہالت ختم ہو گئی ہے۔ یہ حدیث علی بن ابی طالب، ابن عباس، جابر بن عبداللہ، عبداللہ بن عمرو اور انس بن مالک رضی اللہ عنہم سے بھی مروی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 504]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں